قرآن و عترت پبليڪيشنز

قرآن و عترت پبليڪيشنز

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from قرآن و عترت پبليڪيشنز, karachi, Karachi.

15/11/2024

آیت اللہ کربلائی سید احمد نجفی قدّس سرّہ کے کلام سے:

ان القابات میں سے جن سے حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو پہچانا جاتا ہے، ایک لقب "صاحب الزمان" ہے۔ زمانہ ایک حقیقت ہے، اور اس کا مالک یہ نورانی وجود ہے، جو ہر فکر، نظر اور عقل سے غائب ہے۔ اگر یہ غیبت نہ ہوتی تو معاملہ ختم ہو چکا ہوتا اور راستہ اپنی آخری منزل تک پہنچ چکا ہوتا۔ لیکن اس غیبت میں، حق کی طرف سے ان کو لامحدودیت عطا کی گئی ہے۔

چنانچہ ان کی غیبت ضروری ہے اور یہ حقائق کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے۔ اگر حقیقت کے متلاشی اپنے تخیل، گمان اور خیال میں اس حقیقت تک پہنچ جائے، تو یہ امر اپنی انتہا تک پہنچ جائے گا۔ تاہم، اس جستجو کے لیے حدود مقرر کرنا اس میں نقص پیدا کرتا ہے، کیونکہ یہ لا محدود ہے اور اس کی حد کو سوائے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔

(رائحة الوصال، ص 108)

15/11/2024

میر انیس

وقت مصیبت

عجب وقتِ مصیبت یا علی ہے
درودیوار میں بنتِ نبی ہے
وصیت کی نبی نے فاطمہ کی
اُسی پر اب قیامت کی گھڑی ہے
رکھے پہلو پہ اپنے ہاتھ زہرا
ملاعیں کے مقابل آکھڑی ہے
خدایا اُس کے محسن کو بچانا
نبی کے بعد یہ منزل کڑی ہے
درود ہوں اے شہیدِ بطن مادر
تری ماں پر مصیبت کیا پڑی ہے
رَسن ہیں گردنِ حیدر میں لوگو
ذرا دیکھو نبی کا یہ وصی ہے
جلا مت فاطمہ کے دَر کو ظالم
تِری اِس دَر پہ یہ جرأت بڑی ہے
یہ وہ دَر ہے پیمبرآئے جب بھی
یہاں کئی مرتبہ آیت پڑی ہے
دُعائیں مانگتی ہے موت کی خود
عجب وقتِ مصیبت یا علی ہے

26/10/2024
15/10/2024

حق و سچ کا معیار علماء ہی کو بنالیں، مگر ذرا دھیان سے۔۔
درج ذیل آیت و روایت کو ملاحظہ فرمائیں:
لیکن اس پوسٹ کو ذاکروں کے حق میں اپنی ذمہ داری پر سمجھ سکتے ہیں۔
تفسير القمي، ج‏1، ص: 289۔ أَبِي الْجَارُودِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع فِي قَوْلِهِ اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ- وَ رُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللَّهِ- وَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ أَمَّا الْمَسِيحُ فَعَصَوْهُ وَ عَظَّمُوهُ فِي أَنْفُسِهِمْ- حَتَّى زَعَمُوا أَنَّهُ إِلَهٌ وَ أَنَّهُ ابْنُ اللَّهِ- وَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَالُوا ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ- وَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ قَالُوا هُوَ اللَّهُ- وَ أَمَّا أَحْبَارُهُمْ وَ رُهْبَانُهُمْ- فَإِنَّهُمْ أَطَاعُوهُمْ وَ أَخَذُوا بِقَوْلِهِمْ- وَ اتَّبَعُوا مَا أَمَرُوهُمْ بِهِ- وَ دَانُوا بِهِمْ بِمَا دَعَوْهُمْ إِلَيْهِ- فَاتَّخَذُوهُمْ أَرْبَاباً بِطَاعَتِهِمْ لَهُمْ- وَ تَرْكِهِمْ مَا أَمَرَ اللَّهُ وَ كُتُبُهُ وَ رُسُلُهُ فَنَبَذُوهُ وَراءَ ظُهُورِهِمْ وَ مَا أَمَرَهُمْ بِهِ الْأَحْبَارُ وَ الرُّهْبَانُ- اتَّبَعُوهُ وَ أَطَاعُوهُمْ وَ عَصَوُا اللَّهَ- وَ إِنَّمَا ذَكَرَ هَذَا فِي كِتَابِنَا لِكَيْ نَتَّعِظَ بِهِمْ- فَعَيَّرَ اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَنَعُوا .
یعنی: ’’ابو الجارود نے امام باقر (علیہ السلام) سے روایت کی کہ آپؑ نے ارشادِ باری: اِتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ۔ (التوبہ: 31)، کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:حضرت مسیحؑ کی انہوں نے نافرمانی کی اور اسے اپنی طرف سے بڑا بنایا، حتیٰ کہ اسے اللہ اور اللہ کا بیٹا سمجھنے لگے، اور ان میں سے کچھ نے کہا کہ وہ تین میں سے تیسرا ہے اور کچھ نے کہا کہ وہ اللہ ہے۔ اور اپنے علماء اور راہبوں کی اطاعت کرتے ہوئے ان کے احکام کو مانا اور ان کی پیروی کی۔ اس طرح انہوں نے انہیں رب بنا لیا اور اللہ اور اس کی کتابوں اور رسولوںؑ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا۔ باقی جو کچھ علماء اور راہبوں نے انہیں حکم دیا، اس کی پیروی کی اور اللہ کی نافرمانی کی۔ اللہ نے اس کو ہمارے کتاب میں ذکر کیا؛ تاکہ ہم ان سے نصیحت حاصل کریں۔ اللہ نے بنی اسرائیل کی ان کے اعمال پر مذمت کی۔

14/10/2024

کتاب ’’رجال الكاشي‘‘ میں مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا:لَوْ عُرِضَ إِيمَانُ سَلْمَانَ عَلَى عَمَّارٍ لَقَتَلَكَ أَوْ هَلَكَ۔
یعنی: ’’اگر سلمانؓ کا ایمان عمارؓ پر ظاہر کیا جاتا تو اس نے تمہیں قتل کر دیا ہوتا یا وہ خود ہلاک ہو جاتا۔
اس روایت کی صحت کے بارے میں مختلف آراء ہو سکتی ہیں، لیکن قتل کرنے اور ہلاک ہونے کے کیا معنی ہیں؟
[ایک تحقیقی مقالہ ۴ صفحات پر مشتمل ہے، اس سوال کے جواب میں، ہم نے صرف اس کو عربی سے اردو میں منتقل کیا ہے، جس دوست کو چاہیئے وہ مسینجر پر رابطہ کر لے]

12/09/2024

عقل کی مجبوریاں 2 ۔

بچہ جب پہلی بار اسکول جاتا ہے تو اس کی کتاب میں الف کے ساتھ بڑا سا آم چھپا ہوتا ہے۔
اگر انگریزی کی کتاب ہے تو اس میں سیب کی تصویر ہوتی ہے، 30/35 پیج کی کتاب کا پورا مواد اگر آپ کسی صفحے پر تحریر کریں تو شاید پانچ لائنوں میں مکمل ہو جائے۔۔۔
جیسے جیسے بچے کی کلاس آگے بڑھتی ہے، تحریر کی موٹائی کم ہوتی جاتی ہے؟
جب بڑا ہو جاتا ہے تو اس کی کتاب میں مواد بہت زیادہ شامل کیا جاتا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو ہمارے بڑے ہونے کے بعد بھی اگر ہم کوئی ایسا کورس کرنا چاہیں جو ہمیں اسکول میں نہیں پڑھایا گیا ہے تو اس سبجیکٹ کی پہلی اور بیسک لیول کے کورس کی کتاب میں مواد کم ہی شامل کیا جاتا ہے۔
پھر اگلے مرحلے کی کتاب میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے جب ہم ایڈوانس لیول پر پہنچتے ہیں تو کتاب موٹی ہو جاتی ہے؟
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
بچپن میں تو سمجھ آتا ہے، لیکن بڑی عمر میں بھی بیسک لیول کی کتاب میں کم مواد کیوں رکھا جاتا ہے ؟
ہم سب جانتے ہیں کہ ابتداء دور میں انسانوں نے نابغہ، ذہنی قدرت رکھنے والے انسانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا🥺۔
کسی کو زہر کا پیالہ پلایا تو کسی سے توبہ کروائی، کسی کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا، طرح طرح کی اذیتیں دیں، قتل کیا، ان کو پاگل قرار دیا، ان کی تحقیر کی و ۔۔۔ و۔۔۔۔ و ۔۔۔۔ تاریخ بھری پڑی ہے ایسے دل خراش واقعات سے۔۔۔
ان نابغہ انسانوں کے مرنے کے کئی صدیاں بعد انہیں کی نظریات کو انہی انسانوں نے بطور حقیقت تسلیم کیا، اپنے بڑوں کے جبر کو مسترد کردیا؟
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
کیا گزشتہ انسانوں میں عقل نہیں تھی ؟
تو پھر انہیں کے ہی زمانے میں ایسے نابغہ انسان کس طرح پیدا ہوئے ؟
تو اس کا جواب یہی ہے کہ عقلِ انسانی موجود معلومات میں ہی تصرف کر سکتی ہے، پہلے سے غیر موجود جدید معلومات سے نفس وحشت زدہ ہوتا ہے، اس کو عقل تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔۔۔
کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ہم اپنے آپ سے بہت کچھ چھپاتے ہیں؟!
شاید آپ یقین نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے۔
ہم اپنے آپ سے باتیں چھپاتے ہیں، ہم جھوٹ صرف غیروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے بھی بولتے ہیں😕۔
عقلی مشق میں ہم بالکل اس بچے کی مانند ہوتے ہیں جو پہلی بار اسکول جاتا ہے۔۔۔ یعنی حرف حرف کرکے سیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
عقلی شعور میں ہم آج تک اجتماعی شعور کو ترجیح دیتے ہیں فردی شعور کو پسند ہی نہیں کرتے یعنی اگر پورا انسانی معاشرہ یا اکثریت کسی بات کو قبول کریں تو اسی مدعا کو فخریہ قبول کرنے کا رواج ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے، ان شاءاللہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط میں ان شاءاللہ عقلی ارتقاء کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

09/09/2024

تکفیریوں کی پیروی کون کر رہا ہے؟
رسول اللہ ص نے فرمایا: لَوِ اِجْتَمَعَ اَلنَّاسُ عَلَى حُبِّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمَا خَلَقَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ اَلنَّارَ۔۔۔۔
یعنی اگر لوگ حضرت علی علیہ السلام کی محبت پر جمع ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ آگ کو پیدا نہیں کرتا۔۔۔
اگر کسی کو حسب معمول حدیث کی سند پر شک ہو تو بے شمار مستند روایات اسی مضمون کی موجود ہیں، مثلاً:
صحابہ رض کا مولی علی علیہ السلام کے بغض کو نفاق کی نشانی قرار دینا، لا یحبک الا مومن و لا یبغضک الا منافق، یعنی مولی علی علیہ السلام کو مخاطب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کا ارشاد فرمانا کہ: یا علی ع تم سے محبت مومن کرے گا، بغض منافق رکھے گا۔۔۔۔
اس بناء پر ہم:
اس نتیجے کا اعلان کرتے ہیں کہ:
جو مسلمان مولی علی علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں وہ اہل اجماع ہیں۔۔۔۔
نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جس اجماع کی اسلام میں اگر کوئی اہمیت ہے تو یہ وہ اجماع ہے جو مولی علی علیہ السلام کی محبت و اطاعت کے بارے میں ہو، اس اجماع کے علاوہ دیگر اجتماعات تفرقہ و شرپسندی کہلائیں گے۔۔۔
اب آتے ہیں اپنے عنوان کی طرف:
تکفیری جن تاویلات کا سہارا لے کر مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، ان کو اہل علم دیکھ کر حیران بھی ہوتے اور ہنستے بھی ہیں کہ کیا کوئی ایسی دلائل کی بناء پر اسلام سے خارج ہوسکتا ہے؟
لیکن تکفیری ایسے بیہودہ دلائل کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں، بالکل ویسے ہی آج کل بعض اہل اجماع سے تعلق رکھنے والے افراد تکفیریوں کی روش پر چل پڑے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی حرمت کی پامالیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں، وجہ مشترک ہے اور وہ بغض و عناد۔۔۔
جی بغض انسان کی بصیرت کو کھاجاتا ہے۔۔
قم کے ایک مشہور استاد کا قول مشہور تھا کہ:
میری غیبت مولویوں کے علاوہ سب کو معاف ہے؛ کیونکہ مولوی پہلے میری غیبت کو جائز قرار دیتے ہیں (یعنی مجھے اسلام سے خارج کرتے ہیں) پھر غیبت کرتے ہیں۔۔۔

09/09/2024

آیت اللہ سید احمد نجفی قدس سرہ کے کلام سے ماخوذ:
حضرت محمد و آل محمد علیہم السلام کی محبت کے خیال میں خوشی اور ان کے عشق کے خیال میں زندگی گزارنا، دنیا کی سب سے بڑی خوش گوار کیفیات سے بھی بلند ہے۔

📗 مشکاة النور، صفحہ 524

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Karachi
Karachi
75270