09/07/2026
آزاد کشمیر کا بحران:
مستقل پالیسی کی ضرورت اور عوامی بے چینی
کسی بھی ریاست کی بقا اور استحکام کا دارومدار اس کی واضح، پائیدار اور ٹھوس پالیسیوں پر ہوتا ہے۔ کشمیر کا معاملہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں، جذبوں اور بقا کا مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے لوگ سڑکوں پر ہیں، کاروبار زندگی معطل ہے اور عوامی بے چینی عروج پر ہے۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے کسی حتمی اور دور اندیش پالیسی کا نہ ہونا یا موجودہ اقدامات کا کارگر ثابت نہ ہونا حالات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان اور وقتی حل تلاش کرنے کی عادت نے ہمیشہ معاملات کو سلجھانے کے بجائے الجھایا ہے۔ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو وہ صرف احتجاج نہیں کر رہے ہوتے بلکہ وہ حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلا رہے ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں حکومتی سرد مہری یا روایتی بیانات سے حالات سدھرنے کے بجائے مزید دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے امن و امان کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر جیسے حساس ترین معاملے پر 'دیکھو اور انتظار کرو' کی پالیسی اب کام نہیں آ سکتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک ایسی جامع اور طویل المدتی حکمت عملی وضع کی جائے جس میں عوام کی امنگوں، معاشی استحکام اور بنیادی حقوق کا تحفظ شامل ہو۔
جب تک زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک جرات مندانہ اور واضح پالیسی نہیں بنائی جاتی، تب تک سڑکوں پر پھیلی یہ بے چینی ختم نہیں ہوگی۔ حکومت کو فوری طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ لیت و لعل سے کام لینے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اب بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اور ٹھوس فیصلے کیے جائیں تاکہ اس بحران کا مستقل اور پرامن حل نکالا جا سکے۔
چیئرمین البشریٰ فاؤنڈیشن
شیخ غلام رسول