BaBa Jee

BaBa Jee

Share

بہترین اسلامی' اصلاحی' تاریخی' معلوماتی سبق آموز تحاریر سے مزین ایک خوبصورت اردو صفحہ

07/11/2024

مخلص ہونا نہایت آسان ہے ‘ اِس میں صرف اپنا مفاد ترک کرنا پڑتاہے۔جو اپنے مفاد کے خوابوں میں رہتا ہے ‘ وہ اِخلاص کی خوشبو کو نہیں پہنچ سکتا -

31/10/2024

حضرت سفیان ثوری رحمتہ الله علیہ

آپ فرمایا کرتے تھے کہ عارفین کو معرفت ، عابدین کو قربت ، اور حکما کو حکمت الله تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے -

پھر فرمایا کہ گریہ و زاری کی بھی دس قسمیں ہیں جن میں ٩ حصے ریا سے بھرپور ہوتے ہیں اور ایک حصہ خشیت سے لبریز ہوتا ہے -

پھر فرمایا کہ اعمال نیک کرنے والوں کے اعمال کو ملائکہ عمل نیک کے دفتر میں درج کرلیتے ہیں اور جب کوئی ان اعمال پر فخر کرنے لگتا ہے تو پھر انہی اعمال کو ریا کے دفتر میں منتقل کر دیتے ہیں

از حضرت شیخ فرید الدین عطار تزکرۃ الاولیا صفحہ ١٣١

30/09/2024

کبھی محشر سے ڈرایا کبھی خواب احور دکھائے
میری یہ صدا نہ سنی مجھے روٹی چاہیے

22/09/2024

اگر تو چاہتا ہے کہ دل مثل آئینہ ہوجائے تو دس چیزیں دل سے نکال دے:
حرص، امید(مخلوق سے)،غضب، دروغ (جھوٹ) ،غیبت، بخل، حسد،ریا ،کبر،کینہ ۔
اوراگر چاہتا ہے کہ قرب الٰہی حاصل ہو تونو چیزیں اپنے نفس میں پیدا کر:
صبر،شکر، قناعت، علم، یقین، تفویض، توکل،رضااورتسلیم۔

اﷲ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ اچھائی اور برائی میں فرق کرسکتا ہے۔ چنانچہ اچھائیوں کو اختیار کرنا اور برائیوں سے بچنا ضروری ہے۔ اچھائی اور برائی، خیروشر کے درمیان تمیز کرنا ہی انسانیت کا جوہر ہےجس کیلئے قرآن کریم نے نفس کی تربیت کرنے پر زور دیا ہے۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، "یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اورنامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا (یعنی فسق و فجور سے مغلوب کردیا)۔"
( سورۃ الشمس)

اسلام کے بنیادی ارکان یعنی توحید و رسالت، نماز، روزہ، حج، زکوٰة کے احکامات پر غور کیا جائے تو ان کی فرضیت میں یہی راز پنہاں ہے کہ نفس اطاعت الٰہی کا عادی ہوجائے۔ اور تمام برائیاں دھیرے دھیرے چھوٹ جائیں اور اخلاق رذیلہ جاتے رہیں اور اخلاق حمیدہ پیدا ہوجائیں۔
مثلاً ہربار کلمہ شریف پڑھنے سے اﷲ کی وحدانیت اور رسول اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار اور ہر نماز سے عجز و انکساری پیدا ہوجائے اور اسی طرح روزے سے ضبط نفس، مشقت اور اطاعت کی تربیت ہوجائے زکوٰة سے بخل اور حب مال کا عیب دور ہوجائے اور غرباءکی مددکا جذبہ پیدا ہو، حج سے اسلامی اخوت پیدا ہو، ان تمام عبادتوں کا باطنی مقصد نفس کی تربیت ہی ہے۔
ایک صحابی نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے گذارش کی ، "یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے کہ آپ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پیش آئے"
آپ صلی اﷲعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، " جب تم نے لا الٰہ الااﷲ کہہ دیا تو اس پر استقامت اختیار کرو۔"

استقامت کے ظاہر معنی تو ثابت قدمی کے ہوتے ہیں لیکن استقامت حسنِ عمل کے اس تسلسل کو کہتے ہیں جو نفس کی عادت ثانیہ اور مزاج کی اساسی خصوصیت بن جائے۔ لہٰذا نفس کو مسلسل اطاعت میں منہمک رکھنا اور جو باتیں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو ناپسند ہیں ان سے اس کو روکنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہنا نفس کی تربیت ہے۔

بہرحال مندرجہ بالا تمام گفتگو کا حاصل یہ نکلا کہ ہر مسلمان کے لیے اپنے نفس کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب کہ وہ خود اپنے نفس کا احتساب شدت سے کرتا ہو اور منکرات سے اسے بچاتا ہو۔ اسی کوشش کا نام تربیت نفس ہے۔
لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نفس کا تزکیہ و تربیت کوئی خود نہیں کرسکتا۔ جس طرح آدمی بیمار ہوجاتا ہے تو خود علاج نہیں کرسکتا کسی معالج سے علاج کراتا ہے، اسی طرح نفس کے لیے ایک مزکّی کی یعنی صاحبِ نسبت شیخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے بغیر صحبت اہل اﷲ کے نفس کا تزکیہ عادتاً محال ہے۔ چونکہ اپنی اصلاح کرنا فرض ہے، تو اس فرض کو پورا کرنے کیلئے شرعی ذریعہ (صحبتِ اہل اللہ) بہت لازم ہے۔

01/09/2024

’’حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم کسی غزوہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر تھے۔ فرماتے ہیں : حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے آخری حصہ میں ہمارے ساتھ آرام کے لیے اترے، پس میں رات کے ایک حصے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈتا ہوا آپ کی آرام گاہ کی طرف گیا تو میں نے آپ کو وہاں نہ پایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈتا ہوا میدان کی طرف نکل گیا تو ایک اور صحابی کو دیکھا کہ وہ بھی میری طرح آپ کی تلاش میں ہے۔ فرماتے ہیں : ہم اسی حالت میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی طرف تشریف لاتے دیکھ کر ہم نے عرض کیا : یارسول اﷲ! آپ دارالحرب میں ہیں اور ہمیں آپ کی فکر ہے لہذا اگر آپ کو کوئی حاجت پیش آئی تو کیوں نہ آپ نے کسی غلام کو فرمایا کہ وہ آپ کے ساتھ جاتا؟ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے ہوا کی سرسراہٹ یا شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنی اس اثناء میں میرے رب کی طرف سے آنے والا (جبرائیل وحی لے کر) آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے مجھے میری تہائی امت (بغير حساب کے) جنت میں داخل کرنے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا؟ تو میں نے ان کے لیے شفاعت کو اختیار فرما ليا اس لئے کہ مجھے معلوم ہے کہ وہ ان کے لیے زیادہ وسیع ہے۔ پھر اس نے مجھے (دوبارہ) میری آدھی امت جنت میں داخل فرمانے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا؟ تو میں نے ان کے لیے اپنی شفاعت کو اختیار کر ليا اور میں جانتا ہوں کہ وہ ان کے لیے زیادہ وسعت کی حامل ہے۔ ان دونوں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ اﷲ تعالیٰ سے دعاکیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت کا اہل بنائے۔ آپ نے ان دونوں کے لیے دعا فرمائی پھر انہوں نے (دیگر) صحابہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں آگاہ کیا تو وہ آپ کے پاس آنا شروع ہوگئے اور عرض کرنے لگے : یا رسول اﷲ! آپ اﷲتعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے نوازے تو آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ جب آپ کے پاس لوگوں کا کثیر جھرمٹ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً وہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس حال میں فوت ہوا کہ لَا إِلٰهَ إِلاَّ اﷲُ کی گواہی دیتا ہو۔‘‘

اللہ کریم ہمیں بھی ایمان و عافیت پر خاتمہ اور پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

اسے امام احمد اور رویانی نے روایت کیا ہے۔
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 415، الرقم : 19724، والروياني في المسند، 1 / 330، الرقم : 501، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 368.

طالب دعا: محمد زبیر رضا

25/08/2024

قومیں بموں سے تباہ نہیں ہوتیں۔ یہ جاپان، جرمنی اور افغانستان ثابت کر چکے ہیں۔۔۔!!

قومیں ناانصافی اور کرپشن سے تباہ ہوتی ہیں۔ یہ ہم ثابت کر رہے ہیں۔۔۔!!

حسن عارف۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Main Tariq Road, Kheyaban
Karachi