30/05/2026
Antibiotics are life-saving medicines — but only when they are truly needed.
As a pharmacist, I feel it is important to raise awareness about the responsible use of antibiotics. Many common illnesses, especially viral infections like cold, flu, mild sore throat, or seasonal cough, do not require antibiotics. In such cases, supportive care, rest, fluids, steam inhalation, saline gargles, and proper nutrition can often help the body recover naturally.
The real danger of unnecessary antibiotic use is not always visible today — but it can become life-threatening tomorrow.
When antibiotics are used without need, bacteria can become resistant. This means that the same antibiotics may no longer work when we actually need them for serious infections such as pneumonia, sepsis, complicated urinary tract infections, wound infections, or post-surgical infections.
And then the question becomes very serious:
What will we do when a patient has a severe bacterial infection, but the usual antibiotics no longer work?
This is why antibiotic resistance is not just a future problem. It is a growing healthcare challenge that affects patients, families, doctors, pharmacists, and the entire community.
Unnecessary antibiotic use can also cause side effects, disturb healthy gut bacteria, increase the risk of severe diarrhea, cause allergic reactions, interact with other medicines, and add extra financial burden.
This does not mean antibiotics are bad. Antibiotics are essential, powerful, and life-saving when prescribed correctly. The problem is misuse, overuse, and self-medication.
Let’s do our part:
Consult a qualified healthcare professional when needed.
Do not self-medicate with antibiotics.
Do not pressure doctors or pharmacists for antibiotics.
Complete the prescribed course when antibiotics are truly required.
Avoid using leftover antibiotics from previous illnesses.
Let’s protect antibiotics for future generations.
اینٹی بایوٹکس زندگی بچانے والی ادویات ہیں — لیکن صرف اس وقت جب ان کی واقعی ضرورت ہو۔
ایک فارماسسٹ کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اینٹی بایوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔ بہت سی عام بیماریاں، خاص طور پر وائرل انفیکشنز جیسے نزلہ، زکام، ہلکا گلا خراب ہونا یا موسمی کھانسی، اینٹی بایوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔ ایسے حالات میں آرام، پانی اور مشروبات کا مناسب استعمال، بھاپ، نمک والے پانی کے غرارے، اچھی غذا اور سادہ احتیاطی تدابیر اکثر جسم کو قدرتی طور پر صحت یاب ہونے میں مدد دیتی ہیں۔
غیر ضروری اینٹی بایوٹکس کے استعمال کا اصل نقصان آج فوراً نظر نہیں آتا — لیکن کل یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
جب اینٹی بایوٹکس بلا ضرورت استعمال کی جاتی ہیں تو بیکٹیریا ان کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہمیں واقعی کسی شدید انفیکشن میں اینٹی بایوٹکس کی ضرورت ہو، جیسے نمونیا، سیپسس، پیچیدہ پیشاب کا انفیکشن، زخم کا انفیکشن یا آپریشن کے بعد ہونے والا انفیکشن، تو وہی اینٹی بایوٹکس اثر کرنا چھوڑ سکتی ہیں۔
اور پھر سوال بہت سنجیدہ ہو جاتا ہے:
اگر کسی مریض کو شدید بیکٹیریل انفیکشن ہو اور عام اینٹی بایوٹکس کام نہ کریں، تو ہم کیا کریں گے؟
یہی وجہ ہے کہ اینٹی بایوٹک ریزسٹنس صرف مستقبل کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک بڑھتا ہوا صحتِ عامہ کا چیلنج ہے جو مریضوں، خاندانوں، ڈاکٹروں، فارماسسٹس اور پوری کمیونٹی کو متاثر کرتا ہے۔
غیر ضروری اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہو سکتے ہیں، آنتوں کے مفید بیکٹیریا متاثر ہو سکتے ہیں، شدید دست کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، الرجی ہو سکتی ہے، دوسری ادویات کے ساتھ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اور علاج کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اینٹی بایوٹکس بری ہیں۔ اینٹی بایوٹکس ضروری، طاقتور اور زندگی بچانے والی ادویات ہیں، جب انہیں درست طریقے سے تجویز کیا جائے۔ اصل مسئلہ ان کا غلط استعمال، ضرورت سے زیادہ استعمال اور خود سے دوا لینا ہے۔
آئیے اپنا کردار ادا کریں:
✅ ضرورت پڑنے پر مستند ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کریں
✅ خود سے اینٹی بایوٹکس استعمال نہ کریں
✅ ڈاکٹر یا فارماسسٹ پر اینٹی بایوٹکس دینے کے لیے دباؤ نہ ڈالیں
✅ جب اینٹی بایوٹکس واقعی ضروری ہوں تو مکمل کورس کریں
✅ پچھلی بیماری کی بچی ہوئی اینٹی بایوٹکس استعمال نہ کریں
آئیے آنے والی نسلوں کے لیے اینٹی بایوٹکس کو محفوظ بنائیں۔