01/04/2020
انتقال پرٗ ملال
یہ کوئی سن 1999 کا عرصہ تھا حسب عادت میں اسکول وقت مقرر سے کافی جلدی پہنچ گیا تھا، وہیں ریسپشن کے پاس ایک صاحب نظر آئے، حیرانگی ہوئی کہ يہ کون ہیں جو اتنی جلدی آگئے، گمان ہوا کہ کسی کی والدین میں سے ہونگے پھر یہ خیال آیا کہ بچہ پاس کیوں نہیں ہے? مخلتف خیالات آئے اور لاحاصل جوابات کے بعد چھوڑ کر روم مین آگیا ۔۔
بریک ہوا تو ہمیں پتا لگا کہ یہ سر جناب عتیق احمد خان صاحب ہیں، نئے پی ٹی سر ہیں، آرمی سے ریٹائیرڈ ہیں،
بظاہر دور سے بہت غصے والے لگے!
وہ دن گزر گیا اور دوسرے دن صبح ملاقات ہوئی تو اپنے اوپر غصہ آیا کہ یہ تو بہت ہی نرم، شفیق اور بچوں کا بے حد خیال رکھنے والے ہیں ۔
ہائے وقت گزرتا گیا اور ہمیں پتا ہی نہیں لگا کہ اسکول سے رخت سفر ہوچکا ہے!
بہت ہی کم وقت میں سر سے بے حد الفت و مانوسیت ہوگئی ۔ میرا حافظہ یہ کہتا ہے کے سر نے کبھی چٹھی نہیں کی، وقت کے پابند، اور ان لوگوں میں شامل تھے جو سب بچوں کو گھر بھیجنے کے. بعد جاتے ۔
بریک ہو یا کرکٹ میچ، اسکول ڈے ہو یا سائنس ڈے ۔۔ہر موقع میں ہمیں بہت انجوائے اور ہر کام میں سرہاتے اور حوصلہ بڑھاتے!
الفاظات کی کمی ہے مجھ میں! وہ ساتھ گزرے ہوئے وقت کا نقشہ عکس کرسکا ۔۔
اور گزشتہ روز سر عتیق احمد خان صاحب اس فانی سے کوچ کرگئے!
سچ ہر نفس موت کا مزا چکھنا ہے (القرآن)
آئیں اپنے استادوں سے ان کے اس دنیا سے جانے سے پہلے ایک ملاقات ضرور کرلیں اور اپنے ہر اچھے دنوں میں انکو یاد رکھیں! کچھ تحائف کے ساتھ!
التماس دعا
دانش حسین
06/07/2016
07/06/2016
31/05/2016
31/05/2016
29/05/2016
29/05/2016
26/05/2016