Asif Raza

Asif Raza

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Asif Raza, Education, R-10, Ibrahim Villas Phase-1, Jamia millia Road, Malir, Karachi.

07/10/2023

صدر پاکستان،
وزیراعظم پاکستان،
چیف جسٹس آف پاکستان
ہائی کورٹس کے چیف جسٹس

جناب، میں پاکستان کے پیشہ ور افراد اور تاجروں کی جانب سے لکھ رہا ہوں۔

ہم ٹیکس چوری نہیں کر رہے ہیں۔ ہم اپنے خاندانوں کے لیے بنیادی چیزیں حاصل کرنے کے لیے ٹیکس بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

1. ہم جنریٹر/انورٹر/یو پی ایس/سولر سسٹم خریدتے ہیں کیونکہ حکومت قابل اعتماد بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

2. ہم اپنے صاف پانی کا نظام خود نصب کرتے ہیں کیونکہ حکومت پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

3. ہم سیکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور سی سی ٹی وی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ حکومت ہماری حفاظت کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے ( مسلح اسکارٹس کے ساتھ سفر کرنے والے سیاستدان ہمارے پیسوں سے یہ سہولت حاصل کرتے ہیں)

4. ہم اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں اس لیے بھیجتے ہیں کہ حکومت اچھے اسکول فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے (سیاستدانوں اور عہدیداروں کے بچوں کی اسکول کی فیسوں کی ادائیگی بھی حکومتی سرپرستی میں ہوتی ہیں)

5. ہم پرائیویٹ ہسپتالوں میں جاتے ہیں کیونکہ حکومت معقول طبی دیکھ بھال فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ (عوامی پیسہ سرکاری وزراء اور ان کے ساتھیوں کے علاج کے لیے کسی دوسرے ملک جانے کا پورا بل ادا کرتا ہے)

6. ہم ذاتی سواری خریدتے اور دیکھ بھال کرتے ہیں کیونکہ حکومت معقول پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

آخر کار...
ٹیکس دہندہ کو ریٹائرمنٹ کے بدلے کیا ملتا ہے جب اسے زندہ رہنے کے لیے سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے؟
کچھ نہیں! سماجی تحفظ بھی نہیں۔ اس کا اپنا EPF اور ETF بھی حکومت نے غبن کیا ہے۔

ان کی زندگی بھر کی کمائی حکومت عوام کے ووٹ خریدنے کے لیے سبسڈی دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

حکومت ہمارے ٹیکس کے پیسے سے اور کیا کرتی ہے؟

- ایسی عدالتیں قائم کرتی ہے جو حکومت کے کہنے کے مطابق فیصلے دیں۔

-ایسے پولیس اسٹیشن چلاتی ھے جو بنیادی طور پر سیاست دانوں اور طاقتورکے لیے کام کرتے ہوں۔

-ایسے اسپتال چلاتے ہیں جو ضرورت مندوں کا علاج کرنے میں ناکام ہیں

ہمارے پیسے چوری کرنے کے لیے سڑکیں اور انفراسٹرکچر بنائیں وہ بھی ناقص

اور فہرست لامتناہی ہے...

اگر پاکستان کی حکومت بھی مہذب ممالک کی حکومتوں کی طرح مذکورہ بالا سہولیات فراہم کرے تو
کوئی کیوں ٹیکس ادا کرنے سے گریز کرے گا؟

ہم سب جانتے ہیں کہ ٹیکس کی پوری آمدنی حکام اور سیاستدانوں کی طرف سے غلط استعمال کی جاتی ہے (جبکہ انکے اپنے اربوں ڈالر غیر ملکی بینکوں میں پڑے ہیں)۔

ایک کاروبار 2% سے 10% کے مارجن پر کام کرتا ہے، جب کہ حکومت اس کی آمدنی کا 30% اپنے فضول خرچوں کو پورا کرنے کے لیے لیتی ہے۔ کیا یہ بالکل منصفانہ ہے؟

جناب اسی لیے پاکستانی ٹیکس نہیں دینا چاہتے۔

ہم اپنے ٹیکس کی رقم اپنی ضروریات کے لیے، اپنے بڑھاپے کے لیے، اپنی حفاظت اور سلامتی کے لیے بچاتے ہیں۔
یہ حکومت کی اپنی ذمہ داریوں کو منصفانہ اور مؤثر طریقے سے انجام دینے میں ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس کی ذمہ دار اکیلی حکومت ہے۔

*ایک محب وطن پاکستانی*

24/04/2019
29/04/2017

بیتی اللہ کی رحمت ہے
سائنسی ریسرچ سے یہ بات ثابت ھوئی ھے کہ
" لڑکیاں اپنے باپ سے محبت کو سننا اور محسوس کرنا چاھتی ھیں ، لڑکیاں باپ کی محبت کی توثیق چاھتی ھیں ، اس توثیق کی کمی کو ماں پورا نہیں کر سکتی ."
" ماں بچی کو تحفظ دیتی ھے ، باپ انکو خود اعتمادی دیتا ھے .
اگر اس تعلق کو دیکھنا ھو تو آئیے محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی سے مثالی محبت پر نظر ڈالتے ھیں ۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کو اتنی عزت دیتے کہ جب فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا چل کر آتیں تو اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر کھڑے ھو جاتے اور انکو بوسا دیتے اور مرحبا کہہ کر استقبال فرماتے تھے ۔
( سیر اعلام النبلاء 127/2)
ایک مرتبہ سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا نے روٹی بنائی ، جب روٹی کھانے لگیں تو دل میں خیال آیا کہ پتہ نہیں میرے والد گرامی نے بھی کچھ کھایا ھے یا نہیں ، سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا نے روٹی کے دو ٹکڑے کئے ، آدھا خود کھایا اور آدھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ھوئیں ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے استقبال فرمایا اور پوچھا کہ کیسے آنا ھوا ؟ عرض کیا کہ ابا حضور ! میں روٹی کھانے لگی تو خیال آیا کہ پتہ نہیں آپ نے کچھ تناول فرمایا ھے یا نہیں
، آپ کے لئے آدھی روٹی لیکر حاضر ھوئی ھوں.
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی کا ٹکڑا منہ میں ڈالا اور فرمایا : آج تیسرا دن ھے تیرے والد کے منہ میں روٹی کا کوئی ٹکڑا نہیں گیا.
( طبقات ابن سعد 400/1 ، سبل الہدی والرشاد 94/7 )
ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بہت بھوک محسوس فرما رھے تھے ، آپ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے ، انہوں نے بکری ذبح کر کے گوشت پکایا اور حاضر خدمت کیا ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ نے بکری کی ران سے گوشت کاٹا اور حضرت ابو ایوب انصاری سے فرمایا : مجھے نہیں معلوم کہ میری بیٹی نے کچھ کھایا ھے یا نہیں ، یہ گوشت میری طرف سے میری بیٹی کو پہنچا دیں
( سبل الہدی والرشاد 103/7 )
اسلام نے بیٹی کو معاشرے میں جو حقوق اور مقام دیا ھے وہ صرف اسلام ھی کا خاصہ ھے
بیٹی کو بوجھ سمجھنا، اسکے حقوق پر ڈاکے ڈالنا، اسکو وراثت سے محروم کرنا اور اسکے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ھر گز اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا ۔
افسوس کہ ھم نے اپنے مثالی معاشرے کو بھلا دیا اور مغرب زدہ پھیکے اور بے رونق معاشرے کے گرویدہ ھوگئے جو مادی ترقی کے باوجود حقیقی محبت اور حسن معاشرت کی ناگزیر نعمت سے محروم ھے .

Photos 29/04/2017

Zindagi

Photos 28/04/2017

خیال کریں یہ بچے آپ کے ہیں

05/04/2017

محبت اور شادی

ایک بار ایک لڑکا اپنی ایک ٹیچر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہوتا ہے؟ وہ بولی کہ اس کا جواب میں تمہیں ایک تجربے کی روشنی میں سکھاؤں گی۔ ایک گندم کے کھیت میں جاؤ اور وہاں سے گندم کا ایک ایسا خوشہ توڑ کر لاؤ جو تمہیں سب سے بڑا اور شاندار لگے پر ایک شرط ہے کہ ایک بار آگے چلے گئے تو کھیت میں واپس جا کر کوئی پرانا گندم کا خوشہ نہیں توڑ سکتے، مثال کے طور پر تم نے ایک بہت بڑا خوشہ دیکھا

لیکن تمہیں لگے کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اور تم اس کو چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہو اور آگے کوئی خوشہ اس جتنا بڑا نہیں ملتا تو اب تم واپس لوٹ کر اس والے کو نہیں لے سکتے۔وہ گیا اور بغل والے کھیت میں چھانٹی کرنے لگا، ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ چوتھائی کھیت میں چھانٹی کر کے اس کو بہت سے بڑ ے بڑے گندم کے خوشے نظر آئے لیکن اس نے ان میں سے کسی کو چننے کے بچائی سوچا کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اس میں اس سے بھی بڑے مل جائیں گے، جب اس نے سارا کھیت دیکھ لیا تو آخر میں اس کو سمجھ آئی کہ بالکل شروع میں جو خوشے اس نے دیکھے تھے وہی سب سے بڑے بڑے تھے اور اب وہ واپس تو جا نہیں سکتا تھا، سو وہ اپنی میڈم کے پاس خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔اس کی میڈم نے پوچھا کہ کدھر ہے سب سے بڑا گندم کا خوشہ، وہ بولا کہ میں آگے نکل گیا تھا اس امید میں کہ شاید کوئی اور بہتر والا مل جائے گا مگر جب تک سمجھ آیا ، میں آگے آگیا تھا اور واپس تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ اس کی میڈم نے بولا کہ بیٹے سمجھ جاؤ کہ یہ معاملہ ہی محبت میں ہوتا ہے، آپ جوان ہوتے ہو، کم سن اور پر جوش بہتر سے بہتر کی تلاش میں ایک عمر گزار دیتے ہو تو پتہ چلتا ہے کہ جو بیچ میں چھوڑ دیے تھے وہی لوگ اصل میں بہت انمول تھے لیکن اب آپ ان کو واپس حاصل نہیں کر سکتے تو پچھتاتے ہو۔ اب ایک کام کرو ساتھ والے چھلی کے کھیت میں جاؤ اور ادھر سے سب سے بڑی چھلی لے کر آؤ جو تمہیں مطمئن کر سکتی ہو۔وہ گیا اور لگا مکئی کے کھیت کی چھانٹی کرنے۔ ابھی تھوڑا ہی کھیت دیکھا تھا کہ ایک درمیانی چھلی اس کو ٹھیک لگی اور اس نے سوچا کہ پھر پہلے والی غلطی نہ کر بیٹھوں، تو وہ اسی کو لے آیا۔ میڈم نے بولا اب کی بار آپ خالی ہاتھ نہیں لوٹے؟ اس نے بولا، مجھے لگا کہ اس سے بڑی بھی ہوں گی مگر میرے لیے یہی بہتر تھی اور اگر آگے اس سے بھی چھوٹی ہوتیں تو میں واپس بھی تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ میڈم بولی: یہ ہے شادی کا معاملہ، جو آپ کو ایسی لگے کہ یہ مجھے مطمئن کر رہی ہے، اس کا سب سے شاندار ہونا ضروری نہیں، اور یہ بات ہمیشہ آپ کو آپ کی ماضی کی محبتوں کے تجربے سکھاتے ہیں۔ اب آپ سمجھے کہ محبت اور شادی میں کیا فرق ہوتا ہے۔

Photos 22/03/2017

Walid Ki Faryad

13/03/2017

ابلیس خود ہاتھوں میں چراغ اٹھائے اسے مسجد چھوڑ گیا

ایک شخص صبح سویرے اٹھا صاف ستھرے کپڑے پہنے اور مسجد کى طرف چل پڑا کے فجر کى نماز باجماعت ادا کروں،راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑا اور سارے کپڑے کیچڑ سے بھر گئے واپس گھر آیا لباس بدل کر واپس مسجد کى طرف روانہ ہوا پھر ٹھیک اسی مقام پر ٹھوکر کھا کر گِرا اور کپڑے گندے ھو گئے پھر واپس گھر آیا اور لباس بدل کر دوباره مسجد کو روانہ ہوا،جب تیسری مرتبہ اس مقام پہ پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص چراغ ہاتھ میں لے کر



کھڑا ہے اور اسے اپنے پیچھے چلنے کو کہہ رہا ہے وه شخص اسے مسجد کے دروازے تک لے آیا،پہلے شخص نے اسے کہا کہ آپ بھى آ کر نماز پڑھ لیں، وه خاموش رہا اور چراغ ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا لیکن مسجد کے اندر داخل نہیں ہوا دو تین بار انکار پر اُس نے پوچھا کے آپ مسجد آ کر نماز کیوں نہیں پڑھ لیتے ۔ دوسرے شخص نے کہا اس لیے کے میں ابلیس ہوں۔ پہلے شخص کى حیرانگی کی انتہا نہ تھى جب اس نے یہ سُنا ،،،شیطان نے اپنی بات جارى رکھى۔ یہ میں ہى تھا جس نے تمہیں زمین پر گِرایا جب تم نے واپس گھر جا کر لباس تبدیل کیا اور دوبارہ مسجد کى جانب روانہ ہوئے تو اللہ نے تمہارے سارے گناہ بخش دیے جب میں نے دوسرى مرتبہ تمہیں گِرایا اور تم دوبارہ لباس پہن کر مسجد کو روانہ ہوئے تو اللہ نے تمہارے سارے خاندان کے گناہ بھى بخش دیے۔ میں ڈر گیا کے اگر اب میں نے تمہیں گِرایا اور تم دوباره لباس تبدیل کر کے مسجد کى طرف چلے تو کہیں اللہ تمہارے سارے گاؤں کے باشندوں کے گناہ نہ بخش دے اسى لیے میں خود تمہیں مسجد تک چھوڑنے آیا۔

13/03/2017

میری محبت

اک دن میں اس گلی سے گزرا جہاں بچپن کی یادیں بسی ہوئی تھیں اکثر چھپنے میں اس گلی کی جانب آتا. میں اپنے دوست کے ہمراہ اس گلی سے گزر رہاتھا، تو میری آنکھیں اس اجنبی دروازہ پر گئیں جہاں اک لڑکی کھڑی تھی میں اسے دیکھتے ہی دیکھتا رہ گیا،نجانے کیوں ۔اس کی تصویر نقش کرگئی میرے دل و دماغ میں. ایسا محسوس ہونا لگا مجھے سکون دینے والوں میں اک یہ وجود بھی ہیں. اس اجنبی کو دیکھ کر مجھے اپنائیت محسوس ہونےلگی اس آئینہ



نما آنکھوں میں مجھے اپنی صورت نظر آنے لگی. اسے دیکھنےکے بعد میرا چین و سکون نجانے کہاں کھو گیا. میں انجانا سا ہوگیا اپنوں کے بیچ رہ کربھی . ہر روز میں اس گلی سے گزرتا اسے دیکھنے کے لئے. بس اسی جستجو میں تھا کسی نا کسی طرح اس شخص سے ملاقات کرلو. اسے اپنا حال سنا سکو. اکثر سوتے وقت میں انہیں سوالوں سے الجھا رہتا جو بچپن سے لڑکپن میں آتے وقت میرے دماغ میں ابھرتے تھے . کیا ہے محبت ؟ کیوں ہوتی ہے محبت ؟ کس طرح ہوتی ہے محبت ؟ میں اب بھی ان سوالوں کے جواب نہیں جانتا یوں کہہ دو میں اب بهی اس علم سے محروم ہو جو محبت کا خلاصہ بیان کرسکے. اس گلی سے گزرنا میرا معمول بنا چکا تھامیں اسی کوشش میں تھا کسی نا کسی طرح اس لڑکی اپنی جانب راغب کرو یا کوئی راستہ ڈھونڈو رابطہ کا. آخر کار میری یہ محبت رنگ لا گئی اور میں نے اس لڑکی سے رابطہ کا راستہ ڈھونڈ لیا. پہلے پہل تو میں ادهر ادهر کی باتیں کرنے لگا مگر کہنا کچھ اور ہی چاہتاتھا مگر کہہ نہیں پاتا. جیسے میں ایک افائج کی طرح سہارے کے لئے بهی کسی کا محتاج ہو . اک دن میں وہ تمام زنجیریں توڑ کر اس لڑکی سے اپنا اظہار خیال کردیا . اور وہ خاموش رہئی. بہت دنوں تک اسکا کوئی جواب نہیں آیا اور میں منتظر رہا کئی دنوں تک . میرے دل سے ہمیشہ یہی صدا آتی تھی کہ اسکا جواب آئے گا تو اپنے ساتھ خوشیاں پهولوں کی خوشبو بہار کی آمد بهی اپنے ساتھ ہی لائیں گا . میں قدرت سے دن رات منتے و دعا مانگتا رہا اس کا جواب آئے بهی تو اسی طرح آئے جس طرح میں سوچ رکھا. اپنا اظہار خیال کرنے کے بعد مجهے ایسا محسوس ہونے لگا کہ اب میں اس شخص کے بغیر مکمل نہیں . میرے وجود تو میرے پاس ہیں مگر روح اسکے وجود میں بستی ہیں . اک دن اسکا میسج آیا جلدی اپنے کمرے میں آجاو. میں نے حیرت سے پوچها کس کے اپنے یا تمهارے گهر کے . پهر اس نے کہا اپنے گهر کے. دل کی دھڑکنیں تیز رفتاری سے میرے قدموں کے ساتھ سیدها اوپر کمرے کی جانب جارہئے تهے اس وقت دل و دماغ میں کوئی سوال نہیں تها. میں کمرے تک پہنچا تو وہ شخص بیٹھی ہوئی تهی. مجهے دیکھ کر وہ اٹهی اور مجهے گلے لگا کر رونے لگی. میں خاموش کهڑا اسکے سسکیوں کی آواز سن رہا تها. یوں اس نے وہ جملے کہہ دئے جسے سننے کے لئے میں بیتاب تها کئی دنوں سے. بوسہ دیکھ کر وہ اپنے آنسو پونچھنے لگی. اس لڑکی نے مجھ سے کہا میں تم سے پیار کرتا ہو . ایک اور بوسہ دینے کے بعد پهر رونے لگی. میں خاموش کهڑا دیکھ رہا تها . پهر اسنے کہا مجهے بهول جاو اور وہ چلی گئی. میں آج تک بهول نا پایا اس لڑکی کو . اس دن میں نے جان لیا کہ محبت کیا چیز ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

R-10, Ibrahim Villas Phase-1, Jamia Millia Road, Malir
Karachi
78600