ا ایک طالب علم تھا. بچپن میں سکول کلاس روم میں استاد نے اس سے پوچھا " ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں" طالب علم نے سکون سے کہا چار گردے. استاد کا قہقہہ نکل گیا. کلاس روم سے کہا دیکھو ہمارے درمیان ایک گدھا بھی موجود ہے. اگے بیٹھے ایک طالب علم سے کہا جاو گھاس لے کر آو. آج گدھے کو گھاس کھلاتے ہیں.بچہ جب باہر نکلنے لگا تو طالب علم نے اسے کہا دیکھو گدھے کیلئے گھاس لاتے میرے لئے کافی کا کپ لیتے آنا. استاد یکدم غصے سے بھڑک گیا. کہا نکلو میری کلاس سے ایک تو گردوں کا پتہ نہیں دوسرا مجھے ہی گدھا کہہ رہے ہو. کلاس سے نکلتے نکلتے طالب علم نے کہا سر آپ نے پوچھا تھا ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں. تو ہم دونوں کے ملا کر چار ہی گردے بنتے ہیں. اگر آپ کو میرا جواب سمجھ نہیں آیا تو پلیز اپنے سوال کو ضرور چیک کر لیں.ایک چیز علم یعنی knowledge ہوتی ہے. ایک سمجھ یعنی understanding ہوتی ہے. ہم میں اکثریت کا مسئلہ علم نہیں یہی understanding ہے. یہی سمجھ کبھی ہم سے بلاوجہ قہقہے لگواتی ہے. کبھی یکدم آپے سے باہر کروا دیتی ہے. کیوں...؟ اس کیوں پر ہم کیونکہ سوچتے کم ہیں. اور یہی کیوں انسان کی understanding بناتی ہے
Quran and Islamic Education
We are arrange and teach the islamic education for all the muslims in world. if you are interested than contact us via [email protected].
We full fill your requirements.
10/09/2024
حضرت سعید بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص وضو کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھے اس کا وضو نہیں ۔‘‘ ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
مشکوٰة المصابیح #402
پاکیزگی کا بیان
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
القرآن - سورۃ نمبر 43 الزخرف
آیت نمبر 26-32
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖۤ اِنَّنِىۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَۙ ۞ اِلَّا الَّذِىۡ فَطَرَنِىۡ فَاِنَّهٗ سَيَهۡدِيۡنِ ۞ وَجَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِىۡ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ۞ بَلۡ مَتَّعۡتُ هٰٓؤُلَاۤءِ وَاٰبَآءَهُمۡ حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡحَقُّ وَرَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ ۞ وَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا هٰذَا سِحۡرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ۞ وَقَالُوۡا لَوۡلَا نُزِّلَ هٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ ۞ اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَـتَّخِذَ بَعۡضُهُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِيًّا ؕ وَرَحۡمَتُ رَبِّكَ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں ۞ ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا رستہ دکھائے گا ۞ اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع کریں ۞ بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آ پہنچا ۞ اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے ۞ اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکّے اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟ ۞ کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے ۞
*دنیا کا سب سے زیادہ خوشحال آدمی بننا چاہتے ہیں تو اس تحریر کو آخر تک ضرور پڑھیں اور ان باتوں پر عمل کریں*
*1-* اپنے دن کی شروعات نماز فجر اور صبح کے اذکار سے کیجئے تاکہ آپ فلاح و کامرانی سے سرفراز ہو سکیں۔
*2-* برابر استغفار کرتے رہیں تاکہ شیطان آپ سے مکمل مایوس ہو جائے۔
*3-* دعا کرنا کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ یہی نجات رات کا راستہ ہے۔
*4-* یاد رکھئے آپ کی زبان سے نکلنے والے ہر ہر لفظ کو فرشتے لکھ رہے ہیں۔
*5-* ہمیشہ اچھی امید رکھیں اگرچہ آپ کتنے ہی مشکل حالات سے دوچار ہوں۔
*6-* انگلیوں کی خوبصورتی اس کے ذریعے تسبیح کرنے میں ہے۔
*7-* جب غموں کا ہجوم ہو اور مشکلات کی آمد ہو تو لا الہ الا اللہ پڑھیں ۔
*8-* غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کرکے ان سے دعائیں اور محبتیں حاصل کریں۔
*9-* کچھ بولنے سے پہلے سوچیں کیونکہ الفاظ بھی قاتل ہوتے ہیں۔
*10-* مظلوم کی بددعا اور محروم کے آنسو سے بچو۔
*11-* اخبار و جرائد کا مطالعہ کرنے سے پہلے قرآن کی تلاوت کریں۔
*12-* آپ خود اپنے گھر والوں کو صحیح راستے پر رکھنے کا ذریعہ بنیں۔
*13-* اپنے نفس کو نیکی پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں کیونکہ نفس انسان کو برائیوں کی طرف لے جاتا ہے۔
*14-* اپنے والدین کو عزت و احترام دے کر رب کی خوشنودی حاصل کریں۔
*15-* آپ کے پرانے کپڑے غریبوں کے لئے نئے ہیں۔
*16-* غصہ نہ کریں زندگی بہت مختصر ہے۔
*17-* یاد رکھو تمہارے ساتھ وہ ذات ہے جو سب سے زیادہ غنی اور طاقتور ہے۔
*18-* گناہ کی وجہ سے دعا کرنا بند مت کرو۔
*19-* مشکلات و مصائب میں نماز بہترین معاون و مددگار ہوتی ہے۔
*20-* پر سکون زندگی گزارنا چاہتے ہو تو بدگمانیوں سے بچو۔
*21-* ہر مصیبت اور بلا کی جڑ اللہ سے منہ موڑنا ہے اس لیے اللہ کی طرف رجوع کرو۔
*22-* ایسی نماز پڑھو جو تمہیں تمہارے قبر میں کام آئے۔
*23-* جب تم کسی کو غیبت کرتے ہوئے سنو تو اس سے کہو کہ اللہ سے ڈرو۔
*24-* سورت تبارک الذی پابندی سے پڑھو کیونکہ یہ نجات دینے والی سورۃ ہے۔
*25-* محروم وہ ہے جو خشوع و خضوع والی نماز اور آنسو بہانے والی آنکھ سے محروم ہو۔
*26-* بھولے بھالے ایمان والوں کو تکلیف مت دو۔
*27-* ساری محبت اللہ اور اس کے رسول کے لیے کرو۔
*28-* جو تمہاری غیبت کرے اسے معاف کردو کیونکہ اس نے تمہیں مفت میں اپنی نیکیاں دے دی ہیں ۔
*29-* نماز تلاوت اور ذکر و اذکار گلے کا خوبصورت ہار ہیں۔
*30-* اگر رات کی تاریکی ختم ہوگی تو تکلیف بھی عنقریب دور ہوگی، بحران بھی ختم ہوگا اور پریشانی بھی گزر جائے گی۔
*31-* قیل و قال اور فضول باتوں سے اپنے آپ کو دور رکھو کیونکہ آپ کے پاس اس سے بھی بڑے بڑے کرنے کے کام ہیں۔
*32-* خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھو کیونکہ نماز کے علاوہ جو بھی چیزیں آپ کی منتظر ہیں ہیں وہ اس سے کم درجہ کی ہیں۔
*33-* قرآن پاک اپنے سر ہانے رکھو کیونکہ ایک آیت کا پڑھنا دنیا مافیہا سے بہتر ہے۔
*34-* دنیا خوبصورت ہیں مگر تم اپنے ایمان کے ساتھ اس سے زیادہ خوبصورت ہو۔
*35۔* جو دوزخ کی آگ کو یاد رکھے گا وہ برائی سے دور رہے گا۔
*36-* خشوع و خضوع کے ساتھ کیا گیا ایک لمبا سجدہ بہت سے محلوں سے بہتر ہے۔
*ان سب باتوں کو بار بار پڑھیں جن باتوں پر ممکن ہو عمل کریں۔*
حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ رات تہجد کے لیے اٹھتے تو آپ مسواک سے اپنے منہ کو صاف کرتے ۔ متفق علیہ ۔
مشکوٰة المصابیح #378
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
القرآن - سورۃ نمبر 42 الشورى
آیت نمبر 47-53
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِسۡتَجِيۡبُوۡا لِرَبِّكُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِؕ مَا لَكُمۡ مِّنۡ مَّلۡجَاٍ يَّوۡمَئِذٍ وَّمَا لَكُمۡ مِّنۡ نَّكِيۡرٍ ۞ فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًاؕ اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَاِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَةً فَرِحَ بِهَاۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ كَفُوۡرٌ ۞ لِّـلَّـهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ يَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ الذُّكُوۡرَ ۞ اَوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ وَيَجۡعَلُ مَنۡ يَّشَآءُ عَقِيۡمًاؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ ۞ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحۡيًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآىٴِ حِجَابٍ اَوۡ يُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَيُوۡحِىَ بِاِذۡنِهٖ مَا يَشَآءُؕ اِنَّهٗ عَلِىٌّ حَكِيۡمٌ ۞ وَكَذٰلِكَ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا كُنۡتَ تَدۡرِىۡ مَا الۡكِتٰبُ وَلَا الۡاِيۡمَانُ وَلٰـكِنۡ جَعَلۡنٰهُ نُوۡرًا نَّهۡدِىۡ بِهٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَاِنَّكَ لَتَهۡدِىۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍۙ ۞ صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِىۡ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيۡرُ الۡاُمُوۡرُ ۞
ترجمہ:
ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آ موجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو۔ اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا ۞ پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتے ہیں) بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے ۞ (تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے ۞ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے ۞ اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
القرآن - سورۃ نمبر 42 الشورى
آیت نمبر 21-23
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَمۡ لَهُمۡ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۡۢ بِهِ اللّٰهُؕ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡؕ وَاِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞ تَرَى الظّٰلِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا كَسَبُوۡا وَهُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمۡؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِىۡ رَوۡضَاتِ الۡجَـنّٰتِۚ لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ ۞ ذٰ لِكَ الَّذِىۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ قُلْ لَّاۤ اَسۡئَـــلُـكُمۡ عَلَيۡهِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِى الۡقُرۡبٰىؕ وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ۞
ترجمہ:
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے ۞ تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے ۞ یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔ کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیئے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے۔ بےشک خدا بخشنے والا قدردان ہے ۞
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi
74800