Haqooq

Haqooq اللھم اعنا علی ذکرک وشکرک وحسن عباداتک۔ آمین یارب

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـمبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*🌹اللّٰه ﷻ کی رضاء کےلئے تحفہ دینے اور ...
27/09/2026

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

*🌹اللّٰه ﷻ کی رضاء کےلئے تحفہ دینے اور قبول کرنے کے کچھ ثمرات🌹*

اللّٰه ﷻ اور اس کے پیارے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے ہمارا تعلق جس قدر مضبوط ہوگا، اتنا ہی ایمان مضبوط اور شرعی احکامات پر عمل آسان ہو جائے گا, جسمانی و روحانی امراض دور ہوں گے اور روحانیت بڑھے گی, ان شاء اللہ۔
امّتی پر لازم ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے پیارے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کرے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت روح ِ ایمان، جانِ ایمان اور اصل ِ ایمان ہے۔

نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق طرز زندگی اختیار کرنا، آپ ﷺ کی پیروی کرناہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکم ِ رب کریم ہے۔ اتباع کرنے والوں کو *يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ* کی بشارت دی گئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

*قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيم*﴿31﴾

اللہ ﷻ کا ارشاد ہے: (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ ﷻ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ ﷻ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ ﷻ بخشنے والا مہربان ہے (سورۃ آل عمران،آیت31)

تفسير السعدي — السعدي (١٣٧٦ هـ)

﴿قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِی یُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَیَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ﴾ [آل عمران ٣١]
وهذه الآية فيها وجوب محبة الله، وعلاماتها، ونتيجتها، وثمراتها، فقال ﴿قل إن كنتم تحبون الله﴾ أي: ادعيتم هذه المرتبة العالية، والرتبة التي ليس فوقها رتبة فلا يكفي فيها مجرد الدعوى، بل لابد من الصدق فيها، وعلامة الصدق اتباع رسوله ﷺ في جميع أحواله، في أقواله وأفعاله، في أصول الدين وفروعه، في الظاهر والباطن، فمن اتبع الرسول دل على صدق دعواه محبة الله تعالى، وأحبه الله وغفر له ذنبه، ورحمه وسدده في جميع حركاته وسكناته، ومن لم يتبع الرسول فليس محبا لله تعالى، لأن محبته لله توجب له اتباع رسوله، فما لم يوجد ذلك دل على عدمها وأنه كاذب إن ادعاها، مع أنها على تقدير وجودها غير نافعة بدون شرطها، وبهذه الآية يوزن جميع الخلق، فعلى حسب حظهم من اتباع الرسول يكون إيمانهم وحبهم لله، وما نقص من ذلك نقص.

تفسیر السعدی -:
آیت 31
اس آیت میں اللہ ﷻ کی محبت کا وجوب، اس کی علامات، اس کا نتیجہ اور فوائد ذکر کئے گئے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (قل ان کنتم تحبون اللہ) ” کہہ دیجیے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو “ اگر تم اس اونچے مرتبے کا دعویٰ رکھتے ہو، جس سے بلند کوئی مرتبہ نہیں تو اس کے لئے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ سچا ہونا چاہیے۔ اس کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہرحال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقاید میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔
پس جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرتا ہے، اللہ ﷻ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ ﷻ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس پر رحمت فرماتا ہے، اسے تمام حرکات و سکنات میں راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔
جس نے رسول ﷺ کی اتباع نہ کی وہ اللہ ﷻ سے محبت رکھنے والا نہیں۔ کیونکہ اللہ ﷻ کی محبت کا تقاضا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع ہے۔ جب اتباع موجود نہیں، تو یہ محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔
اس صورت میں اگر وہ رسول اکرم ﷺ سے محبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے اور اگر محبت موجود بھی ہو تو اس کی شرط (اتباع) کے بغیر ایسی محبت بےکار ہے۔
سب لوگوں کو اسی آیت کی ترازو پر تولنا چاہیے۔ جتنی کسی میں اتباع رسول ہوگی، اسی قدر اس میں ایمان اور اللہ کی محبت کا حصہ ہوگا اور جس طرح اتباع میں کمی ہوگی، اسی قدر ایمان اور اللہ ﷻ کی محبت میں نقص ہوگا۔
(تفسیر السعدی) -

تفسیر تبیان القرآن سے مختصر تفسیر؛

ازہری نے کہا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا معنی یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور ان کے احکام پر عمل کیا جائے ‘ اور اللہ تعالی کی بندہ سے محبت کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی مغفرت سے نوازے۔

حضرت سہل بن عبداللہ رحمة اللہ علیہ نے کہا اللہ ﷺ سے محبت کی علامت قرآن سے محبت کرنا ہے،
اور قرآن سے محبت کی علامت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرنا ہے،
اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی علامت سنت سے محبت کرنا ہے،
اور ان سب سے محبت کی علامت آخرت سے محبت کرنا ہے ،
اور آخرت سے محبت کی علامت یہ کہ قدر ضرورت کے علاوہ دنیا سے بغض رکھے۔
(یعنی فکر آخرت ہو تو محبت کامل ہے)
(الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٦١۔ ٦٠ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

اور علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : -
انسان جس چیزانسان جس چیز کو اپنے گمان کے مطابق اچھا گمان کرے اس چیز کے ارادہ کرنے کو محبت کہتے ہیں ‘

اس کی تین صورتیں ہیں۔
١)… انسان لذت کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان عمدہ کھانوں اور حسین عورتوں سے محبت کرتا ہے ‘
٢)… اور کبھی انسان نفع کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان اطباء اور حکماء سے محبت کرتا ہے
٣)… اور کبھی انسان فضل اور کمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان علماء اور اولیاء اللہ ﷻ سے محبت کرتا ہے ‘ بہادروں اور سخیوں سے محبت کرتا ہے ‘
ملک اور قوم کے لئے نمایاں کام کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔ کبھی ایک چیز کو دوسری چیز پر ترجیح دینے کو بھی محبت کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :-
(آیت) ” الذین یستحبون الحیاۃ الدنیا علی الاخرۃ “۔ (ابراھیم : ٣) -
ترجمہ جو لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں(یعنی پسند کرتے ہیں) “۔ -

اللہ تعالی جس بندہ سے محبت کرتا ہے اس کا معنی ہے وہ ان پر انعام واکرام کرتا ہے اور اس کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازتا ہے۔ -
(آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ (آل عمران : ١٣٤) -

اللّٰه ﷻ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (یعنی ان کو ثواب عطا فرماتا ہے۔ ) -
اور جو بندہ اللہ ﷻ سے محبت کرتا ہے اس کا معنی ہے بندہ اللہ ﷻ کے رب کریم ہونے پر راضی اور اس کی رضا کا طالب ہے.
(المفردات ص ‘ ١٠٥ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)-
(تبیان القرآن "مختصر ")

اور حضوراکرم ﷺ کا فرمان ہے؛

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ؛ *لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ*.
رَوَاہُ فِیْ شَرْحِ السُّنَّۃِ قَالَ النَّوَوِی فِیْ ۤ ((اَرْبَعِیْنِہٖ)) ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ رَوَیْنَاہُ فِی ((کِتَابِ الْحُجَّۃِ)) یِا سْنَادِ صَحِیْح۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) راوی ہیں کہ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پورا مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز (دین و شرعیت) کے تابع نہیں ہوتیں جس کو میں (اللہ ﷻ کی جانب سے لایا ہوں۔ (صحیح)
(مشکوٰۃ شریف 164, کتاب: کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان)

*🌹محبت کے بہت رنگ ہیں، ان میں سے ایک تحفہ دینا، اور تحفہ قبول کرنا ہے🌹*

محبت، کے اطہار کا ایک طریقہ تحائف دینا بھی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم تحائف پیش کرتے، آپ ﷺ قبول فرماتے۔
اور بعض اوقات فورا تحفہ بھی دیتے۔
تحفہ، ہدیہ دینا سنت انبیاء علیھم السلام ہے، صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم اور بزرگان دین کا اس پر عمل رہا ہے۔

کیا حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں آپ بھی تحفہ بھیجنا چاہتے ہیں ؟
ہاں, تو درود و سلام باکثرت پڑھیں, ,
ہمارے پیارے رسول اکرم ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے,
کتنی بڑی سعادت ہے کہ ہم گناہگاروں کا ذکر اس بابرکت بارگاہ میں ہو۔

*🌹کچھ احادیث مبارکہ سے ہم کچھ مزید تعلیمات، اصول تحفہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں🌹*

١)…*سیدنا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی طرف سے امت مسلمہ کےلئے ایک پیارا سا تحفہ*:

١)… عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَکَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَائِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا،
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ﷺ ! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتادینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے اور اس کی باغبانی :
«سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ۔»
سے ہوتی ہے۔ (حسن)
(سنن الترمذی 3462, کتاب: دعاؤں کا بیان)

بہت پیارا تحفہ، جن کے پڑھنے پر جنت کی بشارت ہے اور اس کے ثمرات بیان سے باہر ہیں. بس قدر کیجئے اور عمل کی کوشش کیجئے۔

٢)… *محبت کا، تحفہ دینے کا عجیب اور ایمان کو تازہ کرنے والا واقعہ*؛

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ کَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا وَکَانَ يُهْدِي إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم هَدِيَّةً مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ وَکَانَ صلی الله عليه وسلم يُحِبُّهُ وَکَانَ رَجُلا دَمِيمًا
فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ وَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لا يُبْصِرُهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا أَرْسِلْنِي فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم فَجَعَلَ لا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم حِينَ عَرَفَهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يَقُولُ مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْعَبْدَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي کَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم لَکِنْ عِنْدَ اللهِ لَسْتَ بِکَاسِدٍ أَوْ قَالَ أَنتَ عِنْدَ اللهِ غَالٍ۔

حضرت انس (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں، کہ ایک شخص جنگل کے رہنے والے جن کا نام زاہر بن حرام تھا، وہ جب حاضر خدمت ہوتے جنگل کے ہدایا سبزی ترکاری وغیرہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے،
اور وہ جب مدینہ منورہ سے واپس جانے کا ارادہ کرتے تھے تو حضور اقدس ﷺ شہری سامان خوردو نوش کا ان کو عطا فرماتے ۔

ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زاہر ہمارا جنگل ہے اور ہم اس کے شہر ہیں،
حضور اقدس ﷺ کو ان سے خصوصی تعلق تھا،
زاہر کچھ حسن و جمال میں کچھ کم بھی تھے۔
ایک مرتبہ کسی جگہ کھڑے ہوئے وہ اپنا کوئی سامان فروخت کر رہے تھے کہ حضور اقدس ﷺ تشریف لائے اور پیچھے سے ان کی کو لی (جپھی) اس طرح بھری کی وہ حضور اقدس ﷺ کو دیکھ نہ سکے.
انہوں نے کہا ارے کون ہے مجھے چھوڑ دے لیکن جب کن انکھیوں وغیرہ سے دیکھ کر حضور اقدس ﷺ کو پہچان لیا تو اپنی کمر کو بہت اہتمام سے پیچھے کر کے حضور اقدس ﷺ کے سینہ مبارک سے ملنے لگے (کہ جتنی دیر بھی تلبس رہے ہزاروں نعمتوں اور لذتوں سے بڑھ کر ہے)
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو خریدے ؟
حضرت زاہر نے عرض کی کہ حضور اقدس ﷺ اگر آپ مجھے فروخت فرمادیں تو کھوٹا اور (کچھ) قیمت پائیں گے۔
حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ نہیں اللہ ﷻ کے نزدیک تو تم کھوٹے نہیں ہو یا یہ فرمایا کہ بیش قیمت ہو۔
(شمائل ترمذی 226،
جلد 1 - باب: حضورِ اقدس ﷺ کے مزاح اور دل لگی کے بیان میں)

یعنی بارگاہ مصطفی ﷺ میں جو مقبول ہو، وہ رب کریم کی بارگاہ میں کھوٹا سکہ نہیں ہوتا۔
اس طرح کہ دوں تو بھی درست ہو گا کہ جو رب کریم کی بارگاہ میں قبول ہو، پسندیدہ ہو رب کریم اس کے دل میں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ کی محبت ڈال دیتا ہے اور اس پر اتباع آسان کر دی جاتی ہے۔

٣)… *حضور اکرم ﷺ کا تحفہ قبول کرنا اور عطاء کرنا*؛

عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ فَأَعْطَانِي مِلْئَ کَفِّهِ حُلِيًّا وَذَهَبًا

حضرت ربیع بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ (رضی اللہ عنھا) کہتی ہیں کہ میں ایک طباق کھجوروں کا اور کچھ چھوٹی چھوٹی پتلی پتلی ککڑیاں لے کر حاضر خدمت ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے مجھے اپنا دست مبارک بھر کر سونا اور زیور مرحمت فرمایا۔
(شمائل ترمذی 334، جلد 1 - باب: حضور ﷺ کے اخلاق وعادات میں)

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا۔

حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) کہتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس پر بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔
(شمائل ترمذی 335، جلد 1 - باب: حضور ﷺ کے اخلاق وعادات میں)

٤)…*تحفہ جس کو دینا ہو تو یقیننا قیمتی چیز کا دیا جاتا ہے۔ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین تحفہ میں فرمان مصطفی ﷺ دیتے اور درودپاک کا تحفہ دیتے، آج بھی بزرگان دین کا یہی معمول ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ میں ہے*؛

حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَی قَالَ لَقِيَنِي کَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلَا أُهْدِي لَکَ هَدِيَّةً إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا کَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْکَ فَکَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْکَ قَالَ فَقُولُوا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيد
ٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

سیدنا حکم بن عتبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا کہ کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) مجھ سے ملے اور کہا کہ میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟,
(یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں).
نبی کریم ﷺ ہم لوگوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں، لیکن آپ ﷺ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيد
ٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔

اے اللّٰه ﷻ! محمد ( ﷺ ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد ﷺ پر، جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔
اے اللّٰه ﷻ ! محمد ﷺ پر اور آل محمد پر برکت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔
(صحیح البخاری, کتاب: دعاؤں کا بیان، باب: نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔حدیث نمبر: 6357)

٥)… *نرم دل ایک نعمت ہے اور قرب الٰہی کےلئے لازم ہے، دل کی نرمی استغفار، درود ہاک اور خدمت خلق کے سبب عطاء ہوتی ہے۔ اس کی برکتوں کا اس حدیث مبارکہ سے اندازہ لگالیجئے*۔

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلَی مَا سِوَاهُ

سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنھا) نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ !
اللّٰه ﷻ رفیق ہے اور رفق (یعنی نرمی) کو پسند کرتا ہے اور نرمی اختیار کرنے کی بناء پر وہ اس قدر عطا فرماتا ہے کہ جو سختی یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے اس قدر عطا نہیں فرماتا۔
(صحیح مسلم 6592، کتاب: صلہ رحمی کا بیان)

وہ چیز یا مال جو کسی کو تعظیم یا اکرام یا محبت کے جذبے کے تحت دیا جائے، ہدیہ، تحفہ، سوغات، نذرانہ، نذر وغیرہ کہلاتا ہے۔

وہ رقم جو قرآن کریم، تفاسیر و علم حدیث کی کتب کی قمیت کے بعوض دی جاتی ہے، قرآن کریم، تفاسیر و علم حدیث یا کسی متبرک چیز کی خریداری کے لیے ادا کی جانے والی رقم، کو احتراماً ہدیہ کہتے ہیں۔
(ایسی کتب کی قیمت لینا، فروخت کرنا ان کی تعظیم کے خلاف ہے)

اللّٰه ﷻ کی رضاء کےلئے تحفہ دیا جائے تو یہ عمل بہت ہی مبارک اور باعث برکت ہے۔
اس میں واہسی کی یا اور مفادات کی نیت رکھنا منع ہے۔
کوئی کم قیمت تحفہ دے تو بھی خوش دلی سے قبول کریں اور اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔ بدلے کی، اتارنے کی سوچ درست نہیں ہوتی۔

حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا؛
الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ کَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ۔
اپنے ہبہ کو لوٹانے والا اپنی قے کو لوٹانے والے کی طرح ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب: ہبہ کا بیان
باب: صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں)

اور تحفہ اگر اپنے کسی چھوٹے کو دیاجائے تو اس کے ساتھ اپنی شفقت کا اظہار ہے،
‘اگر کسی دوست کو دیاجائے تو یہ ازدیاد محبت کا سبب ہے،
اور اگر اپنے کسی بزرگ، استاد اور محترم شخصیت کو پیش کیاجائے تو ان کا اکرام ہے اور “نذرانہ، تحفہ ” ہے،

اللّٰه ﷻ کی رضاء اور ثواب کی نیت سے کسی ضرورت مند کو دیا جائے تو یہ ہدیہ نہ ہوگا بلکہ صدقہ ہوگا۔ صدقہ سے بھی مال میں کمی نہیں ہوتی،

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا؛

مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ۔

صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا، اور بندے کے معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے، اور جو آدمی بھی اللہ ﷻ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ ﷻ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔ (یعنی عاجزی میں بلندی اور تکبر میں پستی ہے)
(صحیح مسلم 6582،کتاب: صلہ رحمی کا بیان)

تحفہ، ہدیہ کےلئے لازم ہے کہ وہ رب کریم کی رضاء اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے دیا جائے اور اس کے ذریعے اپنی محبت اور اپنے تعلق خاطر کا اظہار مقصود ہو۔

ہدیہ, تحفہ اگر اخلاص کے ساتھ دیاجائے تو اس کا ثواب صدقہ سے کم نہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ ہوگا۔

ہدیہ اور صدقہ کے اس فرق کا نتیجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ شکریہ اور دعاء کے ساتھ قبول فرماتے اور اس کو خود بھی استعمال فرماتے تھے اور صدقہ کو بھی اگرچہ شکریہ کے ساتھ قبول فرماتے اور اس پر دعائیں بھی دیتے لیکن صدقہ خود استعمال نہیں فرماتے تھے جو مستحق ہوتا اس کو عطاء فرماتے۔

اس لئے آل رسول ﷺ کو تحفہ دے سکتے ہیں، صدقہ نہیں۔ اگر صدقہ دیں تو بتا دیں تاکہ وہ مستحق کو پہنچا دے۔
یہ بھی حضور اکرم ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے۔

حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے کہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا؛

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔

تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہوجائے۔
(صحیح البخاری 15.کتاب: ایمان کا بیان
باب: رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنا بھی ایمان میں داخل ہے)

سید، صحیح العقیدہ (سنی) کو تحفہ دیا کریں، اس پر دو اجر ہیں۔ ایک تو اللّٰه ﷻ کی رضاء کے سبب عمل کا اجر اور دوسرا حضور اکرم ﷺ کی محبت کے سبب محبت و احترام کا۔

سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں لوگ تحائف لاتے آپ قبول فرماتے اور آگے تقسیم فرما دیتے۔
آپ نماز کی پابندی اور باکثرت درود پاک پڑھنے کا حکم فرماتے۔
آج بھی بزرگان دین کا اس پر عمل دیکھتے ہو اور خاص بندوں کی یہی علامت ہے۔

محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ رب کریم کی رضاء کے حصول کےلئے شرعی احکامات پر عمل کیا جائے, ذکر الٰہی سے زبان کو تر رکھا جائے اور آپ ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام باکثرت بھیجا جائے۔
اللّٰه ﷻ اور اس کے پیارے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے محبت کرنے والوں سے محبت رکھنا کامل ایمان کی علامت ہے ۔۔

المختصر؛ تحفہ دینے سے رشتے، تعلق مضبوط ہوتے ہیں۔ اس سے مال۔کی محبت کم ہوتی ہے پر مال بڑھتا ہے, برکتیں اور سعادتیں عطاء ہوتی ہیں, اور ساتھ ساتھ خیرخواہی کا، خدمت خلق کے جذبہ کو مزید قوت ملتی ہے اور رب کریم اپنے فضل و کرم سے مزید سعادتیں و برکتیں اور قرب کی نعمت عطاء فرماتا ہے

یا اللّٰه ﷻ یا رب العالمین ہم سبکو ، ہماری نسلوں کو اور تمام امت مسلمہ کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب محمد مصطفی ﷺ کی سچی محبت اور دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق و اسباب عطاء فرما۔ آمین یارب العالمین
واللہ اعلم۔

*ياحَيُّ يا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ لا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ* ۔ اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن

*🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِد🌹*
*🌹اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد🌹*

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـمبِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ *🌹🌹🌹 دین اسلام میں استقامت کا معنی اور...
17/09/2026

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

*🌹🌹🌹 دین اسلام میں استقامت کا معنی اور استقامت کے دنیاوآخرت میں کچھ ثمرات🌹🌹🌹*

الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، ‏‏‏‏‏‏مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔
وَالصَّلاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
قال۔اللہ تعالی فی القرآن المجید؛
:
*1*; *اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‌ۚ۞*

اللّٰه ﷻ کا ارشاد ہے؛ بیشک جن لوگوں نے کہا اللّٰه ﷻ ہمارا رب ہے پھر اس پر برقرار رہے تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
(سورۃ الأحقاف۔آیت نمبر 13)

تفسیر مدارک التنزیل؛
آیت ١٣ : اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر مستقیم رہے) اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسکے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت پر۔
فَـلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ (ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں) قیامت کے دن
وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ (اور نہ وہ غمگین ہونگے) موت کے وقت۔
(مدارک التنزیل)

تفسیر القرطبی:
حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نے کہا : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کے حق میں نازل ہوئی
(1) آیت عام ہے مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے۔
(القرطبی)

*2*; *اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ* ﴿۳۰﴾
*نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡن* ﴿ؕ۳۱﴾
*نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِیۡمٍ* ﴿٪۳۲﴾

اللّٰه ﷻ کا ارشاد ہے؛ بیشک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ﷻ ہے پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔

ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو،
مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے،
(سورۃ فصلت۔ )

تفسیر مدارک التنزیل -

استعانت والے :
اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ (جن لوگوں نے اقرار کرلیا کہ ہمارا رب اللہ ﷻ ہے) توحید باری تعالیٰ کا بول بول دیا۔
ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا (پھر مستقیم رہے) پھر اس اقرار اور اس کے تقاضوں پر پورے اترے۔

قول ابوبکر (رضی اللہ عنہ) : انہوں نے فعلاً استقامت اختیار کی جس طرح زبان سے استقامت اختیار کی اور پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا (پوچھا) تم اس کے متعلق کیا کہتے ہو۔
انہوں نے کہا انہوں نے کوئی گناہ نہ کیا۔
آپ نے فرمایا تم نے معاملے کو سخت ترین حالت پر محمول کیا۔ انہوں نے کہا آپ کیا فرماتے ہیں۔ آپ نے فرمایا انہوں نے شرک نہ کیا اور عبادت اوثان کی طرف لوٹ کر نہ گئے۔

قول عمر (رضی اللہ عنہ) : وہ لومڑی کی طرح ادھر ادھر نہیں پھرے یعنی منافقت اختیار نہیں کی۔
قول عثمان (رضی اللہ عنہ) : انہوں نے مخلصانہ اعمال کیے۔
قول علی (رضی اللہ عنہ): انہوں نے فرائض کی انجام دہی کی۔
قول فضیل (رحمة اللہ علیہ) : دنیا میں زہد اختیار کیا۔ اور آخرت کی طرف راغب رہے۔
ایک قول : یہ ہے کہ استقامت اقرار کے بعد اقرار کو کہتے ہیں نہ کہ اقرار کے بعد فرار کو

تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ (ان پر فرشتے اتریں گے) موت کے وقت۔
اَلَّا تَخَافُوْا (کہ تم اندیشہ نہ کرو) ان یہ ای کے معنی میں ہے یا مخففہ من المثقلہ ہے۔ اور اس کی اصل اس طرح بانہ لا تخافوا۔ ہ ضمیر شان ہے ای لا تخافوا ما تقدمون علیہ۔ جس طرف تم جا رہے اس کے متعلق اندیشہ مت کرو۔
وَلَا تَحْزَنُوْا (اور رنج نہ کرو) اس کو جو تم پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ الخوف، وہ غم جو ناپسند چیز کی توقع میں پیش آئے۔ الحزن نفع بخش چیز کے فوت ہونے پر جو غم وارد ہو یا نقصان دہ چیز کے سامنے آنے سے جو طاری ہو۔
مطلب آیت کا یہ ہوگا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ہر غم سے امان لکھ دی پس تم اس (غم) کو ہرگز نہ چکھو گے۔
وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (اور تم جنت پر خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا)
قول ترمذی (رحمة اللہ علیہ) ۔ ان پر فرشتوں کا نزول اس وقت ہوتا ہے۔ جب ان کی ارواح ان کے ابدان سے جدا ہوتی ہیں۔ لا تخافوا یعنی ایمان کے سلب ہونے کا خطرہ نہ لاؤ۔
ولا تحزنوا جو گناہ ہوگئے ان پر غمزدہ نہ ہو۔ ابشروا۔ جنت میں داخلے کی تمہیں خوشخبری ہو۔ التی کنتم توعدون جس کا تم سے گزشتہ زمانوں میں وعدہ کیا گیا۔

نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ (ہم تمہارے رفیق تھے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے) جس طرح کہ شیاطین نافرمانوں کے دوست ہیں اسی طرح ملائکہ متقین کے دوست ہیں۔ اور ان کے رفیق دونوں جہانوں میں ہوں گے۔
وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ (اور تمہارے لیے اس میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے) نعمتوں میں سے۔ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ (اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو گے موجود ہے) ۔ تدعون تمنا کرنے کے معنی میں ہے۔
(مدارک التنزیل)

تفسیر بغوی میں سدی (رحمة اللہ علیہ) کا قول ہے، آپ فرماتے ہیں کہ فرشتے کہیں گے کہ ہم تمہارے محافظ ہیں جو تمہارے ساتھ دنیا میں تھے اور آخرت میں ہم تمہارے اولیاء ہیں کہیں گے اب ہم تمہارے جنت میں داخل ہونے تک تم سے جدا نہ ہوں گے۔ ،
(تفسیرِ بغوی)

یعنی فرشتوں کے ذریعے اہل ایمان کی دنیا کے معاملات میں بھی حفاظت و مدد کی جاتی ہے۔ جیسے گھر سے نکلتے وقت دعاء پڑھنے سے، دروازہ بند کرتے وقت بسم اللہ۔۔۔۔۔پڑھ لینے سے فرشتے شیاطین کو دور کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم

*🌹تفسیر تبیان القرآن🌹*

*استقامت کا لغوی اور شرعی معنی* -

قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ دو ضدوں کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے، کیونکہ ایک ضد کے ذکر سے دوسری ضد پہچانی جاتی ہے اور خوب واضح ہوجاتی ہے، اس سے پہلی آیتوں میں کفار کی وعید کا ذکر تھا اور اس آیت میں مسلمانوں سے وعد کا ذکر ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کی تحسین فرمائی ہے جنہوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر مستقیم رہے، یعنی اس عقیدہ پر مضبوطی سے قائم رہے، جمے رہے اور ڈٹے رہے۔-

مستقیم اس راستہ کو کہتے ہیں جو افراط اور تفریط کے درمیان متوسط ہو، مستقیم عقیدہ وہ ہے کہ نہ تو دہریوں کی طرح خدا کا انکار کیا جائے اور نہ مشرکین کی طرح متعدد خدا مانے جائیں، بلکہ کہا جائے کہ خدا ہے اور وہ ایک ہی ہے، نہ قدریہ کی طرح یہ کہا جائے کہ انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے اور نہ جبریہ کی طرح کہا جائے کہ انسان مجبور محض ہے۔
بلکہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالی انسان کے افعال کا خالق ہے اور انسان کا سب ہے اور نہ برہمنوں کی طرح نبوت کا انکار کیا جائے اور نہ مرزائیہ کی طرح نبوت کو قیامت تک کے لیے جاری رکھا جائے، بلکہ یہ کہا جائے کہ نبی کا آنا ضروری ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد یہ ضرورت ختم ہوگئی اور نہ رافضہ کی طرح صحابہ کی مذمت کی جائے اور نہ صبیہ کی طرح اہل بیت کو برا کہا جائے، بلکہ صحابہ اور اہل بیت دونوں کی تکریم کی جائے۔ وعلی ھذا القیاس -

اور استقامت کا معنی ہے : انسان کا صراط مستقیم کو لازم رکھنا اور ہرحال میں اس پر جمے اور ڈٹے رہنا۔-

*نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استقامت کی تفسیر* -
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : ” اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا “ (فصلت :30) پھر آپ نے فرمایا : لوگوں نے یہ کہا : یعنی ہمارا رب اللہ ﷻ ہے، پھر ان میں سے اکثر کافر ہوگئے، پس جو شخص اسی قول پر ڈٹا رہا حتی کہ مرگیا، وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اس قول پر مستقیم رہے۔
(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٥٠، الکامل لابن عدی ج ٣ ص ١٢٨٨، جامع المسانید والسنن مسند انس رقم الحدیث : ٥١١)-

حضرت سفیان بن عبداللہ الثقفی (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ ! مجھے اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بتائیے کہ آپ کے بعد کسی اور سے سوال نہ کروں، آپ نے فرمایا : تم کہو : میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر مستقیم رہو۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٧٢، مسند احمد ج ٣ ص ٤١٣ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢٤ ص ١٤١، مؤسسۃ الرسالۃ، ١٤١٩ ھ، شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٩٢٢ )-

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کہو : میں اللہ ﷻ پر ایمان لایا، اس کا معنی ہے کہ تم زبان سے اللہ ﷻ کی توحید کا اقرار کرو اور اپنے باقی اعضاء سے اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرو اور فرمایا : پھر اس پر مستقیم رہو یعنی تادم مرگ توحید پر قائم رہو اور اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرتے رہو۔
نیز آپ ﷺ کا یہ ارشاد تمام احکام شرعیہ کا جامع ہے، یعنی اللہ تعالی کے ہر حکم پر عمل کرتے رہو اور ہر اس کام سے اجتناب کرتے رہو جس سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے اور جس شخص نے اللہ تعالی کے کسی ایک حکم پر بھی عمل نہیں کیا یا کسی ایک بھی ممنوعہ کام سے باز نہیں رہا تو وہ صراط مستقیم سے منحرف ہوگیا،
پس جس نے کہا : ہمارا رب اللہ ﷻ ہے تو اس کے رب ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کی رضا جوئی میں لگا رہا اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے۔

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر القرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :-
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث میں سائل کے لیے اسلام اور ایمان کے تمام معانی جممع کردیئے ہیں، آپ نے سائل کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کرے، اپنے دل سے اللہ ﷻ کی توحید کی تصدیق کرے اور زبان سے اس کا ذکر کرے اور اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اللہ تعالی کے تمام احکام کی اطاعت پر مستقیم رہے اور ہر قسم کی نافرمانی اور حکم عدولی سے باز رہے کیونکہ اس وقت تک کسی چیز پر استقامت حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کی مخالف چیزوں سے رکا نہ جائے اور آپ کا یہ ارشاد قرآن مجید کی اس آیت سے مستنبط ہے :

” اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا “ (حم السجدۃ :30) یعنی اللہ ﷻ پر ایمان لائو اور اس کو واحد مانو تھر تادم مرگ اس عقیدہ پر اور اس کے احکام کی اطاعت پر جمے رہو جیسا کہ حضرت عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : اللہ کی اطاعت پر مستقیم رہو اور لومڑی کی طرح فریب دہی کرتے ہوئے جادو استقامت سے منحرف نہ ہو، یعنی اللہ تعالی کی تصدیق کرتے رہو، اس کی توحید کا اقرار کرتے رہو اور اپنے اعضاء سے دائما اس کی بندگی کرتے رہو۔ (المفہم ج ١ ص ٢٢٢۔ ٢٢١، دارابن کثیر، بیروت، ١٤٢٠ ھ)-

اللہ تعالی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سورة ہود میں فرمایا :-
فاستقم کما امرت۔ (ھود :112) سو آپ اسی طرح مستقیم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے۔-
حضرت عقبہ بن عامر (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ! آپ بوڑھے ہوگئے ہیں، آپ نے فرمایا : مجھے ہود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا۔
(المعجم الکبیر ج ١٧ ص ٢٨٧۔ ٢٨٦، رقم الحدیث : ٧٩٠، دلائل النبوۃ ج ١ ص ٣٥٨، شمائل ترمذی رقم الحدیث : ٤٢ )-

علامہ یحیی بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :-
تمام قرآن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس سے زیادہ سخت اور دشوار آیت اور کوئی نازل نہیں ہوئی، اسی لیے جب آت کے اصحاب نے آپ سے پوچھا کہ آپ پر بڑھاپا بہت جلد طاری ہورہا ہے تو آپ نے فرمایا، مجھے سورة ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں نے بوڑھا کردیا۔
(صحیح مسلم بشرح النوادی ج ٢ ص ٦٠٢، مکتبہ نزار مصطفی، بیروت، ١٤١٧ ھ)-

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاض (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مستقیم رہو اور تم مکمل استقامت سے ہرگز حاصل نہیں کرسکوں گے اور یاد رکھو تمہارے اعمال میں سب سے افضل عمل نماز ہے اور صرف مومن (کامل) ہی دائما باوضو رہ سکتا ہے۔
(سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٨۔ ٢٧٧، مصنف ابن ابی شبیہ ج ١ ص ٦، مسند احمد ج ٥ ص ٢٨٢۔ ٢٧٦، سنن دارمی رقم الحدیث : ٦٦١، المعجم الصغیر ج ٢ ص ٨٨، المستدرک ج ١ ص ١٣٠، السنن الکبری، للبیہقی ج ١ ص ٤٥٧، جامع المسانید والسنن مسند عبداللہ بن عمروبن العاص رقم الحدیث : ٧١٩)-

*صحابہ ٔ کرام اور فقہاء تابعین سے استقامت کی تفسیر* -

حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) نے یہ آیت پڑھی : ” اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا “ (حم السجدۃ 30) اور کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ بالکل شرک نہیں کرتے۔ ایک اور روایت میں ہے : نہ کوئی اور معصیت کرتے ہیں۔ (جامع البیان جز ٢٤ ص ١٤٣، رقم الحدیث : ٢٣٥٥٢، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)-

زہری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے اس آیت کی منبر پر تلاوت کی اور کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ ﷻ کی اطاعت پر مستقیم رہوے اور لومڑی کی طرح فریب دہی سے صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہیں نکلے۔
(جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٥٥٨ )-

حسن بصری، حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : اس آیت کا تقاضا ہے کہ تم فرائض کی ادائیگی پر مستقیم رہو۔
(جامع البیان رقم الحدیث : ٢٣٥٦٠ )-
ابو العالیہ نے کہا : دین میں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے پر تادم مرگ مستقیم رہو۔-
ایک قول ہے : جس طرح تم اپنے اقوال میں مستقیم ہو اسی طرح اپنے اعمال میں بھی مستقیم رہو۔-
ایک اور قول ہے : جس طرح تم جلوت میں مستقیم ہو اسی طرح خلوت میں بھی مستقیم رہو۔-
فضیل بن عیاض نے کہا : دنیا سے بےرغبتی کرو اور آخرت میں رغبت کرو۔-
نیز ایک قول یہ ہے کہ اطاعت کے تمام افعال کے ساتھ ساتھ تمام گناہوں سے بھی مجتنب رہو، کیونکہ انسان ثواب کی رغربت میں اطاعت کرتا ہے اور عذاب کے خوف سے گناہوں سے اجتناب کرتا ہے۔ ربیع نے کہا : ماسوی اللہ سے اعرض کرو۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ١٨٠۔ ١٧٩، الجامع لاحکام القرآن ج ١٥ ص ٣٢٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)-

*استقامت کے حصول کا دشوار ہونا*-
دونقطوں کو ملانے والے سب سے چھوٹے خط کو لغت میں صراط مستقیم کہتے ہیں اور شریعت میں صراط مستقیم سے مراد وہ عقائد ہیں جو سعادت دارین تک پہنچاتے ہیں، یعنی وہ دین اسلام جس کو دے کر تمام انبیاء اور رسل کو مبعوث کیا گیا اور ان تمام کی نبوات اور رسالات کو حضرت سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت پر ختم کردیا گیا،
*جس دین سے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح معرفت ہو اور تمام احکام شرعیہ کا علم ہو وہ صراط مستقیم ہے*۔
یہ صراط مستقیم کا خاص معنی ہے اور اس کا عام معنی یہ ہے : *تمام اخلاق، اعمال اور امور میں افراط اور تفریط کے درمیان متوسط طریقہ*۔-

*خواص مسلمین کے نزدیک صراط مستقیم کا معنی یہ ہے* :-
کفر، فسق، جہل، بدعت اور ہوائے نفسانیہ کے جہنم کی پشت پر علم، عمل، خلق اور حال کے اعتبار سے شریعت پر استقامت کا پل۔-
اس معنی میں صراط مستقیم سے ذہن آخرت کے پل صراط کی طرح متوجہ ہوتا ہے، پل صراط کے متعلق احادیث میں ہے کہ وہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے اور شریعت پر استقامت بھی بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔
مثلا ہمارے ہاں عام طور پر دیور اور بھا بھی میں پردہ نہیں ہوتا، حالانکہ شریعت میں ان کے درمیان پردہ کی سخت تاکید ہے، سرکاری ملازمتیں رشوت، سود اور بےایمانی کی آمدنی کے بغیر ممکن نہیں، یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم مخلوط طریقہ تعلیم کے بغیر ناگزیر ہے، دکاندار اور ٹھیلے والے پولیس کو بھتہ دیئے بغیر اپنا کاروبار نہیں چلا سکتے۔
نجی اداروں اور دفاتر میں مردوں اور عورتوں کا مخلوط اسٹاف ہوتا ہے، استقبالیہ اور معلوماتی کا ئونٹر پر بےپردہ خواتین سے گفتگو کرنی پڑتی ہے، سرکاری ٹینڈرز پر کوئی ٹھیکہ رشوت کے بغیر منظور نہیں ہوسکتا، پولیس اور دیگر سرکاری محکموں میں کوئی شخص رشوت میں ملوث ہوئے بغیر ملازمت نہیں کرسکتا،
غرضیکہ پورا معاشرہ شریعت کے خلاف ورزیوں اور اخلاقی پشتیوں میں ڈوبا ہوا ہے، ایسے معاشرہ میں اگر کوئی شخص شریعت پر مستقیم رہنا چاہے تو یہ صراط مستقیم بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جو اس صراط مستقیم پر آسانی سے گزر گیا وہ آخرت کے پل صراط سے بھی آسانی سے گزر جائے گا۔-

*اور عوام مسلمین کے اعتبار سے صراط مستقیم کا یہ معنی ہے* :-
*اللہ تعالی کے ہر حکم کو ماننا اور اس پر عمل کرنا اور ہر اس کام سے رکنا جس سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے*۔-

خواص جب اھدنا الصراط السمتقیم کہتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہے : اے اللہ ہمیں سیرالی اللہ کے بعد سیر فی اللہ عطا فرما اور ہم پر اپنے جمال اور جلال کی صفات غیر متناہیہ منکشف کردے، اور جب عوام اھدنا الصراط الستقیم کہتے ہیں تو اس کا معنی ہے : اے اللہ ﷻ ! ہمیں اپنے تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرما۔-

اس کے بعد فرمایا : ” ان پر فرشتے (یہ کہتے ہوئے) نازل ہوتے ہیں کہ تم نہ خوف کرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کی بشارت سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے “ اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں :-
مجاہد اور زید بن اسلم نے کہا : موت کے وقت ان کے اوپر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔-
ثابت اور مقاتل نے کہا : جب حشر کے میدان میں لے جانے کے لیے ان کو قبروں سے نکالا جائے گا اس وقت ان کے اوپر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔-
” ان سے کہا جائے گا : تم نہ خوف کرو اور نہ غم کرو “ اس کی تفسیر میں بھی دو قول ہیں :-
عکرمہ نے کہا : جو حالات تمہارے آگے پیش آنے ہیں تم ان کا اندیشہ نہ کرو اور جو کچھ تم پیچھے چھوڑ آئے ہو اس کا غم نہ کرو۔-
مجاہد نے کہا : تم موت کے متعلق فکر مند نہ ہو اور اپنی اولاد کا غم نہ کرو۔-
” اور جنت کی بشارت سنو “ ایک قول یہ ہے کہ جنت کی بشارت تین مواقع پر دی جائے گی : موت کے وقت قبر میں اور حشر میں۔
(النکت والعیون ج ٥ ص ١٨٠، دارالکتب العلمیہ، بیروت)-

زید بن اسلم اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں جو حالات تمہارے سامنے آنے والے ہیں ان کا اندیشہ نہ کرو اور جن چیزوں کو تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کا غم نہ کرو اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، زید بن اسلم نے کہا : یہ خوشخبری تین مواقع پر دی جائے گی، موت کے وقت، قبر میں اور حشر میں۔-
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧ ص ١٩٩، رقم الحدیث : ٣٥٢٤٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٦ ھ)-

منہال بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہر نفس پر دنیا سے نکلنا اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ اس کو یہ نہ معلوم ہوجائے کہ اس کا ٹھکانا کہاں ہوگا۔
(مصنف ابن ابی شبیہ ج ٧ ص ١٩٩، رقم الحدیث : ٣٥٢٤٦، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

*فرشتوں کا مؤمنین کے لیے معاون اور مددگار ہونا*-
حم السجدۃ : ٣٢۔ ٣١ میں فرمایا : ” ہم دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے مددگار ہیں اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز جس کو تمہارا دل چاہے اور اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرو یہ بہت بخشنے والے، بےحد رحم فرمانے والے کی طرف سے مہمانی ہے “-

اللہ تعالی نے یہ خیر دی ہے کہ فرشتے مؤمنوں سے کہیں گے : ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے اولیاء تھے اور آخرت میں تمہارے اولیاء ہیں۔-

امام رازی فرماتے ہیں : یہ آیت حم السجدۃ : ٢٥ کے مقابلہ میں ہے جس میں فرمایا تھا : ہم نے کفار کے لیے ان کے ساتھیوں کو ان پر مسلط کردیا اور یہ جو فرمایا ہے کہ فرشتے مؤمنین کے لیے اولیاء (مددگار) ہوں گے، اس کا معنی یہ ہے کہ
*فرشتے مومنوں میں الھامات، مکاشفات، یقینیہ اور مقامات حقیقیہ کی تاثیرات کرتے ہیں، جس طرح شیاطین ارواح میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں اور باطل خیالات کا القاء کرتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے متعدد جہات سے ارواح طیبہ طاہرہ کی مدد کرتے ہیں جس کا ارباب مکاشفات اور اصحاب مشاہدات کو علم ہوتا ہے*،
پس فرشتے یہ کہتے ہیں : جس طرح ان کی مدد دنیا میں مؤمنوں کو حاصل تھی اسی طرح ان کی مدد ان کو آخرت میں بھی حاصل رہے گی، بلکہ مؤمنوں کی موت کے بعد ان کی مدد زیادہ قوی ہوجائے گی کیونکہ جو ہر نفس ملائکہ کی جنس سے ہے اور نفس اور ملائکہ کے درمیان وہ نسبت ہے جو شعلہ اور آفتاب میں ہے، یا قطرہ اور سمندر میں ہے، نفس انسان اور ملائکہ کے درمیان تعلقات سجمانیہ اور تدبیرات بدنیہ حائل ہوتی ہیں اور انسان کی موت کے بعد یہ حجاب اٹھ جاتا ہے، پھر اثر موثر کے ساتھ اور قطرہ سمندر کے ساتھ اور شعلہ آفتاب کے ساتھ متصل ہوجاتا ہے اور اس آیت میں فرشتوں کے جس قول کا ذکر ہے اس سے یہی مراد ہے۔-

پھر فرشتوں نے مؤمنوں سے کہا : ” اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز ہے جس کو تم طلب کرو “-
یعنی تم جس چیز کی بھی تمنا کرو گے وہ اللہ تعالی تم کو عطا فرمادے گا، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس آیت کے پہلے جملہ میں ہے : جس چیز کو تمہارا دل چاہے اور دوسرے جملہ میں ہے : جس چیز کو تم طلب کرو، ان میں کیا فرق ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے جملہ سے مراد لذات جسمانیہ ہیں جیسے جنت کے پھل اور میوے اور حورو قصور اور دوسرے جملہ میں مراد الذات روحانیہ ہیں جیسے ذکراذکار اور تسبیح اور تہلیل وغیرہ۔-
اس کے بعد فرمایا : ” یہ بہت بخشنے والے، بےحد رحم فرمانے والے کی طرف سے مہمانی ہے “-

اس میں یہ بتایا کہ یہ تمام نعمتیں جن کا ذکر کیا گیا ہے یہ سب اللہ تعالی کی طرف سے مہمانی کے قائم مقام ہیں اور کریم جب کسی کی مہمانی کرتا ہے تو ضیافت کے بعد نفیس تحائف پیش کرتا ہے سو جنت میں اللہ تعالی پہلے جسمانی اور روحانی لذتیں عطا فرمائے گا، پھر اس کے بعد اپنی ذات کی تجلیات دکھائے گا اور اپنا دیدار عطا فرمائے گا،
میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی مجھے اور میرے قارئین کو جنت کی تمام نعمتوں کا اہل بنادے اور محض اپنے فضل اور کرم سے ہم کہ یہ نعمتیں عطا فرمائے۔ (اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن )
(تفسیر کبیر ج ٩ ص ٥٦٢۔ ٥٦١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)-

*حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی متوفی ٧٧٤ ھ ان آیتوں کی تفسیر میں لکھتے ہیں* :-

مؤمنوں کی موت کے وقت فرشتے ان کے پاس آکر کہیں گے : ہم دنیا میں بھی تمہارے معاون تھے، تم کو صحیح راہ دکھاتے تھے اور اللہ کے حکم سے تمہاری حفاظت کرتے تھے اور اسی طرح ہم تمہارے ساتھ آخرت میں رہیں گے اور قبروں کی وحشت اور گھبراہٹ میں تمہارا دل بہلائیں گے اور جس وقت صور پھونکا جائے گا اس وقت بھی تم کو تسلی دیں گے اور حشر کے دن تم کو مامون رکھیں گے اور تم کو آسانی کے ساتھ پل صراط سے گزاریں گے اور تم کو جنات النعیم میں پہنچائیں گے,
اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے : تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کو تمہارے دل چاہے گا، یعنی جس چیز کو بھی تم پسند کرو گے اور جس چیز سے تھی تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی اور فرمایا : اس جنت میں تمہارے لیے ہر وہ چیز ہے جس کو تم طل کروگے یعنی جس چیز کو بھی تم طلب کرو گے وہ تمہارے سامنے ہوگی اور جس چیز کو بھی تم پسند کرو گے اس چیز کو تم پالو گے اور فرمایا : یہ بہت بخشنے والے، بےحد رحم فرمانے والے کی طرف سے مہمانی ہے، یعنی اس کی طرف سے ضیافت ہے اور عطاء ہے اور انعام ہے اور تمہارے گناہوں کی مغفرت ہے، وہ تم پر رئوف اور رحیم ہے، اس نے تمہارے گناہوں پر پردہ رکھا، تم کو بخش دیا اور تم پر لطف و کرم فرمایا۔
(تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ١٠٨، مطبوعہ دارالفکر، ١٤١٩ ھ)-

*فرشتے موت کے وقت مؤمنین کو جن انعامات کی بشارت دیتے ہیں* -

امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی ٢٧٩ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :-

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں جمع کردے، میں نے پوچھا : کیا جنت میں بازار ہوں گے ؟ فرمایا : ہاں ! مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خبر دی ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی فضیلت کی وجہ سے جنت ملے گی،

پھر ایام دنیا کے اعتبار سے جتنے عرصہ میں جمعہ کا دن آتا ہے اتنے عرصہ بعد وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے اور ان کے لیے اللہ ﷻ کا عرش ظاہر ہوگا اور جنت کے باغات میں ایک باغ ان کے سامنے ہوگا اور ان کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے اور یاقوت کے اور زمرد کے اور سونے کے اور چاندی کے منبر رکھے جائیں گے اور ان میں سے ادنی درجہ کے شخص کو مشک اور کافور کے ٹیلے پر بٹھایا جائیگا،
حالانکہ اس میں کوئی وناءت نہیں ہوگی اور یہ خیال نہیں آئے گا کہ جو لوگ کرسیوں پر بیٹھے ہیں ان کی نشست ان سے زیادہ افضل ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟
آپ نے فرمایا : ہاں ! آپ نے فرمایا : کیا تم سورج کو دیکھنے میں اور چودھویں شب کو چاند کے دیکھنے میں کوئی تردد کرتے ہو ؟ ہم نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اسی طرح تم اپنے رب کے دیکھنے میں کوئی تردد نہیں کرو گے اور اس مجلس میں ہر شخص اللہ تعالی کے سامنے بالمشافہ موجود ہوگا حتی کہ اللہ تعالی ایک شخص سے فرمائے گا : اے فلاں بن فلاں !
کیا تم کو یاد ہے کہ تم نے ایک دن فلاں فلاں بات کہی تھی ؟ پھر اس کو اس کی دنیا میں کی ہوئی بعض عہد شکنیاں یاد دلائے گا،
وہ شخص کہے گا : اے میرے رب ! کیا تو نے مجھے بخش نہیں دیا ؟
اللہ تعالی فرمائے گا : کیوں نہیں، تو میری بخشش کی وسعت کی وجہ سے ہی تو اس مرتبہ کو پہنچا ہے، پھر جس وقت ان میں یہ گفتگو ہورہی ہوگی، اہل جنت کو اوپر سے ایک بادل ڈھانپ لے گا، پھر ان پر ایسی خوشبو کی بارش ہوگی کہ انہوں نے اس سے پہلے ایسی خوشبو نہیں سونگھی ہوگی اور ہمارا رب تبارک وتعالی فرمائے گا :
اٹھو، ان اکرام وانعام کی چیزوں کی طرف جو میں نے تمہارے لیے تیار کی ہیں، پس جو چیز تمہیں پسند آئے وہ لے لو، پھر ہم ایک بازار میں آئیں گے جس کا فرشتوں نے احاطہ کررکھا ہوگا، اس بازار میں ایسی چیزیں ہوں گی کہ آنکھوں نے ایسی چیزوں کو کبھی نہیں دیکھا ہوگا اور نہ کانوں نے کبھی سنا ہوگا اور نہ کبھی دلوں میں ان کا خیال آیا ہوگا،
سو جو چیز ہمیں پسند آئے گی وہ ہمیں اٹھا کردے دی جائے گی اور اس بازار میں کوئی خریدوفروخت نہیں ہوگی اور اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملیں گے،
پھر جو شخص بلند درجہ والا ہوگا وہ کم درجہ والے شخص سے ملے گا حالانکہ اس شخص میں کوئی کمی نہیں ہوگی، وہ کم درجہ والا بلند درجہ والے شخص کے بہترین لباس کو دیکھ کر حیران ہوگا اور ابھی ان کی بات ختم نہیں ہوگی کہ وہ دیکھے گا اس کے اوپر اس سے بھی زیادہ بہترین لباس ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں کوئی شخص غمگین نہیں ہوگا،
پھر ہم اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے جائیں گے۔ پھر جب ہماری بیویاں ہم سے ملاقات کریں گے تو کہیں گی : مرحبا ! خوش آمدید ہو ! تم اس قدر حسن و جمال کے ساتھ آئے ہو کہ جب تم یہاں سے گئے تھے اس وقت اتنے حسین و جمیل نہیں تھے، وہ شخص کہے گا : آج ہم اپنے رب جبار کی مجلس سے ہو کر آئے ہیں اور ہمیں یہی چاہیے تھے کہ ہم ایسی ہی کیفیت سے واپس آئیں جیسی کیفیت سے ہم واپس ہو کر آئے ہیں۔
(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٤٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٣٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٤٣٨، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٧١٤)-

حضرت انس (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ ﷻ کی ملاقات سے محبت کرتا ہے اللہ ﷻ بھی اس کی ملاقات سے محبت کرتا ہے
اور جو شخص اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے،
ہم نے کہا : یارسول اللہ ﷺ! ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا : یہ موت کی ناپسندیدگی نہیں ہے، لیکن جب مومن کے پاس موت کا وقت آتا ہے تو اس کے پاس اللہ ﷻ کی طرف سے ان انعامات کی بشارت دینے والا آتا ہے جن انعامات کی طرف وہ جانے والا ہے، پھر اس مومن کے نزدیک اللہ ﷻ سے ملاقات کرنے کے مقابلہ میں کوئی چیز پسندیدہ نہیں ہوتی، سو وہ اللہ ﷻ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے
اور فاجر یا کافر کے پاس جب موت کا وقت آتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آکر اس عذاب کی خبر دیتے ہیں جس عذاب کی طرف وہ جانیوالا ہوتا ہے سو وہ اللہ ﷻ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ ﷻ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔
(یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے) ۔
(مسند احمد ج ٣ ص ١٠٧ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٩ ص ١٠٣، رقم الحدیث : ١٢٠٤٧، کتاب الزہد لابن المبارک رقم الحدیث : ٩٧١، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٧٧٣)
(تفسیر تبیان القرآن “مختصر”)

تفسیر ضیاالقرآن:

٤٥ ف اہل زیغ و باطل کی دنیوی زندگی اس میں ان کی طفلانہ حرکتوں اور آخرت میں جس عذاب الیم میں انہیں مبتلا کیا جائے گا اور وہ کسی طرح ایک دوسرے سے الجھیں گے۔ ان تمام کے اثر آفرین تذکرہ کے بعد اب اللہ تعالی کے بندوں کا ذکر ہو رہا ہے اور دنیا وآخرت میں جو عزتیں اور سرفرازیاں ان کو بخشی جانے والی ہیں۔ ان کا دلنشین بیان کیا جا رہا ہے تاکہ دل خود بخود ان کے نقش پا کر خضر راہ بنانے کے لئے مجبور ہوجائیں۔
المختصر ان آیات میں دو حقیقتیں آشکارا کی گئی ہیں۔ شان بندگی کیا ہے ؟ اور شان بندہ نوازی کس کو کہتے ہیں۔ شان بندگی تو یہ ہے کہ انسان زبان سے اقرار کرے کہ میرا پروردگار اللہ تعالی ہے اور پھر آخر دم تک اپنے عمل سے، اپنے قول وفعل سے، اپنے احساسات اور جذبات سے، اپنی خلوتوں اور جلوتوں میں اس کی تصدیق کرتا رہے۔ زبان سے یہ کہہ دینا کہ میرا پروردگار اللہ تعالی ہے آسان ہے لیکن عمر بھر ثابت قدمی سے اس پر ڈٹے رہنا بڑی ہمت و مردانگی کا کام ہے۔
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی پھر کہا : قد قال الناس ثم کفر اکثرہم فمن مات علیھا فھو ممن استقام (ترمذی) یعنی لوگ کہنے کو تو کہہ دیتے ہیں کہ ربنا اللہ : لیکن پھر اکثر اس کا انکار کردیتے ہیں جو آدمی آخر دم تک اس بات پر ثابت قدم رہا اس کا شمار اس زمرہ میں ہوگا۔
علامہ آلوسی نے خلفاء راشدین سے اس آیت کی تفصیل نقل کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے :
ایک بار حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے یہ آیت پڑھی پھر پوچھا اس کا کیا مطلب ہے۔ لوگوں نے کہا لم یذنبوا کہ استقامت کا معنی یہ ہے کہ پھر اس سے گناہ صادر نہ ہو قال قد حملتم الامر علی اشدہ : فرمایا تم نے تو یہ کام بڑا مشکل بنا دیا ہے۔ عرض کی گئی آپ ہی فرمائیے قال لم یرجعوا الی عبادۃ الاوثان : یعنی اللہ تعالی کو اپنا رب ماننے کے بعد اس پر استقامت کا یہ مطلب ہے کہ پھر بتوں کی پوجا نہ شروع کردیں۔ حضرت فاروق اعظم (رضی اللہ عنہ) نے استقاموا کی تفسیر یوں کی :

استقامو اللہ تعالی بطاعتہ لم یروغوا روغان الثعلب : یعنی وہ ثابت قدمی سے اللہ تعالی کی اطاعت کرتے ہیں اور لومڑی کی طرح حیلہ سازیاں کر کے راہ فرار اختیار نہیں کرتے۔
حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے۔ اخلصوا العمل : جو عمل کرتے ہیں اخلاص سے کرتے ہیں۔ ریا اور نمائش کا وہاں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ حضرت سیدنا علی المرتضی نے فرمایا فرائض کی ادائیگی استقامت ہے۔

عارف باللہ مولانا ثناء اللہ لکھتے ہیں کہ استقامت ایک مختصر لفظ ہے۔ اس سے مراد شریعت کے تمام احکام کی بجا آوری اور جن امور سے روکا گیا ہے ان سے اجتناب اور آخر دم تک اس طریقہ کار پر ثابت قدمی۔
حضرت سفیان بن عبداللہ الثقفی نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قل لی فی الاسلام قولا لا اسئل عنہ احدا بعدک۔ اے اللہ تعالی کے رسول اسلام کے بارے میں مجھے ایسی بات بتائیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مجھے کسی سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قل امنت باللہ ثم استقم : کہہ کہ میں اللہ تعالی پر ایمان لایا اور پھر عمر بھر اس پر ثابت قدم رہ۔

٤٦ ف شان بندگی کے ذکر کے بعد اب شان بندہ نوازی کا بیان شروع ہورہا ہے۔ بتایا کہ اللہ تعالی کے ان مقبول بندوں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان کو طرح طرح سے تسلی دیتے ہیں کہ قبر وحشر سے بھی خوفزدہ ہونے کی تمہیں ضرورت نہیں اور اپنی اولاد اور عزیز و اقارب جو تم پیچھے چھوڑ جاؤ گے ان کے بارے میں بھی تمہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی ان کا حافظ وناصر ہے۔ اور سنو ہم تمہیں یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ جنت کے دروازے تمہارے لئے کھول دئیے گئے ہیں اور وہاں کی سرمدی بہاریں تمہارے لئے چشم براہ ہیں۔
اللہ تعالی کے بندوں پر فرشتوں کا نزول کس وقت ہوتا ہے اور کیا وہ فرشتوں کی باتوں کو اپنے ان ظاہری کانوں سے سنتے ہیں۔ بعض علماء کا یہ قول ہے کہ فرشتوں کا نزول موت کے وقت ہوتا ہے۔ لیکن اہل تحقیق کا یہ قول ہے کہ یہ سلسلہ عمر بھر جاری رہتا ہے۔ جب بھی بندہ مومن اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اور اپنے فرائض سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے راہ عمل پر گامزن ہوتا ہے تو قدم قدم پر تیز کانٹے اس کے پاؤں کی تواضع کرتے ہیں، ہر موڑ پر حشر بداماں مصیبتیں اس کی منتظر ہوتی ہیں۔ اور رنج وآلام کے بادل ہر طرف سے گھر کر آجاتے ہیں، اس وقت ملائکہ اس کی دلجوئی کے لئے نازل ہوتے ہیں۔ بعض مقبول بندے فرشتوں کی یہ باتیں اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور جو ان کی باتیں نہیں سن سکتے ان کے دلوں میں طمانینت و تسکین کی ایک ایسی کیفیت نمودار ہوجاتی ہے کہ ان کے اکھڑے ہوئے قدم جم جاتے ہیں۔ باطل کے مقابلہ میں ان کی قوت مدافعت تندو تیز ہوجاتی ہے اور نئے ولولوں سے سرشار ہو کر وہ منزل مقصود کی طرف بڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ کوئی چیز ان کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتی۔ مرتے وقت، لحد میں اور روز حشر ان تمام مقامات پر انہیں ملائکہ کی رفاقت حاصل ہوگی۔

چنانچہ علامہ آلوسی رقمطراز ہیں :
تتنزل علیہم یمدونہم فیما یعن ویتوع لہم من الامور الدینیۃ والدنیویۃ بھا یشرح صدورہم ویدفع عنہم الخوف والحزن بطریق الالھام کما ان الکفرۃ یغویہم ما قید لہم من قرناء السوء :
یعنی فرشتے ان پر اترتے ہیں اور دینی اور دنیوی مشکلات جو انہیں پیش آتی ہیں ان میں ان کی یوں امداد کرتے ہیں کہ ان کے سینے بنشرح ہوجاتے ہیں اور بذریعہ الہام ان کے خوف وحزن کو دور کردیتے ہیں۔ جس طرح کافروں کو ان کے برے ساتھی برے کاموں پر اکساتے ہیں۔
اس کے بعد علامہ مذکور فرماتے ہیں کہ کلام کے اطلاق اور عموم کے پیش نظر یہی قول اظہر ہے اور ہم تمہیں پہلے بتا چکے ہیں کہ بہت لوگوں کا یہ قول ہے کہ فرشتے اکثر اوقات متقیوں پر نازل ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان سے کسب فیض کرتے ہیں۔ (روح المعانی )
(ضیاء القرآن)

استقامت کےلئے دنیا کی محبت سے بچیں, دنیا اور دنیا کی محبت میں غرق لوگوں کی صحبت سے بھی بچنا لازم ہے۔ صحبت کا اثر ہوتا ہے۔
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

​جب تم دنیا داروں کے ہاتھوں میں اس کی زیب و زینت، حقیر ساز و سامان مکر و فریب، اسباب صید و خدع، لذتہائے مہلکہ مع ظاہری نرمی ونفع، اور باطنی مضرت و نقصان، اور ان کو بسرعت قتل و ہلاکت میں ڈالتے دیکھو،
اور جس کو بھی ان میں آلودہ اور فریفتہ پاؤ، اور اسے اس کی سختی و ہلاکت میں غافل و بے خبر دار اس میں مستغرق اور دنیا کی خاطر عہد و پیمان کو توڑتا دیکھو،

تو تمہیں زیبا ہے کہ ایسے بن جاؤ جیسے کہ تم کسی شخص کو غلاظت اور ناپاکی پر اس حال میں بیٹھا ہوا دیکھو کہ اس کی شرمگاہ کھلی ہوئی اور بدبو ہر طرف پھیلی ہوئی ہو، تو بلا شبہ اس وقت تمہاری یہ کیفیت ہوگی کہ اس کی شرمگاہ سے اپنی آنکھوں کو، اور اس گندی بدبو سے اپنی ناک کو بند کر لو گے۔

تو اس طرح جب تم دنیا کو دنیا داروں میں دیکھو، تو اس کی زیب و زینت سے اپنی آنکھوں کو اور دنیاوی خواہش اور اس کی لذتوں کی بدبوؤں سے اپنی ناک کو بند کرلو، تاکہ اس کی آفتوں اور بلاؤں سے نجات پاؤ،

اور تمہیں اتنا ہی حصہ دنیا میں ملے جتنی تمہاری قسمت میں ہے، حالانکہ تم اپنی اس قسمت پر قناعت کر سکتے ہو۔۔ اللہ تعالی نے اپنے برگزیدہ نبی کریم ﷺ سے دنیا داروں کے لیے ارشاد فرمایا:
​
*وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيۡهِ‌ ؕ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى (١٣١)*

ترجمہ: اور آپ حیات ِدنیا کی ان زینتوں اور آرائشوں کی طرف اپنی آنکھیں نہ پھیلائیں جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو (عارضی) نفع اٹھانے کے لئے دے رکھی ہیں کہ اس میں ہم انہیں آزمائیں اور آپ کے رب کریم کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
(سورۃ نمبر 20 طه.
آیت نمبر 131)
(شروح الغیب ترجمہ فتوح الغیب, مقالہ پنجم)

صالحین خواہشاتِ نفس (دنیاوی خواہشات) کی پیروی سے مکمل اجتناب کرتے ہیں کیونکہ یہی خواہشات حسد, بغض, کینہ, غیبت, چغلی, قتل، زنا، جھوٹی گواہی سمیت تمام گناہوں کی بنیاد ہیں۔ حقوق کی ادائیگی سے اور خدمت خلق سے بندے کو غافل یا دور کرتی ہیں۔

المختصر؛
*اللّٰه ﷻ کو رب العالمین جب بندہ مان لیتا ہے، زبان سے اس کا اقرار، دل سے تصديق اور عمل سے اس پر قائم رہتا ہے، شرعی احکامات پر عمل کرتا ہے تو رب کریم اس پر مزید رحم و کرم فرماتا ہے اور اس پر اپنے فرشتے نازل فرماتا ہے، جو اسکی دنیاوی امور میں مدد اور اسکی حفاظت کرتے ہیں، اسکو درست سمت میں رکھنے میں اسکی مدد کرتے ہیں، تو کامیابیاں اسکے قدم چومتی ہیں*۔

*فرشتوں کی مدد ملنے کا اندازہ اس سے لگا لیجئے*:

فرشتے، نماز پڑھکر وہیں بیٹھ کر ذکر کرنے والوں کےلئے، دوسری نماز کا انتظار کرنے والوں کےلئے، دعاء و استغفار اور درود و سلام پڑھنے والوں کےلئے، مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کےلئے دعاء کرنے والوں کےلئے دعائیں کرتے ہیں،
اللّٰه ﷻ کا ذکر کرنے والوں کی محافل میں فرشتے شرکت کرتے ہیں،
اللّٰه ﷻ کی محبت کے سبب محبت رکھنے اور محبت کے سبب ملاقات کےلئے جانے والوں کو مبارکباد دیتے ہیں،
دین اسلام سیکھنے والوں کےلئے پر بچھاتے ہیں یعنی ان پر دنیاوآخرت کےکام آسان کئےجاتے ہیں ،
دعاء "بسم اللہ توکلت علی اللہ ۔۔۔۔۔۔۔"پڑھکر گھر سےنکلنےوالوں کی، بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھکر دروازہ بند کرنےیا کام کی ابتداء کرنےوالوں کی، آیة الکرسی پڑھنے والوں کی حفاظت کرتے ہیں،
اللّٰه ﷻ سے حسن ظن رکھنے والوں کی، مخلصین و متقین کی، نمازی کی، سورة البقرة کی تلاوت، خاص طور پر آخری دو آیات مبارکہ کی تلاوت، سورة الحشر کی آخری 3 آیات مبارکہ اورآخری 3 قل۔۔۔ کی تلاوت کرنے والوں کی، آنے والی نماز کی ادائیگی کےلئے انتظار اور دعاء کرنے والوں کی خصوصی حفاظت کی جاتی ہے۔

کچھ آسان امور مختصر لکھے ہیں، تاکہ ان پر عمل کیا جائے۔ عمل کریں، ان شاء اللّٰه ﷻ چند دن میں برکتیں خود محسوس کر لیں گے۔

*سوال یہ ہے کہ استقامت بیدار کیسے ہوتی ہے ؟*
*اس کےلئے کیا کیا جائے ؟*

استقامت بیشک رب کریم کی رضاء کی علامت اور عطاء و کرم ہے، رب کریم جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے, جس کو جتنا چاہتا ہے عطاء فرماتا ہے۔ جس کو چن لے اس کے دل میں اپنی اور اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ کی محبت ڈال کر اس پر اطاعت و اتباع کو آسان فرما دیتا ہے، اس کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کی خواہشات، افعال اور اقوال شرعی تعلیمات کے تابع ہوتی ہیں اور وہ شخص اللّٰه ﷻ کے نیک بندوں کے قریب آ جاتا ہے, بغض, حسد اور کینہ جیسے امراض سے بچتا ہے۔

اللّٰه ﷻ کی رضاء و قرب کےحصول کےلئے لازم ہے شرعی تعلیمات پر ہر ممکن عمل کیا جائے اور دنیاوی خواہشات کی پیروی سے بچا جائے,
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

خواہشاتِ نفسانی کی نفی سے اللہ تعالیٰ کا فعل تجھ پر جاری ہوگا اور افعالِ الہٰی کے نافذ ہوتے وقت تیرے اعضاء ساکن و غیر متحرک ہوں گے۔ قلب مطمئن ہوگا، سینہ فراخ و کشادہ ہوگا۔ چہرہ روشن و پرنور ہوگا اور تو تعلق باللہ کی روحانی توانائی پاکر کائنات کی تمام چیزوں سے بے نیاز ہوجائے گا‘۔
(فتوح الغیب: 15)

*استقامت کے حصول کےلئے بھی حسن نیت اور کوشش لازم ہے، یعنی اللّٰه ﷻ کی رضاء کے حصول کی کوشش ہمارے پیارے رسول اکرم ﷺکی اطاعت و اتباع کرتے ہوئے کی جائے اور ماحول شرعی ہو تو یہ آسان کر دی جاتی ہے، اللّٰه ﷻ کی رضاء کے حصول کی تڑپ بڑی چیز ہے، صرف ایک حدیث مبارکہ دیکھئے♥*

وعن ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن العبد ليلتمس مرضاة الله فلا يزال بذلك فيقول الله عز و جل لجبريل : إن فلانا عبدي يتلمس أن يرضيني ألا وإن رحمتي عليه فيقول جبريل : رحمة الله على فلان ويقولها حملة العرش ويقولها من حولهم حتى يقولها أهل السماوات السبع ثم تهبط له إلى الأرض . رواه أحمد

حضرت ثوبان (رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا؛
*جو نیک بندہ طاعات کی ادائیگی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو تلاش کرتا ہے اور پھر ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ میری رضا و خوشنودی کی تلاش میں ہے لہٰذ آگاہ رہو اس پر میری رحمت کاملہ ہے*،
چناچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ فلاں شخص پر اللہ ﷻ کی رحمت ہو، یہی بات عرش کو اٹھانے والے فرشتے بھی کہتے ہیں، پھر یہی بات وہ فرشتے کہتے ہیں جو ان سب کے گرد ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس بات کو ساتوں آسمان کے فرشتے کہتے ہیں، چناچہ پھر اس شخص کے لئے زمین پر رحمت نازل فرمائی جاتی ہے۔ (احمد)

تشریح:
اس شخص کے لئے زمین پر رحمت نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو اپنا دوست اور پسندیدہ بناتا ہے اور روئے زمین پر اس کے لئے قبولیت عام کی فضا پیدا فرما دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا والے اس کو عزیز رکھتے ہیں اور ان کے قلوب میں اس کے لئے محبت و پیار اور عظمت و احترام کے پر خلوص جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔
یہ حدیث مفہوم و معنی کے اعتبار سے اس ارشاد گرامی کے مماثل ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا
جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو دوست رکھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو آگاہ فرماتا ہے کہ میں اپنے فلاں بندہ کو دوست رکھتا ہوں تم بھی اسے دوست رکھو چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) اس بندہ کو دوست رکھتے ہیں اور پھر وہ آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فلاں بندہ کو دوست رکھتا ہے لہٰذا تم سب بھی اس کو دوست رکھو، پس آسمان والے اس کو دوست رکھتے ہیں پھر اس بندہ کے لئے روئے زمین پر قبولیت عام کی فضا پیدا کردی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں،
اور جب اللہ تعالیٰ کسی یبندہ کو اپنا دشمن رکھتا ہے اور پھر وہ آسمانوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو دشمن رکھتا ہے لہٰذا تم سب بھی اسے دشمن رکھو پس اسمان والے اس کو دشمن رکھتے ہیں پھر اس کے لئے روئے زمین پر عام دشمنی کی فضا پیدا کردی جاتی ہے (جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے دشمن رکھتے ہیں)
اس ارشاد گرامی کو سامنے رکھئے تو واضح ہوجائے گا کہ اولیاء اللہ کی عام شہرت و قبولیت اور عوام کے قلوب میں ان کے لئے بےپناہ محبت وعقیدت کا واحد سبب یہ ہوتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ ان کو دوست رکھتا ہے اور پھر روئے زمین پر ان کے لئے عام قبولیت و محبت کی فضا پیدا کردیتا ہے جس کے نتیجے میں تمام لوگ ان کو دوست و عزیز رکھتے ہیں۔
ہاں جو لوگ مکر و فریب کے راستوں سے اپنا مال و زر خرچ کرے عوام کے دلوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں وہ اس زمرہ سے خرج ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کا اعتبار نہیں ہے۔
(مشکوٰۃ شریف 2409
کتاب: رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان
باب: اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہنے والے بندہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت)

اللّٰه ﷻ کی رضاء کے حصول کےلئے ہمیشہ کوشش کرتے رہیں اور عطاء پر راضی رہیں, لقمہ حلال کھاؤ، دل کو مسلمان بھائی کے کینہ، بغض، حسد جیسے امراض سے پاک و صاف رکھو، حقوق ادا کرو، توبہ و استغفار سے دل کو، آنکھوں کو غسل دو، درود پاک سے تروتازہ کرو، پھر اللّٰه ﷻ کا جب ذکر کرو گے تو عجب لطف ہوگا۔ ان شاء اللہ بات بن جائے گی۔
اگر یہ مشکل ہو تو مخلصین و متقین کی صحبت اختیار کر لو۔
لقمہ حرام ، بد نگاہی اور بری صحبت سے بچو، کیچڑ میں کھڑے ہو کر پاک و صاف ہونے کا دعوی۔۔۔۔۔۔۔۔ مشکل کام بلکہ دعوی ہی ہے۔
شرعی تعلیمات میں تو اچھی صحبت اختیار کرنے اور بری صحبتب اور بری جگہ دونوں سے دور رہنے کی ترغیب آئی ہے۔
دوستی کا، محفل کا رنگ چڑھتا ہے۔ کامیاب لوگوں کے ساتھ رہنے والا کامیاب ہوجاتا ہے، اس ہی طرح مخلصین، متقین، صالحین کی صحبت میں رہنے والا بھی نامراد نہیں رہتا ہے وہ دنیاو

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 06:00 - 21:00
Tuesday 06:00 - 22:00
Wednesday 06:00 - 14:00
Thursday 16:00 - 19:00
Friday 06:00 - 10:00
Saturday 06:00 - 17:00
Sunday 06:00 - 14:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haqooq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category