پاؤں کی بیڑیاں Fetters

پاؤں کی بیڑیاں  Fetters

Share

Written By: Abdul Wassay Azad

20/05/2025

Consistency is the bridge between goals and success. Stay focused, keep moving — progress is built one step at a time.

04/11/2024
04/07/2024

تحریر



میں اج 20 سال بعد پہلی بار امریکہ سے پاکستان ائی ہوں شاید اب بھی نہ أتی کیونکہ مجھے پاکستان بلکہ پاکستانی لوگوں سے نفرت تھی اور اس نفرت کی وجہ میری ماں تھی لیکن جب میں یہاں ائے اور مجھ پر حقیقت کھلی تو مجھے میری ماں پر ترس انے لگا اور مجھے دھوکے باز اور منافق رشتوں سے نفرت ہو گئی
پاکستان میں کوئی شوق سے نہیں ائی تھی بلکہ مجھے بڑا مجبور کر کے لایا گیا تھا کیونکہ میں وہیں پلی بڑی تھی اور میرا وہاں ہی دل لگا ہوا تھا پاکستان میری نظروں میں کوئی خاص اچھا نہیں تھا
لیکن قدرت نے مجھ پر ایک حقیقت اشکار کرنی تھی مجھے اپنی ماں سے ملوانا تھا مجھے سچ اور جھوٹ دکھانا تھا اس لیے مجھے یہاں لایا گیا اپنے والد صاحب اور پھپھو کے کہنے پر میں پاکستان ائی یہاں میرے کزن کی شادی تھی شادی سے زیادہ وجہ یہ تھی کہ مجھے بھی اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنا تھا اور عنقریب میری بھی یہاں ہی اپنے کسی کزن سے شادی ہو جانی تھی مجھے لانے کی سب سے بڑی وجہ اور سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ یہاں سب سے میرا تعارف ہو جائے یہاں سب لوگ مجھے دیکھ لیں اور میں بھی اپنے رشتہ داروں سے مل لوں تاکہ تاکہ یہاں کے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال سکوں گو کہ مجھے شادی کے بعد بھی یہاں رہنا نہیں تھا وہاں ہی سیٹ ہو جانا تھا لیکن پھر بھی ایک بار میرا یہاں انا اور سب سے ملنا بہت ضروری تھا یہ سب کچھ میرے ذہن میں اس لیے ایا تھا کیونکہ اج سے پہلے 20 سال تک مجھ سے کسی نے ذکر نہیں کیا کہ مجھے پاکستان جانا ہے اس بار لانے کا مجھے صرف یہی ایک مقصد نظر ا رہا تھا

خیر جب مجھے پاکستان لایا گیا اور میں اپنے گاؤں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ گئی وہاں اپنے دور پار کے رشتہ داروں کے ساتھ ملاقات ہوئی مجھے وہاں کے لوگوں کے خلوص نے بہت متاثر کیا لیکن وہاں ایک خاتون سے مجھے خاصی دل لگی ہو گئی جو کہ بہت مذہبی اور پارسا تھی بہت کم گو تھی لیکن ان کی لہجے کی مٹھاس اتنی تھی کہ وہ میرے دل میں اتر گئی تھی میرا دل چاہتا تھا کہ میں ان کے پاس بیٹھوں وقت گزار ہوں لیکن مجھے اتنی مہلت نہیں مل رہی تھی
خیر کوشش کر کے میں نے وقت نکال ہی لیا میں ابو سے اجازت لے کر ان کو ملنے چلی گئی جب میں ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے پہلی بار مجھے خاتون کے نام سے پکارتے ہوئے پوچھا تم فلاں کی بیٹی ہو تو میں نے حیران ہو کر ان کو دیکھا اور اپنے والد کا نام بتایا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ٹھیک پہچانا ہے تم اسی بد نصیب کی بیٹی ہو
مجھے ان کی بات پر حیرانگی اور میں نے بتایا مجھے تو میری پھپھو نے پالا ہے میری ماں مجھے چھوڑ کر اپنے کسی اشنا کے ساتھ چلی گئی تھی میری بات سن کر اس خاتون کے چہرے کا رنگ بدل گیا وہ کوئی سخت بات اپنی زبان پر لاتے لاتے رک گئی پھر اس نے مجھے قران کی ایک ایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی پر بہتان لگانا بہت بڑا گناہ ہے تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے کہ تمہاری ماں تمہیں چھوڑ کر کسی اشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی تم نے بھی تو سنی سنائی باتوں پر یقین کر رکھا ہے میں نے ان کو بتایا کہ مجھے یہ ساری حقیقت میرے والد صاحب اور میرے تایا وغیرہ نے بتائی ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے پھپھو کو اپنی پرورش کرتے ہوئے دیکھا ہے اور یہاں نہیں بلکہ امریکہ میں ہی رہی ہوں لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ میرے والد یا میری پھپھو میرے ساتھ اتنا بڑا جھوٹ نہیں بول سکتی
میری بات سن کر وہ خاتون کچھ لمحے رکی جیسے فیصلہ کر رہی ہو مجھے کسی حقیقت سے اگاہ کرنا چاہیے یا نہیں کچھ دیر غور و فکر کرنے کے بعد وہ کچھ الفاظ کو اپنی زبان تک لائی لیکن پھر اپنی اواز گلے میں دبا لی اور مجھ سے کچھ شیئر نہ کیا میں نے ان کو مجبور کیا کہ وہ مجھے کچھ حقیقت سے اگاہ کریں پھر انہوں نے جب حقیقت بتائی تھی میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی انہوں نے بتایا کہ

میری والدہ کا نام مریم تھا وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی میرے نانا نے میری ماں کا رشتہ اپنے بھتیجے یعنی میرے والد سے کر دیا تھا صرف اسی لئیے کہ میرے نانا کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور ان کو امید تھی کہ یہ ان کا بھتیجا ان کا بیٹا بن کر ان کو دکھائے گا لیکن میرے والد صاحب ان کی امیدوں کے برعکس نکلے میرے نانا بیٹی کی رخصتی کرنے کے بعد جلدی چل بسے تو میرے والد صاحب نے میری ماں کے نام منتقل ہونے والی ساری جائیداد اپنے نام لگوائی اس کے بعد میری والدہ کو طلاق دے دی
میں فقط تین ماہ کی تھی اور مجھے میری والدہ سے چھین لیا میری والدہ نے کہا تھا کہ مجھے طلاق نہ دو اور مجھ سے میری اولاد نہ چھینو مجھے میرے اس والد کے گھر میں رہنے دو مجھ سے کرایہ لیتے رہنا میں مفت میں نہیں رہوں گی تم لوگ جتنا بڑا الزام لگا کر مجھے طلاق دے رہے ہو اس بڑے الزام کے بعد کوئی مجھ سے نکاح کے لیے تیار نہیں ہوگا اور میرے پاس تو سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں ہے میری بوڑھی ماں ھے ہم لوگ کہاں جائیں گے
لیکن وہاں کوئی نہیں تھا جو میری ماں پر رحم کرتا میری ماں کو طلاق دے دی گئی اس پر وہ الزام لگا دیا گیا کہ میری بوڑھی نانی اتنا بڑا صدمہ برداشت نہ کر سکی اور وہ چل بسی میری ماں کچھ عرصہ اسی گاؤں میں ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتی رہی میرے والد صاحب نے میری ماں کو ملنے والی جائیداد بیچ کر امریکہ میں اپنا کاروبار سیٹ کر لیا اپنے بھائیوں اور بہنوں کو لے کر وہیں منتقل ہو گئے دوسری شادی بھی کر لی مجھے پھپھو کو سونپ دیا اور مجھے یہ سب کچھ بتا دیا کہ میری ماں بدچلن تھی یہ تھا وہ تھا جس پر میں اج تک یقین کیے ہوئے تھی
لیکن اس خاتون کے منہ سے اپنی ماں پر بیتے ظلم کی داستان سن کر میں لرز گئی میری انکھوں سے انسو ضبط کرنا مشکل ہو گیا انسو لڑیوں کی صورت میں بہنے لگے میں نے اپنی ماں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو مجھے بتایا کہ میری ماں کو کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی مجھے منع کیا گیا کہ اج میرے والد صاحب کافی مالدار ہیں اصل رسوخ والے ہیں ان کو یہ نہ بتانا کہ اپ کو یہ حقیقت پتہ چل چکی ہے ورنہ وہ بتانے والی خاتون کا کوئی نقصان ہی نہ کر دیں میں نے ان خاتون سے وعدہ کیا کہ ان کا نام کہیں بھی نہیں ائے گا اور ساتھ ہی ان کو اپنی والدہ سے ملنے کی خواہش کا اظہار بھی کر دیا انہوں نے بتایا کہ اپ کو ملنے کا فائدہ نہیں ہے میری والدہ کی رو رو کر بینائی ختم ہو چکی ہے
اگر تم ملو گی تو ان کے زخم ہرے ہو جائیں گے تم تو چلی جاؤ گی لیکن وہ پھر اسی تکلیف سے گزرے گی جس سے برسوں پہلے گزری تھی بہتر یہ ہے کہ تم نے یہ حقیقت کو جان لیا ہے تو اس کو یہیں چھوڑ کر چلی جاؤ اور اپنی زندگی میں اگے بڑھ جاؤ مگر میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور ان سے وعدہ کیا کہ ان کا ذکر کہیں بھی نہیں کروں گی اور اپنے گھر والوں سے چوری اپنی والدہ سے ملنے کے لیے جانے کی تیاری کر لی میں اس مخلص اور پارسا خاتون کو لے کر ایک فلاحی ادارے میں پہنچی وہاں میری والدہ کا نام لے کر پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی اور ان کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے ہم نے ہسپتال کو پتہ پوچھا اور جلد ہی ہسپتال پہنچ گئے یہاں میری والدہ کو ائی سی یو میں رکھا گیا تھا
جب وہ خاتون میری والدہ کے قریب پہنچی گو کہ میری والدہ دیکھ نہیں سکتی تھی لیکن میری والدہ نے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کیے کہ
" ہاجرہ اج پھر کسی نوں میری دھی بنا کے لے ائی ایں "
یعنی ہاجرہ اج پھر کسی کو میری بیٹی بنا کر لائی ہو ؟
میری ماں کے سوال نے میرے ضبط کے بند توڑ دیے میں ان سے لپٹ گئی اور یقین کریں 20 سال بعد پہلی بار میں نے ماں کے لمس کو محسوس کیا اور پہلی بار مجھے اتنا سکون ملا کہ وہ پھپھو نے ساری زندگی جو مجھے سینے سے لگایا تھا نہیں ملا تھا تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ ہی میری ماں ہے اور جو کچھ مجھے بتایا گیا ہے یہی حقیقت ہے
لیکن اس کے باوجود میں نے ان باتوں کی تصدیق کرنا چاہی اور پھر اپنے گاؤں میں بہت سارے لوگوں سے اس کے متعلق سنا سب لوگوں نے یہی بات بتائی دوسری طرف میری واپسی کا وقت قریب تھا

جب سامان باندھنے کی باری ائی اور تیاری شروع ہو گئی تو میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ میری ماں کہاں ہے میرا سوال سن کر وہ ایک بار حیران و پریشان ہوئے اور پھر خود پر قابو پا لیا اور بتایا کہ میں نے تو تمہیں بہت پہلے بتا دیے تھے کہ تمہاری ماں ایک بد کردار خاتون تھی اور وہ کہیں کسی اشنا کے ساتھ چلی گئی ہے میں پلٹ کر اس خاتون کا نام بھی سننا نہیں چاہتا
والد صاحب کا جواب مکمل ہوا تو میں نے اگلا سوال کیا کہ وہ خاتون کون تھے جسے اپ نے مصلے پر بیٹھی ہوئی کو طلاق دے دی تھی اور دھکے مار مار کے گھر سے نکال دیا تھا اور اپ نے اسے کس حق سے طلاق دی تھی اگر وہ اپنے اشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی تو ؟
اب کی بار والد صاحب کی بجائے پھپھو نے رد عمل دیا تھا اور وہ رد عمل الفاظ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے تھا انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ جڑ دیا تھا پہلی بار ان کا تھپڑ مجھے ان کی طاقت نہیں کمزوری لگا تھا

میں تھپڑ کھانے کے باوجود اپنے سوال سے پیچھے نہیں ہٹی تھی میرے والد صاحب نے مصلحت سے کام لیتے ہوئے معاملے کو سنبھالنا چاہا لیکن معاملہ ان کے ہاتھ سے بہت اگے نکل چکا تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں یہ سب کچھ کس نے بتایا ہے میں نے جواب دیا کہ مجھے حقیقت بتائی جائے مجھ سے یہ نہ پوچھا جائے کہ مجھے کس نے بتایا میرے والد صاحب نے کہا کہ پہلے تو میرے سوال کا جواب دینا ہوگا میں نے کہا تھا اس وقت اپ مجھے جان سے بھی مار دیں تو بھی میں اپ کے سوال کا جواب نہیں دوں گی میرا مصمم ارادہ دیکھ کر میرے والد صاحب اپنے روئیے میں تبدیلی لے آئے
انہوں نے مجھے بہلانا چاہا لیکن میں اپنی بات پر قائم رہی تو میری ایک تائی امی جس کی میری پھپو اور میرے والد سے نہیں بنتی تھی انہوں نے مجھے سب کچھ سچ بتا دیا اور میرے والد کے سامنے بتا دیا میں نے والد صاحب کے گھر کو چھوڑنے کی دھمکی دے دی اور ساتھ ہی کہا کہ اگر کسی نے مجھے روکنے کی کوشش کی تو میں اس وقت پولیس کو بلا لوں گی اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میں باہر امریکہ بھی اپ لوگوں کی شکایت کر دوں گی میری راہ میں کوئی بھی رکاوٹ نہ بنا میں نے کچھ نقد رقم لی اور اسی ہسپتال پہنچ گئی میرے پیچھے میرے والد صاحب بھی پہنچ گئے
میں سیدھی اپنی ماں کے پاس پہنچی میرے والد صاحب بھی میرے پیچھے پہنچے اور وہاں جا کر جب میرے والد صاحب نے مجھے پکارا تو میں اپنی ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے وہاں بیٹھی ہوئی تھی اور ان کو بتا رہی تھی کہ میں اپ کی بیٹی ہوں میرا یہ نام ہے اور میری ماں نے مجھے سینے سے لگا ہوا تھا لیکن جیسے میرے والد صاحب کی اواز سنی تو میری ماں کا وجود کانپنے لگا میں نے اپنی ماں کو اپنی باہوں میں لے لیا اور اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا کہ اب اپ کی بیٹی جوان ہے اپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر موت لکھی ہوگی تو ہم دونوں کو ایک ساتھ ا جائے گی اگر نہیں لکھی ہوگی تو جتنی زندگی باقی ہے ہم ایک ساتھ ہی جئیں گے میری بات سن کر میری ماں نےکہا کہ بیٹی تم جن لوگوں کے پاس ہو وہ لوگ بہت طاقتور ہے انہیں دنیا اور قانون تو کیا خدا تک کا خوف نہیں ہے اور پھر تم جس معاشرے میں جس ازاد ماحول میں پلی ہو جہاں کا تم بتاتی ہو کہ تم وہاں جوان ہوئی ہے اس کے مطابق تمہیں میں سہولیات نہیں دے سکتی میں تو ایک زندان میں قید ہون یہیں مر جاؤں گی اور پھر میری تو چند ہی سانسیں باقی ہیں اس لیے بہتر ہے کہ تم اپنے والد کے پاس چلی جاؤ اور خوش رہو میں تمہارا یہ بھی احسان قیامت والے دن بھی یاد رکھوں گی کہ تم نے میری زندگی میں ا کر مجھے اپنے سینے سے لگایا اور میرے سینے سے لگ کر میری ممتا کو سکون بخشا
اپنی ماں کی بات سن کر میں نے مضبوط لہجے میں جواب دیا کہ ماں جی اپ کو یہاں سے اگر عزرائیل لے جائے تو خدا کے پاس لے جائے ورنہ دنیا کے اور کوئی طاقت اپ کو مجھ سے چھین کر نہیں لے جا سکتی یہ میرا اٹل فیصلہ ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گی اپ کی خدمت کروں گی اپ کے قدموں میں بیٹھی رہوں گی مجھے امریکہ یا یورپ جیسی سولیات سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ماں ساتھ ہو تو اللہ تعالی کی ذات ساتھ ہوتی ہے اور رب سے بڑی کون سی طاقت ہے اور جس کے لیے رب اسانی کرنا چاہے اس کے لیے اور کیا اسانی ہو سکتی ہے
میں نے ہسپتال میں کھڑے کھڑے والد صاحب سے کہا کہ اپ یہیں کھڑے ہو کر میری ماں کے ساتھ جو ظلم کیا اس کی معافی مانگے میرے والد صاحب نے انکار کر دیا اتنی دیر میں ہسپتال کا عملہ بھی اگیا میں نے ڈاکٹرز کہہ کر والد صاحب کو وارڈ سے باہر نکلوا دیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے میری ماں پریشان ہو رہی ہے والد صاحب کی شومئی قسمت کہ ڈاکٹر بھی ہمارے گاؤں کا تھا جو میرے والد صاحب کے کرتوت کو اچھی طرح جانتا تھا اس نے اسی وقت گارڈ کو کہہ کر میرے والد صاحب کو ھسپتال سے باہر نکلوا دیا میرے والد صاحب نے مجھے لاکھ دھمکیاں دیں لیکن میں ان کی کسی دھمکی سے پریشان نہ ہوئی میری والدہ نے بھی میری منت سماجت کی مجھے ہاتھ باندھے کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ چلی جاؤں لیکن میں نے اپنی ماں کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا

میرے والد صاحب نے پہلے پہل پیار محبت سے کام لیا پھر مجھے بہلایا پھسلایا پھر مجھے دھمکیاں دیں پھر اپنی طاقت ازمائی لیکن جب میں کسی بھی صورت میں ان کے ساتھ جانے پر راضی نہ ہوئی تو وہ مجھے یہیں میری والدہ کے پاس چھوڑ کر چلے گئے میں نے والدہ کے کہنے پر ایک ایسے لڑکے سے شادی کر لی جو اسی فلاحی ادارے میں ملازم تھا اور میری والدہ کی خدمت کرتا تھا لیکن میری شادی کرنے سے پہلے میری والدہ نے مجھے کہا تھا کہ تم اگر اپنی پسند سے کسی شادی کرنا چاہو تو تمہیں حق ہے لیکن اگر ہو سکے تو اس لڑکے کو ایک بار میرے پاس لے انا میں نے اپنی ماں کو کہا تھا کہ میری شادی کرنا اپ کا حق ہے اور یہ حق اپ کو مذہب اور اللہ تعالی کی ذات نے دیا ہے اپ صرف میری رضامندی کا پوچھ سکتی ہیں اور میں اپنی رضامندی اپ کو سونپتی ہوں
یقین کریں میرے منہ سے ایسے الفاظ ادا ہونے کی دیر تھی کہ میری ماں کے دل سے اور زبان سے ڈھیروں دعائیں جاری ہو گئی اور وہ ایسی دعائیں تھی جو ساری زندگی مجھے میری پھوپھو نے کبھی نہیں دی تھی میں نے اپنی والدہ کہنے پر اس لڑکے سے شادی کر لی بعد ازاں اس لڑکے نے وہ جاب چھوڑ دی اور میرے پاس موجود رقم سے چھوٹا سا کاروبار کر لیا
ہم نے سٹیل کی ایک دکان ڈالی پھر ایک گودام بنایا اور اج الحمدللہ سیالکوٹ میں ہماری اپنی ایک سٹیل مل ہے میرے والد صاحب فوت ہو چکے ہیں میری والدہ بھی فوت ہو چکی ہیں
لیکن میرے شوہر اور میری یہ خوبی ہے کہ میرے شوہر میرے والد اور والدہ کے نام پر ہر سال دو لوگوں کو حج پر بھیجتے ہیں اور میرے والدین کی قربانی بھی ضرور کرتے ہیں جبکہ بدلے میں میں ان کی والدہ اور ان کے والد کے نام پر دو لوگوں کو حج پر بھیجتی ہوں اور ان کے والد اور ان کی والدہ قربانی کرتی ہوں الحمدللہ اج ابھی ہم دونوں میاں بیوی ویسے ہی محبت سے رہ رہے ہیں وہ محبت جو شادی کے پہلے دن سے تھی

میں اپنی کہانی میں اپ لوگوں کو فقط اتنا بتانا چاہتی ہوں کہ جو لوگ اپ کو اپ کے والدین کے خلاف گمراہ کرتے ہیں وہ لوگ کبھی بھی اپ کے حق میں اچھے نہیں ہوتے اگر والدین میں سے بھی کوئی ایگ أپ کو دوسرے کے خلاف کرے تو بات کی تحقیق کر کے فیصلہ کرنا میری طرح بیس سال حقیقت جانے بنا نہ گزار دینا

اختتام

بہترین تحاریر کے لئیے

20/02/2024

میری نیند آ.. میری بات سُن
میری التجاء، میری آہ سُن...
میری آنکھ کے سبھی راستے
تیری آہٹوں کو ترس گئے
تیری راحتوں کو ترس گئے
تیری بے رخی کی ہے انتہا
تیرے ہجر میں کٹی رات سُن
میری نیند آ... میری بات سُن
تجھے کیا خبر، کئی خواب ہیں
تیری راہ میں کھڑے منتظر...
تری چاہ میں ہوئے منتشر
جنہیں تیری کب سے تلاش ہے
انہی بانجھ آنکھوں کی راہ چُن
میری التجاء، میری آہ سُن....
کئی وسوسے، تجھے گَھیر کر
کہیں دُور لے کر چلے گئے
یوں قصور دے کر چلے گئے
میں نے دی صدا، یہ کہا بھی تھا
زرا رُک تو جا.....۔میری بات سُن
میری نیند آ..... میری بات سُن
تری منتظر جو بِچھائی ہیں
وہی پلکیں دیتی ہیں واسطہ
کبھی بھول آ تُو بھی راستہ...
بھلا یوں بھی جاتے ہیں توڑ کر؟
کُھلے در کو ایسے ہی چھوڑ کر؟
میری آنکھ کے سوالات سُن
میری نیند آ... میری بات سُن
یہاں قحط نیندوں کے پڑ گئے
گویا بخت آنکھوں کے مر گئے
کبھی مُوندھ کر کبھی کھول کر
نہ تھکا اِنہیں یونہی رول کر...
اب لوٹ آ.... یوں سُلا مجھے
میرے خواب سے تُو مِلا مجھے
جو بچھڑ گئے ہیں دِکھا مجھے
جسے چھوڑ کر تُو چلا گیا
اُسی آنکھ کے سبھی راستے
تیری آہٹوں کو ترس گئے.....!!

16/12/2023

تحریر عبد الواسع آذاد
والدین کی یاد میں لکھے گئے الفاظ ہمیشہ دل کو چھو لیتے ہیں، کیونکہ وہ ہماری زندگی کی بنیاد اور ہماری شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ دونوں کی محبت کی گونج میرے دل میں ہمیشہ باقی رہے گی، جیسے چراغ کی روشنی رات کے اندھیرے کو مات دے دیتی ہے۔ آپ کی تربیت، آپ کی دعائیں، اور آپ کی قربانیاں میری زندگی کے ہر موڑ پر میرے ساتھ ہیں۔""والدین کی محبت کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ آپ کی غیر موجودگی میرے وجود کو سنسان کر دیتی ہے، لیکن آپ کی یادیں میرے دل کی دھڑکنوں میں بسی ہوئی ہیں۔""زندگی کے سفر میں آپ کی دی ہوئی ہر تعلیم، ہر نصیحت، اور ہر محبت کا شکریہ۔ آپ دونوں کی کمی کو محسوس کرنا میرے لیے ہر روز کی جدوجہد ہے۔""آپ کے بغیر یہ دنیا خالی خالی سی لگتی ہے، لیکن آپ کی دی ہوئی یادوں کا خزانہ میرے دل کی گہرائیوں میں محفوظ ہے۔ آپ کی یاد میرے لیے ایک روشن مینار کی طرح ہے جو میری راہوں کو منور کرتی ہے۔""آپ کی تعلیمات اور آپ کی دعائیں میرے لیے ایک قیمتی ورثہ ہیں جو میں اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل کروں گا۔ آپ دونوں کی یاد میرے لیے ایک امانت ہے جسے میں ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گا۔"

16/12/2023

میرے پیارے بیٹے،جب سے تمہارے دادا ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں، ہر گزرتا دن ان کی یادوں کے سائے میں ڈھلتا جا رہا ہے۔ وہ نہ صرف تمہارے دادا تھے بلکہ میرے مرشد، میرے رہنما، میرے سب کچھ تھے۔ ان کی باتوں میں حکمت کی گہرائیاں تھیں، ان کی ہنسی میں زندگی کی خوشیاں تھیں، اور ان کی محبت میں وہ سکون تھا جو دنیا کی کسی بھی دولت سے زیادہ قیمتی تھا۔تمہارے دادا کی یادیں میرے دل کے سب سے گہرے کونے میں محفوظ ہیں۔ وہ لمحے جب وہ تمہاری معصوم ہنسی پر ان کی آنکھوں میں جو چمک آتی تھی، وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ان کی زندگی کا ہر دن ایک مثال تھا، ایک سبق تھا کہ کیسے عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزاری جاتی ہے۔ ان کی محبت، ان کی دعائیں، ان کی قربانیاں ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔میرے بیٹے، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اپنے دادا کی طرح بنو، ان کی اچھائیوں کو اپناؤ، ان کی دیانتداری، ان کی محنت، ان کی صبر و تحمل کی قدر کرو۔ ان کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن چراغ کی مانند ہے جو ہمیں راہ دکھاتا ہے۔آج بھی جب میں رات کو آسمان کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے وہ ستارے جو سب سے زیادہ روشن ہوتے ہیں، وہ تمہارے دادا کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی روشنی ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے، ہمیں رہنمائی دیتی ہے، ہمیں حوصلہ دیتی ہے۔میرے بیٹے، ہمیشہ یاد رکھنا کہ زندگی کتنی بھی مشکل کیوں نہ ہو، تمہارے دادا کی دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کی محبت، ان کی قربانیاں، اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔تمہارے دادا کی محبت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم ان کی یادوں کو اپنے دل میں بسا کر رکھو اور ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤ۔تمہارا بابا
تحریر عبد الواسع آذاد

27/11/2023

سبق اموز!
ایک دن ایک کتا جنگل میں بھٹک گیا تبھی اس نے دیکھا کہ ایک شیر اس کی طرف آ رہا ہے
کتے کی سانس رک گئی،

آج_تو_کام_تمام_میرا......

پھر اس نے اپنے سامنے کچھ ہڈیاں پڑی دیکھیں، وہ آتے ہوئے شیر کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا اور ایک سوکھی ہڈی کو چوسنے لگا، اور زور زور سے بولنے لگا،

*واہ شیر کو_کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے....*

*ایک اور مل جائے تو پوری دعوت ہو جائے،* اور اس نے زور سے ڈکار ماری، اس بار شیر سوچ میں پڑ گیا،
اس نے سوچا...
*،، یہ کتا تو شیر کا شکار کرتا ہے جان بچا کر بھاگنے میں ہی بھلائی ہے*، اور شیر وہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا،

درخت پر بیٹھا ایک بندر یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا، اس نے سوچا یہ اچھا موقع ہے، شیر کو پوری کہانی بتا دیتا ہوں، شیر سے دوستی بھی ہو جائے گی اور اس سے زندگی بھر کے لیے جان کا خطرہ بھی دور ہو جائے گا، وہ فٹا فٹ شیر کے پیچھے بھاگا.

کتے نے بندر کو جاتے ہوئے دیکھ لیا اور سمجھ گیا کہ کوئی گڑبڑ ہے....!

ادھر بندر نے شیر کو پوری کہانی بتا دی کہ کس طرح کتے نے اسے بیوقوف بنایا ہے، شیر زور سے دھاڑا، چل میرے ساتھ ابھی اس کا قلعہ قمع کرتا ہوں، اور بندر کو اپنی پیٹھ پر بیٹھا کر شیر کتے کی طرف چل پڑا...

کتے نے شیر کو آتے دیکھا تو پھر ایک بار کتے کو جان کی بن آئی، مگر پھر ہمت کر کے کتا اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گیا،
اور زور زور سے بولنے لگا،
بندر کو بھیجے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا

نکما_ایک_شیر_پھنسا_کر_نہیں_لا_سکتا

یہ سنتے ہی شیر نے بندر کو پٹک دیا اور واپس پیچھے بھاگا
یہ تو تھا مذاق اب اصل بات کی طرف آتے ہیں

مشکل وقت میں اپنے اعتماد پر قابو رکھیں گھبرائیں نہیں
ہر مشکل کا حل نفسیات و حواس کو نارمل رکھنے میں ہے

15/10/2023

ایک نامعلوم ڈائری سے۔
میری وفات کے بعد۔۔۔
موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔
اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔
دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔
لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔
رہے دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں انہیں پریشان کرنے کی کوئی تُک نہ تھی.
میں میری بیوی گھر پر تھے اور ایک ملازم جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا جاتا تھا۔
عصر ڈھلنے لگی تو مجھے محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے اپنی پرانی ڈائری نکالی، بیوی کو پاس بٹھا کر رقوم کی تفصیل بتانے لگا جو میں نے وصول کرنا تھیں اور جو دوسروں کو ادا کرنا تھیں۔
بیوی نے ہلکا سا احتجاج کیا:
” یہ تو آپ کی پرانی عادت ہے ذرا بھی کچھ ہو تو ڈائری نکال کر بیٹھ جاتے ہیں“
مگر اس کے احتجاج میں پہلے والا یقین نہیں تھا۔ پھر سورج غروب ہوگیا۔ تاریکی اور سردی دونوں بڑھنے لگیں۔ بیوی میرے لیے سُوپ بنانے کچن میں گئی۔ اس کی غیر حاضری میں مَیں نے چند اکھڑی اکھڑی سانسیں لیں اور........... میری زندگی کا سورج غروب ہو گیا۔
مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔
بیوی سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی. یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔
لاہور والی بیٹی رات کے پچھلے پہر پہنچ گئی تھی۔ کراچی سے چھوٹی بیٹی اور میاں صبح کی پہلی فلائیٹ سے پہنچ گئے۔
بیٹے تینوں بیرون ملک تھے وہ جلد سے جلد بھی آتے تو دو دن لگ جانے تھے۔ دوسرے دن عصر کے بعد میری تدفین کر دی گئی۔
شاعر، ادیب، صحافی، سول سرونٹ سب کی نمائندگی اچھی خاصی تھی۔ گاؤں سے بھی تقریباً سبھی لوگ آ گئے تھے۔ ننھیا ل والے گاؤں سے ماموں زاد بھائی بھی موجود تھے۔
لحد میں میرے اوپر جو سلیں رکھی گئی تھیں مٹی ان سے گزر کر اندر
آ گئی تھی۔ بائیں پاؤں کا انگوٹھا جو آرتھرائٹس کا شکار تھا، مٹی کے بوجھ سے درد کر رہا تھا۔
پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔
شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔
یہ کیفیت ختم ہوئی۔
محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں تمہیں فوت ہوئے ۔
پھر فرشتوں نے ایک عجیب پیشکش کی:
” ہم تمہیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم وہاں دنیا میں کسی کو نظر نہیں آؤ گے. گھوم پھر کر اپنے پیاروں کو دیکھ لو،
پھر اگر تم نے کہا تو تمہیں دوبارہ نارمل زندگی دے دیں گے ورنہ واپس آ جانا “
میں نے یہ پیشکش غنیمت سمجھی اور ہاں کر دی۔
پھر ایک مدہوشی کی حالت چھا گئی۔ آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ راستے میں کرنل صاحب کو دیکھا۔ گھر سے باہر کھڑے تھے۔ اتنے زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔ خواجہ صاحب بیگم کے ساتھ واک کرنے نکل رہے تھے۔
اپنے مکان کے گیٹ پر پہنچ کر میں ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی غائب تھی۔ پورچ میں گاڑی بھی نہیں کھڑی تھی۔ وفات سے چند ہفتے پہلے تازہ ماڈل کی خریدی تھی دھچکا سا لگا۔
گاڑی کہاں ہوسکتی ہے؟
بچوں کے پاس تو اپنی اپنی گاڑیاں تھیں تو پھر میری بیوی جو اب بیوہ تھی، کیا گاڑی کے بغیر تھی؟
دروازہ کھلا تھا۔ میں سب سے پہلے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا۔ یہ کیا؟
کتابیں تھیں نہ الماریاں
رائٹنگ ٹیبل اس کے ساتھ والی مہنگی کرسی، صوفہ، اعلیٰ مرکزی ملازمت کے دوران جو شیلڈیں اور یادگاریں مجھے ملی تھیں اور الماریوں کے اوپر سجا کر رکھی ہوئی تھیں۔ بے شمار فوٹو البم، کچھ بھی تو وہاں نہ تھا۔
مجھے فارسی کی قیمتی ایران سے چھپی ہوئی کتابیں یاد آئیں، دادا جان کے چھوڑے ہوئے قیمتی قلمی نسخے، گلستان سعدی کا نادر نسخہ جو سونے کے پانی سے لکھا ہوا تھا اور دھوپ میں اور چھاؤں میں الگ الگ رنگ کی لکھائی دکھاتا تھا.
داداجان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ یوں لگتا تھا، گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا. سامنے والی پوری دیوار پر جو تصویر پندرہ ہزار روپے سے لگوائی تھی وہ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی.
میں پژمردہ ہوکر لائبریری سے باہر نکل آیا۔ بالائی منزل کا یہ وسیع و عریض لاؤنج بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا؟
اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے چکوال سے رنگین پایوں والے سُوت سے بُنے ہوئے چار پلنگ منگوا کر اس لاؤنج میں رکھے تھے شاعر برادری کو یہ بہت پسند آئے تھے وہ غائب تھے۔
نیچے گراؤنڈ فلور پر آیا، بیوی اکیلی کچن میں کچھ کر رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھا۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی تھی میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں کے درد کا کیا حال ہے؟
ایڑیوں میں بھی درد محسوس ہوتا تھا۔ دوائیں باقاعدگی سے میسر آرہی تھیں یا نہیں؟
میں اس کے لیے باقاعدگی سے پھل لاتا تھا۔ نہ جانے بچے کیا سلوک کر رہے ہیں؟
مگر... میں بول سکتا تھا نہ وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔
اتنے میں فون کی گھنٹی بجی بیوی بہت دیر باتیں کرتی رہی۔ جو اس طویل گفتگو سے میں سمجھا یہ تھا کہ بچے اس مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ ماں نے مخالفت کی کہ وہ کہاں رہے گی۔ بچے بضد تھے کہ ہمارے پاس رہیں گی.
میری بیوی کو میری یہ نصحیت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر وہ بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی۔
گاڑی کا معلوم ہوا کہ بیچی جاچکی تھی۔ بیوی نے خود ہی بیچنے کے لیے کہا تھا کہ اسے ایک چھوٹی آلٹو ہی کافی ہو گی۔
اتنے میں ملازم لاؤنج میں داخل ہوا۔
یہ نوجوان اب ادھیڑ عمر لگ رہا تھا۔
میں اس کا لباس دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ اس نے میری قیمتی برانڈڈ قمیض جو ہانگ کانگ سے خریدی تھی پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جس کا فیبرک میں نے اٹلی سے خریدی تھی. اچھا... تو میرے بیش بہا ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے تھے.
میں ایک سال لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر سب کو دیکھتا رہا۔
ایک ایک بیٹے بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم کا یعنی میرا ذکر آتا وہ بھی سرسری سا۔
ہاں...
زینب، میری نواسی اکثر نانا ابو کا تذکرہ کرتی۔ ایک دن ماں سے کہہ رہی تھی:
” اماں... یہ بانس کی میز کرسی نانا ابو لائے تھےنا جب میں چھوٹی سی تھی اسے پھینکنا نہیں“
ماں نے جواب میں کہا:
” جلدی سے کپڑے بدل کر کھانا کھاؤ پھر مجھے میری سہیلی کے گھر ڈراپ کردینا“
میں شاعروں ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے جیسے بھول ہی تو چکے تھے۔
اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں بھی الماری سے ہٹا دی تھیں۔
ایک چکر میں نے قبرستان کا لگایا۔
میری قبر کا برا حال تھا. گھاس اگی تھی۔ کتبہ پرندوں کی بیٹوں سے اٹا تھا۔ ساتھ والی قبروں کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔
ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ زرہ بھر بھی نہیں.
بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے پوتے نواسے پوتیاں سب مجھے بھول چکے تھے ۔
ادبی حلقوں کے لیے میں اب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ جن بڑے بڑے محکموں اور اداروں کا میں سربراہ رہا تھا وہاں ناموں والے پرانے بورڈ ہٹ چکے تھے۔
دنیا رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی۔ گھر میں نہ باہر. پھر تہذیبی، معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں تیزی سے آ رہی تھیں اور آئے جا رہی تھیں.
ہوائی جہازوں کی رفتار چار گنا بڑھ چکی تھی۔ دنیا کا سارا نظام سمٹ کر موبائل فون کے اندر آ چکا تھا۔ میں ان جدید ترین موبائلوں کا استعمال ہی نہ جانتا تھا۔
فرض کیجئے،
میں فرشتوں سے التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں بھی ویلکم نہ کہا جاتا. بچے پریشان ہو جاتے ، ان کی زندگیوں کے اپنے منصوبے اور پروگرام تھے جن میں میری گنجائش کہیں نہ تھی.
ہو سکتا تھا کہ بیوی بھی کہہ دے کہ تم نے واپس آ کر میرے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ مکان بک چکا،
میں تنہا تو کسی بچے کے پاس رہ لیتی، دو کو اب وہ کہاں سنبھالتے پھریں گے.
دوست تھوڑے بہت باقی بچے تھے۔
وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ کے مراحل طے کر رہے تھے. میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ نئے لباس میں پیوند کی طرح۔
جدید بستی میں پرانے مقبرے کی طرح.
میں نے فرشتے سے رابطہ کیا اور اپنی آخری خواہش بتا دی۔ میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں.
فرشتہ مسکرایا۔ اس کی بات بہت مختصر اور جامع تھی:
”ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا، وہ کبھی بھرا نہیں جا سکے گا مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا “
-------------
ہمارے سبھی کے دماغوں میں بھی یہی سوچ ہے کہ یہ گھر، یہ کاروبار، یہ نوکری، یہ دنیا کی، گھر کی، بچوں کی ضرورتیں اور سارے کام کاج میری وجہ سے ہی جاری ہیں.اگر میں نہ رہا تو دنیا کی گردش رک جائے گی۔۔۔
مگر صرف ایک پل کو صرف ایک پل کو سوچئے ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔ دنیا تو ہمارے سے پہلے جانے والوں کے بغیر بھی چل رہی ہے اور ہمارے جانے کے بعد بھی یوں ہی چلتی رہے گی۔
اک خیال ہے، سراب ہے، وہم ہے، گماں ہے اور بس کچھ بھی نہیں۔۔۔کچھ بھی نہیں۔
سلامت اور آباد رہئے۔

08/10/2023

السلام وعلیکم آپ سب سے گزارش ہے ایک دفعہ یہ ضرور پڑھیں ہم بندوق لے کر نہیں جا سکتے فلسطین لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم بطور مسلمان اُن کی حمایت کا اعلان کریں اور سوشل میڈیا پر اُن کی آواز بنیں تا کہ ہماری حکومت اور اداروں کی ایمانی غیرت جاگ جائے اور شاید روز محشر یہی ہماری نجات کا ذریعہ بنے
جس طرح امریکہ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے اسی طرح ہم اپنے ملک پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی فلسطین کی حمایت کا اعلان کرے اور اُن کی امداد بھی کرے

11/09/2023

:

ایک دن بیوی اپنے شوہر سے لڑ رہی تھی کہ چوبیس گھنٹے آن ڈیوٹی ہوتی ھوں،
گھر کے کام ختم ہی نہیں ہوتے
لیکن دکھ اس بات کا ھے کہ
آپ کی طرح نہ تو کبھی سالانہ انکریمنٹ لگتی ھے اور نہ ہی پروموشن ہوتی ھے. 🤔

شوہر نے کہا میری انکریمنٹ لگے
یا پروموشن ھو،
ظاہر ہے سب کچھ تمہارا ہی ھے لیکن پھر بھی تمہارے دونوں گِلے دور کر دیتا ھوں. 🙂
ہر سال تمہاری پاکٹ منی میں ایک ہزار کا اضافہ ہو گا... 💵

بیوی نے ہنستے ہوئے کہا کہ ڈن ہو گیا، اب پروموشن کی بات کریں. 😁
شوہر نے کہا میری کسی 22/20 سالہ دو شیزہ سے شادی کرا دو. 👩
تم سینئر ھو جاؤ گی اور وہ جونئیر ! 😜

اب بیوی پروموشن لینے سے انکاری ھے اور شوہر انکریمنٹ دینے سے!!! 🥴

06/09/2023

ایک پانی سے بھرے برتن میں ایک زندہ مینڈک ڈالیں اور پانی کو گرم کرنا شروع کریں
جیسے ہی پانی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو گا ، مینڈک بھی اپنی باڈی کا درجہ حرارت پانی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گا اور تب تک کرتا رہے گا جب تک پانی کا درجہ حرارت "بوائلنگ پوائنٹ" تک نہیں پہنچ جاتا ۔۔۔۔
جیسے ہی پانی کا ٹمپریچر بوائلنگ پوائنٹ تک پہنچے گا تو مینڈک اپنی باڈی کا ٹمپریچر پانی کے ٹمپریچر کے مطابق ایڈجسٹ نہیں کر پائے گا اور برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا لیکن ایسا کر نہیں پائے گا کیونکہ تب تک مینڈک اپنی ساری توانائی خود کو "ماحول کے مطابق" ڈھالنے میں صرف کر چکا ہو گا
بہت جلد میندک مر جائے گا۔۔۔
یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے
"وہ کونسی چیز ہے جس نے مینڈک کو مارا؟"
سوچیئے!
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے اکثر یہ کہیں گے کہ
مینڈک کو مارنے والی چیز وہ " انسان" ہے جس نے مینڈک کو پانی میں ڈالا
یا پھر کچھ یہ کہیں گے کہ
مینڈک اُبلتے ہوئے پانی کی وجہ سے مرا۔۔۔
لیکن،
سچ یہ ہے کہ مینڈک صرف اس وجہ سے مرا کیونکہ وہ وقت پر جمپ کرنے کا فیصلہ نہ کر سکا اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں لگا رہا ۔۔۔
پاکستان کے عوام کا بھی یہی حال ہے ہر بندہ پریشان ہے مہنگائی سے بجلی کے بلوں سے روز مرہ کی ضروریات سے لیکن خاموش ہیں بس گردن جھکا کر انتظار میں ہیں کہ ہمارا باڈی ٹمپریچر جب تک برداشت کرتا ہے کرتے رہو۔۔۔
کیونکہ بحثیت قوم ہم غلام ہیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

Karachi
KARACHI