القرآن
سورۃ المؤمن آیت 25
فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوا اقۡتُلُوۡٓا اَبۡنَآءَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ٢٥
پھر جب وہ لوگوں کے پاس وہ حق بات لے کر گئے جو ہماری طرف سے آئی تھی تو اِنہوں نے کہا کہ: جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں، اُن کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو، اور اُن کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ حالانکہ کافروں کی چال کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں۔٢٥
یعنی جب وہ سچے دین کا پیغام عام لوگوں کے پاس لے کر گئے، اور بہت سے لوگ اُن پر ایمان لانے لگے تو فرعون کے لوگوں نے یہ تجویز دی کہ جو مرد ایمان لائیں، اُن کے بیٹوں کو قتل کر دو، اور عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ اُنہیں غلام بنا کر اُن سے خدمت لی جائے۔ یہ حکم ایک تو موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا، جس کی تفصیل سورۂ طٰهٰ اور سورۂ قصص میں گزر چکی ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نجومی نے پیشن گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص فرعون کا تختہ اُلٹے گا۔ اور دوسری بار یہ حکم اُس وقت دیا گیا جب لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے لگے۔ اور بیٹوں کو قتل کرنے کا منشاء ایک تو یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی نسل نہ پھیلے، اور دوسرے عام طور سے انسان کو اپنی بیٹوں کے قتل ہونے کا زیادہ صدمہ ہوتا ہے، اس لئے لوگ ایمان لاتے ہوئے ڈریں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگے ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں کی اس طرح کی تدبیریں آخر کار ناکام ہوتی ہیں،اور اللّٰہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہوتا ہے، وہی غالب رہتا ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آخر کار فرعون غرق ہوا، اور بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہوئی۔
(آسان ترجمۂ قرآن)
Online Quran Academy
Online Quran Academy
الٹا کھینچا
جانور کو ذبح کرنے کی جگہ تک لے جاتے ہوئے پیچھے کی ٹانگوں سے پکڑ کر آگے کی طرف کھینچنا مکروہ تحریمی ہے۔
اللّٰه اكبر کہہ کر ذبح کرنا
صرف اللّٰہ اکبر کہہ کر جانور ذبح کرنے سے جانور حلال ہوگا اور گوشت کھانا جائز ہوگا البتہ سنت کے خلاف ہے، مکروہ ہے، اس لئے بسم الله الله اكبر كہہ کر جانور کو ذبح کرے۔
امانت کی رقم
امانت کی رقم سے اجازت کے بغیر قربانی کا جانور خرید کر قربانی کرنا جائز نہیں، ہاں اگر رقم کے مالک سے اجازت مل جائے تو اس سے جانور خرید کر قربانی کرنا جائز ہوگا، اور قربانی کرنے والے پر لازم ہوگا کہ رقم مالک کو واپس کردے۔
(قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا)
افضل جانور
اگر فقراء، نادار اور ضرورت مند لوگ زیادہ ہوں تو زیادہ گوشت والا جانور افضل ہے اور اگر ضرورت مند لوگ کم ہوں تو پھر جس جانور کی قیمت زیادہ اور گوشت عمدہ ہو وہ افضل ہے۔
بہت زیادہ فربہ اور موٹے تازے جانور کی قربانی مستحب ہے، چنانچہ ایک فربہ موٹے تازے بکرے کی قربانی دو کمزور دبلے بکروں کی قربانی سے افضل ہے، بشرطیکہ گوشت خراب نہ ہو۔
اگر بڑے جانور گائے وغیرہ کے ساتویں حصہ کی قیمت اور بکری کی قیمت برابر اور گوشت بھی برابر ہے تو بکری خریدنا افضل ہے۔
بکری سے بھیڑ افضل ہے۔
جس قربانی کی قیمت زیادہ ہو وہ بہتر ہے، اور اگر دو جانوروں کی قیمت برابر ہو لیکن ایک کا گوشت زیادہ ہے تو وہی بہتر اور افضل ہے۔
(قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا)
القرآن
سورۃ المؤمن آیت 23٫24
وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰيٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ٢٣
اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوۡنَ فَقَالُوۡا سٰحِرٌ كَذَّابٌ ٢٤
اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور بڑی واضح دلیل دے کر فرعون، ہامان، اور قارون کے پاس بھیجا تھا، تو انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹا جادوگر ہے۔(٢٣و٣٤)
(آسان ترجمۂ قرآن)
مسئلہ: جو جانور اندھا ہو یا کانا ہو، یا اس کی ایک آنکھ کی تہائی روشنی(بینائی) یا اس سے زیادہ چلی گئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔
مسئلہ: ادھار خریدیں ہوئے جانور سے قربانی کرنا جائز ہے کیونکہ خریدنے والا اس کا مالک ہے۔
(قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا)
القرآن
سورۃ المؤمن آیت 22
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوۡا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ٢٢
یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے پیغمبر کھلی کھلی دلیلیں لے کر آتے تھے، تو یہ انکار کرتے تھے، اس لئے اللّٰہ نے انہیں پکڑ لیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا، سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔
(آسان ترجمۂ قرآن)
القرآن
سورۃ المؤمن آیت 21
اَوَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ كَانُوۡا هُمۡ اَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ٢١
اور کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے، اُن کا کیسا انجام ہوچکا ہے۔ وہ طاقت میں بھی ان سے زیادہ مضبوط تھے، اور زمین میں چھوڑی ہوئی یادگاروں کے اعتبار سے بھی۔ پھر اللّٰہ نے اُن کے گناہوں کی وجہ سے اُنہیں پکڑ میں لے لیا، اور کوئی نہیں تھا جو اُنہیں اللّٰہ سے بچائے۔
(آسان ترجمۂ قرآن)
القرآن
سورۃ المؤمن آیت 20
وَاللّٰهُ يَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ لَا يَقۡضُوۡنَ بِشَیۡءٍ اِنَّ اللّٰهَ هُوَالسَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ٢٠
اور اللّٰہ برحق فیصلے کرتا ہے، اور اُسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں) کو یہ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ یقیناً اللّٰہ ہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ دیکھتا ہے۔
(آسان ترجمۂ قرآن)
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص کسی کی زمین کے ایک بالشت کے برابر بھی حصہ پر زبردستی قبضہ کرے گا تو قیامت کے دن سات زمینوں کے برابر کی طوق پہنائی جائے گی۔(حدیث)
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ دین(اسلام) حجاز(مکہ اور مدینہ اور اس کے متعلقات) کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح کہ سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے اور دین حجاز میں اس طرح جڑ پکڑ لے گا جیسے پہاڑی بکری پہاڑ کی چوٹی پر رہنے لگتی ہے اور دین کسمپرسی کی حالت میں دنیا میں آیا اور آخر میں بھی یہی حالت ہوجائے گی۔ پس خوشخبری ہو غریبوں کو وہی اس چیز (یعنی میری سنت) کو درست کردیں گے جس کو میرے بعد لوگوں نے خراب کردیا ہوگا۔(ترمذی)
مطلب یہ ہے کہ اسلام دنیا میں کسمپرسی کی حالت میں آیا۔ اس معنی کو کہ اسلام کے ماننے والے غریب قسم کے لوگ اور کم تعداد میں تھے جس کی وجہ سے انہیں اپنے وطن کو چھوڑ کر دیگر ملکوں اور شہروں کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ اسی طرح آخر میں بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔ اسلام غریبوں ہی کی طرف لوٹ کر آئے گا اور قیامت کے قریب اس پر عمل کرنے والے اور ماننے والے بہت کم تعداد میں ہوں گے تو گویا اسلام کسمپرسی میں مبتلا ہو جائے گا۔ اس لیے ان غریبوں اور کم تعداد مسلمانوں کے لیے جن کے قلوب ایمان و اسلام کی روشنی سے منور ہوں گے خوش قسمتی اور سعادت ہے اس لیے کہ آخر زمانے میں بھی بے چارے اسلام پر ثابت قدم رہیں گے اور کتاب اللّٰہ و سنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسوۂ حسنہ سے اپنی زندگی کو سنواریں گے۔
(حیات الحیوان اردو جلد اول)
القرآن
سورۃ المؤمن آیت 19
يَعۡلَمُ خَآںِٕنَةَ الۡاَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ١٩
اللّٰہ آنکھوں کی چوری کو بھی جانتا ہے، اور اُن باتوں کو بھی جن کو سینوں نے چھپا رکھا ہے۔
(آسان ترجمۂ قرآن)
Click here to claim your Sponsored Listing.