28/12/2024
کشمیر سے اسلام آباد کا سفر
تحریر ۔نعمان محبوب
کشمیر سے صبح جب ہم اپنے میزبان کو الوداع کر کے نکلنے لگے اچانک رحمت اللہ نے کہا یار صبر کرو ایک کونے سے دوسرے کونے پے آئیں ہیں یہاں کشمیر میں میرے ماموں ہیں اُن سے بیس برس گزر گئے ملاقات نہیں ہوئی اگر آپ لوگ کی اجازت ہو تو میں مِل آؤں جس پر ہم سب نے کہا ضرور جانا چاہیے آپ کو۔۔اتنے دور سے آئے ہو اگر ماموں سے ملاقات ہو جائیگی تو سمجھو آپ کے پیسے وصول۔پھر اچانک رحمت نے اپنا موبائل فون نکالا اور کال ملا دی جیسے ہی کال ملائی اچانک شمس نے کہا صبر کرو آپ انکو یہ مت بتاؤ کے ہم کشمیر میں ہیں پہلے آپ ایڈریس منگوا لو اگر قریب ہوا تو ضرور جائیں گے جس پر رحمت آگ بگولہ ہوتے ہووے میں اتنے دور سے آیا ہیں اب یہاں ماموں سے بھی نہ ملوں یہ سُن کر ہمیں افسوس ہونے لگا کہ ہم اپنے ماموں سے اس قدر محبّت کیوں نہیں کرتے خیر کبھی ماموں نے اس محبت سے شاید ہمیں بلایا ہی نہ ہو۔۔پھر ہم ناشتے کرنے مے مصروف ہوگئے۔ اور پھر اچانک رحمت جا کر شمس کے پاس بیٹھا اور کُچھ کان میں سر گوشی کرنے لگا۔ہمیں لگا شاید کُچھ ضروری بات ہے تبھی ہم نے پوچھنا ضروری نہیں سمجھا۔۔ ہم نے ابھی ناشتہ ختم ہی کیا تھا کہ رحمت میرے پاس بھی آیا اور کان مے سرگوشی کرنے لگا۔۔۔مجھے کہا یار 92 کلو میٹر ہے یہاں سے جس پر میں نے دھیمے لہجے میں کہا کوئی بات نہیں ہم آپ کو چھوڑ آئیں گے پھر اسرار کرنے لگا نہیں یار میری وجہ سے آپ کو تکلیف ہورہی ہے۔۔جس پر میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں۔۔آپ کے ماموں کے اخلاص کے آگے یہ 92 کلو میٹر کُچھ بھی نہیں۔۔جب تک ہم ناشتہ کر کے سامان سمیٹنے میں لگے تاک ہم اگلے منزِل کی طرف چل سکیں۔۔لیکن اب رحمت جو کہ کچھ دیر قبل بضد تھا جانے کا اب ہمیں سفر کے اُصولِ بتانے لگا جو کے ہمیں ہضم نہیں ہو رہے تھے ۔۔بلآخر جب تمام حربے ناکام ہوئے تو بیچ محفل میں آرام سے کہنے لگا کہا یہ تو 92 کلو میٹر ہے اگر 192 کلو میٹر بھی ہوتا تو میں جاتا۔۔پھر ہم نے کہا تو جا کیوں نہیں رہے۔اِس پر سر جُکا کے مدم لہجے میں کہنے لگا 92 نہیں ہے یار 634 کلو میٹر ہے۔۔جس پر ہم سب قہقے لگا کر ہنسنے لگے اور اُس لمحے کو یاد کرتے رھے جب ہم اسے بول رہے تھے پہلے آپ ماموں سے پوچھو کہاں رہتے ہیں اگر قریب ہوے تو ضرور جائیں گے جس پر رحمت صاحب ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھ رہے تھے بہرحال اب ہم نے ٹہان لی کہ اب رحمت ہر حال مے ماموں سے ملے گا۔یاد رہے ہم ہٹیاں بالا میں تھے اور رحمت کے ماموں ڈوڈیال کشمیر میں تھے دونوں کا راستہ ایک دوسرے سے بےحد جدا تھا۔۔پھر ہم وہاں سے اپنے میزبان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے اور مانسہرہ کی طرف چل دیئے۔۔ دو سے ڈھائی گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد ہم مانسہرہ پنجاب چوک پہنچ گئے۔ وہاں پہنچتے ہی ہمارے دوست ناصر جو ہمارے ساتھ ڈرائیونگ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے اُنہوں نے کہا مجھے اپنے آبائی گاؤں بجنہ جو کے مانسہرہ سے لگ بگ دو گھنٹے کا سفر تھا وہاں جانا ہے ضروری کام سے جس پر ہم نے اپنے دوست کو اجازت دی اور وہ لگ بہ 3 بجے مانسہرہ سے اُوگھی بجنا کے لیے روانہ ہوا۔۔اور تب تک دوستوں کو بھوک لگ چکی تھی جس پر ہم نے مانسہرہ اڈھ کے قریب کباب کھانے کا سوچا جوں ہی وہاں پہنچے وہاں ہماری میزبانی میرے پیارے کزن (عبدالرحمن) بھائی نے کی جن کی شاپ کباب والی شاپ کے بلکل سامنے تھی۔۔اور پھر ہمارے دوستوں نے خوب کباب کھائے اور لطف اندوز ہونے لگے۔اچھا ایک اور بات یہاں آپ کے علم میں لاتا چلوں بائے کاٹ مہم صرف کراچی میں ہی ہے اور کہیں اسکا انٹنا رحجان نہیں ۔۔اُسکے بعد ہم نے سیون اپ کی مشروبات کا فائدہ اٹھایا اور عبدالرحمن بھائی کا شکریہ ادا کیا۔۔اور پھر رحمت سے ہم نے کہا اب آپ کو کشمیر ڈوڈیاں کی طرف روانہ کرتے ہیں۔ہم وہاں سے مین بازار مانسہرہ چیری کے بازار سے رحمت بھائی کو بائیکیا پر بیٹھا کر لاری اڈا بھجا اور اُسے کہا جب تک ہمارا ڈرائیور بھائی آئے گا آپ پنڈی سے ڈوڈیاں کی طرف نکل چُکے ہوں گے اور آپ کا وقت بیچ جائے گا جس پر رحمت دِل میں بولنے لگا میرے سے زیادہ تو ي لوگ اب پیچھے پڑھ گئے ہیں بھجنے کے لیے رحمت نے خوب بہانے بنائے لیکن ہم نے ایک نہ سنی ي کہ کر ہم نے روانہ کیا 23 برس ہوگئے ماموں کو دیکھے ہوئے زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں ي سُن کر رحمت نے جانے کا ارادہ کیا اور پھر ہم نے وہاں سے واپس میں آئس کریم کا ایک ایک سکوپ بھی چکہا جو کے نہایت لذیذ تھا۔۔اب عصر کا وقت ہو چُکا تھا ہم نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا اور مسجد روانہ ہووے راستے میں چائے پینے کا خیال آیا اور بازار میں ہی پکوڑے اور چائے والا ہے جو کہ نہیات مقبول ہے۔چوں کہ ہم کراچی والے ہیں تو ہمیں چائے کا خاصا تجربہ ہے کہاں کی اچھی ہوگی کہاں کی نہیں۔۔لیکن یہاں ہم رش دیکھ کر تھوڑا غلط ہوگئے چائے کا ذائقہ کُچھ خاص نہیں تھا جس پر ہم نے دو چائے کا ہی آرڈر دیا۔اور ایک اور خاص بات وہاں کٹ چائے نہیں سنگل چائے بولتے ہیں جو کے شمس نے پہلے سے ہی یاد کر لیا تھا ي لفظ۔۔ہم چائے نوش فرمانے کے بعد ہاشم بھائی جو کے نہایت بہترین انسان اور اُس کے ساتھ ساتھ ۔مہمان نواز بھی ہے اُن کے گھر کا رُخ کیا کیوں کے ہمیں اپنے دوست ناصر کا انتظار کرنا تھا جو کے اپنے آبائی گاؤں گیا تھا۔۔ہاشم بھائی معمول کے مطابق گھر پر نہیں تھے اُنہوں نے ہمارے لئے ڈرائنگ روم کا گیٹ کھلوایا اور کہا آپ آرام کریں مے جلد آرہا ہوں۔ہم نے نمازِ عصر ادا کی اور انتظار کرنے لگے پھر تھوڑی دیر میں ہاشم بھائی آگئے اور ہم نے نمازِ مغرب بھی ادا کردی۔۔پھر اُن سے حال احوال کے بعد کافی سوالوں کا بجھار اُن سے ہم نے کیا۔دیکھتے ہی دیکھتے ناصر بھی قریب اں پہنچا ۔پھر ہم نے ہاشم بھائی سے رخصت چائی لیکن وہ کہاں چھوڑنے والے ایسے اُنہونے کہا میں نے کھانے کا اہتمام کیا ہے جس پر ہم سب شرمندہ ہوگئے کیوں کہ چار بجے کے قریب ہم نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا اس کے بعد بھی کچھ ایکسٹرا چیزیں کھائیں اب ایک تو جگہ نہیں تھی اور دوسری بات ہے ہے کہ اسلام آباد جن کی طرف جا رہے تھے اُنہوں نے پہلے ہی کہا تھا کھانا مت کاہ کر آنا۔ہم نے بہت اسرار بھی کیا کے ہمارا بہت وقت لگ جائےگا ہم لیٹ ہو جائیں گے لیکن اُنہونے کہا تھا بس آپ جس وقت بھی پہنچے کھانا ساتھ کھائیں گے۔۔اب یہاں یہ بات بھی ذہن میں بار بار آرہی تھی ہاشم بھائی کو بہت بار منا کرنے کے باوجود وہ نہ مانے اور پھر ہمیں اُنکی دعوت قبول کرنا پری۔اُنکا اخلاص کمال تھا اللہ سلامت رکھے اور ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔ہاشم بھائی کہ ہاں بہترین کھانا کھایا آور مانسہرہ کو الوداع کرتے ہووے اسلام آباد کی طرف چل دیے ....
سفر نامہ جاری ۔۔
09/07/2024