مُردوں کے سننے کا ثبوت:
وھابی دیوبندی شیطان کا ٹولا صرف بخاری و مسلم کا گیت گاتے ہے بخاری و مسلم ان کے حلق میں اترتی بھی نہیں
کثیر اَحادیث سے مُردوں کا سننا ثابت ہے، یہاں ہم بخاری شریف اور مسلم شریف سے دو اَحادیث ذکر کرتے ہیں جن میں مردوں کے سننے کا ذکر ہے۔ چنانچہ
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں کفارِ بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہا ں فلاں کافر قتل ہوگا اوریہاں فلاں ، جہاں جہاں حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں ۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے ان کی لاشیں ایک کنویں میں بھردی گئیں ۔سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہاں تشریف لے گئے اور ان کفار کو ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر پکارا اور فرمایا: جو سچا وعدہ خداا ور رسول نے تمہیں دیاتھا وہ تم نے بھی پالیا؟ کیونکہ جو حق وعدہاللہ تعالیٰ نے مجھے دیا تھا، میں نے تو اسے پالیا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان جسموں سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں ۔ ارشادفرمایا: جو میں کہہ رہاہوں اسے تم ان سے کچھ زیادہ نہیں سنتے لیکن انہیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں ۔( مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلھا، باب عرض مقعد المیت من الجنۃ او النار علیہ۔۔۔الخ،ص۱۵۳۶، الحدیث: ۷۶( ۲۸۷۳))
نوٹ: مُردوں کے سننے سے متعلق مسئلے کی مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 9ویں جلد میں موجود رسالہ ’’حَیَاتُ الْمَوَاتْ فِیْ بَیَانِ سِمَاعِ الْاَمْوَاتْ‘‘ (مردوں کی سماعت کے بیان میں مفید رسالہ) کا مطالعہ فرمائیں ۔
All Information
I think living according to the commandments of Allah and the Aqa (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is higher Thanks
Please do not comment incorrectly and Follow my page.
مُردوں کے سننے کا ثبوت:
وھابی دیوبندی شیطان کا ٹولا صرف بخاری و مسلم کا گیت گاتے ہے بخاری و مسلم ان کے حلق میں اترتی بھی نہیں
کثیر اَحادیث سے مُردوں کا سننا ثابت ہے، یہاں ہم بخاری شریف اور مسلم شریف سے دو اَحادیث ذکر کرتے ہیں جن میں مردوں کے سننے کا ذکر ہے۔ چنانچہ
حدیث: 1 حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ دفن کرکے پلٹتے ہیں توبیشک وہ یقینا تمہارے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔
( بخاری ، کتاب الجنائز، باب المیت یسمع خفق النعال، ۱ / ۴۵۰، الحدیث: ۱۳۳۸)
وھابی اور دیوبندی قرآن و حدیث کا غلط تفسیر اور تشریح بتا کر لوگوں کو گمراہ کرتے آرہے ہے یہ خود بھی منافق اور ابلیس کے پیروکار ہے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دیتے ہے
سورہ النمل
اِنَّكَ لَا تُسْمِــعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِــعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ(80)
ترجمہ: بیشک تمہارے سُنائے نہیں سنتے مُردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سُنیں جب پھریں پیٹھ دے کر۔
تفسیر
{اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى: بیشک تم مُردوں کو نہیں سناسکتے۔} علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :یعنی جن لوگوں کے دل مردہ ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے اور وہ لوگ کفار ہیں ۔( خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳ / ۴۱۹)اورابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں کفار کو زندہ ہونے اور حواس درست ہونے کے باوجود مُردوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
احادیثِ مبارکہ سے میلاد منانے کے دلائل
حضرت حافظ الحدیث امام ابن الجزری رحمة ﷲ علیہ کا فرمان مبارک : جب ابولہب کافر جس کی مذمت میں قرآن پاک نازل ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی میں جزا نیک مل گئی (عذاب میں تخفیف) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی امت کے مسلمان موحد کا کیا حال ہوگا۔
جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت کی خوشی مناتا ہو اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی محبت میں حسب طاقت خرچ کرتا ہو ۔
مجھے اپنی جان کی قسم ﷲ کریم سے اس کی جزا یہ ہے کہ اس کو اپنے فضل عمیم سے جنت نعیم میں داخل فرمائے گا ۔
(مواہب لدنیہ جلد 1 صفحہ 27)
جلیل القدر محدث امام ابن جوزی رحمة ﷲ علیہ کا فرمان مبارک :
جب ابولہب کافر (جس کی قرآن میں مذمت بیان کی ہے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت پر خوش ہونے کی وجہ سے یہ حال ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی امت کے اس موحد مسلمان کا کیا کہنا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ولادت پر مسرور اور خوش ہے ۔
(بیان المولد النبوی صفحہ 70)
(محمد بن وہاب نجدی کے بیٹے کی کتاب مختصر سیرۃ الرسول صفحہ 23)
احادیثِ مبارکہ سے میلاد منانے کے دلائل
اپنی آمد کا جشن تو خود آقا کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے منایا ہے ۔
تو ان کے غلام کیوں نہ منائیں ؟
چنانچہ حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں عرض کی گئی کہ : یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ پیر کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جواب دیا ’’ اسی دن میں پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ۔
(صحیح مسلم شریف جلد 1 صفحہ 7)(مشکوٰۃ شریف صفحہ 179)
مسلمان اگر رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آمد کی خوشی نہیں منائیں گے تو اور کون سی رحمت پر منائیں گے ۔ لازم ہے کہ مسلمان رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آمد کا جشن منائیں ۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : ترجمہ ’’ تم فرماؤ ﷲ عزوجل ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ، اسی پر چاہیے کہ وہ خوشی کریں ۔ وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ۔ (سورۃ یونس آیت 58)
ﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ترجمہ ’’ اور اپنے رب کی نعمت کے خوب چرچے کرو ‘‘ (سورۂ وَٱلضُّحَىٰ :11)
ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ
جو منافق لوگ جس کو آج کے دور میں وھابی اور دیوبندی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ ہر ربیع الاول کے ماہ میں یہ فتنا پھیلاتے ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 12ربیع الاول پیر کے دن نہیں ہوئی یہ لوگ قرآن و حدیث کے منکر ہے۔ جواب ملاحظہ فرمائیں شکریہ آگے ضرور شئیر کرے۔
دلیل نمبر 2
محدث علامہ ابن جوزی متوفی 597ھ فرماتے ہیں۔ اس بات پر تمام متفق ہیں کہ حضورﷺ کی ولادت عام الفیل میں پیر کے روز ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی اور اس کے تاریخ میں اختلاف ہے اور اس بارے میں چار اقوال ہیں چوتھا قول یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول شریف کو ولادت باسعادت ہوئی۔
(بحوالہ: صفۃ الصفوہ جلد اول صفحہ نمبر 22)
دلیل نمبر 3
علامہ امام نور الدین حلبی علیہ الرحمہ (متوفی 624ھ) فرماتے ہیں۔ تاجدار کائناتﷺ کی ولادت بارہ ربیع الاول شریف کو ہوئی اس پر اجماع ہے اور اب اسی پر عمل ہے شہروں میں خصوصا اہل مکہ اسی دن حضورﷺ کی ولادت کی جگہ پر زیارت کے لئے آتے ہیں (بحوالہ: سیرت حلبیہ جلد اول صفحہ نمبر 57)
ولادت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ
جو منافق لوگ جس کو آج کے دور میں وھابی اور دیوبندی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ ہر ربیع الاول کے ماہ میں یہ فتنا پھیلاتے ہے کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 12ربیع الاول پیر کے دن نہیں ہوئی یہ لوگ قرآن و حدیث کے منکر ہے۔ جواب ملاحظہ فرمائیں شکریہ آگے ضرور شئیر کرے۔
دلیل نمبر 1
حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ متوفی 235ھ سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ حضرت عفان سے روایت ہے کہ وہ سعید بن مینا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر اور حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما نے فرمایا کہ حضور سید عالمﷺ کی ولادت عام الفیل میں بروز پیر بارہ ربیع الاول کو ہوئی۔
(بحوالہ: البدایہ والنہایہ جلد دوم صفحہ نمبر 302، بلوغ الامانی شرح الفتح الربانی جلد دوم صفحہ نمبر 189, السیرت النبویہ ازابی الفدا اسماعیل ابن کثیر حصہ اول ص 199)
میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سن 340ھ
ڈاکٹر حسن ابراہیم کے حوالہ سے منقول ہے کہ چوتھی صدی میں امام ابو الحسن عبیدﷲ کرخی میلاد شریف کی محفل سجاتے تھے چنانچہ آپ اس کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
روى عن الامام الزاهد الكرخى وهو امن زھاد القرن الرابع الھجرى انه كان یولى یوم مولد الرسول صلى اللّٰه عليه وسلم ما هو خلیق به من تعظیم وتقدیس وقد احتفل المسلمون منذ ذلك الحین یلیلة مولد الرسول صلى اللّٰه عليه وسلم.5
امام زاہد کرخی کے بارے میں ہے جو چوتھی صدی ہجری کے نہایت ہی صاحب تقویٰ عالم ہیں کہ وہ حضور کی ولادت کے دن کی خوب تعظیم اور اس کے شایانِ شان اہتمام کرتے ، اس وقت سے مسلمان محفل میلاد سجاتے ہیں۔
یاد رہے کہ امام زاہد کرخی بادشاہ،حاکم،وزیر،گورنر یا کوئی اورحکومتی عہدیدار نہیں تھے بلکہ عالمِ ربّانی اور ولی اللہ تھے اور اس بزرگ کا سن وصال 340ھ ہے یعنی مصر میں فاطمی حکومت سے اٹھارہ (18)سال پہلے ان کا وصال ہوگیا تھا۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ میلاد فاطمی حکومت کی ایجاد بھی نہیں ہے۔
(مفتی محمد خان قادری، محفلِ میلاد اور شاہ اربل، مطبوعہ: کاروان اسلام پبلی کیشنز ، لاہور،پاکستان، 2016ء، ص: 99-100)
(مجلہ لواء الاسلام، ربیع الاوال سن 1368 ص 48,49)
پہلے اپنے گھر کی تلاشی لو منکرین میلاد والوں یہ کس دین اسلام کی کتب میں آیا کہ ہندو پنڈت جواہر لال نہرو25ستمبر1956ء کو سعودی عرب کے دورہ پر گیاتو شاہ سعود، وزرائ، فوجی افسران اور عوام نے بھر پور استقبال کیااور ’’مرحبا نہرو رسول السلام‘‘ اور ’’جے ہند‘‘ کے نعروں سے استقبال کیااور جلوس کی شکل میں نہرو کو شاہ سعود کے محل میں لے جایا گیا۔(روزنامہ جنگ،کراچی27/28دسمبر1956)
جواب دینا پڑھے گا وھابی شیطان ابلیس کے چیلو
11/09/2024
بارہ ۱۲ ربیع الاول ولادت یا وصال
وھابی و دیوبندی اور نیا فتنہ انجینئیر مرزا والے غور سے پڑھو اور دیکھو کہ
اعلی حضرت نے ولادت پر کیا تحقیق فرمائے
تاریخِ وصالُ النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم 12 ربیع الاوّل ہرگز نہیں ہے
پارٹ 6
اور اگر بارہ ربیع الاول ہی تاریخِ وفات شریف ہو تو بھی میلاد شریف منانے سے روکنے کی کوئی دلیل نہیں۔
شریعت میں تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں صرف بیوہ کو شوہر کے لیے چار ماہ دس دن سوگ کرنے کا حکم ہے۔
غم پر صبر کرنا اور نعمت کا چرچا کرنا ہی مومن کی شان ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بھی جمعہ کے دن ہے اور وفات شریف بھی لیکن حدیث شریف میں جمعہ کے دن کو عید کا دن قرار دیا گیا ہے
بلکہ مشکوٰۃ شریف باب الجمعۃ مین ابن ماجہ کے حوالے سے ایک حدیث روایت کی جس میں جمعہ کو عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی عظیم دن فرمایاگیا۔
حالانکہ اسی دن ایک نبی کی وفات بھی ہے، تو معلوم ہوا کہ غم پر صبر کرنا چاہیے اور پیدائش کا اعتبار کرتے ہوئے اس دن عید (خوشی) منانا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:"اگر مشہور کا اعتبار کرتا ہے تو ولادت شریف اور وفات شریف دونوں کی تاریخ بارہ ہے ہمیں شریعت نے نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنے اور غم پر صبر کرنے کا حکم دیا،
لہٰذا اس تاریخ کو روزِ ماتمِ وفات (وفات کے ماتم کا دن) نہ کیا روزِ سُرورِ ولادتِ شریفہ (ولادت شریف کی خوشی کا دن) کیا ۔
کما فی مجمع البحار الانوار (جیسا کہ مجمع البحار الانوار میں ہے)۔
(فتاوٰی رضویہ جلد نمبر 26 صفحہ نمبر 428)
صرف 12 ربیع الاوّل کے دن ہی نہیں بلکہ ربیع النور کی پہلی تاریخ سے لے کر بارہ تک ان بارہ دنوں میں جتنا اور جس طرح بھی ممکن ہو ہر امتی کو چاہئیے کہ نور مجسم فخر بنی آدم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کیلئے خوشی کے اظہار کے مختلف طریقے اپنائے مثلاً آپس میں مبارک باد دیں اپنے گھر دکان گلی محلہ اور مسجد کو قمقموں اور جھنڈوں سے سجائیں ،
اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل یا کار وغیرہ پر بھی جھنڈے لگائیں ، مٹھائیاں تقسیم کریں ، دودھ شربت پلائیں ، کھانا کھلائیں، دوردپاک کی کثرت کریں، اجتماعات منعقد کریں جس میں مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات و معجزات اور ولادت مبارکہ ، کے واقعات بیان کیے جائیں ،
خوب خوب نعتیہ محافل قائم کریں ، ہر قسم کے صغیرہ کبیرہ گناہ سے بچیں اور نیک اعمال کی کثرت کی کوشش کریں اور خصوصاً بارہ تاریخ کو گھر کو خوب صاف ستھرا رکھیں ، تازہ غسل کریں ہو سکے تو نئے کپڑے اور اگر استطاعت نہ ہو تو پرانے ہی مگر اچھی طرح دھو کر پہنیں ، آنکھوں میں سرمہ لگائیں ، خوب اچھی طرح عطر ملیں ، طاقت اور قدرت ہو تو روزہ رکھیں
اور اپنے علاقے میں نکلنے والے جلوس میں شرکت کرکے اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل ہونے والی بےشمار رحمتوں اور برکتوں سے حصہ طلب فرمائیں ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi
74900