Maulana Ghulam Rasool

Maulana Ghulam Rasool GHULAM RASOOL

09/07/2026

آزاد کشمیر کا بحران:

مستقل پالیسی کی ضرورت اور عوامی بے چینی

کسی بھی ریاست کی بقا اور استحکام کا دارومدار اس کی واضح، پائیدار اور ٹھوس پالیسیوں پر ہوتا ہے۔ کشمیر کا معاملہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں، جذبوں اور بقا کا مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے لوگ سڑکوں پر ہیں، کاروبار زندگی معطل ہے اور عوامی بے چینی عروج پر ہے۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے کسی حتمی اور دور اندیش پالیسی کا نہ ہونا یا موجودہ اقدامات کا کارگر ثابت نہ ہونا حالات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان اور وقتی حل تلاش کرنے کی عادت نے ہمیشہ معاملات کو سلجھانے کے بجائے الجھایا ہے۔ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو وہ صرف احتجاج نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلا رہے ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں حکومتی سرد مہری یا روایتی بیانات سے حالات سدھرنے کے بجائے مزید دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے امن و امان کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔

حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر جیسے حساس ترین معاملے پر 'دیکھو اور انتظار کرو' کی پالیسی اب کام نہیں آ سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک ایسی جامع اور طویل المدتی حکمت عملی وضع کی جائے جس میں عوام کی امنگوں، معاشی استحکام اور بنیادی حقوق کا تحفظ شامل ہو۔

جب تک زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک جرات مندانہ اور واضح پالیسی نہیں بنائی جاتی، تب تک سڑکوں پر پھیلی یہ بے چینی ختم نہیں ہوگی۔ حکومت کو فوری طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ لیت و لعل سے کام لینے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اب بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اور ٹھوس فیصلے کیے جائیں تاکہ اس بحران کا مستقل اور پرامن حل نکالا جا سکے۔

چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن
شیخ غلام رسول

تاریخی انتخاب !الحمدللہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم بلا مقابلہ صدر وفاق المدارس العربیہ پاکس...
02/07/2026

تاریخی انتخاب !

الحمدللہ شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم بلا مقابلہ صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان منتخب ہو گئے۔
آپ کی قیادت دینی مدارس کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنے۔ اللہ تعالیٰ حضرت والا کو صحت و عافیت کے ساتھ دین کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول

معصومیت کا جنازہ اور ہمارا خاموش معاشرہابھی ابھی کراچی کے علاقے لانڈھی سے آنے والی خبر نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہ...
30/06/2026

معصومیت کا جنازہ اور ہمارا خاموش معاشرہ

ابھی ابھی کراچی کے علاقے لانڈھی سے آنے والی خبر نے روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک اور معصوم بچی درندگی کا شکار ہو گئی، ایک اور کلی کھلنے سے پہلے ہی مسل دی گئی، ایک اور ماں کی گود اجڑ گئی اور ہم؟ ہم ہمیشہ کی طرح صرف افسوس، مذمت اور پھر خاموشی کی چادر اوڑھنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ ہم کس رخ پر چل پڑے ہیں؟

جس معاشرے میں معصوم بچے اور بچیاں بھی محفوظ نہ ہوں، جہاں وحشت اور درندگی اس حد تک بڑھ جائے کہ انسان کہلانے والے بھیڑیے معصومیت کو نوچ ڈالیں، کیا اسے ایک زندہ معاشرہ کہا جا سکتا ہے؟ یہ صرف ایک معصوم بچی کا قتل نہیں ہے، یہ ہمارے قانون، ہماری سماجی اقدار، ہماری غیرت اور ہماری انسانیت کا قتل ہے۔

ہم کب تک تماشائی بنے رہیں گے؟

اب وقت صرف افسوس کرنے یا ٹویٹس اور پوسٹس تک محدود رہنے کا نہیں ہے۔ اگر آج ہم نے اس وحشت کے خلاف آواز بلند نہ کی تو کل کوئی اور معصوم اس درندگی کا نشانہ بنے گی۔

عبرت ناک سزا کا مطالبہ:

قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کیس پر فوری کارروائی کی جائے، قاتل اور درندے کو فی الفور گرفتار کر کے ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ آئندہ کسی بھی وحشی کو ایسی گھناؤنی حرکت کا سوچ کر بھی کانپ اٹھے۔

ہمیں بطور معاشرہ جاگنا ہوگا۔

اپنے بچوں کے تحفظ کے لیے، اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنے کے لیے اور ایسے درندوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ہمیں خود آگے بڑھنا ہوگا۔

کب تک ہماری بیٹیاں اس درندگی کی قربان گاہ پر چڑھتی رہیں گی؟

خدارا! اب بھی وقت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں۔ اس معصوم بچی کے خون کا انصاف صرف اس کے خاندان کا مسئلہ نہیں، یہ اس شہر، اس ملک اور اس معاشرے کے ہر باضمیر انسان کا امتحان ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں معصوم بچی کو انصاف دو، اور درندوں کو سرِعام پھانسی دو!
کا
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن
شیخ غلام رسول

انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول!کسی بھی مسلمان کے لیے اس کی زندگی میں سب سے بڑھ کر اور سب سے قیمتی چیز حرمتِ رسول ﷺ ہے...
28/06/2026

انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول!

کسی بھی مسلمان کے لیے اس کی زندگی میں سب سے بڑھ کر اور سب سے قیمتی چیز حرمتِ رسول ﷺ ہے۔ جیو نیوز جیسے ملک کے اتنے بڑے اور ذمہ دار میڈیا ادارے سے یہ ہرگز امید نہیں تھی کہ ان کے پلیٹ فارم سے (براہِ راست یا بالواسطہ) ایسے کسی مواد یا خاکوں کی تشہیر ہو جو کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنے۔

آزادیِ اظہارِ رائے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کسی کے مذہبی جذبات اور مقدسات کو ٹھیس پہنچائی جائے۔ ایک بڑا ادارہ ہونے کے ناطے جیو نیوز کی یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری تھی کہ وہ ایسے حساس مواد کو آن ایئر یا سوشل میڈیا پر لانے سے پہلے سخت چیک اینڈ بیلنس رکھتا۔

ہم اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور جیو نیوز کی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سنگین غلطی پر فوری طور پر کھل کر اور غیر مشروط معافی مانگی جائے اور ان ذمہ داران کا تعین کر کے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کی روک تھام کے لیے فل پروف فلٹرز لگائے جائیں۔

ہمارا احتجاج پرامن ہے، لیکن ہماری غیرتِ ایمانی اس قسم کی کسی بھی غفلت یا گستاخی کو برداشت کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن
شیخ غلام رسول



24/06/2026

9 اور 10 محرم الحرام کے روزوں کی فضیلت احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں بہت عظیم ہے، جسے مختصر اور جامع انداز میں یوں سمجھا جا سکتا ہے:

ایک سال کے گناہوں کا کفارہ:

رسول اللہ ﷺ سے جب عاشورہ (10 محرم) کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مجھے اللہ کی ذات پر امید ہے کہ یہ اگلے (گزشتہ) ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔" (صحیح مسلم)

رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ:

حضورِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔" (صحیح مسلم)

اہلِ کتاب کی مخالفت (9 اور 10 کا روزہ):

جب نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ یہودی بھی 10 محرم کا روزہ رکھتے ہیں، تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے حکم دیا کہ 10 کے ساتھ 9 محرم کا روزہ بھی رکھو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نو (9) محرم کا روزہ بھی ضرور رکھوں گا۔" (صحیح مسلم)

خلاصہ:

سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے (9 اور 10 محرم) (یا اگر نو کا نہ رکھ سکیں تو 10 اور 11 محرم) کا روزہ رکھنا پچھلے ایک سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی اور بے پناہ ثواب کا باعث ہے۔

چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن
شیخ غلام رسول

سندھ اسمبلی کا حالیہ اجلاس اس وقت شدید سیاسی محاذ آرائی اور کھلے ٹکراؤ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور م...
23/06/2026

سندھ اسمبلی کا حالیہ اجلاس اس وقت شدید سیاسی محاذ آرائی اور کھلے ٹکراؤ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان جاری کشیدگی اب باقاعدہ لڑائی جھگڑے اور بدترین ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر چکی ہے

دونوں جماعتوں کے ارکان کے درمیان ایوان کے اندر ہونے والی یہ تلخ کلامی اور شور شرابا اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اسمبلی کی معمول کی کارروائی چلانا بالکل ناممکن ہو گیا ہے اور عوامی مفاد کے اہم ترین منصوبے اس سیاسی جنگ کی نذر ہو رہے ہیں

ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ حکومت پر اختیارات کی عدم منتقلی اور شہری علاقوں کے ساتھ ناانصافی کے سنگین الزامات لگائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے پیپلز پارٹی کے وزرا ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن پر صرف سیاست چمکانے اور لسانی تفریق پیدا کرنے کا جوابی الزام عائد کر رہے ہیں

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جیسے ہی کسی بھی جماعت کا کوئی رکن بولنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مخالف سمت سے نعرے بازی اور ذاتی جملے بازی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایوان کو مچھلی بازار میں تبدیل کر دیتا ہے

اسپیکر اسمبلی کی تمام تر کوششوں اور بار بار مائیک بند کرنے کے باوجود دونوں اطراف کے ارکان قابو سے باہر دکھائی دیتے ہیں جس سے نہ صرف صوبے کی سب سے بڑی قانون ساز اسمبلی کا تقدس پامال ہو رہا ہے بلکہ عوام میں بھی شدید مایوسی پھیل رہی ہے

منجانب:
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول

مفتی محمد نعیم صاحب رحمہ اللہ کو ہم سے بچھڑے چھ برس مکمل ہوئے منجانبمولانا غلام رسول ایڈمنسٹریٹر، جامعہ بنوریہ عالمیہبسْ...
20/06/2026

مفتی محمد نعیم صاحب رحمہ اللہ کو ہم سے بچھڑے چھ برس مکمل ہوئے

منجانب

مولانا غلام رسول ایڈمنسٹریٹر، جامعہ بنوریہ عالمیہ

بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے، لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جنہیں وقت بھی نہیں بھر پاتا۔ آج ۲۰ جون ۲۰۲۶ء کو ہمارے استاد، اور محسنِ حضرت مفتی محمد نعیم صاحب رحمہ اللہ کو ہم سے بچھڑے چھ برس بیت چکے ہیں۔ چھ سال کا یہ عرصہ ان کی یادوں، ان کے اصولوں اور ان کی شفقتوں کے سائے میں گزرا، لیکن ان کی کمی کا احساس آج بھی پہلے دن کی طرح تازہ ہے۔

جب میں ماضی کے جھروکوں میں جھانکتا ہوں، تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ مجھے وہ دور یاد ہے جب آج کا یہ عظیم الشان جامعہ بنوریہ عالمیہ اس طرح نہیں تھا۔ یہ تو صرف ایک چھوٹا سا کمرہ تھا میں اس دور کے ان اولین شاگردوں میں سے ہوں جنہوں نے اس تپش اور سختی میں اپنے استاد کے عزم کو دیکھا۔ مفتی صاحب رحمہ اللہ کے پاس کوئی بڑی بساط نہ تھی مگر ان کے پاس ایک مخلص دل اور الٰہی عزم تھا۔ میں نے ان کے ساتھ علم بھی حاصل کیا اور اسی کچے کمرے سے اس عالمی ادارے کی بنیاد بنتے بھی دیکھا۔

حضرت مفتی صاحب رحم اللہ کا مجھ پر جو اعتماد اور شفقت تھی، وہ میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ تھا جامعہ کا کوئی بھی کام ہوتا، وہ فرماتے: "غلام رسول، یہ کام آپ نے کرنا ہے"۔ وہ اپنے بیشتر تنظیمی، تعلیمی اور انتظامی امور کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دیتے اور میں ان کے سائے میں رہ کر خود کو خوش قسمت تصور کرتا۔

ان کا مجھ پر یہ اعتماد صرف ادارے تک محدود نہ تھا، بلکہ جب ملک بھر سے لوگ اپنے ذاتی، خاندانی یا شرعی مسائل لے کر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے، تو حضرت بڑے پیار اور مان سے ان کی طرف اشارہ کر کے فرماتے: "آپ غلام رسول کے پاس چلے جائیں، یہ آپ کا مسئلہ حل کر دیں گے"۔ استاد کا اپنے شاگرد پر یہ مان، یہ یقین میری زندگی کا کل سرمایہ تھا۔ آج میں جامعہ بنوریہ کے ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے جو بھی خدمات سرانجام دے رہا ہوں، یہ اسی کچے کمرے کی تربیت اور حضرت کی دعاؤں کا ثمر ہے۔

آج چھ سال بعد بھی جامعہ کا ایک ایک گوشہ، یہاں کا ہر طالب علم اور ہر در و دیوار ان کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ وہ دنیا سے چلے گئے، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا چمن چھوڑ گئے جس کی آبیاری کرنا اب ہماری ذمہ داری ہے۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ حضرت استادِ محترم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس ادارے کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

رخصت ہوا وہ سایۂ دیوارِ عاطفت...

چھ سال بیت گئے، مگر آپ کی یادیں، آپ کا مشن اور آپ کا نام ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

17/06/2026

فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ

تیغ و تقویٰ کا حسین امتزاج

یکم محرم... محرابِ مسجدِ نبوی سے اٹھنے والی وہ آہ جو آج بھی مدینہ کی فضاؤں میں گونجتی ہے۔ وہ آہ جو بتاتی ہے کہ 26 ہجری کو فجر کی اذان کے ساتھ عدل کا آفتاب غروب ہو گیا تھا۔

شجاعت ایسی کہ باطل کے ایوان لرز جائیں

مکہ کی وادی میں جب توحید کا کلمہ سرگوشیوں میں پڑھا جاتا تھا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر وقت کی نبض تھام لی۔ للکار کر کہا: "میں عمر، لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہوں۔ جسے اپنی ماؤں کو رُلانا ہے، وہ وادی کے اس پار آ جائے"۔
خاموشی چھا گئی۔ اس دن کفر کی ہیبت ٹوٹ گئی اور بیت اللہ میں تکبیر کی صدا پہلی بار گونجی۔ رسولِ رحمت ﷺ نے مسکراتے ہوئے لقب عطا کیا: *فاروق*... حق اور باطل میں حدِ فاصل کھینچ دینے والا۔

استقامت ایسی کہ تخت و تاج بھی نہ بدل سکے

بائیس لاکھ مربع میل کے فرمانروا، مگر قمیص پر چودہ پیوند۔ روم و فارس کے سونے چاندی سے بیت المال بھرا پڑا ہے، اور امیر المومنین کا وظیفہ مدینہ کے ایک مزدور کے برابر۔
ایران کا ایلچی آیا۔ پوچھا: "شاہِ عرب کا محل کدھر ہے؟" انگلی اٹھی: "وہ دیکھو، کھجور کے سائے میں، سر کے نیچے اینٹ رکھے سو رہا ہے"۔

ایلچی دم بخود رہ گیا۔ لبوں سے بے اختیار نکلا: *عدلتَ فأمِنتَ فنِمت*... اے عمر! تو نے عدل کیا، بے خوف ہو گیا، سو بے فکر سو گیا۔

بہادری ایسی کہ لشکر بھی رشک کریں

بدر کا میدان ہو یا احد کی گھاٹی، خیبر کا قلعہ ہو یا یرموک کا معرکہ، عمر کی تلوار جہاں پڑی، باطل کا سر قلم ہوا۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ گواہی دیتے ہیں: "ہم تلوار چلاتے تھے، مگر دشمن عمر کے نام سے کانپتا تھا"۔ اس کے باوجود جب فتح مکہ کا دن آیا تو سر جھکائے، آنکھیں نم کیے داخل ہوئے۔ فرمایا: "آج انتقام کا دن نہیں، رحم کا دن ہے"۔

نرمی ایسی کہ پتھر بھی موم ہو جائیں

آدھی رات کا پہر۔ مدینہ کی سنسان گلی۔ ایک خیمے سے بچوں کے بلکنے کی آواز۔ اندر ایک ماں ہانڈی میں پتھر ابال رہی ہے کہ بچے بہل جائیں۔
عمر کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ بیت المال سے آٹے کی بوری خود پیٹھ پر لادی۔ خادم نے عرض کیا: "مولا میں اٹھا لوں؟" گرج کر بولے: "قیامت کے دن میرا بوجھ تو نہیں اٹھائے گا؟"
خود آگ جلائی، خود ہانڈی پکائی، خود بچوں کو نوالے کھلائے۔ جب بچے کھیلتے کھیلتے سو گئے، تو مسکراتے ہوئے پلٹے: "میں روتے ہوئے آیا تھا، ہنستے ہوئے جا رہا ہوں"۔

یہ تھے عمر

جن کی شجاعت سے کفر کے بت پاش پاش ہوئے۔
جن کی استقامت سے تخت ہل گئے مگر کردار نہ ڈگمگایا۔
جن کی بہادری سے قیصر و کسریٰ کے تاج اچھالے گئے۔
جن کی نرمی سے بیوہ کی دعا عرش ہلا دیتی تھی۔

یکم محرم کو جب ابو لؤلؤ فیروز کا خنجر پیٹ میں اترا، تو لبوں پر شکوہ نہ تھا، شکر تھا: "الحمد للہ کہ کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہیں مر رہا"۔

اے فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ

تیرا عدل اب بھی عدالتوں کا نصاب ہے۔
تیری ہیبت اب بھی ظالم کے خواب میں آتی ہے۔
تیری نرمی اب بھی یتیم کے سر کا سایہ ہے۔

سلام اس ذات پر جس کے جنازے کو اٹھاتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:

کاش میرا نامۂ اعمال عمر کے نامۂ اعمال جیسا ہوتا

چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ

07/06/2026

بلوچستان جلسے نے تاریخ رقم کردی

جب میڈیا کے کیمرے بند تھے، جب چینلز نے آنکھیں پھیر لیں، تب بلوچستان نے تاریخ لکھ دی۔

مولانا فضل الرحمن صاحب کا بلوچستان میں وہ جلسہ جسے "بلیک آؤٹ" کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی دراصل عوامی طاقت کا سب سے روشن ثبوت بن گیا۔

کیا منظر تھا نہ لائیو کوریج، نہ بریکنگ نیوز کی پٹیاں، نہ تجزیہ نگاروں کے تبصرے۔ لیکن میدان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہزاروں ٹوپیاں، لاکھوں نعرے، اور ایک آواز — "اسلام زندہ باد"۔

یہ وہ اجتماع تھا جہاں کرسیاں کم پڑ گئیں اور جذبے بڑھ گئے۔ یہ وہ پاور شو تھا جسے دکھانے کے لیے اسکرین کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ وہ دلوں میں اتر گیا۔

میڈیا گریس کرے یا کور نہ کرے، زمینی حقیقت نہیں بدلتی۔ بلوچستان نے بتا دیا کہ عوامی رابطہ سیٹلائٹ سے نہیں، دلوں کے سگنل سے جڑتا ہے۔

جو طوفان عوام کے دلوں میں اٹھتا ہے، اسے کوئی چینل روک نہیں سکتا۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ سیاست ایوانوں میں نہیں، میدانوں میں ہوتی ہے۔ اور بلوچستان کا میدان آج گواہ ہے۔

خاموشی کے شور سے زیادہ طاقتور کوئی آواز نہیں ہوتی۔

چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن شیخ غلام رسول ایڈمنسٹریٹر جامعہ بنوریہ عالمیہ

#بلوچستان

Address

Jamia Binoria Alamia
Karachi
75700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Ghulam Rasool posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Maulana Ghulam Rasool:

Shortcuts

Share