09/09/2026
*1. حدیث کی اصل:*
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے:
*يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ*
"اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ"
[سنن الترمذی: 2140، صحیح]
*2. مغرب کے ساتھ مناسبت:*
مغرب کا وقت دن سے رات کی طرف منتقلی کا وقت ہے، اور دل بھی اسی طرح پلٹتے رہتے ہیں۔ نبی ﷺ نے خود فرمایا کہ انسان کا دل پرندے کے پر کی طرح الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے دن کے اختتام پر یہ دعا مانگنا کہ "یا اللہ! رات کے فتنوں سے پہلے میرے دل کو دین پر جما دے" سنتِ نبوی کے عین مطابق ہے۔
*3. نماز مغرب کی یاددہانی:*
جس طرح دل کو استقامت کی ضرورت ہے، اسی طرح مغرب کی نماز کو اول وقت میں ادا کرنا استقامت کی علامت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: *"میری امت بھلائی پر رہے گی جب تک مغرب میں ستارے نکلنے تک تاخیر نہ کرے"* [ابن ماجہ]
*آئیے! مغرب کی اذان ہوتے ہی دنیا کے کام روک کر پہلے اللہ کے حضور حاضر ہوں، اور پھر یہ مسنون دعا مانگیں کہ اللہ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھے۔ آمین*