3 important quick questions
جو قربانی کے حوالے سے پوچھے جاتے ہیں ؟
Kashif Naseem Dilkusha
Official Account of Shaykh Kashif Naseem Dilkusha
President & Lead Instructor of Azaan Institute Pakistan.
کتنی دعائیں ہیں جو آپ نے ابھی تک اللہ سے نہیں مانگیں؟
بعض لوگ پورا سال اپنی بڑی دعائیں، اپنے دل کے راز، اپنی زندگی کے اہم فیصلے اور اپنی آخرت کی آرزوئیں یومِ عرفہ کے لیے محفوظ رکھتے تھے۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو پایا جو اپنی حاجتیں یومِ عرفہ تک مؤخر کرتے تھے تاکہ اُس دن اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔ اور بعض کہتے تھے:
“میں پچاس سال سے یومِ عرفہ میں دعائیں مانگ رہا ہوں، اور سال ختم ہونے سے پہلے اُن کی قبولیت کو صبحِ صادق کی طرح ظاہر ہوتا دیکھ لیتا ہوں۔
(لطائف المعارف )
یومِ عرفہ صرف حجاج کے لیے نہیں، پوری امت کے لیے دعا کا دن ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ»
“سب سے افضل دعا یومِ عرفہ کی دعا ہے۔”
(Jami’ at-Tirmidhi، 3585)
اس لیے اس دن کو عام دن نہ سمجھیں۔
اپنی مغفرت مانگیں۔
اپنی اولاد کے لیے مانگیں۔
اپنے والدین کے لیے مانگیں۔
اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
فلسطین، امتِ مسلمہ اور اپنی آخرت کے لیے مانگیں۔
کون جانتا ہے کہ یومِ عرفہ کی ایک سچی دعا آپ کی پوری زندگی بدل دے، اور وہ چیز عطا کر دے جس کا آپ برسوں سے انتظار کر رہے ہیں۔
اپنی دعاؤں کی فہرست آج ہی تیار کر لیجیے، کیونکہ یومِ عرفہ کل ہے۔
سنت صرف ثواب کا راستہ نہیں، کامیاب زندگی کا بھی راستہ ہے
آج دنیا ذہنی دباؤ، بے چینی، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، تنہائی اور مقصدِ زندگی کے بحران کا شکار ہے۔ انسان کے پاس پہلے سے زیادہ سہولتیں ہیں، لیکن سکون پہلے سے کم ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
کیونکہ زندگی بنانے والے کی ہدایات کے بغیر زندگی گزارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جس کمپنی نے ایک مشین بنائی ہو، وہی اس کا درست طریقۂ استعمال جانتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کی ہدایات کو نظر انداز کرے تو مشین خراب ہو جائے گی، چاہے وہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو۔ انسان بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، اور رسول اللہ ﷺ کی سنت انسان کے لیے وہی “یوزر مینول” ہے جس کے مطابق چلنے میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾
“یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔”
(الأحزاب: 21)
اور فرمایا:
﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا﴾
“اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا، اس کے لیے تنگ اور پریشان زندگی ہوگی۔”
(طه: 124)
ذرا دیکھیے، آج سائنس کن چیزوں کو صحت مند زندگی کے اصول قرار دیتی ہے:
* صبح جلدی اٹھنا
* اعتدال کے ساتھ کھانا
* جسمانی سرگرمی
* خاندانی تعلقات کو مضبوط رکھنا
* شکر گزاری کی عادت
* دوسروں کی مدد کرنا
* غصے پر قابو پانا
* مثبت سوچ رکھنا
یہ سب چیزیں چودہ سو سال پہلے رسول اللہ ﷺ کی سنت میں موجود تھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ”
“انسان نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔”
(سنن الترمذی: 2380)
آج دنیا Overeating کے نقصانات پر تحقیق کر رہی ہے، جبکہ سنت نے پہلے ہی اعتدال سکھا دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ…”
“مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر حال میں خیر ہے۔”
(صحیح مسلم: 2999)
یہی مثبت سوچ اور Resilience آج جدید نفسیات کی بڑی بحث ہے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
“تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ صَدَقَةٌ”
“اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا بھی صدقہ ہے۔”
(سنن الترمذی: 1956)
آج ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ مسکراہٹ اور اچھے سماجی تعلقات انسان کی خوشی اور ذہنی صحت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سنت صرف مسجد کے اندر کی زندگی نہیں سکھاتی؛ سنت سونے، جاگنے، کھانے، پینے، کاروبار، شادی، اولاد، دوستی، سفر، گفتگو اور مشکل حالات تک ہر شعبے میں رہنمائی دیتی ہے اس لیے جب تک ہماری زندگی سنت کے مطابق نہیں ہوگی، نہ مکمل سکون ملے گا، نہ حقیقی کامیابی، اور نہ وہ برکت جس کی تلاش میں انسان پوری زندگی بھٹکتا رہتا ہے۔
سنت پر چلنا ماضی میں واپس جانا نہیں، بلکہ زندگی کو اس طریقے پر چلانا ہے جسے انسانوں کے خالق نے سب سے بہتر قرار دیا ہےاور خالق سے بہتر انسان کی فطرت کو کوئی نہیں جانتا۔
کیا مرحومین کیلئے قربانی ہے؟
24/05/2026
حج کو بہترین بنانا ہے؟ تو یہ دو کام ضرور کیجیے۔
الحمد للہ! حجاجِ کرام مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں اور اب منیٰ، عرفات اور ایامِ تشریق کے وہ مبارک دن شروع ہونے والے ہیں جن کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان سفر کر کے یہاں پہنچتے ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ پانچ دن آپ کی زندگی کے بہترین دن بن جائیں تو دو باتوں کا خاص اہتمام کیجیے:
1۔ کم بولیے
اب آپ کے پاس وقت ہوگا۔ دوست بھی ہوں گے، ساتھی بھی ہوں گے، گفتگو کے موضوعات بھی بے شمار ہوں گے: سیاست، کاروبار، حالاتِ حاضرہ، لوگوں کی باتیں اور بہت کچھ۔
لیکن یاد رکھیے! منیٰ، عرفات اور مزدلفہ گفتگو کے نہیں، ذکر کے دن ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
﴿وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾
“اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو خوب یاد کرو۔” (البقرۃ: 203)
منیٰ میں ذکر، عرفات میں دعا اور ذکر، مزدلفہ میں ذکر، اور پھر ایامِ تشریق میں تکبیرات اور اللہ کی یاد۔
جتنا انسان غیر ضروری باتوں میں پڑتا ہے، اتنا ہی اس کا دل عبادت سے غافل ہوتا جاتا ہے۔
2۔ کم کھائیے
شدید گرمی، ہجوم اور مسلسل نقل و حرکت کے ان دنوں میں زیادہ کھانا اکثر تھکن، سستی اور طبیعت کی خرابی کا سبب بنتا ہے۔
ہلکی غذا کھائیں، ضرورت کے مطابق کھائیں۔ اس سے جسم چست رہے گا، عبادت میں دل لگے گا، واش روم کی لمبی قطاروں میں وقت کم ضائع ہوگا اور طبیعت بھی بہتر رہے گی
اس لیے ضرورت کے مطابق کھائیے، پیٹ بھر کر نہیں۔ ہلکی غذا لیجیے، پانی خوب پیجیے، اور اپنے جسم کو عبادت کے لیے ہلکا اور چست رکھیے
اپنے حج کے ان قیمتی دنوں کو دو چیزوں سے بچائیے: زیادہ گفتگو اور زیادہ کھانا اور دو چیزوں سے بھر دیجیے: ذکرِ الٰہی اور دعا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے حج کو قبول فرمائے اور ان مبارک دنوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
23/05/2026
ہر دفعہ الحمد للہ کہنے پر ایک نئی نعمت
«مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، إِلَّا كَانَ الَّذِي أَعْطَاهُ أَفْضَلَ مِمَّا أَخَذَ»
“اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو کوئی نعمت عطا فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے: الحمد للہ، تو اس کے بدلے میں اسے جو (الحمد للہ کہنے کی توفیق اور اجر) عطا کیا جاتا ہے، وہ اس نعمت سے بھی بہتر ہوتا ہے جو اسے ملی تھی۔”
📖 سنن ابن ماجہ: 3805
✅ علامہ البانیؒ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ (Abu Amina Elias)
ذرا دوبارہ پڑھیے!
آپ صرف اتنا کہتے ہیں: الحمد للہ اور یہی ایک لفظ آپ کے لیے اس نعمت سے بھی بڑھ کر خیر کا سبب بن جاتا ہے جس پر آپ نے الحمد للہ کہا تھا اسی لیے اہلِ ایمان کی زبان پر ہر حال میں ایک ہی لفظ رہنا چاہئے الحمد للہ۔
22/05/2026
لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك
قربانی کرنے سے پہلے یہ بات ضرور چیک کرلیں
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ستر⁷⁰ حج کیے اور ہر دفعہ وقوف عرفہ میں یہ دعا کثرت سے کرتے۔
*"اللهم لا تجعله آخر العهد منك"*
"اے اللہ میری یہ آخری حاضری نہ ہو"۔
تاريخ الإسلام / الذهبي (١٣/ ١١٩)
کیا کبھی تکفیر (کسی کو کافر کہنا) کرنا ضروری بھی ہوگا؟
The heart doesn't fall away all at once, It drifts slowly, through small compromises we stop noticing.
Dr. Zohair
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Karachi