Aaqil Smile
لو بجٹ دانشور
ان بچوں کا کیا ہوگا
جھوٹ بکے بازاروں میں، پھر سچوں کا کیا ہوگا
جن کا ابا بگڑا ہو ، ان بچوں کا کیا ہوگا
جن کی اما ہی کھانے میں پیزے برگر کھاتی ہوگی
گھر کے سودے میں جا کر میگی ناڈل لاتی ہوگی
وہ جو ابا کو دن بھر ، فون سے چمٹا دیکھیں گے
جو جو اچھا سیکھیں گے ، اس کا الٹا دیکھیں گے
میں یہ سوچ کہ روتا ہوں ، ان بچوں کا کیا ہوگا
جھوٹ بکے بازاروں میں
پھر سچوں کا کیا ہوگا
جن کا ابا "تو" ہوگا
ان بچوں کا کیا ہوگا
دو چار وار سہہ لئے مروتا میں نے
دشمن کی اسکے دوستوں میں عزت رہے
کھا گئے سیاحت کو پہلے دہشت گردی سے
اور تجارت کے بھی قابل نہیں چھوڑا
یارب ظالموں نے اب شہر کراچی کو
باران رحمت کے بھی قابل نہیں چھوڑا
(محمد عاقل اسماعیل)
گو آج لوگوں میں سر پھرے ہونگے
ہمارے بعد ہمارے ہی تذکرے ہونگے
غم میرے ہم نشین رہتے ہیں
درد دل میں مکین رہتے ہیں
جب سے اسے رازداں بنا لیا
زخم سارے نمکین رہتے ہیں
یہاں کوئی کسی کی نہیں سنتا
یہاں سارے ہی ذہین رہتے ہیں
سنا ہے ان اونچے مکانوں میں
جو ہیں صادق امین رہتے ہیں
واعظ ہمیشہ سے سننے والوں کی
پہلی صف میں ناقدین رہتے ہیں
محمد عاقل اسماعیل
حیرت سے میرا دوست یہ کہنے لگا مجھے
تیری زندگی میں بھائی یہ کیسا سرور ہے
اتنے امن سے بیوی رہتی ہے تیری کیونکر
کوئی تو تجھ میں خوبی ایسی ضرور ہے
میں نے کہا کہ رب کی، مجھ پر عطا ہے خاص
نہ کوئی ناز اس پر ، اور نہ غرور ہے
پڑھتا ہوں یہ وضیفہ ہر دس منٹ کے بعد
" میں ہی غلط ہوں بیگم میرا قصور ہے ! "
محمد عاقل اسماعیل
Anthem: Pakistan Hamara Hay
Presented By: Hira Media & AlKahaf
Lyrics: Aaqil Smile
لاکھ پردوں میں چھپا لیں آخرکار کھلتے ہیں
آج نہیں تو کل سہی ، کردار کھلتے ہیں
عزت کی یہ پگڑیاں سدا سر پر نہیں رہتیں
سب قصیدے ایک دن سرِ بازار کھلتے ہیں
یہ نامی فاسق اور فاجر بھلے معلوم ہوتے ہیں
دنیا دنگ رہ جاتی ہے جب نیکوکار کھلتے ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
12/11/2025