Something Learn with UR

Something Learn with UR Hi Everyone! Umar Rafique Is here. i am from Karachi.

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت (یکم محرم)خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کی تاریخ کی وہ ...
16/06/2026

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت (یکم محرم)

خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کی تاریخ کی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے عدل و انصاف، شجاعت اور مدبرانہ قیادت کی مثال دنیا آج بھی دیتی ہے۔ آپؓ کے دورِ حکومت میں اسلام دنیا کے کونے کونے تک پھیلا اور ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم ہوئی۔

شہادت کا واقعہ:

26 ذوالحجہ 23 ہجری کو جب آپؓ مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، تو ابو لولو فیروز نامی ایک مجوسی غلام نے آپؓ پر خنجر سے قاتلانہ حملہ کیا۔ آپؓ شدید زخمی ہوئے اور تین دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد یکم محرم الحرام کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔

مرتبہ اور تدفین:

آپؓ کی خواہش کے مطابق آپؓ کو رسول اللہ ﷺ اور اپنے دیرینہ رفیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں روضہ رسول ﷺ میں دفن کیا گیا۔
سبق:

یکم محرم کا دن ہمیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل، سادگی، اور اسلام کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ آپؓ کا دورِ خلافت قیامت تک آنے والے حکمرانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔

Martyrdom of Hazrat Umar Farooq (R.A) (1st Muharram)

Hazrat Umar Farooq (R.A), the second Caliph of Islam, is one of the most towering and influential figures in Islamic history. Renowned for his unwavering justice, bravery, and visionary leadership, his caliphate transformed the Islamic state into a vast, prosperous, and just empire.

The Incident of Martyrdom:

On the 26th of Dhu al-Hijjah, 23 AH, while leading the Fajr prayer in Masjid al-Nabawi, Hazrat Umar (R.A) was brutally attacked by a Persian slave named Abu Lulu Feroz, who stabbed him multiple times with a poisoned dagger. Despite his severe wounds, he remained conscious of his duties. After suffering for three days, he embraced martyrdom on the 1st of Muharram.

Burial and Legacy:

According to his last wish, he was buried in the sacred chamber (Rawdah) in Medina, right next to the Prophet Muhammad (PBUH) and his closest companion, Hazrat Abu Bakr (R.A).

Conclusion:

The 1st of Muharram serves as a poignant reminder of the supreme sacrifices of Hazrat Umar (R.A). His life teaches us the values of accountability, simplicity, and selfless service to humanity, leaving behind a legacy of justice that continues to inspire the world.





30/04/2026

:سورت یونس ایت 62 تا 109

آیات 60-62:
ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اللہ ہر اس حال سے واقف ہے جس میں انسان ہوتا ہے۔ اور خوشخبری ہے اللہ کے دوستوں (اولیاء اللہ) کے لیے کہ انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

آیات 63-65:
جو لوگ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا، ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں خوشخبری ہے۔ اللہ کے وعدے اٹل ہیں اور یہی اصل کامیابی ہے۔ مخالفین کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں کیونکہ تمام تر عزت اور طاقت اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔

آیات 66-68:
آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہے، مشرکین جن کی پیروی کرتے ہیں وہ محض وہم و گمان ہے۔ اللہ نے تمہارے سکون کے لیے رات اور کام کے لیے دن بنایا۔ وہ پاک ہے، اسے اولاد کی ضرورت نہیں، وہ سب سے بے نیاز ہے۔

آیات 69-71:
اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے پھر انہیں سخت عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ آپ انہیں حضرت نوح (ع) کا قصہ سنائیں جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تمہیں میرا وعظ برا لگتا ہے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کر لیا ہے، تم سب مل کر اپنا زور لگا لو۔

آیات 72-74:
اگر تم نے میری دعوت سے منہ موڑا تو میرا کیا نقصان؟ میرا اجر تو اللہ کے ذمے ہے۔ نوح (ع) کے بعد ہم نے بہت سے رسول بھیجے جو نشانیاں لائے، مگر لوگوں نے وہی پرانی ضد برقرار رکھی۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

آیات 75-77:
پھر ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون کے پاس بھیجا، مگر ان لوگوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم تھے۔ جب ان کے پاس حق آیا تو وہ اسے جادو کہنے لگے۔ موسیٰ (ع) نے فرمایا: کیا تم حق کو جادو کہتے ہو؟ حالانکہ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

آیات 78-80:
فرعون کے لوگوں نے کہا کیا تم ہمیں ہمارے باپ دادا کے طریقے سے ہٹانے آئے ہو؟ فرعون نے حکم دیا کہ تمام ماہر جادوگروں کو میرے پاس لاؤ۔ جب جادوگر آ گئے تو موسیٰ (ع) نے کہا کہ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے، ڈالو۔

آیات 81-83:
موسیٰ (ع) نے کہا کہ یہ جادو جو تم لائے ہو، اللہ اسے ابھی مٹائے دیتا ہے، اللہ فسادیوں کے کام نہیں سنوارتا۔ اور اللہ اپنے کلام سے حق کو ثابت کر دیتا ہے۔ فرعون کے خوف سے موسیٰ (ع) پر ان کی قوم کے محض چند نوجوان ہی ایمان لائے۔

آیات 84-86:
موسیٰ (ع) نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر تم سچے مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو۔ انہوں نے دعا کی: اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کے لیے آزمائش نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات عطا فرما۔

آیات 87-89:
ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی کو وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ، انہیں قبلہ رخ کرو اور نماز قائم کرو۔ موسیٰ (ع) نے دعا کی کہ اے اللہ! تو نے فرعون کو دنیا کی زینت دی ہے جس سے وہ لوگوں کو بھٹکاتا ہے، ان کے مال تباہ کر دے۔ اللہ نے فرمایا: تمہاری دعا قبول کر لی گئی۔
آیات 90-92:
جب سمندر پھٹا اور بنی اسرائیل گزر گئے تو فرعون پیچھے آیا۔ ڈوبتے وقت وہ پکارا کہ میں اس خدا پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل لائے۔ اللہ نے فرمایا: اب؟ جبکہ پہلے نافرمانی کی۔ آج ہم تیرا جسم بچا لیں گے تاکہ تو بعد والوں کے لیے عبرت بنے۔

آیات 93-95:
ہم نے بنی اسرائیل کو پاکیزہ رزق دیا، انہوں نے علم آنے کے بعد اختلاف کیا۔ (اے مخاطب!) اگر تجھے اس وحی میں شک ہے تو ان سے پوچھ لے جو پہلے کتاب پڑھتے ہیں۔ حق تیرے رب کی طرف سے آ چکا ہے، اب شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

آیات 96-98:
جن پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی وہ ایمان نہیں لائیں گے چاہے تمام نشانیاں دیکھ لیں۔ سوائے قومِ یونس کے، جن کا ایمان لانا انہیں نفع دے گیا کیونکہ انہوں نے عذاب دیکھنے سے پہلے توبہ کر لی تھی، تو ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب ٹال دیا۔

آیات 99-101:
اگر اللہ چاہتا تو زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے، تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے؟ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی ایمان نہیں لا سکتا۔ آپ کہیے کہ زمین و آسمان کی نشانیوں کو دیکھو، مگر نشانیاں ان کو فائدہ نہیں دیتیں جو ایمان نہیں لانا چاہتے۔

آیات 102-104:
کیا یہ لوگ بھی ویسے ہی دنوں (عذاب) کا انتظار کر رہے ہیں جیسے ان سے پہلے والوں پر آئے؟ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیتے ہیں۔ کہہ دیجیے: اے لوگو! اگر تم میرے دین کے بارے میں شک میں ہو تو سن لو، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو، بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت دیتا ہے۔

آیات 105-107:
حکم دیا گیا ہے کہ اپنا رخ دینِ حنیف کی طرف رکھو اور مشرکوں میں سے نہ ہونا۔ اللہ کے سوا اسے نہ پکارو جو نہ نفع دے نہ نقصان۔ اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف دے تو اس کے سوا کوئی اسے دور نہیں کر سکتا، اور اگر وہ بھلائی چاہے تو کوئی اس کا فضل نہیں روک سکتا۔

آیات 108-109:
کہہ دیجیے کہ تمہارے پاس حق آ چکا ہے، جو ہدایت پائے گا اپنے لیے اور جو بھٹکے گا وہ اپنا نقصان کرے گا۔ میں تم پر داروغہ نہیں ہوں۔ آپ (ﷺ) اسی وحی کی پیروی کریں جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے اور صبر کریں یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے۔

مختصر خلاصہ :
اللہ کی قدرت اور علم: اللہ تعالی ہر چیز کا مالک ہے، وہ انسان کے ہر عمل اور نیت سے واقف ہے۔ زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ اس کے قبضے میں ہے اور اسی نے کائنات کا نظام (رات اور دن) انسان کے فائدے کے لیے بنایا ہے۔
اولیاء اللہ کی شان: جو لوگ ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ غم۔ ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی خوشخبری ہے۔
انبیاء کے قصص اور عبرت: * حضرت نوح (ع): ان کی قوم نے ضد کی اور انجامِ کار غرق ہوئی۔
حضرت موسیٰ (ع) و فرعون: فرعون نے تکبر کیا اور جادو کے ذریعے حق کو روکنا چاہا، لیکن آخر کار سمندر میں غرق ہوا اور اس کی لاش کو عبرت کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔
قومِ یونس: یہ وہ واحد قوم تھی جس نے عذاب آنے سے پہلے سچی توبہ کی، تو اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔
حق اور باطل کا فیصلہ: حق اللہ کی طرف سے آ چکا ہے۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ہدایت کا راستہ چن کر اپنا بھلا کرے یا گمراہی اختیار کر کے اپنا نقصان۔
آخری نصیحت: نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ صرف اللہ کی وحی کی پیروی کریں، اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاریں (جو نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان) اور اللہ کے فیصلے تک صبر کریں۔

#قرآن
#عبرت
#صبر #توکل




Ittehad (Unity), Tanzeem (Discipline) aur Yaqeen-e-Mohkam (Faith) ye wo teen usool hain jo humein ek azeem qoum bana sak...
29/04/2026

Ittehad (Unity), Tanzeem (Discipline) aur Yaqeen-e-Mohkam (Faith) ye wo teen usool hain jo humein ek azeem qoum bana sakte hain.

"Dunya ki koi taqat Pakistan ko khatam nahi kar sakti."
(World's no power can undo Pakistan)

#پاکستان #قائداعظم

27/04/2026

سورہ یونس: مختصر اردو ترجمہ (آیات 1 تا 60)

​آیات 1-3: یہ حکمت والی کتاب کی آیات ہیں۔ کیا لوگوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد پر وحی بھیجی؟ تمہارا رب وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے اور اب وہی کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔

​آیات 4-6: تم سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا تاکہ تم برسوں کا حساب کر سکو۔ رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

​آیات 7-9: جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہیں، ان کا ٹھکانہ آگ ہے۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کا رب ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں نعمتوں والی جنتوں کی راہ دکھائے گا۔

​آیات 10-12: جنت میں ان کی پکار "سبحان اللہ" ہوگی۔ اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، لیکن جب ہم تکلیف دور کر دیتے ہیں تو ایسا چل دیتا ہے جیسے کبھی پکارا ہی نہ تھا۔

​آیات 13-15: ہم نے تم سے پہلے کئی قوموں کو ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کر دیا جب ان کے پاس رسول آئے۔ اور جب ان کے سامنے ہماری صاف آیات پڑھی جاتی ہیں تو منکرین کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں تبدیلی کر دو۔

​آیات 16-18: (اے نبی) کہہ دیجیے کہ میرے اختیار میں نہیں کہ میں اپنی طرف سے اسے بدل دوں۔ اور یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان دے سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔

​آیات 19-21: شروع میں سب لوگ ایک ہی دین پر تھے، پھر انہوں نے اختلاف پیدا کیا۔ اور جب ہم لوگوں کو تکلیف کے بعد رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری نشانیوں کے خلاف چالیں چلنے لگتے ہیں۔

​آیات 22-24: اللہ ہی تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور تند ہوا چلتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہو، مگر نجات پاتے ہی پھر سرکشی کرتے ہو۔ دنیا کی زندگی کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے جو پک کر تیار ہوئی اور پھر اللہ کے حکم سے کٹ کر ڈھیر ہو گئی۔

​آیات 25-27: اللہ تمہیں سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف بلاتا ہے۔ نیکی کرنے والوں کے لیے اچھا بدلہ ہے اور ان کے چہروں پر ذلت نہیں ہوگی، جبکہ برائی کرنے والوں کو ان کی برائی کے برابر بدلہ ملے گا۔

​آیات 28-30: جس دن ہم سب کو جمع کریں گے، تو مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہر جاؤ۔ وہاں ان کے شریک ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور ہر شخص اپنے کیے ہوئے اعمال کو جان لے گا۔

​آیات 31-33: (اے نبی) ان سے پوچھو کہ تمہیں آسمان اور زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ وہ کہیں گے "اللہ"۔ تو پھر کہو کہ تم ڈرتے کیوں نہیں؟ یہی اللہ تمہارا سچا رب ہے، پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا باقی رہ گیا؟

​آیات 34-36: ان سے کہو کہ کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو پہلی بار پیدا کرے اور پھر اسے دوبارہ زندہ کرے؟ ان میں سے اکثر لوگ محض گمان کے پیچھے چل رہے ہیں، اور گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔

​آیات 37-39: یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اسے گھڑ لے۔ بلکہ یہ پہلی کتابوں کی تصدیق ہے۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ نبی نے اسے خود بنا لیا ہے؟ کہو کہ پھر تم بھی اس جیسی ایک سورت بنا لاؤ۔

​آیات 40-42: ان میں سے کچھ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں، اور آپ کا رب فسادیوں کو خوب جانتا ہے۔ اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو کہہ دیں کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا۔

​آیات 43-45: ان میں سے کچھ آپ کو دیکھتے ہیں، کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھائیں گے؟ اللہ لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ جس دن وہ جمع کیے جائیں گے، انہیں لگے گا کہ وہ دنیا میں صرف ایک گھڑی رہے تھے۔

​آیات 46-48: ہم آپ کو وہ عذاب دکھا دیں جس کا وعدہ ہے یا (اس سے پہلے) آپ کو وفات دے دیں، بہرحال انہیں لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے، جب ان کا رسول آ جاتا ہے تو ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کر دیا جاتا ہے۔

​آیات 49-51: کہہ دیجیے کہ میں اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔ ہر قوم کا ایک وقت مقرر ہے۔ کیا جب اللہ کا عذاب آ جائے گا تب تم اسے مانو گے؟

​آیات 52-54: پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ عذاب سچ ہے؟ کہہ دیں "ہاں! میرے رب کی قسم یہ بالکل سچ ہے"۔ اگر ظالم کے پاس زمین کی تمام دولت ہو تو وہ عذاب سے بچنے کے لیے بدلے میں دے دے۔

​آیات 55-56: خبردار! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت، اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔

​آیات 57-60: اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا آگئی ہے۔ کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے، لہذا لوگوں کو اس پر خوش ہونا چاہیے۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا؟

خلاصہ:

ان آیات کا مرکزی پیغام توحید (اللہ کی وحدانیت)، آخرت کی جوابدہی اور قرآن کی حقانیت ہے۔ اس کا نچوڑ ان 4 پوائنٹس میں ہے:
1. اللہ کی قدرت اور نشانیاں: اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور کائنات کے نظام کو انسان کی ہدایت اور وقت کے حساب کے لیے بنایا ہے۔ یہ کائنات بے مقصد نہیں بلکہ ایک خالق کے قبضے میں ہے۔
2. دنیا بمقابلہ آخرت: دنیا کی زندگی ایک عارضی کھیتی کی طرح ہے جو جلد ختم ہو جائے گی۔ اصل کامیابی ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے ملنے کی امید رکھتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں۔
3. قرآن کا چیلنج: منکرینِ حق کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر وہ اسے انسانی کلام سمجھتے ہیں تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں، کیونکہ یہ اللہ کا سچا کلام ہے جس میں کوئی شک نہیں۔
4. شفاء اور رحمت: قرآن صرف ایک کتاب نہیں بلکہ انسانوں کے لیے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں (جیسے شک، کینہ اور بے سکونی) کے لیے شفاء ہے۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ اس نے انسان کو ہدایت عطا فرمائی۔

"یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی گواہی دیتا ہے اور انسان کی حقیقی فلاح اللہ کے بھیجے ہوئے پیغام (قرآن) کی پیروی کرنے میں ہے۔"




Waqt ki raftar par kisi ka ikhtiyar nahi hota, magar hum par is baat ka ikhtiyar zaroor hai ke hum is raftar ke sath kah...
21/04/2026

Waqt ki raftar par kisi ka ikhtiyar nahi hota, magar hum par is baat ka ikhtiyar zaroor hai ke hum is raftar ke sath kahan tak pohanchte hain.

Dunya ki sab se qeemti cheez 'Waqt' hai, kyunke ye wo wahid sarmaya hai jo kharch toh ho sakta hai magar dobara kamaya nahi ja sakta.

Guzra hua kal ek kissa hai, aane wala kal ek muamma (mystery) hai, lekin aaj ek tohfa hai—is liye ise 'Present' kehte hain.

✨
"Waqt ko zaya na karo kyunke waqt se hi zindagi banti hai. Jo lamha aaj hai, wo kal sirf ek yaad ban jayega, is liye aaj mein jeena aur kuch ban kar dikhana hi asal kamyabi hai."
💡
Waqt ki kadar karne ka sab se behtar tariqa ye hai ke hum apne 'Aaj' ko itna behtar banayein ke kal pachtawa na ho. Har guzarta minute aap ko ek naya mauka deta hai apni manzil ki taraf ek qadam barhane ka.

Address

Karachi, Malir, Manshera Colony
Karachi
75050

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Something Learn with UR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category