04/07/2024
تحریر
میں اج 20 سال بعد پہلی بار امریکہ سے پاکستان ائی ہوں شاید اب بھی نہ أتی کیونکہ مجھے پاکستان بلکہ پاکستانی لوگوں سے نفرت تھی اور اس نفرت کی وجہ میری ماں تھی لیکن جب میں یہاں ائے اور مجھ پر حقیقت کھلی تو مجھے میری ماں پر ترس انے لگا اور مجھے دھوکے باز اور منافق رشتوں سے نفرت ہو گئی
پاکستان میں کوئی شوق سے نہیں ائی تھی بلکہ مجھے بڑا مجبور کر کے لایا گیا تھا کیونکہ میں وہیں پلی بڑی تھی اور میرا وہاں ہی دل لگا ہوا تھا پاکستان میری نظروں میں کوئی خاص اچھا نہیں تھا
لیکن قدرت نے مجھ پر ایک حقیقت اشکار کرنی تھی مجھے اپنی ماں سے ملوانا تھا مجھے سچ اور جھوٹ دکھانا تھا اس لیے مجھے یہاں لایا گیا اپنے والد صاحب اور پھپھو کے کہنے پر میں پاکستان ائی یہاں میرے کزن کی شادی تھی شادی سے زیادہ وجہ یہ تھی کہ مجھے بھی اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنا تھا اور عنقریب میری بھی یہاں ہی اپنے کسی کزن سے شادی ہو جانی تھی مجھے لانے کی سب سے بڑی وجہ اور سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ یہاں سب سے میرا تعارف ہو جائے یہاں سب لوگ مجھے دیکھ لیں اور میں بھی اپنے رشتہ داروں سے مل لوں تاکہ تاکہ یہاں کے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال سکوں گو کہ مجھے شادی کے بعد بھی یہاں رہنا نہیں تھا وہاں ہی سیٹ ہو جانا تھا لیکن پھر بھی ایک بار میرا یہاں انا اور سب سے ملنا بہت ضروری تھا یہ سب کچھ میرے ذہن میں اس لیے ایا تھا کیونکہ اج سے پہلے 20 سال تک مجھ سے کسی نے ذکر نہیں کیا کہ مجھے پاکستان جانا ہے اس بار لانے کا مجھے صرف یہی ایک مقصد نظر ا رہا تھا
خیر جب مجھے پاکستان لایا گیا اور میں اپنے گاؤں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ گئی وہاں اپنے دور پار کے رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات ہوئی مجھے وہاں کے لوگوں کے خلوص نے بہت متاثر کیا لیکن وہاں ایک خاتون سے مجھے خاصی دل لگی ہو گئی جو کہ بہت مذہبی اور پارسا تھی بہت کم گو تھی لیکن ان کی لہجے کی مٹھاس اتنی تھی کہ وہ میرے دل میں اتر گئی تھی میرا دل چاہتا تھا کہ میں ان کے پاس بیٹھوں وقت گزار ہوں لیکن مجھے اتنی مہلت نہیں مل رہی تھی
خیر کوشش کر کے میں نے وقت نکال ہی لیا میں ابو سے اجازت لے کر ان کو ملنے چلی گئی جب میں ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے پہلی بار مجھے خاتون کے نام سے پکارتے ہوئے پوچھا تم فلاں کی بیٹی ہو تو میں نے حیران ہو کر ان کو دیکھا اور اپنے والد کا نام بتایا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ٹھیک پہچانا ہے تم اسی بد نصیب کی بیٹی ہو
مجھے ان کی بات پر حیرانگی اور میں نے بتایا مجھے تو میری پھپھو نے پالا ہے میری ماں مجھے چھوڑ کر اپنے کسی اشنا کے ساتھ چلی گئی تھی میری بات سن کر اس خاتون کے چہرے کا رنگ بدل گیا وہ کوئی سخت بات اپنی زبان پر لاتے لاتے رک گئی پھر اس نے مجھے قران کی ایک ایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی پر بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ہے تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے کہ تمہاری ماں تمہیں چھوڑ کر کسی اشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی تم نے بھی تو سنی سنائی باتوں پر یقین کر رکھا ہے میں نے ان کو بتایا کہ مجھے یہ ساری حقیقت میرے والد صاحب اور میرے تایا وغیرہ نے بتائی ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے پھپھو کو اپنی پرورش کرتے ہوئے دیکھا ہے اور یہاں نہیں بلکہ امریکہ میں ہی رہی ہوں لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ میرے والد یا میری پھپھو میرے ساتھ اتنا بڑا جھوٹ نہیں بول سکتی
میری بات سن کر وہ خاتون کچھ لمحے رکی جیسے فیصلہ کر رہی ہو مجھے کسی حقیقت سے اگاہ کرنا چاہیے یا نہیں کچھ دیر غور و فکر کرنے کے بعد وہ کچھ الفاظ کو اپنی زبان تک لائی لیکن پھر اپنی اواز گلے میں دبا لی اور مجھ سے کچھ شیئر نہ کیا میں نے ان کو مجبور کیا کہ وہ مجھے کچھ حقیقت سے اگاہ کریں پھر انہوں نے جب حقیقت بتائی تھی میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی انہوں نے بتایا کہ
میری والدہ کا نام مریم تھا وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی میرے نانا نے میری ماں کا رشتہ اپنے بھتیجے یعنی میرے والد سے کر دیا تھا صرف اسی لئیے کہ میرے نانا کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور ان کو امید تھی کہ یہ ان کا بھتیجا ان کا بیٹا بن کر ان کو دکھائے گا لیکن میرے والد صاحب ان کی امیدوں کے برعکس نکلے میرے نانا بیٹی کی رخصتی کرنے کے بعد جلدی چل بسے تو میرے والد صاحب نے میری ماں کے نام منتقل ہونے والی ساری جائیداد اپنے نام لگوائی اس کے بعد میری والدہ کو طلاق دے دی
میں فقط تین ماہ کی تھی اور مجھے میری والدہ سے چھین لیا میری والدہ نے کہا تھا کہ مجھے طلاق نہ دو اور مجھ سے میری اولاد نہ چھینو مجھے میرے اس والد کے گھر میں رہنے دو مجھ سے کرایہ لیتے رہنا میں مفت میں نہیں رہوں گی تم لوگ جتنا بڑا الزام لگا کر مجھے طلاق دے رہے ہو اس بڑے الزام کے بعد کوئی مجھ سے نکاح کے لیے تیار نہیں ہوگا اور میرے پاس تو سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں ہے میری بوڑھی ماں ھے ہم لوگ کہاں جائیں گے
لیکن وہاں کوئی نہیں تھا جو میری ماں پر رحم کرتا میری ماں کو طلاق دے دی گئی اس پر وہ الزام لگا دیا گیا کہ میری بوڑھی نانی اتنا بڑا صدمہ برداشت نہ کر سکی اور وہ چل بسی میری ماں کچھ عرصہ اسی گاؤں میں ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتی رہی میرے والد صاحب نے میری ماں کو ملنے والی جائیداد بیچ کر امریکہ میں اپنا کاروبار سیٹ کر لیا اپنے بھائیوں اور بہنوں کو لے کر وہیں منتقل ہو گئے دوسری شادی بھی کر لی مجھے پھپھو کو سونپ دیا اور مجھے یہ سب کچھ بتا دیا کہ میری ماں بدچلن تھی یہ تھا وہ تھا جس پر میں اج تک یقین کیے ہوئے تھی
لیکن اس خاتون کے منہ سے اپنی ماں پر بیتے ظلم کی داستان سن کر میں لرز گئی میری انکھوں سے انسو ضبط کرنا مشکل ہو گیا انسو لڑیوں کی صورت میں بہنے لگے میں نے اپنی ماں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو مجھے بتایا کہ میری ماں کو کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی مجھے منع کیا گیا کہ اج میرے والد صاحب کافی مالدار ہیں اصل رسوخ والے ہیں ان کو یہ نہ بتانا کہ اپ کو یہ حقیقت پتہ چل چکی ہے ورنہ وہ بتانے والی خاتون کا کوئی نقصان ہی نہ کر دیں میں نے ان خاتون سے وعدہ کیا کہ ان کا نام کہیں بھی نہیں ائے گا اور ساتھ ہی ان کو اپنی والدہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار بھی کر دیا انہوں نے بتایا کہ اپ کو ملنے کا فائدہ نہیں ہے میری والدہ کی رو رو کر بینائی ختم ہو چکی ہے
اگر تم ملو گی تو ان کے زخم ہرے ہو جائیں گے تم تو چلی جاؤ گی لیکن وہ پھر اسی تکلیف سے گزرے گی جس سے برسوں پہلے گزری تھی بہتر یہ ہے کہ تم نے یہ حقیقت کو جان لیا ہے تو اس کو یہیں چھوڑ کر چلی جاؤ اور اپنی زندگی میں اگے بڑھ جاؤ مگر میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور ان سے وعدہ کیا کہ ان کا ذکر کہیں بھی نہیں کروں گی اور اپنے گھر والوں سے چوری اپنی والدہ سے ملنے کے لیے جانے کی تیاری کر لی میں اس مخلص اور پارسا خاتون کو لے کر ایک فلاحی ادارے میں پہنچی وہاں میری والدہ کا نام لے کر پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی اور ان کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے ہم نے ہسپتال کو پتہ پوچھا اور جلد ہی ہسپتال پہنچ گئے یہاں میری والدہ کو ائی سی یو میں رکھا گیا تھا
جب وہ خاتون میری والدہ کے قریب پہنچی گو کہ میری والدہ دیکھ نہیں سکتی تھی لیکن میری والدہ نے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیے کہ
" ہاجرہ اج پھر کسی نوں میری دھی بنا کے لے ائی ایں "
یعنی ہاجرہ اج پھر کسی کو میری بیٹی بنا کر لائی ہو ؟
میری ماں کے سوال نے میرے ضبط کے بند توڑ دیے میں ان سے لپٹ گئی اور یقین کریں 20 سال بعد پہلی بار میں نے ماں کے لمس کو محسوس کیا اور پہلی بار مجھے اتنا سکون ملا کہ وہ پھپھو نے ساری زندگی جو مجھے سینے سے لگایا تھا نہیں ملا تھا تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ ہی میری ماں ہے اور جو کچھ مجھے بتایا گیا ہے یہی حقیقت ہے
لیکن اس کے باوجود میں نے ان باتوں کی تصدیق کرنا چاہی اور پھر اپنے گاؤں میں بہت سارے لوگوں سے اس کے متعلق سنا سب لوگوں نے یہی بات بتائی دوسری طرف میری واپسی کا وقت قریب تھا
جب سامان باندھنے کی باری ائی اور تیاری شروع ہو گئی تو میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ میری ماں کہاں ہے میرا سوال سن کر وہ ایک بار حیران و پریشان ہوئے اور پھر خود پر قابو پا لیا اور بتایا کہ میں نے تو تمہیں بہت پہلے بتا دیے تھے کہ تمہاری ماں ایک بد کردار خاتون تھی اور وہ کہیں کسی اشنا کے ساتھ چلی گئی ہے میں پلٹ کر اس خاتون کا نام بھی سننا نہیں چاہتا
والد صاحب کا جواب مکمل ہوا تو میں نے اگلا سوال کیا کہ وہ خاتون کون تھے جسے اپ نے مصلے پر بیٹھی ہوئی کو طلاق دے دی تھی اور دھکے مار مار کے گھر سے نکال دیا تھا اور اپ نے اسے کس حق سے طلاق دی تھی اگر وہ اپنے اشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی تو ؟
اب کی بار والد صاحب کی بجائے پھپھو نے رد عمل دیا تھا اور وہ رد عمل الفاظ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے تھا انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ جڑ دیا تھا پہلی بار ان کا تھپڑ مجھے ان کی طاقت نہیں کمزوری لگا تھا
میں تھپڑ کھانے کے باوجود اپنے سوال سے پیچھے نہیں ہٹی تھی میرے والد صاحب نے مصلحت سے کام لیتے ہوئے معاملے کو سنبھالنا چاہا لیکن معاملہ ان کے ہاتھ سے بہت اگے نکل چکا تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں یہ سب کچھ کس نے بتایا ہے میں نے جواب دیا کہ مجھے حقیقت بتائی جائے مجھ سے یہ نہ پوچھا جائے کہ مجھے کس نے بتایا میرے والد صاحب نے کہا کہ پہلے تو میرے سوال کا جواب دینا ہوگا میں نے کہا تھا اس وقت اپ مجھے جان سے بھی مار دیں تو بھی میں اپ کے سوال کا جواب نہیں دوں گی میرا مصمم ارادہ دیکھ کر میرے والد صاحب اپنے روئیے میں تبدیلی لے آئے
انہوں نے مجھے بہلانا چاہا لیکن میں اپنی بات پر قائم رہی تو میری ایک تائی امی جس کی میری پھپو اور میرے والد سے نہیں بنتی تھی انہوں نے مجھے سب کچھ سچ بتا دیا اور میرے والد کے سامنے بتا دیا میں نے والد صاحب کے گھر کو چھوڑنے کی دھمکی دے دی اور ساتھ ہی کہا کہ اگر کسی نے مجھے روکنے کی کوشش کی تو میں اس وقت پولیس کو بلا لوں گی اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میں باہر امریکہ بھی اپ لوگوں کی شکایت کر دوں گی میری راہ میں کوئی بھی رکاوٹ نہ بنا میں نے کچھ نقد رقم لی اور اسی ہسپتال پہنچ گئی میرے پیچھے میرے والد صاحب بھی پہنچ گئے
میں سیدھی اپنی ماں کے پاس پہنچی میرے والد صاحب بھی میرے پیچھے پہنچے اور وہاں جا کر جب میرے والد صاحب نے مجھے پکارا تو میں اپنی ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے وہاں بیٹھی ہوئی تھی اور ان کو بتا رہی تھی کہ میں اپ کی بیٹی ہوں میرا یہ نام ہے اور میری ماں نے مجھے سینے سے لگا ہوا تھا لیکن جیسے میرے والد صاحب کی اواز سنی تو میری ماں کا وجود کانپنے لگا میں نے اپنی ماں کو اپنی باہوں میں لے لیا اور اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا کہ اب اپ کی بیٹی جوان ہے اپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر موت لکھی ہوگی تو ہم دونوں کو ایک ساتھ ا جائے گی اگر نہیں لکھی ہوگی تو جتنی زندگی باقی ہے ہم ایک ساتھ ہی جئیں گے میری بات سن کر میری ماں نےکہا کہ بیٹی تم جن لوگوں کے پاس ہو وہ لوگ بہت طاقتور ہے انہیں دنیا اور قانون تو کیا خدا تک کا خوف نہیں ہے اور پھر تم جس معاشرے میں جس ازاد ماحول میں پلی ہو جہاں کا تم بتاتی ہو کہ تم وہاں جوان ہوئی ہے اس کے مطابق تمہیں میں سہولیات نہیں دے سکتی میں تو ایک زندان میں قید ہون یہیں مر جاؤں گی اور پھر میری تو چند ہی سانسیں باقی ہیں اس لیے بہتر ہے کہ تم اپنے والد کے پاس چلی جاؤ اور خوش رہو میں تمہارا یہ بھی احسان قیامت والے دن بھی یاد رکھوں گی کہ تم نے میری زندگی میں ا کر مجھے اپنے سینے سے لگایا اور میرے سینے سے لگ کر میری ممتا کو سکون بخشا
اپنی ماں کی بات سن کر میں نے مضبوط لہجے میں جواب دیا کہ ماں جی اپ کو یہاں سے اگر عزرائیل لے جائے تو خدا کے پاس لے جائے ورنہ دنیا کے اور کوئی طاقت اپ کو مجھ سے چھین کر نہیں لے جا سکتی یہ میرا اٹل فیصلہ ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گی اپ کی خدمت کروں گی اپ کے قدموں میں بیٹھی رہوں گی مجھے امریکہ یا یورپ جیسی سولیات سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ماں ساتھ ہو تو اللہ تعالی کی ذات ساتھ ہوتی ہے اور رب سے بڑی کون سی طاقت ہے اور جس کے لیے رب اسانی کرنا چاہے اس کے لیے اور کیا اسانی ہو سکتی ہے
میں نے ہسپتال میں کھڑے کھڑے والد صاحب سے کہا کہ اپ یہیں کھڑے ہو کر میری ماں کے ساتھ جو ظلم کیا اس کی معافی مانگے میرے والد صاحب نے انکار کر دیا اتنی دیر میں ہسپتال کا عملہ بھی اگیا میں نے ڈاکٹرز کہہ کر والد صاحب کو وارڈ سے باہر نکلوا دیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے میری ماں پریشان ہو رہی ہے والد صاحب کی شومئی قسمت کہ ڈاکٹر بھی ہمارے گاؤں کا تھا جو میرے والد صاحب کے کرتوت کو اچھی طرح جانتا تھا اس نے اسی وقت گارڈ کو کہہ کر میرے والد صاحب کو ھسپتال سے باہر نکلوا دیا میرے والد صاحب نے مجھے لاکھ دھمکیاں دیں لیکن میں ان کی کسی دھمکی سے پریشان نہ ہوئی میری والدہ نے بھی میری منت سماجت کی مجھے ہاتھ باندھے کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ چلی جاؤں لیکن میں نے اپنی ماں کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا
میرے والد صاحب نے پہلے پہل پیار محبت سے کام لیا پھر مجھے بہلایا پھسلایا پھر مجھے دھمکیاں دیں پھر اپنی طاقت ازمائی لیکن جب میں کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ جانے پر راضی نہ ہوئی تو وہ مجھے یہیں میری والدہ کے پاس چھوڑ کر چلے گئے میں نے والدہ کے کہنے پر ایک ایسے لڑکے سے شادی کر لی جو اسی فلاحی ادارے میں ملازم تھا اور میری والدہ کی خدمت کرتا تھا لیکن میری شادی کرنے سے پہلے میری والدہ نے مجھے کہا تھا کہ تم اگر اپنی پسند سے کسی شادی کرنا چاہو تو تمہیں حق ہے لیکن اگر ہو سکے تو اس لڑکے کو ایک بار میرے پاس لے انا میں نے اپنی ماں کو کہا تھا کہ میری شادی کرنا اپ کا حق ہے اور یہ حق اپ کو مذہب اور اللہ تعالی کی ذات نے دیا ہے اپ صرف میری رضامندی کا پوچھ سکتی ہیں اور میں اپنی رضامندی اپ کو سونپتی ہوں
یقین کریں میرے منہ سے ایسے الفاظ ادا ہونے کی دیر تھی کہ میری ماں کے دل سے اور زبان سے ڈھیروں دعائیں جاری ہو گئی اور وہ ایسی دعائیں تھی جو ساری زندگی مجھے میری پھوپھو نے کبھی نہیں دی تھی میں نے اپنی والدہ کہنے پر اس لڑکے سے شادی کر لی بعد ازاں اس لڑکے نے وہ جاب چھوڑ دی اور میرے پاس موجود رقم سے چھوٹا سا کاروبار کر لیا
ہم نے سٹیل کی ایک دکان ڈالی پھر ایک گودام بنایا اور اج الحمدللہ سیالکوٹ میں ہماری اپنی ایک سٹیل مل ہے میرے والد صاحب فوت ہو چکے ہیں میری والدہ بھی فوت ہو چکی ہیں
لیکن میرے شوہر اور میری یہ خوبی ہے کہ میرے شوہر میرے والد اور والدہ کے نام پر ہر سال دو لوگوں کو حج پر بھیجتے ہیں اور میرے والدین کی قربانی بھی ضرور کرتے ہیں جبکہ بدلے میں میں ان کی والدہ اور ان کے والد کے نام پر دو لوگوں کو حج پر بھیجتی ہوں اور ان کے والد اور ان کی والدہ قربانی کرتی ہوں الحمدللہ اج ابھی ہم دونوں میاں بیوی ویسے ہی محبت سے رہ رہے ہیں وہ محبت جو شادی کے پہلے دن سے تھی
میں اپنی کہانی میں اپ لوگوں کو فقط اتنا بتانا چاہتی ہوں کہ جو لوگ اپ کو اپ کے والدین کے خلاف گمراہ کرتے ہیں وہ لوگ کبھی بھی اپ کے حق میں اچھے نہیں ہوتے اگر والدین میں سے بھی کوئی ایگ أپ کو دوسرے کے خلاف کرے تو بات کی تحقیق کر کے فیصلہ کرنا میری طرح بیس سال حقیقت جانے بنا نہ گزار دینا
اختتام
بہترین تحاریر کے لئیے