22/08/2024
موجودہ دور میں والدین کو پیشِ آنے والا انتہائی اہم مسئلہ بچوں کی پڑھائی میں عدم دلچسپی اور ناقص کارکردگی ہے ۔
اکثر والدین یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمارا بچہ پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا ہمیں کیا کرنا چاہیے، یا پھر یہ کہ ہم ایسا کیا کریں کہ وہ امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھائے ۔
اب سوال یہ بنتا ہے کہ بچہ پڑھائی میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہا ،اچھے گریڈز نا لینے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں ۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے بچہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو ۔ ذہنی دباؤ میں مبتلا بچہ بھلا کیسے اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ آج کل اکثر والدین بچوں پہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ سب سے زیادہ مارکس تمہارے ہی آنے چاہیئں ، اور پھر سکولوں میں بچوں پر بے جا بوجھ ڈالا جاتا ھے ،درجنوں کاپیاں، اتنا بچے کا اپنا وزن نہیں ہوتا جتنا اس پہ بیگ کا وزن لاد دیا جاتا ہے اور پھر ٹیوشن۔۔ نتیجتاً بچہ سکول اور ٹیوشن تک محدود رہ جاتا ہے اُس کو کھیل اور کسی باہر کی سرگرمی کا وقت نہیں ملتا ۔اس طرح کے حالات میں بچے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کا پڑھائی سے دل اٹھ جاتا ہے ۔
2: ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سکول کا ماحول بچے کے لئے سازگار نا ہو- ہو سکتا ہے بچہ خود کو سکول کے مطابق اڈپٹ نا کر رہا ہوں ۔کیونکہ ہر بچے کی نفسیات الگ ہوتی ہے اور ہر طرح کا ماحول ہر بچے کے لئے موزوں نہیں ہوتا۔
3: کچھ بچے والدین کی عدم توجہ کا شکار ہوتے ہیں عموماً دیکھا گیا ہے کہ جن بچوں کے والدین ان کو وقت نہیں دیتے وہ پر اعتماد نہیں ہوتے، نتیجتاً وہ بہتر کارکردگی نہیں دکھا سکتے ۔
4: کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جن کو گھر میں اہمیت نہیں دی جاتی، اس طرح کے بچے احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور یہ بچے باقی بچوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
5: سب سے اہم وجہ موبائل کا بہت زیادہ استعمال ہے۔ آجکل بچے پڑھائی کو نظر انداز کر کے صرف موبائل استعمال کرنا پسند کرتے ہیں ۔
ان مسائل کا حل کیا ہے ؟
والدین اور اساتذہ کو چاہیئے کہ بچوں پہ ضرورت سے زیادہ پریشر نا دیں، پڑھائی کے ساتھ ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف بھی دھیان دیں اس طرح بچے زیادہ سیکھیں گے۔
والدین کو چاہیئے کہ بچوں کے لیے ایسے ادارے کا انتخاب کریں جو بچوں کو پر سکون ماحول فراہم کریں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو توجہ دیں ان سے باتیں کریں ان سے ان کے معمول اور سکول کے بارے میں باتیں کریں ان سے پڑھائی کے متعلق پوچھیں اس طرح بچے پڑھائی میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں اور جب بچے بہتر کارکردگی دکھائیں تو انعامات کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور اگر کارکردگی اچھی نہ ھو تو پیار اور افہام و تفہیم سے اس سے استفسار کریں کہ آخر ایسی کارکردگی کے پیچھے کیا محرکات ہیں اور ان پر کیسے قابو پایا جا سکتا ھے۔
اس طرح بچے پڑھائی اور اچھی کارکردگی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔۔
والدین کو چاہیئے کہ بچوں کو موبائل پہ تعلیمی مواد کی طرف راغب کریں ایسے کارٹون اور گیمز ان کے موبائل میں ہونے چاہیئے جن سے بچے آداب زندگی اور آداب فرزندی سیکھیں۔