28/04/2026
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
*🌹🌴🌹 فضائل آیة الکرسی اور آیت الکرسی پڑھنے کے ثمرات 🌹🌴🌹*
الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔
وَالصَّلاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
قال۔اللہ تعالی فی القرآن المجید؛
*اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۲۵۵﴾*
اللہ ﷻ کا ارشاد ہے؛ اللہ ﷻ ہے نہیں کوئی معبود مگر وہی زندہ اور قائم رکھنے والا نہیں پکڑتی اسے اونگھ اور نہ نیند اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں کون ہے جو سفارش کرسکے اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر۔ وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کوئی چیز معلوم نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے۔ سمالیا ہے اسی کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اور نہیں گراں اسے ان کی محافظت اور وہ بلند بڑائی والا ہے۔ (سورة البقرة)
تفسیر مدارک التنزیل -
آیت ٢٥٥ :
اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ (اللہ تعالیٰ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر وہی)
نحو : لفظ اللہ ﷻ مبتداء اور جملہ اسمیہ لا الہ الا ہو اس کی خبر ہے۔ لا نفی جنس الٰہ اس کا اسم اِلّا ادات حصر ھُوَبدل از محل لَا۔
اَلْحَیُّ (زندہ) یعنی ایسی باقی رہنے والی ذات جس پر فنا کا کوئی راستہ نہ ہو۔
اَلْقَیُّوْمُ (مخلوق کو تھامنے والا) یعنی ایسی ہمیشگی والی ذات جو مخلوق کی تدبیر کرنے والی ہو۔ اور اس کی نگہبانی کرنے والی ہو۔
نیند و اونگھ کا فرق :
لَا تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ (اس کو اونگھ اور نیند نہیں آتی) سنۃ اونگھ اعصاب دماغی کی وہ سستی جو نیند سے پہلے آئے۔ النوم نیند دماغ کے اعصاب میں استرخائی کیفیت کو کہتے ہیں۔
مفضل۔ : کہتے ہیں۔ کہ السنۃ سرکا بوجھل ہونا۔ النعاس آنکھ کا بوجھ النوم دل کے بوجھ کو کہتے ہیں۔
نحو : لا تاخذہ سنۃ ولا نوم یہ القیوم کی تاکید ہے کیونکہ جس کو نیند و اونگھ آجائے وہ قیوم نہیں بن سکتا۔
سب کو تھامنے والا :
حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی۔ ان کو کہہ دو کہ میں آسمان و زمین کو اپنی قدرت سے تھامنے والا ہوں۔ اگر مجھے اونگھ یا نیند آجائے تو یہ دونوں فنا ہوجائیں (ابویعلی)
لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسی کا ہے) یعنی ملک و ملک کے لحاظ سے یعنی بادشاہ بھی وہی اور مالک بھی وہی۔
کبریائی باری تعالیٰ عزوجل :
مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ (اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کون سفارش کرسکتا ہے ؟ ) یعنی کسی کی ہمت و جرأت نہیں۔ کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں شفاعت کرے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا بیان ہے اور کوئی شخص قیامت کے دن کلام کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہوگا۔ مگر جب وہ خود اس کو کلام کی اجازت دے۔
اس میں کفار کے اس زعم کی تردید ہے۔ کہ بت ان کے لئے شفاعت کریں گے۔
یَعْلَمُ مَابَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ (وہی ان کے سامنے اور پیچھے کی چیزوں کو جانتا ہے) یعنی جو ان سے پہلے تھا۔ اور جو آئندہ ہوگا۔
نحو : ھم ضمیر عقلاء کا لحاظ کر کے لائی گئی۔
وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ(اور اہل علم اللہ تعالیٰ کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے) یعنی اس کی معلومات میں سے۔ دعا کا یہ کلمہ اللہم اغفر علمک فینا۔ میں علم بمعنی معلوم ہے۔
اِلاَّ بِمَا شَآئَ (مگر وہ جو چاہے) یعنی مگر جو وہ سکھائے۔
کرسی کے متعلق اقوال :
وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (اسکی کرسی آسمان اور زمین کو اپنے اندر سمانے والی ہے) یعنی اس کا علم اور اسی سے الکراسۃ کاپی کو کہتے ہیں۔ کیونکہ اس میں علم ہوتا ہے۔ اسی الکراسی کا معنی میں علماء اور علم کو کرسی کہا جاتا ہے۔ اسکے مرتبہ و عظمت کا لحاظ کر کے جو جہاں کی کرسی ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ سورة غافر کی آیت ربنا وسعت کل شیٔ رحمۃ وعلما۔
دوسرا قول : ملک کو کرسی کہا۔ اس کے اس مرتبہ کا لحاظ کر کے جو کہ بادشاہت کی کرسی ہے۔
تیسرا قول : اس کا عرش۔ حسن (رحمة اللہ علیہ) کا یہی قول ہے۔
چوتھا قول : عرش کے علاوہ تخت ہے حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان کرسی کے مقابلہ میں ایک چھلے کی مانند ہیں۔ جو وسیع بیابان میں پڑا ہو۔ اور عرش کی فضیلت کرسی پر ایسی ہے جیسا کہ وسیع بیابان کو اس چھلے پر۔ ( ابن مردویہ)
پانچواں قول : اس کی قدرت ‘ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے ولا یؤدہٗ حفظہما۔
وَلَا یَئُوْدُہٗ (اس کو تھکاتی نہیں) یعنی اس کو بوجھل نہیں کرتی اور نہ اس پر گراں کرتی ہے۔
حِفْظُہُمَا (ان دونوں کی حفاظت) یعنی زمین و آسمان کی حفاظت۔
بلند اور عزت و جلال والا :
وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ (وہ بلند وبالا عظمت والا ہے) یعنی اپنی ملک و سلطنت میں بلند اور عزت و جلال میں بڑائی والا ہے۔
دوسرا قول : العلی۔ ان صفات سے اعلیٰ جو اس کے لائق نہیں۔
العظیم۔ ایسی صفات سے موصوف جو اس کے لائق ہیں۔ یہ دونوں صفات کمال توحید کو جامع ہیں۔
نکتہ : آیت الکرسی میں جملوں کو بغیر حرف عطف کے لایا گیا۔ کیونکہ وہ جملے بطور بیان آئے ہیں۔
پس پہلا جملہ اس بات کو بیان کر رہا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ تدبیر خلق کرنے والے ہیں اور وہ مخلوق کے نگہبان ہیں۔ اس میں غفلت برتنے والے نہیں۔
دوسرے : میں فرمایا۔ یہ تمام اس لئے کرتے ہیں کہ وہ مخلوق کے خود مالک ہیں۔
تیسرے : اس لئے کہ اس کی شان کبریائی والی ہے۔
اور چوتھے : اس لئے کہ وہ خلق کے حالات کا احاطہ کرنے والے ہیں۔
پانچویں : اس لئے کہ اس کا علم وسیع ہے اور اس کا علم تمام معلومات سے متعلق ہے۔ یا اس کے جلال اور عظیم قدرت کی وجہ سے۔
فضیلت آیت الکرسی :
یہ آیت فضیلت والی ہے یہاں تک کہ اس کی فضیلت میں بہت سی روایات ہیں۔
ایک روایت ان میں سے وہ ہے جس کو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا۔ کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جس نے آیت الکرسی پڑھی۔ ہر فرض نماز کے بعد۔ اسکو دخول جنت سے صرف موت ہی رکاوٹ ہے اور اس پر ہمیشگی صدیق یا عابد ہی کرتا ہے۔ جس نے اسکو بستر پر لیٹتے ہوئے پڑھا۔ اللہ تعالیٰ اسکے نفس اور اسکے پڑوس اور پڑوس کے پڑوس اور اس کے اردگرد گھروں کو امان میں رکھتے ہیں۔ (بیہقی)
دوسری روایت : نبی ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ سیدالبشر آدم ( یعنی سب سے پہلے انسان آدم) اور عرب کے سردار محمد (ﷺ) ہیں اور یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا۔
(اس روایت میں نکارت ہے کیونکہ صحیح مرفوع روایت انا سید ولد آدم ولا فخر کے الفاظ مروی ہیں) فارسیوں کے سردار سلمان (رضی اللہ عنہ) اور رومیوں کے سردار صہیب (رضی اللہ عنہ) اور حبشیوں کے سردار بلال (رضی اللہ عنہ) اور پہاڑوں کا سردار طور اور دنوں کا سردار جمعہ اور کلاموں کا سردار قرآن۔ قرآن کی سردار سورة بقرہ اور بقرہ کی آیات کی سردار آیت الکرسی۔ (دیلمی فی مسند الفردوس)
نمبر ٣۔ فرمایا۔ جس گھر میں آیت الکرسی پڑھی جائے۔ اس کو شیاطین تیس دنوں تک چھوڑ جاتے ہیں۔ اور اس گھر میں جادوگر اور جادوگرنی چالیس راتوں تک داخل نہیں ہوسکتی۔ (بقول ابن حجر اس کی اصل نہیں ملی)
نمبر ٤۔ فرمایا جس نے سوتے وقت آیت الکرسی پڑھی۔ اس پر ایک فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ صبح طلوع ہو۔ (در منثور)
نمبر ٥۔ اور فرمایا۔ جس نے یہ دو آیات شام کے وقت پڑھیں تو صبح تک اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اگر صبح بھی پڑھ لیں۔ تو شام تک اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔
نمبر ١۔ آیت الکرسی نمبر ٢۔ حٰمٓ مومن کی آیات الیہ المصیر تک۔ (ترمذی)
وجہ فضیلت :
کیونکہ یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی تعظیم اور بزرگی اور عظیم صفات پر مشتمل ہیں۔ اور رب العزت کے تذکرہ سے اور کونسا تذکرہ بڑھ کر ہوسکتا ہے جو اس کا ذکر ہوگا وہ تمام ذکروں سے افضل ہے اس سے بخوبی یہ معلوم ہوگیا کہ تمام علوم میں سب سے اعلیٰ علم توحید ہے۔
نکتہ : سب سے زیادہ عظمت والی آیت، آیت الکرسی۔ سب سے زیادہ خوف والی آیت۔ من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ اور سب سے زیادہ امید والی آیت قل یا عبادی الذین اسرفوا۔
کذاعن ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)
(مدارک التنزیل)
تفسیر تبیان القرآن؛
قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ توحید ‘ رسالت اور آخرت سے متعلق عقائد اور مختلف احکام شرعیہ کو بار بار ایک دوسرے کے بعد دہراتا رہتا ہے ‘ مسلسل عقائد کا ذکر جاری رہتا ہے نہ متواتر احکام کا ‘ تاکہ قاری کا ذہن اکتاہٹ کا شکار نہ ہو ‘ اس لیے اللہ تعالی عقائد کے مضمون کے بعد احکام کا مضمون شروع کردیتا ہے اور عقائد میں بھی توحید ‘ رسالت اور آخرت کے مضمون کا تنوع ہے
اور اسی طرح احکام کا مضمون شروع کردیتا ہے اور عقائد میں بھی توحید ‘ رسالت اور آخرت کے مضمون کا تنوع ہے اور اسی طرح احکام میں بھی مختلف انواع کے حکم کا ایک دوسرے کے بعد ذکر فرماتا ہے تاکہ قاری یکسانیت کا شکار نہ ہو اور ہر بار اس کو غور وفکر کی نئی رہیں ملیں۔
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالی نے یہ بتایا تھا کہ نجات کا مدار انسان کے اعمال صالحہ پر ہے اور قیامت کے دن اس کا مال ‘ اس کی دوستی اور کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی اور یہ فرمایا تھا کہ تمام رسل (علیہم السلام) کے مراتب اور درجات اگرچہ متفاوت اور مختلف ہیں لیکن تمام رسولوں کی دعوت اور ان کا پیغام واحد ہے اور ان کا دین واحد ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ ﷻ کو واحد مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو -
اور اللہ تعالی کی ذات اور اس کی صفات کی جامع آیت ‘ آیت الکرسی ہے ‘
ہم پہلے آیت الکرسی کے مفردات کے معانی بیان کریں گے اور پھر اس کے فضائل کے متعلق احادیث کا ذکر کریں گے۔ -
آیت الکرسی کے مفردات جملوں کی تشریح : -
اللہ : یہ اللہ تعالی کا اسم ذاتی ہے۔ اس کا معنی ہے : وہ ذات جو واجب الوجود (قدیم بالذات) ہو تمام صفات کمالیہ کی جامع ہو اور تمام نقائص سے بری ہو اور عبادت کی مستحق ہے۔ -
الحی : جو ہمیشہ سے از خود زندہ ہو ‘ اپنی حیات میں کسی کا محتاج نہ ہو ‘ اور ہمیشہ زندہ رہے ‘ اور کبھی اس پر موت نہ آئے۔ -
القیوم : جو از خود قائم ہو ‘ دوسروں کا قائم کرنے والا ہو ‘ جو تمام کائنات کو قائم رکھے ہوئے ہے اور ان کے نظام کی تدبیر فرماتا ہے۔ (آیت) ومن ایتہ ان تقوم السمآء والارض بامرہ “۔ (الروم : ٢٥) اور اللہ ﷻ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں “۔ -
اونگھ اور نیند سے بری : تھکاوٹ اور سستی سے غفلت کی جو کیفیت طاری ہوتی ہے وہ اونگھ ہے اور یہ نیند کا مقدمہ ہے اور نیند کا معنی ہے : دماغ کے اعصاب کا ڈھیلا پڑجانا جس کے بعد علم اور ادراک معطل ہوجاتا ہے اور حواس کا شعور اور ادراک بھی موقوف ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کے حق میں یہ معنی محال ہے۔ اللہ تعالی کے لیے غفلت محال ہے ‘ اور اس عظیم کائنات کا موجد اور اس کے نظام کو جاری رکھنے والا ہے اور ہر آن اور ہر لمحہ اس کائنات میں تبدیلی اور تغیر واقع ہو رہا ہے اور اس کے علم اور اس کی توجہ سے ہو رہا ہے ‘ وہ ہر وقت ہر چیز کے ہرحال کا عالم ہے ‘ بیخبر اور سونے والا نہیں ہے۔ -
آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اس کی ملکیت ہے : تمام آسمانوں اور زمینوں کی مخلوق ‘ سب اس کے بندے اور اس کی ملکیت ہیں ‘ ہر چیز اس کی قدرت اور اس کی مشیت کے تابع ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے :-
(آیت) ” ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا “۔۔ (مریم : ٩٣) -
ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں میں ہر ایک رحمان کے حضور عبد بن کر حاضر ہوگا۔ -
اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور شفاعت نہیں ہوگی : اللہ تعالی کی عظمت ‘ جلالت اور اس کی کبریائی کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے حضور شفاعت نہیں کرسکے گا ‘ حشر کے دن تمام انبیاء ‘ رسل ‘ اولیاء ‘ علماء اور شہداء اللہ تعالی کے جلال سے سہمے ہوئے ہوں گے اس دن ہمارے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالی کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں گے ‘ اللہ تعالی فرمائے گا : اے محمد ! اپنا سر اٹھائیے ‘ آپ کہیے آپ کی بات سنی جائے گی ‘ آپ شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول ہوگی ‘
پھر اللہ تعالی ایک حد مقرر فرمائے گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حد کی مطابق شفاعت فرمائیں گے ‘ یہ حدیث تفصیل کے ساتھ باحوالہ (آیت) ” ورفع بعضھم درجت “ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ -
اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور لوگوں کو اتنا ہی علم ہے جتنا اس نے دیا : اللہ تعالی کا علم تمام کائنات کے ماضی ‘ حال اور مستقبل کو محیط ہے ‘ وہ دنیا اور آخرت کے تمام امور کو تفصیلا جانتا ہے ‘ اس کو ایک ذرہ کا علم بھی غیر متناہی وجوہ سے ہوتا ہے ‘ مثلا ایک ذرہ کو کتنے انسانوں ‘ کتنے جانورروں ‘ کتنے جنات اور کتنے فرشتوں نے دیکھا ‘ اس ایک ذرہ کی دیگر ذرات کے ساتھ کتنی نسبتیں ہیں ‘ اس پر کتنے ہوا کے جھونکے اور کتنے بارش کے قطرے گزرے ‘ اس میں کتنے فائدے ‘ کتنے نقصانات ‘ کتنی حکمتیں ہیں ‘ اس ذرہ کی کتنی عمر ہے ‘ وہ کہاں کہاں رہا اور ایسی بیشمار وجوہ ہیں ‘ تمام کائنات کا علم تو الگ رہا ایک ذرہ کے متعلق اللہ ﷻ کا علم کتنا وسیع ہے انسان کی عقل اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی ‘ مخلوق کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا وہ عطا فرماتا ہے۔ -
اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے : کرسی کی کئی تفسیریں کی گئی ہیں ‘ کرسی سے مراد علم ہے ‘ اسی وجہ سے علماء کو بھی کر اسی کہتے ہیں ‘ یا اس لیے کہ انسان کرسی پر ٹیک لگاتا ہے اور اعتماد کرتا ہے اور علماء کا اعتماد بھی علم پر ہوتا ہے ‘
ایک قول یہ ہے کہ کرسی سے مراد عظمت ہے ‘
ایک قول یہ ہے کہ کرسی سے مراد ملک اور حکومت ہے۔ امام مقدسی نے حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ اللہ ﷻ کی کرسی تمام آسمانوں اور زمینوں کو محیط ہے اور وہ اس طرح چرچراتی ہے جیسے نیا پالان سواروں کے بوجھ سے چرچراتا ہے۔
(الاحادیث المختارہ ج ١ ص ٢٢٨‘ مطبوعہ مکتبۃ النھضۃ الحدیثہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٠ ھ) -
کرسی کے متعلق حافظ سیوطی نے بہت احادیث ذکر ہیں ‘ ہم ان میں سے چند احادیث ذکر کر رہے ہیں : -
امام ابن المنذر نے حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ اگر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو بچھا دیا جائے تب بھی وہ کرسی کے مقابلہ میں اس طرح ہیں جیسے ایک انگشتری کسی وسیع میدان میں پڑی ہو۔ -
امام ابن جریر ‘ امام ابن مردویہ اور امام بیہقی نے حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کرسی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! سات آسمان اور سات زمینیں کرسی کے مقابلے میں اس طرح ہیں جیسے کسی جنگل میں انگوٹھی کا چھلہ پڑا ہو ‘ اور عرش کی فضیلت کرسی پر اس طرح ہے جیسے جنگل کی فضیلت اس انگوٹھی کے چھلے پر ہے۔ -
امام ابوالشیخ نے ابو مالک سے روایت کیا ہے کہ کرسی عرش کے نیچے ہے۔
(الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ‘ ٣١٣۔ ٣١٢ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران) -
علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں : -
کرسی کا معنی ہے : جس پر کوئی شخص بیٹھے اور بیٹھنے کے بعد اس میں جگہ نہ بچے اور یہاں یہ کلام بہ طور تمثیل ہے ‘ ورنہ کوئی کرسی ہے نہ کوئی بیٹھنے والا ‘ اکثر متاخرین نے یہی کہا ہے تاکہ اللہ کے لیے جسم ہونا لازم نہ آئے ‘ اور احادیث میں بھی استعارہ ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے اور حق وہی ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور تو ہم جسمیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے رونہ اللہ تعالی کی بہت سی صفات کا انکار لازم لازم آئے گا اور متقدمین نے یہ کہا کہ یہ متشابہات میں سے ہے اور حقیقت میں اس سے کیا مراد ہے اس کا علم اللہ ﷻ ہی کو ہے۔ (روح المعانی ج ٣ ص ١٠‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)-
آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت اللّٰه ﷻ کو نہیں تھکاتی : -
آسمانوں اور زمینوں کی حفاظت اللہ ﷻ پر بھاری اور دشوار نہیں ہے بلکہ اللہ ﷻ کے نزدیک بہت سہل اور آسان ہے ‘ وہ ہر چیز کو قائم رکھنے والا اور ہر چیز کا محافظ اور نگہبان ہے ‘ وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے ‘ اس کا ارادہ اٹل ہے اور جس کا وہ ارادہ کرلے اس کو ضرور کر گزرتا ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے اور ہر شے سے بلند اور برتر ہے۔ اور وہی سب سے عظیم ہے ‘ کبریائی اور بڑائی اسی کو زیبا ہے۔-
آیت الکرسی کے فضائل : -
حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں : -
امام احمد ‘ امام مسلم ‘ امام ابوداؤد اور امام حاکم ‘ حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے (امتحانا) سوال کیا کہ کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے ؟ انہوں نے کہا : آیۃ الکرسی ! آپ نے فرمایا : اے ابوالمنذر ! تم کو یہ علم مبارک ہو۔ -
امام بخاری نے اپنی ” تاریخ “ میں ‘ امام طبرانی اور امام ابو نعیم نے مستند راویوں سے روایت کیا ہے : حضرت ابن الاسقع بکری (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم سے ایک شخص نے پوچھا کہ قرآن مجید کی کوئی سی آیت سب سے عظیم ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (آیت) ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ (البقرہ : ٢٥٥) اور پوری آیت پڑھی۔ -
امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس سخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی کو پڑھا ‘ اللہ تعالی اس کو دوسری نماز تک اپنی حفاظت میں رکھتا ہے اور آیت الکرسی کی حفاظت صرف نبی ‘ صدیق یاشہید ہی کرتا ہے۔ -
امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی کو پڑھے اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں ہوگی اور وہ مرتے ہی جنت میں داخل ہوجائے گا۔
(امام نسائی از حضرت ابوامامہ ‘ سنن کبری ج ٦ ص ٣٠‘ عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٩‘ امام طبرانی از حضرت ابوامام ‘ المجم الکبر ج ٨ ص ١١٤‘ مسند السامیین ج ٢ ص ٩‘ کتاب الدعاء ص ٢١٤‘ امام ابن السنی ‘ عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٣‘ حافظ الہیثمی ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٠٢) -
امام بخاری ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابو نعیم نے ” دلائل “ میں حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے زکوۃ کی حفاظت پر مامور کیا ‘ ایک شخص آیا اور مٹھی بھر طعام لے جانے لگا ‘ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : میں تجھے ضرور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاؤں گا ‘ اس نے کہا : مجھے چھوڑ دو ‘ میں محتاج اور عیال دار ہوں اور مجھے بڑی سخت ضرورت تھی ‘ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) گزشتہ رات کے تمہارے قیدی کا کیا ہوا ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے اپنی سخت حاجت بیان کی ‘ مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ آپ نے فرمایا : وہ جھوٹا ہے اور وہ پھر آئے گا ‘ مجھے یقین ہوگیا کہ وہ پھر آئے گا تو میں اس کی گھات لگا کر بیٹھا ‘ وہ آیا اور مٹھی بھر طعام لے جانے لگا ‘ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : میں تجھے ضرور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤں گا ‘
اس نے کہا : مجھے چھوڑ دو ‘ میں ضرورت مند اور عیال دار ہوں ‘ میں دوبارہ نہیں آؤں گا ‘ مجھے اس پر ترس آیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گزشتہ رات کے تمہارے قیدی کا کیا ہوا ‘ ؟
میں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ! اس نے اپنی اور اپنے عیال کی سخت مجبوری بیان کی ‘ مجھے ترس آیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا آپ نے فرمایا : وہ جھوٹا ہے اور پھر آئے گا۔
میں تیسری رات پھر اس کی گھات میں بیٹھا ‘ وہ آیا اور پھر مٹھی بھر کے طعام لے جانے لگا ‘ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا : آج آخری بار ہے ‘ میں تجھ کو ضرور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جاؤں گا ‘ تو یہ کہتا ہے کہ میں نہیں آؤں گا اور پھر آجاتا ہے ‘ اس نے کہا : مجھے چھوڑدو میں تم کو چند ایسے کلمات بتاتا ہوں جن سے تم کو نفع ہوگا ‘
میں نے پوچھا : وہ کون سے کلمات ہیں ؟ اس نے کہا : جب تم بستر پر جاؤ تو آیۃ الکرسی پڑھنا تو صبح تک اللہ ﷻ تمہاری حفاظت کرے گا اور تمہارے پاس صبح تک شیطان نہیں آئے گا ‘
صبح کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہے تو وہ جھوٹا لیکن یہ بات اس نے سچ کہی ہے۔ -
امام ابن الضریس نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے کہ جو شخص بستر پر لیٹ کر آیۃ الکرسی پڑھتا ہے صبح تک دو فرشتے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔
(الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٢٧۔ ٣٢٢“ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران) -
(تبیان القرآن)
*تفسیر درِ منثور سے آیت الکرسی کی مختصر فضیلت؛*
1. امام نسائی، ابو یعلی، ابن حبان ابو الشیخ نے العظمہ میں طبرانی، حاکم ابو نعیم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ ان کے پاس کھجوروں کے کھلیان تھے میں اس کی دیکھ بھال کرتا تھا (لیکن) میں نے اس کو دن بدن کم پایا،
ایک رات میں نے اس کی دیکھ بھال کی، اچانک میں نے ایک بالغ لڑکے کی طرح ایک جانور کو پایا میں نے اس کو سلام کیا، اس نے بھی سلام کا جواب دیا میں نے کہا تو کون ہے ؟
جن ہے یا انسان ہے ؟
اس نے کہا میں جن ہوں میں نے کہا اپنا ہاتھ مجھے پکڑا (جب) میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو اس کا ہاتھ کتے جیسا تھا اور اس کے بال بھی کتے جیسے بال تھے۔ میں کہا کیا اسی طرح جنات کو پیدا کیا گیا ہے ؟
اس نے کہا کچھ جن ایسے بھی ہیں جو مجھ سے زیادہ سخت ہیں۔ میں نے (اس سے) کہا تجھے ایسا کرنے پر کس نے آمادہ کیا ؟ اس نے کہا مجھے یہ پات پہنچی کہ تو صدقہ کو پسند کرنے والا آدمی ہے تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ تیرے کھانے میں سے ہم بھی حصہ لے لیں۔
ابی (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا کون سی چیز ہے جو ہمیں تمہارے شر سے بچا سکتی ہے ؟
اس جن نے کہا آیۃ الکرسی جو سورة بقرہ میں ہے، جو شخص اس کو شام کو پڑھے گا تو صبح تک ہم سے پناہ میں رہے گا اور جو شخص اس کو صبح میں پڑھے گا تو شام تک ہم سے پناہ میں رہے گا۔ جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور ان کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا خبیث نے سچ کہا۔
(2)۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں طبرانی۔ ابو نعیم نے المعرفۃ میں ثقہ رجال کی سند سے حضرت ابن الاسقع البکری (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین کے صفہ (یعنی ان کے ٹھہرنے کی جگہ) میں تشریف لائے۔ ایک آدمی نے ان سے پوچھا قرآن میں کون سی آیت اعظم ہے ؟
آپ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم لا تاخذہ سنۃ ولا نوم “ یہاں تک کہ آیت کو ختم فرمایا۔
(3)۔ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ قرآن کی کون سی آیت اعظم ہے ؟
صحابہ اکرام نے عرض کیا اللہ ﷻ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ آخر تک ہے۔
(4) طبرانی نے حسن سند کے ساتھ حضرت حسن بن علی (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی تو اگلی نماز تک وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
*کھانے میں برکت کی دعاء*
(5) ابو الحسن محمد بن احمد بن شمعون الواعظ نے اپنی امالی میں اور ابن النجار نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شکایت کی کہ مجھ سے برکت اٹھا لی گئی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا آیۃ الکرسی کو تو کیوں نہیں پڑھتا ؟ جس کھانے اور سالن پر یہ پڑھی جائے اللہ تعالیٰ اس کھانے اور سالن میں برکت کو بڑھا دیتے ہیں۔
(6) دارمی نے حضرت ایفع بن عبداللہ کلاعی (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! اللہﷻ کی کتاب میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آیۃ الکرسی لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “
پھر اس نے عرض کیا اللّٰه ﷻ کی کتاب میں کون سی آیت ایسی ہے جس کو آپ پسند فرماتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کو بھی مل جائے اور آپ ﷺ کی امت کو بھی مل جائے ؟
آپ ﷺ نے فرمایا سورة البقرۃ کی آخری آیت کیونکہ وہ اللّٰه ﷻ کے عرش کے نیچے رحمت کے خزانہ میں سے ہے اور وہ دنیا وآخرت میں کسی خیر کو نہیں چھوڑتی ہے مگر یہ کہ وہ اس کو شامل ہوتی ہے۔
(7) ابو عبید ابن الضریس اور محمد بن نصر نے حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا اللہ تعالیٰ نے آسمان زمین اور جنت اور دوزخ میں آیت الکرسی سے زیادہ عظمت والی کوئی چیز نہیں بنائی جو سورة بقرہ میں ہے۔ اور وہ ہے ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “
(8) سعید بن منصور ابن الضریس اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ آیۃ الکرسی سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ عظمت والی نہیں نہ آسمان میں، نہ زمین میں، نہ میدان اور نہ پہاڑ میں۔
(9) ابو عبیدہ نے اپنے فضائل میں، دارمی، طبرانی، ابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ آدمی انسانوں میں سے باہر نکلا اس کی ملاقات ایک مرد جن سے ہوئی جن نے کہا تو مجھ سے کشتی کرے گا۔ اگر تو مجھے پچھاڑ دے گا، تو میں تجھ کو ایک آیت سکھاؤں گا جب تو اس کو گھر میں داخل ہوتے وقت پڑھے گا، تو شیطان اس میں داخل نہ ہوگا،
اس سے مقابلہ ہوا تو انسان نے اس کو پچھاڑ دیا تو جن نے کہا تو آیۃ الکرسی پڑھا کر۔ کیونکہ جو آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اس کو پڑھتا ہے تو شیطان وہاں سے گدھے کی طرح پاد مارتے ہوئے نکل جاتا ہے،
ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا گیا کیا وہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) تھے۔ (جس سے شیطان بھاگ گیا تھا)
انہوں نے فرمایا ہاں ! وہ عمر ہی ہوسکتے ہیں، اور الخحیج سے مراد گو زیاد ہے۔
(10) المحاصلی نے اپنے فوائد میں حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے ایسی چیز سکھائے جس کے ذریعے مجھے اللہ تعالیٰ نفع دیں۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آیۃ الکرسی پڑھ۔ کیونکہ وہ تیری (اور) تیری اولاد کی حفاظت کرے گی۔ اور تیرے گھر کی بھی حفاظت کرے گی یہاں تک کہ تیرے گھر کے اردگرد پڑوسی گھروں کی بھی حفاظت کرے گی۔
(11) ابن مردویہ، شیرازی نے الالقاب میں اور الہروی نے اپنے فضائل میں حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) ایک دن لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم میں سے کون مجھ کو قرآن میں سب سے عظمت والی آیت کے بارے میں بتائے گا۔ اور اس سے زیادہ عدل والی اور اس سے زیادہ خوف دلانے والی، اور اس سے زیادہ امید دلانے والی۔ قوم خاموش ہوگئی۔
(پھر) ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن میں سب سے عظمت والی آیت لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ ہے،
اور سب سے عدل پر مبنی آیت قرآن میں لفظ آیت ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “ ہے (النحل آیت 90)،
اور سب سے زیادہ خوف والی آیت قرآن میں لفظ آیت ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ۔ “ ہے۔
اور سب سے زیادہ امید والی آیت قرآن میں لفظ آیت ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ “ ہے۔
*سورۃ البقرۂ کی فضیلت*
(12) ابن الضریس، محمد بن نصر اور الہروی نے اپنے فضائل میں حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة البقرہ سے زیادہ عظمت والی چیز پیدا نہیں فرمائی۔ نہ آسمان، نہ زمین، نہ میدان، نہ پہاڑ، اور سب سے زیادہ عظمت والی آیت اس میں آیۃ الکرسی ہے۔
(13) ابن ابی شیبہ ابو یعلی، ابن المنذر اور ابن عساکر نے حضرت عبد الرحمن بن عوف (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ جب وہ اپنے گھر میں داخل ہوتے تو اس کے کونوں میں آیۃ الکرسی پڑھتے۔
(14) ابن النجار نے المصاحف میں اور بیہقی نے شعب میں حضرت علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ قرآن کی آیتوں کی سردار آیت لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ ہے۔
(15) امام بیہقی نے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے گا تو اس کو جنت میں داخل ہونے کے لئے موت کے سوا کوئی چیز رکاوٹ نہ ہوگی اور جو شخص اس کو لیٹنے کے وقت پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گھر کو اس کے پڑوسی کے گھر کو اور اس کے اردگرد کے گھروں کی حفاظت کرے گا۔
(16) ابو عبیدہ، ابن ابی شیبہ، دارمی، محمد بن نصر، ابن الضریس نے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا جو اسلام میں پیدا ہوا یا اسلام میں بالغ ہوا وہ اس حال میں ہمیشہ رات گذارتا ہے کہ اس آیت لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ کو پڑھ لیتا ہے، اگر تم جانتے یہ کتنی برکت والی آیت ہے تمہارے نبی کو یہ عرش کے نیچے والے خزانے سے دی گئی تمہارے نبی سے پہلے کسی کو یہ چیز نہیں دی گئی میں نے کوئی بھی رات نہیں گذاری یہاں تک کہ اس کو تین مرتبہ پڑھ لیتا ہوں اور عشاء کے بعد دو رکعتوں میں اس کو پڑھ لیتا ہوں اور اپنے وتر میں بھی اور جب اپنے بستر پر لیٹنے لگتا ہوں تب بھی پڑھ لیتا ہوں۔
*سب سے زیادہ عظمت والی آیت*
(17) ابو عبیدہ نے حضرت عبد اللہ بن رباح (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا اے ابو منذر (یہ ان کی کنیت ہے) قرآن میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟
انہوں نے عرض کیا کہ اللّٰه ﷻ اور اس کے رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابو منذر ! کون سی آیت اللّٰه ﷻ کی کتاب میں سب سے زیادہ عظمت والی ہے ؟
عرض کیا اللّٰه ﷻ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی زیادہ جانتے ہیں۔
پھر عرض کیا اے ابو منذر کون سی آیت کتاب اللہ میں اعظم ہے ؟
تو عرض کیا اللّٰه ﷻ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں۔
پھر انہوں نے کہا لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سر پر ہاتھ مار کر فرمایا اے ابو منذر ! تیرا علم تجھے مبارک ہو۔
(18) ابن ابی دنیا نے مکاید الشیطان میں، محمد بن نصر، الطبرانی، حاکم، ابو نعیم اور بیہقی دونوں نے دلائل میں حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ کی کھجوریں میرے سپرد کیں میں نے ان کو ایک کمرہ میں رکھ لیا،
پھر میں ان میں ہر دن کمی دیکھتا تھا ۔
میں نے اس بات کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا یہ شیطان کا کام ہے تو اس کی گھات لگا (یعنی اس کی نگرانی کر) میں نے رات کو گھات لگائی۔
جب رات کا ایک حصہ گزر گیا۔ (وہ شیطان) ہاتھی کی صورت میں مجھ پر ظاہر ہوا۔ جب دروازہ کی طرف پہنچا تو دروازہ کی دراڑ سے دوسری طرف داخل ہوگیا۔
پھر کھجور کے قریب ہوا اور ایک ایک لقمہ کر کے کھانے لگا میں نے اپنے کپڑوں کو کس لیا اور میں نے پڑھا لفظ آیت ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ “ اے اللہ ﷻ کے دشمن، صدقہ کے کھجوروں کی طرف تو بڑھا ہے میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا دوسرے لوگ تجھ سے زیادہ حق دار ہیں۔
میں تجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ضرور لے جاؤں گا۔ اور وہ تجھ کو رسوا کریں گے۔
اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ پھر نہیں آؤں گا۔ (میں نے اس کو چھوڑ دیا) میں صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے پوچھا تیرے قیدی نے کیا کیا ؟
میں نے کہا اس نے مجھ سے وعدہ کیا پھر نہیں آؤں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ دوبارہ آئے گا اس کی نگرانی کرنا۔
میں دوسری رات پھر نگرانی کی، اس نے اسی طرح کیا اور میں نے اسی طرح کیا۔ اس نے پھر وعدہ کیا کہ اب نہیں آؤں گا۔ میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔
پھر صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو سارا واقعہ سنایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ پھر آئے گا اس کی نگرانی کرنا۔
میں نے تیسری رات پھر نگرانی کی، اس نے اسی طرح کیا میں نے بھی اسی طرح کیا، میں نے کہا اے اللّٰه ﷻ کے دشمن ! تو نے مجھ سے دو مرتبہ وعدہ کیا، اور یہ تیسری مرتبہ ہے۔ کہنے لگا میں عیال دار ہوں میں نصیین (ایک جگہ کا نام) سے تیرے پاس آتا ہوں۔ اگر مجھے کوئی چیز مل جاتی تو تیرے پاس نہ آتا اور ہم تمہارے اس شہر میں رہتے تھے۔ یہاں تک کہ تمہارے ساتھ (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے جب ان پر یہ دو آیتیں نازل ہوئی تو ہم کو اس (شہر) سے بھگا کر نصیین میں ڈال دیا اور یہ کہ دونوں آیتیں کسی گھر میں نہیں پڑھی جاتیں مگر یہ کہ اس میں شیطان نہیں داخل ہوتا۔
تین مرتبہ اس نے کہا اگر تو میرا راستہ چھوڑ دے۔ تو میں وہ دونوں آیتیں تجھ کو سکھا دوں گا۔
میں نے کہا ہاں (مجھے سکھاؤ) اس نے کہا وہ آیۃ الکرسی ہے۔ اور سورة بقرہ کا آخر ہے۔ لفظ آیت ” امن الرسول “ سے آخر تک۔
میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ پھر میں صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو بتایا جو کچھ اس نے کہا تھا
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خبیث نے سچ کہا اگرچہ وہ بہت جھوٹ بولنے والا ہے حضرت معاذ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں اس کے بعد میں ان دونوں کو پڑھتا تھا تو کوئی نقصان کو نہیں دیکھتا تھا۔
(19) ابن السنی نے حضرت ابو قتادہ (رحمة اللہ علیہ) سے روایت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے آیۃ الکرسی اور سورة بقرہ کا آخر (یعنی آخری آیتیں) سخت مصیبت کے وقت پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائیں گے۔
(20) ابن السنی نے عمل الیوم واللیلۃ میں حضرت علی بن الحسن (رضی اللہ عنہ) سے اور وہ اپنے والد اور اپنی والدہ سیدة فاطمہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ جب (ان کی والدہ سیدة فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو) بچہ کی پیدائش قریب ہوئی تو آپ نے (ازواج مطہرات) حضرت ام سلمہ اور حضرت زینب بنت حجش (رضی اللہ عنھن) کو حکم فرمایا کہ حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس جاؤ اور اس کے پاس آیۃ الکرسی اور لفظ آیت ” ان ربکم اللہ “ (الاعراف آیت 54) آخر آیت تک پڑھو اور معوذتین پڑھ کر دم کرو۔
( سورۃ الأعراف۔۔۔آیت نمبر 54:
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا ۙ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمۡرِهٖ ؕ اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۞ )
(21) دیلمی نے حضرت علی ابن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا جس نے اسلام میں اپنی عقل (یعنی سمجھ بوجھ) کو پایا اور وہ رات کو یہ آیت لفظ آیت ” اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “ نہ پڑھتا ہو۔ اگر تم جان لو جو کچھ اس میں خیرو برکت ہے تو تم اس کو کسی حال میں نہ چھوڑو۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے آیۃ الکرسی عرش کے نیچے خزانہ میں سے دی گئی۔ مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔ حضرت علی نے فرمایا جب سے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو سنا کبھی کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں یہ آیۃ الکرسی نہ پڑھی ہو۔
(22) سعید بن منصور حاکم اور بیہقی نے شعب میں حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سورة بقرۃ میں ایک آیت ہے جو قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے جس گھر میں یہ آیت پڑھی جاتی ہے تو شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے اور وہ (آیت) آیۃ الکرسی ہے۔
(23) امام دارمی اور ترمذی میں حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے ( حم، المؤمن) لفظ آیت ” الیہ المصیر “ تک اور آیۃ الکرسی صبح کو پڑھی تو وہ ان آیات کی وجہ سے شام تک حفاظت میں رہے گا اور جس شخص نے دونوں کو شام کے وقت پڑھا تو صبح تک حفاظت میں رہے گا۔
(24) امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابن الضریس نے حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے آیۃ الکرسی عرش کے نیچے سے عطا کی گئی۔
(25) ابن ابی الدنیا مکائد الشیطان میں اور دینوری نے المجالسۃ میں حضرت حسن (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا کہ ایک جن آپ کے ساتھ مکروفریب کرے گا جب آپ اپنے بستر پر آئیں تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کریں۔
(26) ابن ابی الدنیا نے مکائد الشیطان میں ابو شیخ نے العظمۃ میں ابن اسحاق (رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کیا کہ حضرت زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) ایک رات کو اپنے باغ میں گئے اس میں ایک آواز کو سنا اور کہا یہ کون ہے ؟ اس نے کہا میں جنات میں سے ایک آدمی ہوں ہم کو قحط سالی پہنچ گئی۔ تو میں نے ارادہ کیا کہ انسانوں کے پھلوں میں سے کچھ لے لوں ہمارے لیے اس کو حلال کر دیجئے۔
انہوں نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔ پھر حضرت زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا کیا تو ہم کو بتاسکتا ہے کہ کون سی چیز ہمیں تم سے بچا سکتی ہے ؟ اس نے کہا آیۃ الکرسی۔
(27) قتادہ (رحمة اللہ علیہ) سے روایت کیا جس شخص نے بستر پر آنے کے وقت آیۃ الکرسی پڑھی۔ تو دو فرشتے صبح تک اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔
(تفسیر درِ منثور
مفسر: امام جلال الدین السیوطی)
*آیت الکرسی سب سے عظیم آیت ہے۔ اس کی اہمیت اس خوبصورت واقعہ اور اسکی تشریح سے بھی دیکھ لیجئے؛*
وعن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا المنذر أتدري أي آية من كتاب الله معك أعظم ؟ . قال : قلت الله ورسوله أعلم قال : يا أبا المنذر أتدري أي آية من كتاب الله معك أعظم ؟ . قال : قلت ( الله لا إله إلا هو الحي القيوم ) قال فضرب في صدري وقال : والله ليهنك العلم أبا المنذر . رواه مسلم
حضرت ابی ابن کعب (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابوالمنذر (یہ حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے) کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے ؟
میں نے عرض کیا کہ اللّٰه ﷻ اور اس کا رسول ﷺ ہی سب سے زیادہ جاننے والے ہیں (کہ وہ کون سی آیت ہے)
آنحضرت ﷺ نے پھر پوچھا کہ ابوالمنذر تم جانتے ہو کہ تمہارے نزدیک کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے ؟
میں نے کہا کہ اللہ (اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ اَلْ حَيُّ الْقَيُّوْمُ ) 2 ۔ البقرۃ 255) (یعنی پوری آیت الکرسی)
حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) آنحضرت ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا کہ ابوالمنذر اللہ کرے تمہارا علم خوشگوار ہو۔ (مسلم)
تشریح:
جب پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے سوال کیا تو حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اللہ ﷻ اور اس کے رسول ﷺ کے سپرد کردیا
پھر جب دوسری مرتبہ آپ نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا۔
اس بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) نے پہلی مرتبہ تو از راہ ادب جواب نہیں دیا دوسری مرتبہ جب آپ نے پھر پوچھا تو انہوں نے آپ ﷺ کے سوال کے پیش نظر جواب دیا
گویا اس طرح انہوں نے بڑے لطیف انداز میں ادب اور فرمانبرداری دونوں کو جمع کردیا۔ جیسا کہ اہل کمال کا طریقہ ہے
مگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے سوال کیا تو حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) کو جواب کا علم نہیں تھا مگر دوسری مرتبہ جب آپ ﷺ نے پھر سوال کا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا اس کے سوال کی مدد سے تفویض کی برکت اور حسن ادب کے سبب سوال کا جواب ان پر منکشف کردیا گیا چناچہ انہوں نے جواب دیا۔
ایت الکرسی کو سب سے عظیم اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس میں تو حید، تعظیم الہیٰ ، اسماء حسنٰی اور صفات باری تعالیٰ جیسے عظیم و عالی مضامین کا بیان ہے۔
(مشکوٰۃ شریف 2132، کتاب: فضائل قرآن کا بیان)
المختصر؛ آیة الکرسی امت مسلمہ کےلئے ایک تحفہ ہے اور اس کے پڑھنے کے ثمرات بےحساب ہیں اور حفاظت کےلئے تو انتہائی مجرب ہے۔ باکثرت پڑھنا آپ بھی معمولات میں شامل فرما لیجئے۔
اللّٰه ﷻ کی رضاء کےلئے باکثرت پڑھیں, کم از کم ہر فرض نماز کے بعد ایک بار آیة الکرسی پڑھ لیا کریں اور بہتر ہے ساتھ دس بار سورة الاخلاص پڑھنے کا معمول بنائیں, پڑھنے کے بعد دعاء کا معمول بنا لیجئے۔ ان شاء اللہ ﷻ بےحساب ثمرات ملیں گے, درود پاک اول و آخر بلکہ باکثرت پڑھئے,
رزق حلال, نماز کی پابندی, توبہ و ااستغفار, شرعی احکامات پر عمل, درود و سلام کی کثرت اور امت مسلمہ سے خیرخواہی روحانیت کی کنجیاں ہیں۔
رب کریم ہم سب کو, ہمارے پیاروں, دوست و احباب اور ساری امت مسلمہ کو سلامتی و عافیت اور دنیا و آخرت کی سب بھلائیاں عطاء فرمائے,۔ آمین یا ارحم الراحمین
واللہ اعلم
*یا رَبَّنَا لاَ تُوٴَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا، رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا، رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهٖ، وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْلَنَا، وَارْحَمْنَا، اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِيْن* ۔۔۔۔اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن
*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِد*
*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد*
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ