FAREEHA NAQVI | Kia Kehne | Hamein Wirasat Mein Apna Lehja Mila Hua Hai
Hasil-e-Kalam
Discover the rich cultural heritage and beauty of Urdu Poetry.
23/08/2024
عجیب بات یہ ہے کہ بچے اپنے والد سے اپنی شدید محبت کا احساس بہت دیر سے کرتے ہیں۔
احمد خالد توفیق کہتے ہیں:
جب بچے اسکول سے واپس آتے ہیں تو وہ بائیں طرف مڑ کر کچن کی طرف جاتے ہیں اپنی ماں کی تلاش میں، اور وہ دائیں کی طرف میرے دفتر کی طرف نہیں آتے، حالانکہ میرا دفتر کچن سے چند قدم دوریِ پر ہے۔
میں اس "نظرانداز" پر زیادہ غور نہیں کرتا، کبھی کبھی میں ان کی ماں کو کہتے ہوئے سنتا ہوں:
"کیا تم نے اپنے والد کو سلام کیا؟.. جاؤ اور سلام کرو"۔
اس درخواست اور اس کے عمل میں 15 سے 30 منٹ لگتے ہیں، اور میں اس "نظرانداز" پر بھی زیادہ غور نہیں کرتا۔
دنیا مصروف ہے، اور کچن سے میرے کمرے تک کے راستے میں بہت ٹریفک ہوتی ہے، اور ان کو میرے پاس پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔
آخرکار وہ ایک ایک کر کے آتے ہیں اور ٹھنڈے انداز میں سلام کرتے ہیں۔
پچھلے ہفتے، جب میرا بڑا بیٹا اسکول سے واپس آیا، میں حادثاتی طور پر اپنے دفتر سے باہر نکلا اور اسے کچن میں کھڑا دیکھا، وہ "ماں" کو کچھ دے رہا تھا، اور جب اس نے مجھے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے چھپا لیا۔ میں نے بغیر دھیان دیے اپنا راستہ جاری رکھا۔
واپسی پر میں نے اسے پکڑ لیا جب وہ اس کی ماں کو ایک عمدہ چاکلیٹ کا ٹکڑا دے رہا تھا جو اس نے اپنے جیب خرچ سے خریدا تھا، اور جب اس نے مجھے دیکھا تو شرمندہ ہو گیا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ اس موقع کو کیسے سنبھالے!!
پھر چند لمحوں بعد اس نے اپنی جینز کی جیب سے ایک "کرمل" کا ٹکڑا نکالنے کی کوشش کی جو جیب کے نیچے چپکی ہوئی تھی، بمشکل اس نے اسے نکالا اور اس پر کچھ ٹشو پیپر کے ٹکڑے لگے ہوئے تھے، اور وہ مجھے دینے کی کوشش کر رہا تھا، میں نے اس کا شکریہ ادا کیا!!
میں اس "امتیازی سلوک" پر زیادہ غور نہیں کرتا، صحیح ہے کہ اس نے اپنی ماں کے لئے جو چاکلیٹ خریدا تھا وہ بہت مزیدار تھی، لیکن مجھے ان کے اپنی ماں کی طرف زیادہ جھکاؤ سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی، ہم بھی ان جیسے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ تھے!!
باپ کی محنت، سفر، تکلیف اور شفقت کے باوجود، جھکاؤ ہمیشہ ماں کی طرف ہوتا ہے، یہ ایک فطری بات ہے جس پر ہم کنٹرول نہیں کرسکتے!
عجیب بات یہ ہے کہ بچے اپنے والد سے اپنی شدید محبت کا احساس بہت دیر سے کرتے ہیں، جب والد بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں یا والد کے دنیا سے چلے جانے کے بعد...!
اور یہ محبت والد کے وقت کے حساب سے بہت دیر سے آتی ہے۔
میں نے تو بچپن میں ہی اپنے والد کو کھو دیا تھا اور تب سے اب تک جب بھی میں کسی فیصلے میں بھٹک جاتا ہوں، دنیا کی ٹھوکریں پڑتی ہیں یا زندگی میں مشکلات کا سامنا کرتا ہوں، یا کسی معاملے میں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں،
میں آہ بھرتا ہوں اور کہتا ہوں: "ابا، آپ کہاں ہیں؟"
جن کے والدین حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے اور جن کے والد اس دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے آمین 🤲🏻
کاپیڈ
14/08/2024
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
(احمد ندیم قاسمی )
14/08/2024
وہ شے جو ایک نئے دور کی بشارت ہے
ترے لہو کی تڑپتی ہوئی حرارت ہے
نظامِ کہنہ کے سائے میں عافیت سے نہ بیٹھ
نظامِ کہنہ تو گرتی ہوئی عمارت ہے
وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں
یہ تیرے جسم، تری روح سے عبارت ہے
مجید امجد
بھولوں پر پھر بھولیں کرنا، بھول نہیں ہوشیاری ہے
روز کسی پر دل آجانا عشق نہیں بیماری ہے
اس دنیا نے میرا سب کچھ تم سے جوڑ کہ دیکھا ہے
شعربھی وہ مقبول ہوئے ہیں جن میں بات تمہاری ہے
AZM SHAKIRI | MUSHAIRA | SUBAH TAK CHAHATON KE DIYE |
صبح تک چاہتوں کے دئیے آندھیوں میں جلائے گا کون
داستاں ختم ہونے کو ہے اب محبت نبھائے گا کون
عزم شاکری
Zubair Ali Tabish | Hyderabad Mushaira
آئینہ کب بناو گی مجھ کو
مجھ سے کس دن ملاو گی مجھ کو
اپنا کنگن سمجھ رہی ہو کیا
اور کتنا گھماوگی مجھ کو
بعد میں امتحاں بھی دے دوں گا
پہلے بولو پڑھاو گی مجھ کو
میں ذرا بھی سرکنے والا نہیں
اپنا آنچل بناو گی مجھ کو
حقیقت دیدہ تر کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے
سمندرمیں سمندر کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے
اب اگلی بار آنا تو بدن کو چھوڑ کر آنا
میرے کمرے میں بستر کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے
عشق کا ڈھونگ سب رچاتے ہیں
عشق میں مبتلا نہیں ہے کوئی
جھکتی پلکوں کے احتیاط سمجھ
خاموشی کر رہی ہے بات سمجھ
اک نظر تجھ کو دیکھنا ہے جسے
اس کی آنکھوں کی مشکلات سمجھ
یہ قربتوں کا جو سر پر وبال رکھا ہے
فتورِ عشق ہے اور ہم نے پال رکھا ہے
یہ دور وہ ہے کہ دل میں کوئی رکھے نہ رکھے
نظر میں سب نے مجھے بہرحال رکھا ہے
عائشہ ایوب، لکھنو، انڈیا
میاں وہ دن گئے اب یہ حماقت کون کرتا ہے
وہ کیا کہتے ہیں اسکو، ہاں “محبت” کون کرتا ہے
کوئی غم سے پریشاں ہے کوئی جنت کا طالب ہے
غرض سجدے کراتی ہے عبادت کون کرتا ہے
اپنے معیار سے نیچے تو میں آنے سے رہا
شیر بھوکا ہو مگر گھاس تو کھانے سے رہا
کر سکو تو میری چاہت کا یقین کر لینا
اب تمہیں چیر کے میں دل تو دکھانے سے رہا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Karachi
75760
28/07/2024
27/07/2024