27/09/2026
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
*🌹اللّٰه ﷻ کی رضاء کےلئے تحفہ دینے اور قبول کرنے کے کچھ ثمرات🌹*
اللّٰه ﷻ اور اس کے پیارے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے ہمارا تعلق جس قدر مضبوط ہوگا، اتنا ہی ایمان مضبوط اور شرعی احکامات پر عمل آسان ہو جائے گا, جسمانی و روحانی امراض دور ہوں گے اور روحانیت بڑھے گی, ان شاء اللہ۔
امّتی پر لازم ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اپنے پیارے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے سچی محبت کرے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت روح ِ ایمان، جانِ ایمان اور اصل ِ ایمان ہے۔
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق طرز زندگی اختیار کرنا، آپ ﷺ کی پیروی کرناہر مسلمان کے دین و ایمان کا تقاضا اور حکم ِ رب کریم ہے۔ اتباع کرنے والوں کو *يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ* کی بشارت دی گئی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
*قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيم*﴿31﴾
اللہ ﷻ کا ارشاد ہے: (اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ ﷻ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ ﷻ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ ﷻ بخشنے والا مہربان ہے (سورۃ آل عمران،آیت31)
تفسير السعدي — السعدي (١٣٧٦ هـ)
﴿قُلۡ إِن كُنتُمۡ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِی یُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَیَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ﴾ [آل عمران ٣١]
وهذه الآية فيها وجوب محبة الله، وعلاماتها، ونتيجتها، وثمراتها، فقال ﴿قل إن كنتم تحبون الله﴾ أي: ادعيتم هذه المرتبة العالية، والرتبة التي ليس فوقها رتبة فلا يكفي فيها مجرد الدعوى، بل لابد من الصدق فيها، وعلامة الصدق اتباع رسوله ﷺ في جميع أحواله، في أقواله وأفعاله، في أصول الدين وفروعه، في الظاهر والباطن، فمن اتبع الرسول دل على صدق دعواه محبة الله تعالى، وأحبه الله وغفر له ذنبه، ورحمه وسدده في جميع حركاته وسكناته، ومن لم يتبع الرسول فليس محبا لله تعالى، لأن محبته لله توجب له اتباع رسوله، فما لم يوجد ذلك دل على عدمها وأنه كاذب إن ادعاها، مع أنها على تقدير وجودها غير نافعة بدون شرطها، وبهذه الآية يوزن جميع الخلق، فعلى حسب حظهم من اتباع الرسول يكون إيمانهم وحبهم لله، وما نقص من ذلك نقص.
تفسیر السعدی -:
آیت 31
اس آیت میں اللہ ﷻ کی محبت کا وجوب، اس کی علامات، اس کا نتیجہ اور فوائد ذکر کئے گئے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (قل ان کنتم تحبون اللہ) ” کہہ دیجیے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو “ اگر تم اس اونچے مرتبے کا دعویٰ رکھتے ہو، جس سے بلند کوئی مرتبہ نہیں تو اس کے لئے صرف دعویٰ کافی نہیں، بلکہ یہ دعویٰ سچا ہونا چاہیے۔ اس کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہرحال میں ہو، اقوال میں بھی ہو اور افعال میں بھی، عقاید میں بھی ہو اور اعمال میں بھی، ظاہر میں بھی ہو اور باطن میں بھی۔
پس جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرتا ہے، اللہ ﷻ کی محبت اس کے دعویٰ کی تصدیق کرتی ہے، اللہ ﷻ اس سے محبت رکھتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے، اس پر رحمت فرماتا ہے، اسے تمام حرکات و سکنات میں راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔
جس نے رسول ﷺ کی اتباع نہ کی وہ اللہ ﷻ سے محبت رکھنے والا نہیں۔ کیونکہ اللہ ﷻ کی محبت کا تقاضا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع ہے۔ جب اتباع موجود نہیں، تو یہ محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔
اس صورت میں اگر وہ رسول اکرم ﷺ سے محبت رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا دعویٰ جھوٹا ہے اور اگر محبت موجود بھی ہو تو اس کی شرط (اتباع) کے بغیر ایسی محبت بےکار ہے۔
سب لوگوں کو اسی آیت کی ترازو پر تولنا چاہیے۔ جتنی کسی میں اتباع رسول ہوگی، اسی قدر اس میں ایمان اور اللہ کی محبت کا حصہ ہوگا اور جس طرح اتباع میں کمی ہوگی، اسی قدر ایمان اور اللہ ﷻ کی محبت میں نقص ہوگا۔
(تفسیر السعدی) -
تفسیر تبیان القرآن سے مختصر تفسیر؛
ازہری نے کہا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا معنی یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور ان کے احکام پر عمل کیا جائے ‘ اور اللہ تعالی کی بندہ سے محبت کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی مغفرت سے نوازے۔
حضرت سہل بن عبداللہ رحمة اللہ علیہ نے کہا اللہ ﷺ سے محبت کی علامت قرآن سے محبت کرنا ہے،
اور قرآن سے محبت کی علامت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرنا ہے،
اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی علامت سنت سے محبت کرنا ہے،
اور ان سب سے محبت کی علامت آخرت سے محبت کرنا ہے ،
اور آخرت سے محبت کی علامت یہ کہ قدر ضرورت کے علاوہ دنیا سے بغض رکھے۔
(یعنی فکر آخرت ہو تو محبت کامل ہے)
(الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٦١۔ ٦٠ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
اور علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : -
انسان جس چیزانسان جس چیز کو اپنے گمان کے مطابق اچھا گمان کرے اس چیز کے ارادہ کرنے کو محبت کہتے ہیں ‘
اس کی تین صورتیں ہیں۔
١)… انسان لذت کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان عمدہ کھانوں اور حسین عورتوں سے محبت کرتا ہے ‘
٢)… اور کبھی انسان نفع کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان اطباء اور حکماء سے محبت کرتا ہے
٣)… اور کبھی انسان فضل اور کمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان علماء اور اولیاء اللہ ﷻ سے محبت کرتا ہے ‘ بہادروں اور سخیوں سے محبت کرتا ہے ‘
ملک اور قوم کے لئے نمایاں کام کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔ کبھی ایک چیز کو دوسری چیز پر ترجیح دینے کو بھی محبت کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :-
(آیت) ” الذین یستحبون الحیاۃ الدنیا علی الاخرۃ “۔ (ابراھیم : ٣) -
ترجمہ جو لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں(یعنی پسند کرتے ہیں) “۔ -
اللہ تعالی جس بندہ سے محبت کرتا ہے اس کا معنی ہے وہ ان پر انعام واکرام کرتا ہے اور اس کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازتا ہے۔ -
(آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ (آل عمران : ١٣٤) -
اللّٰه ﷻ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (یعنی ان کو ثواب عطا فرماتا ہے۔ ) -
اور جو بندہ اللہ ﷻ سے محبت کرتا ہے اس کا معنی ہے بندہ اللہ ﷻ کے رب کریم ہونے پر راضی اور اس کی رضا کا طالب ہے.
(المفردات ص ‘ ١٠٥ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)-
(تبیان القرآن "مختصر ")
اور حضوراکرم ﷺ کا فرمان ہے؛
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ؛ *لَایُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ*.
رَوَاہُ فِیْ شَرْحِ السُّنَّۃِ قَالَ النَّوَوِی فِیْ ۤ ((اَرْبَعِیْنِہٖ)) ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ رَوَیْنَاہُ فِی ((کِتَابِ الْحُجَّۃِ)) یِا سْنَادِ صَحِیْح۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) راوی ہیں کہ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پورا مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز (دین و شرعیت) کے تابع نہیں ہوتیں جس کو میں (اللہ ﷻ کی جانب سے لایا ہوں۔ (صحیح)
(مشکوٰۃ شریف 164, کتاب: کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان)
*🌹محبت کے بہت رنگ ہیں، ان میں سے ایک تحفہ دینا، اور تحفہ قبول کرنا ہے🌹*
محبت، کے اطہار کا ایک طریقہ تحائف دینا بھی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم تحائف پیش کرتے، آپ ﷺ قبول فرماتے۔
اور بعض اوقات فورا تحفہ بھی دیتے۔
تحفہ، ہدیہ دینا سنت انبیاء علیھم السلام ہے، صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم اور بزرگان دین کا اس پر عمل رہا ہے۔
کیا حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں آپ بھی تحفہ بھیجنا چاہتے ہیں ؟
ہاں, تو درود و سلام باکثرت پڑھیں, ,
ہمارے پیارے رسول اکرم ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے,
کتنی بڑی سعادت ہے کہ ہم گناہگاروں کا ذکر اس بابرکت بارگاہ میں ہو۔
*🌹کچھ احادیث مبارکہ سے ہم کچھ مزید تعلیمات، اصول تحفہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں🌹*
١)…*سیدنا حضرت ابراھیم علیہ السلام کی طرف سے امت مسلمہ کےلئے ایک پیارا سا تحفہ*:
١)… عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَکَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَائِ وَأَنَّهَا قِيعَانٌ وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا،
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ﷺ ! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتادینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے اور اس کی باغبانی :
«سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ۔»
سے ہوتی ہے۔ (حسن)
(سنن الترمذی 3462, کتاب: دعاؤں کا بیان)
بہت پیارا تحفہ، جن کے پڑھنے پر جنت کی بشارت ہے اور اس کے ثمرات بیان سے باہر ہیں. بس قدر کیجئے اور عمل کی کوشش کیجئے۔
٢)… *محبت کا، تحفہ دینے کا عجیب اور ایمان کو تازہ کرنے والا واقعہ*؛
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ کَانَ اسْمُهُ زَاهِرًا وَکَانَ يُهْدِي إِلَی النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم هَدِيَّةً مِنَ الْبَادِيَةِ فَيُجَهِّزُهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم إِنَّ زَاهِرًا بَادِيَتُنَا وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ وَکَانَ صلی الله عليه وسلم يُحِبُّهُ وَکَانَ رَجُلا دَمِيمًا
فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يَوْمًا وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ وَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ لا يُبْصِرُهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا أَرْسِلْنِي فَالْتَفَتَ فَعَرَفَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم فَجَعَلَ لا يَأْلُو مَا أَلْصَقَ ظَهْرَهُ بِصَدْرِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم حِينَ عَرَفَهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم يَقُولُ مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْعَبْدَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِذًا وَاللَّهِ تَجِدُنِي کَاسِدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم لَکِنْ عِنْدَ اللهِ لَسْتَ بِکَاسِدٍ أَوْ قَالَ أَنتَ عِنْدَ اللهِ غَالٍ۔
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں، کہ ایک شخص جنگل کے رہنے والے جن کا نام زاہر بن حرام تھا، وہ جب حاضر خدمت ہوتے جنگل کے ہدایا سبزی ترکاری وغیرہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے،
اور وہ جب مدینہ منورہ سے واپس جانے کا ارادہ کرتے تھے تو حضور اقدس ﷺ شہری سامان خوردو نوش کا ان کو عطا فرماتے ۔
ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زاہر ہمارا جنگل ہے اور ہم اس کے شہر ہیں،
حضور اقدس ﷺ کو ان سے خصوصی تعلق تھا،
زاہر کچھ حسن و جمال میں کچھ کم بھی تھے۔
ایک مرتبہ کسی جگہ کھڑے ہوئے وہ اپنا کوئی سامان فروخت کر رہے تھے کہ حضور اقدس ﷺ تشریف لائے اور پیچھے سے ان کی کو لی (جپھی) اس طرح بھری کی وہ حضور اقدس ﷺ کو دیکھ نہ سکے.
انہوں نے کہا ارے کون ہے مجھے چھوڑ دے لیکن جب کن انکھیوں وغیرہ سے دیکھ کر حضور اقدس ﷺ کو پہچان لیا تو اپنی کمر کو بہت اہتمام سے پیچھے کر کے حضور اقدس ﷺ کے سینہ مبارک سے ملنے لگے (کہ جتنی دیر بھی تلبس رہے ہزاروں نعمتوں اور لذتوں سے بڑھ کر ہے)
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو خریدے ؟
حضرت زاہر نے عرض کی کہ حضور اقدس ﷺ اگر آپ مجھے فروخت فرمادیں تو کھوٹا اور (کچھ) قیمت پائیں گے۔
حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ نہیں اللہ ﷻ کے نزدیک تو تم کھوٹے نہیں ہو یا یہ فرمایا کہ بیش قیمت ہو۔
(شمائل ترمذی 226،
جلد 1 - باب: حضورِ اقدس ﷺ کے مزاح اور دل لگی کے بیان میں)
یعنی بارگاہ مصطفی ﷺ میں جو مقبول ہو، وہ رب کریم کی بارگاہ میں کھوٹا سکہ نہیں ہوتا۔
اس طرح کہ دوں تو بھی درست ہو گا کہ جو رب کریم کی بارگاہ میں قبول ہو، پسندیدہ ہو رب کریم اس کے دل میں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ کی محبت ڈال دیتا ہے اور اس پر اتباع آسان کر دی جاتی ہے۔
٣)… *حضور اکرم ﷺ کا تحفہ قبول کرنا اور عطاء کرنا*؛
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ وَأَجْرٍ زُغْبٍ فَأَعْطَانِي مِلْئَ کَفِّهِ حُلِيًّا وَذَهَبًا
حضرت ربیع بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ (رضی اللہ عنھا) کہتی ہیں کہ میں ایک طباق کھجوروں کا اور کچھ چھوٹی چھوٹی پتلی پتلی ککڑیاں لے کر حاضر خدمت ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے مجھے اپنا دست مبارک بھر کر سونا اور زیور مرحمت فرمایا۔
(شمائل ترمذی 334، جلد 1 - باب: حضور ﷺ کے اخلاق وعادات میں)
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وسلم کَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا۔
حضرت عائشہ (رضی اللہ عنھا) کہتی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس پر بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔
(شمائل ترمذی 335، جلد 1 - باب: حضور ﷺ کے اخلاق وعادات میں)
٤)…*تحفہ جس کو دینا ہو تو یقیننا قیمتی چیز کا دیا جاتا ہے۔ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین تحفہ میں فرمان مصطفی ﷺ دیتے اور درودپاک کا تحفہ دیتے، آج بھی بزرگان دین کا یہی معمول ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ میں ہے*؛
حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَی قَالَ لَقِيَنِي کَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلَا أُهْدِي لَکَ هَدِيَّةً إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْنَا کَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْکَ فَکَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْکَ قَالَ فَقُولُوا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيد
ٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
سیدنا حکم بن عتبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا کہ کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) مجھ سے ملے اور کہا کہ میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟,
(یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں).
نبی کریم ﷺ ہم لوگوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ! یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں، لیکن آپ ﷺ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيد
ٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
اے اللّٰه ﷻ! محمد ( ﷺ ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد ﷺ پر، جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔
اے اللّٰه ﷻ ! محمد ﷺ پر اور آل محمد پر برکت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے۔
(صحیح البخاری, کتاب: دعاؤں کا بیان، باب: نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا بیان۔حدیث نمبر: 6357)
٥)… *نرم دل ایک نعمت ہے اور قرب الٰہی کےلئے لازم ہے، دل کی نرمی استغفار، درود ہاک اور خدمت خلق کے سبب عطاء ہوتی ہے۔ اس کی برکتوں کا اس حدیث مبارکہ سے اندازہ لگالیجئے*۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلَی مَا سِوَاهُ
سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنھا) نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ !
اللّٰه ﷻ رفیق ہے اور رفق (یعنی نرمی) کو پسند کرتا ہے اور نرمی اختیار کرنے کی بناء پر وہ اس قدر عطا فرماتا ہے کہ جو سختی یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے اس قدر عطا نہیں فرماتا۔
(صحیح مسلم 6592، کتاب: صلہ رحمی کا بیان)
وہ چیز یا مال جو کسی کو تعظیم یا اکرام یا محبت کے جذبے کے تحت دیا جائے، ہدیہ، تحفہ، سوغات، نذرانہ، نذر وغیرہ کہلاتا ہے۔
وہ رقم جو قرآن کریم، تفاسیر و علم حدیث کی کتب کی قمیت کے بعوض دی جاتی ہے، قرآن کریم، تفاسیر و علم حدیث یا کسی متبرک چیز کی خریداری کے لیے ادا کی جانے والی رقم، کو احتراماً ہدیہ کہتے ہیں۔
(ایسی کتب کی قیمت لینا، فروخت کرنا ان کی تعظیم کے خلاف ہے)
اللّٰه ﷻ کی رضاء کےلئے تحفہ دیا جائے تو یہ عمل بہت ہی مبارک اور باعث برکت ہے۔
اس میں واہسی کی یا اور مفادات کی نیت رکھنا منع ہے۔
کوئی کم قیمت تحفہ دے تو بھی خوش دلی سے قبول کریں اور اپنی حیثیت کے مطابق دیں۔ بدلے کی، اتارنے کی سوچ درست نہیں ہوتی۔
حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا؛
الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ کَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ۔
اپنے ہبہ کو لوٹانے والا اپنی قے کو لوٹانے والے کی طرح ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب: ہبہ کا بیان
باب: صدقہ کو لوٹا نے کی حرمت کے بیان میں)
اور تحفہ اگر اپنے کسی چھوٹے کو دیاجائے تو اس کے ساتھ اپنی شفقت کا اظہار ہے،
‘اگر کسی دوست کو دیاجائے تو یہ ازدیاد محبت کا سبب ہے،
اور اگر اپنے کسی بزرگ، استاد اور محترم شخصیت کو پیش کیاجائے تو ان کا اکرام ہے اور “نذرانہ، تحفہ ” ہے،
اللّٰه ﷻ کی رضاء اور ثواب کی نیت سے کسی ضرورت مند کو دیا جائے تو یہ ہدیہ نہ ہوگا بلکہ صدقہ ہوگا۔ صدقہ سے بھی مال میں کمی نہیں ہوتی،
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا؛
مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ۔
صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا، اور بندے کے معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے، اور جو آدمی بھی اللہ ﷻ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ ﷻ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔ (یعنی عاجزی میں بلندی اور تکبر میں پستی ہے)
(صحیح مسلم 6582،کتاب: صلہ رحمی کا بیان)
تحفہ، ہدیہ کےلئے لازم ہے کہ وہ رب کریم کی رضاء اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے دیا جائے اور اس کے ذریعے اپنی محبت اور اپنے تعلق خاطر کا اظہار مقصود ہو۔
ہدیہ, تحفہ اگر اخلاص کے ساتھ دیاجائے تو اس کا ثواب صدقہ سے کم نہیں بلکہ بعض اوقات زیادہ ہوگا۔
ہدیہ اور صدقہ کے اس فرق کا نتیجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ شکریہ اور دعاء کے ساتھ قبول فرماتے اور اس کو خود بھی استعمال فرماتے تھے اور صدقہ کو بھی اگرچہ شکریہ کے ساتھ قبول فرماتے اور اس پر دعائیں بھی دیتے لیکن صدقہ خود استعمال نہیں فرماتے تھے جو مستحق ہوتا اس کو عطاء فرماتے۔
اس لئے آل رسول ﷺ کو تحفہ دے سکتے ہیں، صدقہ نہیں۔ اگر صدقہ دیں تو بتا دیں تاکہ وہ مستحق کو پہنچا دے۔
یہ بھی حضور اکرم ﷺ کی محبت کا تقاضا ہے۔
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے کہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا؛
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔
تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہوجائے۔
(صحیح البخاری 15.کتاب: ایمان کا بیان
باب: رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنا بھی ایمان میں داخل ہے)
سید، صحیح العقیدہ (سنی) کو تحفہ دیا کریں، اس پر دو اجر ہیں۔ ایک تو اللّٰه ﷻ کی رضاء کے سبب عمل کا اجر اور دوسرا حضور اکرم ﷺ کی محبت کے سبب محبت و احترام کا۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں لوگ تحائف لاتے آپ قبول فرماتے اور آگے تقسیم فرما دیتے۔
آپ نماز کی پابندی اور باکثرت درود پاک پڑھنے کا حکم فرماتے۔
آج بھی بزرگان دین کا اس پر عمل دیکھتے ہو اور خاص بندوں کی یہی علامت ہے۔
محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ رب کریم کی رضاء کے حصول کےلئے شرعی احکامات پر عمل کیا جائے, ذکر الٰہی سے زبان کو تر رکھا جائے اور آپ ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام باکثرت بھیجا جائے۔
اللّٰه ﷻ اور اس کے پیارے حبیب محمد مصطفی ﷺ سے محبت کرنے والوں سے محبت رکھنا کامل ایمان کی علامت ہے ۔۔
المختصر؛ تحفہ دینے سے رشتے، تعلق مضبوط ہوتے ہیں۔ اس سے مال۔کی محبت کم ہوتی ہے پر مال بڑھتا ہے, برکتیں اور سعادتیں عطاء ہوتی ہیں, اور ساتھ ساتھ خیرخواہی کا، خدمت خلق کے جذبہ کو مزید قوت ملتی ہے اور رب کریم اپنے فضل و کرم سے مزید سعادتیں و برکتیں اور قرب کی نعمت عطاء فرماتا ہے
یا اللّٰه ﷻ یا رب العالمین ہم سبکو ، ہماری نسلوں کو اور تمام امت مسلمہ کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب محمد مصطفی ﷺ کی سچی محبت اور دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق و اسباب عطاء فرما۔ آمین یارب العالمین
واللہ اعلم۔
*ياحَيُّ يا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ لا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ* ۔ اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن
*🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى ُمحَمَّدِ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدُ مَجِيِد🌹*
*🌹اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمّدِ ٌوعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيُد مَّجِيد🌹*
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ