کن فیکون

کن فیکون

Share

°ﺇِﻥَّ ﺭَﺑّﻰ ﻗَﺮﻳﺐٌ ﻣُﺠﻴﺐٌ○
ﺑﮯﺷﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ? zeenat Parveen

23/11/2025

موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ سورۂ کہف (آیات 60 تا 82) میں بیان ہوا ہے۔ یہ قرآن کا نہایت اہم اور حکمت سے بھرپور واقعہ ہے۔ یہاں میں اس کی تفصیلی وضاحت اور معتبر حوالہ جات آپ کو دے رہا ہوں۔

---

📖 قرآنِ مجید کا اصل واقعہ — سورۃ الکہف (آیات 60–82)

1️⃣ موسیٰ علیہ السلام کا سفر کی ابتدا

موسیٰؑ نے بنی اسرائیل میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ زمین پر سب سے زیادہ علم والا میں ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ:

> "میرا ایک بندہ (خضرؑ) ہے جو تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔"

حوالہ:
📘 صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث 122

موسیٰؑ نے خضرؑ کو ڈھونڈنے کے لیے سفر کیا اور پہاڑوں کے سنگم والے مقام (مجمع البحرین) پر اس سے ملاقات ہوئی، جیسا کہ قرآن میں ہے:

> "وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَاهُ..."
(سورہ کہف 18:60)

---

2️⃣ موسیٰؑ کا خضرؑ سے ملنا

موسیٰؑ نے ان سے کہا:

> "کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں تاکہ آپ کی سکھائی ہوئی ہدایت میں سے کچھ سیکھ لوں؟"
(18:66)

خضرؑ نے شرط رکھی:

> "آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔"
(18:67–68)

موسیٰؑ نے وعدہ کیا کہ وہ صبر کریں گے۔

---

3️⃣ سفر کے تین واقعات

---

🛶 واقعہ 1: کشتی میں سوراخ کرنا

جب دونوں ایک کشتی پر سوار ہوئے تو خضرؑ نے کشتی کا تختہ نکال کر سوراخ کر دیا۔
موسیٰؑ بول اٹھے:

> "آپ نے اسے توڑ دیا تاکہ اہلِ کشتی ڈوب جائیں؟ یہ تو بڑا ہی برا کام کیا!"
(18:71)

خضرؑ نے جواب دیا:

> "میں نے تم سے کہا تھا کہ تم صبر نہیں کر سکو گے۔"

🔍 حکمت (آخر میں خضرؑ نے بتائی):

وہ کشتی غریب مسکین لوگوں کی تھی، اور آگے ایک ظالم بادشاہ ہر اچھی کشتی چھین لیتا تھا۔
خضرؑ نے اسے عیب دار کردیا تاکہ وہ ضبط نہ کی جائے۔
(18:79)

---

👦 واقعہ 2: لڑکے کو قتل کرنا

راستے میں ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی، خضرؑ نے اسے قتل کر دیا۔
موسیٰؑ نے کہا:

> "آپ نے ایک بے گناہ جان بغیر کسی جرم کے مار ڈالی؟ یہ تو سخت برا کام ہے!"
(18:74)

🔍 حکمت:

وہ لڑکا آگے چل کر اپنے والدین کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا،
اس لیے اللہ نے چاہا کہ انہیں بہتر اولاد عطا کرے جو نیک ہوگی۔
(18:80–81)

---

🏘️ واقعہ 3: ٹوٹی ہوئی دیوار کی تعمیر

ایک بستی میں پہنچے، لوگوں نے انہیں مہمان نہ بنایا۔
وہاں خضرؑ نے ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کر دی۔
موسیٰؑ نے کہا:

> "آپ چاہتے تو اس کا معاوضہ لے سکتے تھے۔"
(18:77)

🔍 حکمت:

وہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی۔
نیچے خزانہ تھا۔
ان کے والد نیک تھے، اللہ نے چاہا کہ بچے بڑے ہو کر خزانہ نکالیں۔
(18:82)

---

🌟 خضر علیہ السلام کا نتیجہ

خضرؑ نے آخر میں کہا:

> "یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔"
(18:78 / 18:82)

یہ سب اعمال اللہ کے حکم اور حکمت سے تھے۔

---

📚 مکمل حوالہ جات

قرآن: سورۃ الکہف — آیات 60 تا 82

آیت 60–65: ملاقات کا پس منظر

آیت 66–70: صبر کی شرط

آیت 71–73: پہلا واقعہ (کشتی)

آیت 74–76: دوسرا واقعہ (لڑکا)

آیت 77–82: تیسرا واقعہ (دیوار) + حکمت

---

📘 صحیح احادیث کے حوالہ جات

ماخذ حدیث نمبر تفصیل

صحیح بخاری 122، 4725 موسیٰؑ کا سفر، مجمع البحرین
صحیح مسلم 2380 موسیٰؑ اور خضرؑ کا مکمل واقعہ
ترمذی 3149 علم میں اللہ کی حکمت
مسند احمد ج 1، ص 314 لڑکے کے قتل کی حکمت

📌✍️✍️ یہ بات

صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

صحیح حدیث

صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ حدیث موجود ہے:

> "رَحِمَ اللهُ مُوسَى، لَوَدِدْنَا أَنَّهُ صَبَرَ، حَتَّى يَقُصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا."
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر — سورة الكهف)

ترجمہ:
اللہ موسیٰؑ پر رحم فرمائے! کاش وہ صبر کرتے تاکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں (موسیٰؑ اور خضرؑ) کے واقعات میں سے ہمیں مزید خبریں بیان فرماتا۔

مطلب

رسول اللہ ﷺ فرما رہے ہیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام خضر علیہ السلام کے ساتھ مزید صبر کرتے اور پوچھنے میں جلدی نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ قرآن میں ان کے سفر کے مزید عجیب و غریب واقعات ہمیں بتاتا۔

یعنی:
مزید حکمتیں، واقعات اور اسباق ہمیں معلوم ہو جاتے۔

حوالہ جات

صحیح بخاری، حدیث 4727 (کتاب التفسیر، سورۃ الکہف)

صحیح مسلم، حدیث 2380

📌 اگر اپ غور کریں تو اس حدیث سے یہ بات وہ حاضر ہو جاتی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم غیب کا علم نہیں جانتے تھے

---

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Karachi