26/07/2025
ایک ہزار ٹرک سامان تباہ
دجال نے غزہ کے لیے بھیجی گئی ہزاروں ٹن امداد ضائع کر دی، جب کہ غزہ قحط سے موت کے دہانے پر ہے۔ دجالی نشریاتی ادارے نے خود رپورٹ دی ہے کہ، اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے بھیجی گئی خوراک اور طبی سامان پر مشتمل تقریباً ایک ہزار ٹرکوں کی امداد تباہ کر دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں شدید قحط کی صورتحال ہے اور 23 لاکھ کی آبادی بھوک سے نڈھال ہے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ امداد طویل عرصے سے سرحد پر پڑی ہوئی تھی اور تقسیم کا کوئی واضح نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ خراب ہو گئی، اس لیے اسے ضائع کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ "مزید ہزاروں پیکٹ دھوپ میں پڑے ہیں، اگر انہیں غزہ منتقل نہیں کیا گیا تو ہمیں انہیں تباہ کرنا ہوگا"۔
ادھر، اردن کے راستے سے غزہ آنے والے امدادی ٹرکوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے مسلسل جاری ہیں اور کئی بار ان میں سامان کو لوٹا یا تباہ کر دیا گیا ہے۔ شمالی غزہ کا ایریز کراسنگ ان حملوں کی وجہ سے بند ہے، جب کہ جنوبی غزہ کا رفح اور کرم ابو سالم کراسنگ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث غیر فعال ہیں۔
دنیا بھر میں اس صورتحال پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک سے متعلق خصوصی نمائندے مائیکل فخری نے الجزیرہ سے گفتگو میں اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف بیانات کافی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل امدادی ٹرکوں کو دانستہ طور پر روک رہا ہے اور عرب دنیا کو اپنے دباؤ میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ امداد غزہ پہنچ سکے۔
گزشتہ دنوں دنیا کے مختلف شہروں میں اسرائیلی محاصرے اور غزہ کے مکینوں کو بھوکا مارنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے، جن میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی آزادانہ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر امریکی آشیرباد کے باعث دجالی ریاست کو کوئی پروا نہیں ہے۔
یہ واقعہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قحط سے مرتے ہوئے شہریوں کی امداد کو ضائع کرنا نہ صرف اسرائیل کے طرز عمل کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی اداروں کی بے عملی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ عرب اور مسلم دنیا کو محض مذمت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ غزہ کے مظلوموں کو انصاف اور زندگی مل سکے۔