Online Education system

Online Education system

Share

Our vision is to spread Allah’s message round the globe by providing our best services.

04/07/2024
17/08/2021

بہت دیر نہ ہو جائے
یہ دو ہستیوں کا قصہ ہے۔ ایک صاحبِ کمال ۔ ۔ ۔ بے عیب، بے مثل، لازوال اور بے نظیر ہے۔ دوسرا غفلت کا شکار، تعصبات کا قیدی، جذبات کا غلام اور خواہش کا اسیر ہے۔

ایک رب اعلیٰ ہے۔ ہر تعریف کا مستحق۔ ہر حمد کا سزا وار۔ جو بھولتا نہیں ۔ ۔ ۔ اس غلام کو بھی جو اسے بھول جائے۔ وہ اپنے بندوں کی آہ کو سنتا اور ان کی مشکلات دور کرتا ہے۔ کس قدر اعلیٰ ہے وہ مالک جو اپنے غلام کی پکار پر لبیک کہہ کر ہر دشمن کے مقابلے میں اس کی سپر بن جاتا ہے۔

دوسرا بندہ اسفل ہے۔ بے ہنر، بے وسیلہ، بے ثمر، مگر اعتماد کا عالم یہ ہے کہ خالق دو جہاں کا انکار کرتا ہے۔ مانتا ہے تو شریک ٹھہراتا ہے۔ کوئی اورنہ ملے تو نفس کی غلامی شروع کر دیتا ہے۔

ایک العزیز و الرحیم ہے کہ جسم کو پالتا اور روح کو ہدایت کی غذا دیتا ہے۔ فرشتوں کو بھیجتا، کتابوں کو اتارتا اور انبیا کو مبعوث کرتا کہ غلام کل اس کے حضور رسوا نہ ہوں۔

دوسرا وہ کم سواد ہے جو خدا کے دین کی نصرت کرنے کے بجائے اپنے تعصبات کے لیے لڑتا ہے۔ سچائی کا انکار کرتا ہے۔ ایمان کا منکر ہوتا ہے اور اخلاق کو پامال کرتا ہے۔ یہ الزام لگاتا، طعنے دیتا، جھوٹ پھیلاتا اور بہتان تراشتا ہے۔ ساتھ میں دعویٰ ایمان بھی کرتا ہے۔

ان دو ہستیوں میں تیرا کیا مقام ہے؟ تو خدا بن نہیں سکتا۔ مجرم بن کر بچ نہیں سکتا۔ بس تو بندہ بن جا۔ نفس کی غلامی سے نکل۔ تعصب کے جال کو کاٹ۔ فرقہ کی زنجیر کھول۔ نفرت کی قینچی کو چھوڑ۔ عبدیت کا جام پی اور توبہ کرلے۔ خدا کے غلاموں کے ساتھ حمد کر۔ وہ نہ ملیں تو سورج کے ساتھ، چاند کے ساتھ، کائنات کے ساتھ مل کر خدا کی حمد کر۔ ۔ ۔ کہ بہت جلد مجرموں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ حمد کرنے والوں کو حیات ابدی کے چشمہ سے سیراب کردیا جائے گا۔
اٹھ اب دیر نہ کر۔ گندگی کو چھوڑ۔ ۔ ۔ زندگی کو لے۔ کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔
By Abu Yahya (Dr. Rehan Ahmed Yousafi)

Online Quran Education on Google 18/09/2020

Online Quran Education on Google Our vision is to spread Allah’s message round the globe by providing our best services. online education system has established itself as a brand that provides Quran learning services online. The services entail all the areas of the Quran learning such as listening, reading, reciting, memorization...

18/09/2020

*40 short Ahadeeth*

=================
💠 *ﺍِﻧّﻤﺎ ﺍﻻَﻋْﻤَﺎﻝُ ﺑِﺎﻟﻨّﯿَّﺎﺕ*
ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﮯ .
*The reward of deeds depends on intentions*

💠 *ﺍَﻟﺼّﯿَﺎﻡُ ﺟُﻨّﺔٌ*
ﺭﻭﺯﮦ ﮈﮬﺎﻝ ﮬﮯ
*Fasting is a Shield*
💠 *ﺍِﻥّ ﺍﻟﺪِّﯾﻦَ ﯾُﺴْﺮ*
ﺑﯿﺸﮏ ﺩﯾﻦ ﺁﺳﺎﻥ ﮬﮯ
*Religion is easy*
💠 *ﺍَﻟﺪِّﯾﻦُ ﺍﻟﻨَّﺼِﻴﺤَﺔُ*
ﺩﯾﻦ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮬﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ
*The DEEN is advice* or
*Religion is selfless sincerity*
💠 *ﺍَﻟﻌَﯿﻦُ ﺣَﻖٌّ*
ﻧﻈﺮِ ﺑﺪ ﺣﻖ ﮬﮯ
*The evil eye is real*
💠 *ﻃَﻠَﺐُ ﺍﻟﻌِﻠﻢِ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔٌ ﻋﻠﯽٰ ﮐُﻞِّ ﻣُﺴﻠِﻢٍ*
ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮬﮯ
*Seeking knowledge is obligation up on every muslim*
💠 *ﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﺤَﺪِﯾﺚِ ﮐِﺘَﺎﺏُ ﺍﻟﻠّٰﮧِ*
ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺑﺎﺕ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮬﮯ
*The best speech is the Book of Allah*
💠 *ﻭَ ﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﮭَﺪﯼِ ﮬَﺪﯼُ ﻣُﺤَّﻤﺪٍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ*
ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮬﮯ
*The best guidance is the guidance of Muhammed (Sallal lahu Alaihi wa Sallam)*
💠 *ﺍَﻟﺤَﯿَﺎﺀُ ﻣِﻦَ ﺍﻻِﯾﻤﺎﻥِ*
ﺣﯿﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮬﮯ
*The modesty (shyness) is part of Iman*
💠 *ﺍَﻟﻌَﺠﻠَﺔُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﻴﻄَﺎﻥ*
ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮬﮯ
*Haste is from Shaitan*
💠 *ﺍَﻟﺒِﺮُّ ﺣُﺴﻦُ ﺍﻟﺨُﻠﻖِ*
ﻧﯿﮑﯽ ﺍﭼﮭّﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ
*Righteousness is good character*
💠 *ﺍَﻟﻄّﮭﻮﺭ ﺷَﻄﺮُ* ﺍﻻِﯾﻤَﺎﻥِ
ﭘﺎﮐﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮬﮯ
*Purification (Cleanliness) is half of faith*
💠 *ﻣَﻦ ﺻَﻤَﺖَ ﻧَﺠَﺎ*
ﺟﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎئی
*Whoever is silent he is saved*
💠 *ﻻ ﺗَﺴُﺒُّﻮﺍ ﺍﻻﻣﻮَﺍﺕ*
ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑُﺮﺍﺉ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ
*Don't abuse the dead*
💠 *ﻻَ ﺗَﺴﺌَﻠُﻮﻥَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﺷَﯿﺌﺎً*
ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ
*Don't ask people anything(Don't beg for anything)*
💠 *ﺳَﻢِّ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻭَ ﮐُﻞ ﺑِﯿَﻤِﯿﻨِﮏ*
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮬﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ
*Mention Allah's name and eat with right hand*
💠 *ﮐُﻞ ﻣِﻤَّﺎ ﯾَﻠِﯿﮏ*
ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ
*Eat from what is near you*
💠 *ﻻَ ﯾَﺸﺮِﺑَﻦَّ ﺍَﺣَﺪٌ ﻣِﻨﮑُﻢ ﻗَﺎﺋِﻤﺎً*
ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺉ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﮐﺮ ﮬﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﭘﯿﺌﮯ
*None of you should drink while standing*
💠 *ﺍَﻟﺴِّﻮَﺍﮎُ ﻣَﻄﻬَﺮﺓٌ ﻟِﻠﻔَﻢ ﻭِ ﻣَﺮﺿَﺎﺓٌ ﻟِﻠﺮّﺏِّ*
ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﮫ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺉ ﺍﻭﺭ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮬﮯ
*Siwak or miswak cleanses the mouth and pleases Allah*
💠 *ﺍَﻟﺴَّﻼﻡُ ﻗَﺒﻞَ ﺍﻟﮑَﻼﻡِ*
ﺳﻼﻡ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﮯ
*Before speaking Salam should be said*
💠 *ﺍَﻓﺸُﻮﺍ ﺍﻟﺴَﻼﻡَ ﺑَﯿﻨَﮑُﻢ*
ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﺩﻭ
*Exchange greetings of peace(salam)*
💠 *ﻛُﻞُّ ﻣَﻌﺮُﻭﻑٍ ﺻَﺪﻗَﺔ*
ﮬﺮ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﺻﺪﻗﮧ ﮬﮯ
*Every good deed is charity*
💠 *ﺍِﻥَّ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺭَﻓِﯿﻖٌ ﯾُﺤِﺐُّ ﺍﻟﺮَّﻓِﯿﻖ*
ﺑﯿﺸﮏ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﮭﺮﺑﺎﻥ ﮬﮯ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ
*Surely Allah is most merciful to those who show mercy*
💠 *ﻻ ﺗُﻘﺒَﻞُ ﺻَﻠﻮٰﺓٌ ﺑِﻐَﻴﺮِﻃﻬُﻮﺭ*
ﮐﻮﺉ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﺎﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ
*Salat will not be accepted without purification*
💠 *ﺍَﺣَﺐُّ ﺍﻟﺒِﻼﺩِ ﺍِﻟﯽٰ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪُﮬَﺎ*
ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺟﮕﮭﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪﯾﮟ ﮬﯿﮟ
*The most beloved places to Allah are the Mosques*
💠 *ﺍَﺑﻐَﺾُ ﺍﻟﺒِﻼﺩِ ﺍِﻟﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺍَﺳﻮَﺍﻗُﮭَﺎ*
ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺟﮕﮭﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮬﯿﮟ
*The most hated places to Allah are the markets*
💠 *ﺗُﺤﻔَﺔُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ ﺍﻟﻤَﻮﺕ*
ﻣﻮﺕ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﮬﮯ
*The gift to a Believer is death*
💠 *ﺍَﻧﺰَﻟُﻮﺍ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻣَﻨَﺎﺯِﻟَﮭُﻢ*
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﻭ ﯾﻌﻨﯽ ﮬﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺐ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﺮﻭ
*Treat people according to their position and status (in the society)*
💠 *ﻻ ﯾَﺮﺣَﻢ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻣَﻦ ﻻ ﯾَﺮﺣَﻢ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ*
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
*Allah will not be merciful to those who are not merciful to people*
💠 *ﻻ ﻳَﺪﺧُﻞُ ﺍﻟﺠَﻨَّﺔ ﻗﺎﻃِﻊٌ*
ﻗﻄﻊ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ
*One who severs(cuts off) his family ties will not enter Paradise*
💠 *ﻻ ﯾَﺤِﻞُّ ﻟِﻤُﺴﻠِﻢٍ ﺍَﻥ ﯾُﺮَﻭِّﻉَ ﻣُﺴﻠِﻤﺎُ*
ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﻭﮮ

💠 *ﻻ ﺗَﺤﻘِﺮَﻥَّ ﺷَﯿﺌﺎً ﻣِّﻦَ ﺍﻟﻤَﻌﺮُﻭﻑ*
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﺮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﻮ
*Do not regard any good deed as insignificant*
💠 *ﺑَﻠِّﻐُﻮﺍ ﻋَﻨِّﯽ ﻭَﻟَﻮﺁﯾﮧ*
ﭘﮩﻨﭽﺎﺅ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﮬﻮ
*Convey from me even if it is one verse*
💠 *ﻻ ﺍِﯾﻤَﺎﻥَ ﻟِﻤَﻦ ﻻ ﺍَﻣَﺎﻧَﺔَ ﻟَﻪ*
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﻧﮧ ﮬﻮ
💠 *ﻣَﻦ ﻟَﻢ ﯾَﺸﮑُﺮِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻟَﻢ ﯾَﺸﮑُﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ*
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ
*He who does not thank the people is not thankful to Allah*
💠 *ﺯﯾِّﻨُﻮﺍ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥَ ﺑِﺎَﺻﻮَﺍﺗِﮑُﻢ*
ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﺳﮯ ﻣُﺰﯾﻦ ﮐﺮﻭ
*Adorn the Quran with your voices(meaning recite Quran in your beautiful voices)*
💠 *ﺧَﯿﺮُﮐُﻢ ﻣَﻦ ﺗَﻌَﻠَّﻢَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥ ﻭ ﻋَﻠَّﻤَﮧ*
ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ
*The best of you are those who learn the Quran and teach it*
جزاک اللہ خیرا.

13/09/2020

Our vision is to spread Allah’s message round the globe by providing our best services.
online education system has established itself as a brand that provides Quran learning services online. The services entail all the areas of the Quran learning such as listening, reading, reciting, memorization and understanding of the meanings of Quran.
It is an online Quran schools. The Quran
education is carried out be experienced
Quran Tutors who know all the ways of teaching Quran while using the medium of internet. It is due to this quality service that online education system has satisfied students all over the globe.

27/04/2020

کن کن لوگوں کو زکات دینے کی اجازت نہیں ہے جیسے ماں باپ اور..؟
Published on: Oct 9, 2012جواب # 41741
بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1550-985/L=11/1433

جن لوگوں سے ولاد یا زوجیت کا تعلق ہے ان کو زکاة کی رقم دینا جائز نہیں۔ ولاد میں اوپر ماں، باپ دادا دادی، نانا، نانی اور نیچے میں لڑکا، لڑکی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی شامل ہیں ان کو زکاة کی رقم دینا جائز نہیں، اسی طرح میاں بیوی باہم ایک دوسرے کو زکاة کی رقم نہیں دے سکتے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

26/04/2020

روزہ اور خواتین
رمضان میں خواتین اپنی فطری وجوہات کی بنا پر کچھ روزے نہیں رکھ پاتیں۔ یہ صورتحال اگر آخری عشرے میں ہوجائے تو شب قدر سے محرومی کا خوف بھی خواتین کو تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جبکہ کچھ خواتین یہ خیال کرتی ہیں کہ ان دنوں میں روزہ نماز نہیں تو باقی بھی چھٹی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان ایام میں روزہ نماز ممنوع ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے قرب کا ہر دروازہ ویسے ہی کھلا ہوتا ہے جیسے عام دنوں میں۔ نماز کی اصل ذکر الٰہی ہے۔ دعا عبادت کی جان ہے۔ قرآن کو ترجمے سے سمجھنا اصل مقصد ہے۔ یہ سارے دروازے ہر حال میں کھلے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے یہ ایام ایک عظیم یادہانی کا موقع ہیں۔ وہ یہ کہ خواتین کی یہ کیفیت اللہ کی طرف سے ہے۔ اس پر کوئی گرفت نہیں۔ مگر ایک دوسری چیز ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت ترین گرفت بلکہ جہنم کی وعید ہے۔ وہ ہے اخلاقی ناپاکی۔ یہ اخلاقی ناپاکی کیا ہے، دین اسی سوال کا جواب تفصیل سے دیتا ہے۔ یہ اپنے ایمان کو ماحول میں پھیلے ہوئے تعصبات سے آلودہ کرنا ہے۔ یہ اپنی سیرت کو حسد، تکبر، حرص، نفرت، بخل اور ان جیسے دیگر پست جذبات سے داغ دار کرنا ہے۔ دین بالکل واضح ہے کہ جو شخص اس طرح کی اخلاقی ناپاکی اختیار کرے گا وہ جنت میں داخلے سے محروم رہ جائے گا۔

خواتین کو ان دنوں میں یہ دیکھنا چاہیے کہ ان میں کون سی اخلاقی ناپاکی ہے جو وہ دن رات اپنی مرضی سے اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اللہ کو اپنی بندیوں کی جسمانی ناپاکی سے کوئی مسئلہ نہیں مگر ان کی اخلاقی ناپاکی اسے سخت ناپسند ہے۔ کل قیامت کے دن وہ ہر اس عورت کو اپنے قرب سے محروم کر دے گا جو اخلاقی طور پر ناپاک ہوگی۔ جو خاتون اپنی جسمانی ناپاکی کو دیکھ کر اپنی اخلاقی ناپاکی سے نجات پالے، وہ دنیا کی خوش نصیب ترین خاتون ہے کیونکہ کل اس کا رب اسے جنت میں اپنے قدموں میں جگہ دے گا۔

24/04/2020

رمضان اور ہمارے اخلاقی معاملات
رمضان مبارک کی مقدس ساعتیں ہم پر سایہ فگن ہو رہی ہیں۔ قمری اور شمسی مہینوں کے فرق کی بنا پر اب کئی برس تک رمضان کا مہینہ موسم گرما میں آیا کرے گا۔ تاہم ایک طویل عرصے سے کی جانے والی مذہبی سرگرمیوں کے نتیجے میں مسلمان عبادات کے بارے میں اب کافی حساس ہوگئے ہیں۔ لہٰذا امید ہے کہ انشاء اللہ سخت ترین گرمی کے موسم میں بھی مسلمانوں کی غالب اکثریت موسم کی شدت اور روزے کی طوالت کے باوجود اس عظیم عبادت کو پوری ہمت اور یکسوئی کے ساتھ ادا کرے گی۔ تاہم اس کے ساتھ سابقہ تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ روزے کے ساتھ وہ ساری اخلاقی خرابیاں جوں کی توں جاری و ساری رہیں گی جنھوں نے ہمارے معاشرے کو ظلم و فساد سے بھر دیا ہے۔

ہمارے ہاں کے ایک مذہبی انسان کا تصور
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی انسان کا جو تصور ہے وہ کچھ ظاہری چیزوں اور عبادات کے ظاہری ڈھانچے تک محدود ہے۔ عبادات بلاشبہ دین کا اہم ترین اور بنیادی دینی مطالبہ ہے۔ لیکن جس طرح قلبی ایمان کے بغیر کلمہ پڑھ لینا ایک بے فائدہ عمل ہے، اسی طرح اپنی اصل روح کے بغیر یہ عبادات حقیقی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ یہ بات کوئی ہم نہیں کہہ رہے دین دینے والی ہستی نے اس حقیقت کو مختلف پہلوؤں سے کھولا ہے۔ خود روزہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جس شخص نے (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘، (صحیح بخاری، رقم 1804)
یہ روایت صاف بیان کرتی ہے کہ روزہ اطاعت کی جس اسپرٹ اور تقویٰ کے جس مقصد کے لیے رکھا جاتا ہے وہ مقصد اگر پورا نہیں کیا جا رہا تو پھر صرف بھوکا پیاسا رہنا وہ عمل نہیں جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے مقصود ہو۔

قرآن کا مطلوب انسان
مزید یہ کہ عبادات کے ساتھ دین کے بہت سے اہم اخلاقی مطالبات ہیں جن سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے۔ ان میں سے چند اہم مقامات کو میں نے اپنی کتاب ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ میں جمع کر دیا ہے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دین آخرت کی نجات اور دنیا میں اعلیٰ شخصیت کے پیدا ہونے کی ضمانت انہی مطالبات کی بنا پر دیتا ہے۔ ان کو نظر انداز کر کے کوئی شخص کبھی بھی حقیقی دیندار نہیں بن سکتا۔ نہ ان کے بغیر آخرت کی فلاح ممکن ہے نہ دنیا ہی میں اعلیٰ انسان پیدا ہوسکتے ہیں جو کسی معاشرے کو عدل و انصاف اور نتیجے کے طور پر اللہ کی رحمتوں سے بھر دیتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں یہ سانحہ ہے کہ ہمارے دینی فکر میں یہ اخلاقی مطالبات غیر اہم ہیں۔ تاہم اگر دین کے اصل ماخذ کو پڑھا جائے تو اس معاملے میں کسی قسم کی غلط فہمی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔

خود روزے کی عبادت کی تفصیل جس طرح قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے اس سے یہ حقیقت صاف واضح ہوجاتی ہے یہ اخلاقی مطالبات عبادات جتنے ہی اہم ہیں بلکہ عبادات اور خاص کر روزے کی عبادت کے بیان کے ضمن میں اس حقیقت کو بالکل کھول دیا گیا ہے کہ اس عظیم عبادت کا مقصد ہی لوگوں کو ان اخلاقی مطالبات کی ادائیگی کے لیے تیار کرنا ہے۔

رمضان اور اخلاقی رویے
روزہ کا حکم قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں دیا گیا ہے۔ یہ کئی پہلوؤں سے قرآن مجید کی اہم ترین سورت ہے۔ اس سورت کے آغاز میں بنی اسرائیل کو ان کے جرائم اور خاص کر بے خوفی (عدم تقویٰ) کی نفسیات کی بنا پر امامت عالم کے منصب سے فارغ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ایک نئی امت یعنی امت مسلمہ کو اس منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ جس کے بعد نئی امت کو ایمان و اخلاق کی بہترین حالت میں لانے کے لیے ہدایات اور خاص کر اپنی سب سے بڑی نعمت یعنی شریعت عطا کی گئی ہے۔

روزوں کا حکم شریعت کے قوانین کے اسی سلسلہ بیان میں رکھا گیا ہے۔ مگر وہ جس طرح اور جس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے اس کا سمجھنا بہت اہم ہے۔ روزہ سے قبل اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے قصاص کا حکم دیا (آیت 177-179)۔ یعنی قاتل کو اس جرم میں سزائے موت دی جائے۔ اس کی طاقت اور سماجی حیثیت سے قطع نظر قاتل جو بھی ہو اسے بہرحال سزا ضرور ملنی چاہیے۔ پھر جان کے بعد مال کی حرمت کے حوالے سے احکام شروع ہوتے ہیں (آیت 181-182)۔ عرب میں طاقتور وارث کمزوروں کو وراثت کے مال سے محروم کر دیتے تھے۔ چنانچہ اس ظلم کو روکنے کے لیے ایک ابتدائی حکم یہ دیا گیا کہ مرنے والا اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں جب موت قریب ہو تو یہ معاملہ طے کر کے جائے۔

دونوں احکام کے ضمن میں تقویٰ کا ذکر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کا معاملہ ہو یا مال کا، انسان ایک دفعہ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے دوسروں پر ظلم و تعدی سے نہیں روک سکتی۔ اللہ کا طریقہ تو یہ ہے نہیں کہ وہ دنیا میں ہاتھ پکڑ کر لوگوں کو ظلم و زیادتی سے روکے۔ رہے انسان تو ان میں سے جو طاقتور ہوگا وہ اپنی من مانی کر لے گا۔ جہاں موقع ملے گا وہ لوگوں کی جان اور مال پر ظلم ڈھائے گا۔ ایسے میں صرف عدل پر مبنی احکام اور تقوی کی نفسیات ہے جو معاشرے کو اس ظلم سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو انتہائی منصفانہ احکام دیے گئے اور دوسرے طرف تقویٰ کی اہمیت کو بیان کیا گیا۔

مگر تقویٰ کی اہمیت کے ساتھ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ یہ پیدا کیسے ہوگا۔ چنانچہ اسی مقصد کے لیے یہ اہتمام کیا گیا کہ مال سے متعلق احکام ابھی ختم نہیں ہوئے کہ تقویٰ کی اس کیفیت کو پیدا کرنے کے لیے بیچ ہی میں آیات 183 تا 187 میں روزہ کی وہ عظیم عبادت فرض کی گئی جس کا مقصد ہی تقویٰ پیدا کرنا ہے ۔چنانچہ ارشاد فرمایا گیا۔
’’ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم اللہ سے ڈرنے والے بن جاؤ۔ (البقرہ183:2)
یہ روزہ سے متعلق پہلی آیت ہے اور اس سلسلہ کلام کی آخری آیت کے الفاظ یہ ہیں۔

اللہ اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ (البقرہ187:2)

یعنی بات تقوی سے شروع ہوئی اور تقوی پر ہی ختم ہوئی۔ یہی تقوی یا خدا خوفی جو ہر سرد و گرم میں انسان کو اطاعت پر آمادہ کرتی ہے روزے کا اصل مقصود ہے۔ پھر روزہ کے بعد بغیر کسی وقفے کے وہی حرمت مال کا موضوع پھر اٹھا لیا جس پر پہلے گفتگو ہو رہی تھی۔ ارشاد فرمایا:
اور اپنے مال باہمی طور پر باطل طریقے سے مت کھاؤ۔(البقرہ188:2)

اس طریقے کی حکمت
احکام کی یہ ترتیب اس بات کا صاف اعلان ہے کہ معاشرے میں اگر ظلم ہو رہا ہے، قاتل آزاد ہیں بے لگام ہیں، قصاص نہیں لیا جا رہا، انسانی جان کی حرمت ہر روز پامال ہو رہی ہے، معصوموں کو قتل کیا جا رہا ہے اور مجرم دندناتے پھر رہے ہیں، دہشت گردی اور خوف کی فضا عام ہے، مجرموں کو تحفظ دیا جا رہا ہے، طاقت ور طاقت کے زور پر اور اہل علم قلم اور زبان کی طاقت پر قاتلوں کا تحفظ کر رہے ہیں، عدالتوں میں عدل نہیں ہو رہا بلکہ وہیں پر بے گناہوں کو سنگسار کیا جا رہا ہے۔

لوگوں کا مال اگر باطل طریقے پر کھایا جا رہا ہے، ان کی زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں، بھتہ اور تاوان وصول کیا جا رہا ہے، ملاوٹ عام ہے، ظالمانہ منافع خوری، رشوت، لوٹ مار، کرپشن کا کلچر اگر عام ہے، تو اطمینان رکھیے اس معاشرے کے لوگ کتنے ہی روزے رکھ لیں۔ اللہ کے ہاں کوئی روزہ قبول نہیں ہو رہا۔ کچھ کا اس لیے کہ وہ روزہ رکھ کر اس ظلم میں حصہ دار ہیں اور کچھ کا اس لیے کہ وہ اس ظلم کے خلاف خاموش ہیں۔ روزہ صرف اس محدود اقلیت کا قبول ہوگا جن کے دل میں صرف خدا کا خوف ہوگا اور ہر دوسرے خوف سے بلند ہوکر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ وہ دہشت گردی کو دہشت گردی کہیں گے۔ وہ ظلم کو ظلم کہیں گے۔ قتل کو قتل کہیں گے۔ بھتہ و تاوان کو بھتہ کہیں گے۔ کرپش کو کرپشن کہیں گے۔ زمینوں پر قبضہ کو حرام کہیں گے۔ ظالمانہ منافع خوری، رشوت، کرپشن کے خلاف سینہ سپر ہو کر کھڑے رہیں گے۔

باقی جو لوگ یہ سب کام کرتے ہیں اور عین رمضان میں اس ظلم و ستم کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اطمینان رکھیں۔ روزہ کا نتیجہ اس دنیا میں تقوی ہے۔ اگر وہ نہیں نکل رہا تو آخرت والا نتیجہ بھی نہیں نکلے گا۔ وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔ ان کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ کیونکہ انھوں نے میرے آقا کے فرمان کے مطابق روزہ تو رکھ لیا، مگر روزہ رکھ کر جھوٹ، ظلم، نا انصافی کو نہیں چھوڑا۔ وہ دنیا میں نافرمانی سے نہیں بچے تو آخرت میں جہنم سے بھی نہیں بچ سکتے۔ وہ اپنے آپ کو کچھ بھی کہتے رہیں اور کچھ بھی سمجھتے رہیں۔ یہی ان کا انجام ہے۔
By Abu Yahya

24/04/2020

*تحفہ رمضان المبارک 1441 ھ*

*جس پارہ پر ٹچ کریں گے اس پارہ کی تلاوت مع اردو ترجمہ شروع ہوجائےگی*

*پارہ نمبر 1* *http://bit.ly/2qpLHGY*
*پارہ نمبر2* *http://bit.ly/2qnS2Ha*
*پارہ نمبر3* *http://bit.ly/2sbSqoq*
*پارہ نمبر4 http://bit.ly/2r6TOeq*
*پارہ نمبر5 http://bit.ly/2qzzsYk*
*پارہ نمبر6 http://bit.ly/2qI4EE2*
*پارہ نمبر7 http://bit.ly/2rW88HS*
*پارہ نمبر8 http://bit.ly/2qK0aO4*
*پارہ نمبر9 http://bit.ly/2rBqzB0*
*پارہ نمبر10 http://bit.ly/2s3dkdd*
*پارہ نمبر11 http://bit.ly/2so5po5*
*پارہ نمبر12 http://bit.ly/2rzgVP9*
*پارہ نمبر13 http://bit.ly/2rSIJ1l*
*پارہ نمبر14 http://bit.ly/2sk5Lid*
*پارہ نمبر15 http://bit.ly/2rKJHw3*
*پارہ نمبر16 http://bit.ly/2sMTr7y*
*پارہ نمبر17 http://bit.ly/2r9opp2*
*پارہ نمبر18 http://bit.ly/2rpK4c8*
*پارہ نمبر19 http://bit.ly/2rpq1iW*
*پارہ نمبر20 http://bit.ly/2rAX4Mc*
*پارہ نمبر21 http://bit.ly/2rBv2Aa*
*پارہ نمبر22 http://bit.ly/2sbmkft*
*پارہ نمبر23 http://bit.ly/2rtPXpH*
*پارہ نمبر24 http://bit.ly/2sfUCOE*
*پارہ نمبر25 http://bit.ly/2smfZxF*
*پارہ نمبر26 http://bit.ly/2tLUEvC*
*پارہ نمبر27 http://bit.ly/2tru5wz*
*پارہ نمبر28 http://bit.ly/2rXeW98*
*پارہ نمبر29 http://bit.ly/2s5NLEk*
*پارہ نمبر30 http://bit.ly/2s1BBB4*

*صدقه جاريه سمجھ کر دوسروں کو بھی ارسال کریں*

nooresunnat.com

24/04/2020

چاند رات، قمری مہینہ اور رمضان
اسلامی عبادات قمری مہینوں کے ساتھ متعلق کی گئی ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال روزے کا رمضان کے مہینے میں فرض ہونا ہے۔ قمری مہینہ تیس یا انتیس دن کا ہوتا ہے جس کا آغاز نئے چاند (ہلال) کے نظر آنے سے ہوتا ہے۔ ہمارے مُلک میں بدقسمتی سے رویت ہلال ایک اختلاف اور جھگڑے کا عنوان بن گیا ہے۔ اس جھگڑے میں وہ حقیقت ہمیشہ نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے جس کی بنا پر عبادات کے لیے نئے چاند پر منحصر قمری مہینے کا انتخاب کیا گیا ہے۔

قمری مہینوں کی پہلی اور سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ شمسی مہینوں کے برعکس مختلف موسموں میں آتے ہیں۔ یعنی شمسی مہینے جولائی میں ہمیشہ گرمی ہوتی ہے، مگر قمری مہینہ رمضان گرمی، سردی، خزاں اور بہار ہر موسم میں آتا ہے۔ یہ چکر کم و بیش بتیس شمسی سالوں میں پورا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس برس اگر جولائی میں روزے آرہے ہیں تو یہ واقعہ بتیس تینتیس برس پہلے ١۹۸۰ میں بھی رونما ہوچکا ہے۔ جبکہ سن ١۹۹٦ میں روزے جنوری کی سردیوں میں، سن ١۹۸۸ میں موسمِ بہار اور سن ۲۰۰۵ میں موسمِ خزاں میں بھی آچکے ہیں۔

روزے کی عبادت کو قمری مہینوں کے ذریعے سے مختلف موسموں میں رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ روزہ رکھ کر مختلف احوال سے گزریں۔ سخت سردی کی بھوک اور حرارت کی کمی، سخت گرمی کی پیاس اور طویل روزے، خزاں کی گلا سکھا دینے والی خشک ہوا اور بہار کا خوشگوار موسم انہیں یاد دلاتا رہے کہ زندگی میں اچھے بُرے حالات کے سرد و گرم اور بہار و خزاں تو آتے رہیں گے مگر بندہ مومن کو ان سے بے نیاز ہوکر ہر حال میں بندگی اور اطاعت کی زندگی گزارنی ہے۔

موسموں کے اختلاف کے علاوہ قمری مہینے کی ایک بڑی اہم خصوصیت اس کا دنیا میں انسانی زندگی کی تعبیر ہونا ہے۔ قمری مہینہ چاند کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ پہلا حصہ نئے چاند سے شروع ہوتا ہے اور دس راتوں تک جاتا ہے جن میں چاند بتدریج بڑھتا ہے۔ مگر ان دس ایام میں رات کی تاریکی چاند پر غلبہ پائے رکھتی ہے۔ اگلے دس ایام گویا چاند کی حکمرانی کے ایام ہوتے ہیں جن میں روشن چاند بدر کامل بنتا ہے اور دس دنوں تک اپنے نورانی وجود سے راتوں کو روشن کیے رکھتا ہے۔ اگلے دس یا نو دن چاند کے زوال کے ہوتے ہیں جن میں چاند بتدریج گھٹنے لگتا ہے۔ مہینہ کے آخر تک چاند اپنا وجود کھو دیتا ہے اور وادیٴ عدم میں اتر کر اپنے پیچھے اماوس کی شبِ تاریک چھوڑ جاتا ہے۔ پھر ایک غیر یقینی کا تاریک سایہ چھا جاتا ہے۔ خبر نہیں کہ اس تاریکی کے پردے سے نیا چاند انتیس دن کے بعد طلوع ہوگا یا تیس کے۔

دیکھا جائے تو یہ انسانی زندگی کی مکمل تعبیر ہے۔ انسانی زندگی بھی چاند کی زندگی کی طرح تین حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلا حصہ ارتقا کا ہے جو پیدائش، شیرخوارگی، بچپنے سے گزر کر لڑکپن تک جاتا ہے۔ دوسرا حصہ جو نوجوانی، جوانی اور پختہ عمر سے عبارت ہے انسان کی قوت، جوش اور صلاحیت کا مکمل آئینہ دار ہوتا ہے۔ جبکہ تیسرا حصہ زوال کا ہے جو ادھیڑ عمر، بڑھاپے اور بزرگی کی ان آخری کیفیات سے عبارت ہے جو ضعف و ناتوانی کا انتہائی نشان ہوتی ہیں۔ پھر جس طرح مہینے کا انتیس یا تیس کا ہونا غیر یقینی کیفیت سے دوچار رکھتا ہے اسی طرح بزرگی کی دہلیز سے قبر کا دروازہ کب کھلے یہ بھی ایک غیر یقینی معاملہ ہوتا ہے۔

انسان اگر قمری مہینے کی اس اسپرٹ کو پالیں تو بلاشبہ روزے سے اچھی اس بات کی کوئی یاددہانی نہیں کہ زندگی کی نقدی کس طرح ہر روز ہاتھوں سے غیر محسوس طریقے پر پھسل رہی ہے۔ یہ سمجھ آجائے تو ہم رمضان میں روزے کے ایام گننے کے بجائے یہ گنا کریں گے کہ ہماری زندگی کا پہلا حصہ گزرا ہے، دوسرا گزر رہا ہے یا پھر ہم آخری مرحلہ حیات میں ہیں۔ پھر ہم یہ جان لیں گے کہ جس طرح روزے کے بقیہ ایام گزر جاتے ہیں، جلد ہی میری زندگی کے بقیہ ایام بھی گزر جائیں گے۔ پھر ایک روز جو نجانے انتیس ہو یا تیس؛ آخرت کی زندگی کا وہ چاند طلوع ہوگا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ یوں ہم رمضان کے دنوں میں روزہ کے دن گن کر خوشی منانے کے بجائے زندگی کے گزرے دنوں کا احتساب کیا کریں گے۔

یہ سوچ اگر عام ہو جائے تو رمضان اور عید کے نئے چاند پر جھگڑنے کی نفسیات ختم ہو جائے گی۔ پھر اہم بات یہ ہوگی کہ رمضان کے آغاز سے ہم روز بیٹھ کر اپنا احتساب کریں گے۔ پہلے دس دنوں میں ہم دیکھیں گے کہ کہیں ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن کو کھیل کود میں ضائع تو نہیں کر دیا۔ دوسرے عشرے میں جائزہ لیں گے کہ کہیں جوانی کی قوت اور پختگی کی صلاحیت کو ہم نے شہوت پرستی اور ہوس مال کی نظر تو نہیں کر دیا۔ آخری دس دن میں ہم جائزہ لیں گے کہ کہیں ہمارا بڑھاپا مال و اولاد اور اسٹیٹس کے معاملات کی نظر تو نہیں ہو رہا۔ پھر زندگی کے جس حصے میں ہم ہوں گے ہم اپنے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم دنیا کے بجائے آخرت کو اپنا مقصد بنالیں گے۔ تاکہ آخرت کی زندگی کا نیا چاند طلوع ہو تو ہم جنت کی روشن راتیں دیکھیں۔ جہنم کی اماوس زدہ تاریک راتیں ہمارا مقدر نہ بن جائیں.
By Abu Yahya

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

House # 22, IST FLOOR P B S LINE NEAR K P T GROUND TARA CHAND Road KEMARI KARACHI
Karachi
74200