Dirasatulquran

Dirasatulquran

Share

the quran acadmey is the leading Online Islamic Academy for those who want to learn Islam and Quran online by way of distance courses. Our distance courses

04/11/2021

’’قیلولہ‘‘ دوپہر کے وقت زوال سے پہلے یا زوال کے بعد سونے کا نام ہے، ابنِ اثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’قیلولہ‘‘ نصف النہار کے وقت آرام کرنے کا نام ہے، اگرچہ نیند نہ کی جائے۔
رسول اللہ ﷺ کے دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول ظہر کی نماز سے پہلے کھانے اور قیلولہ کا تھا، البتہ جمعے کے دن نماز کے بعد کھانے اور سونے کا معمول تھا۔ چناں چہ صحیح بخاری میں حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں:
”ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے اور پھر قیلولہ ہوتا تھا۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس روایت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روز کی عادت تھی۔“
نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ، فتح الباری میں مزید لکھتے ہیں:
”سنن ابنِ ماجہ اور صحیح ابنِ خزیمہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دن کے روزے کے لیے سحری اور رات کے قیام (تہجد) کے لیے قیلولہ سے مدد حاصل کرو، اس روایت میں زمعہ بن صالح ہیں، جو کہ ضعیف ہیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیلولہ کیا کرو؛ کیوں کہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے، اس روایت کی سند میں کثیر بن مروان ہیں، جو کہ متروک ہیں۔ خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دن کے پہلے حصے کی نیند آگ سے جلنا ہے، دن کے درمیانی حصے کی نیند اچھی عادت ہے اور آخری حصے کی نیند حماقت ہے۔"
حضرت ڈاکٹر محمد عبد الحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"اگر فرصت میسر ہو تو اتباعِ سنت کی نیت سے دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر لیٹ جائے، اس کو ’’قیلولہ‘‘ کہتے ہیں، اس مسنون عمل کے لیے سونا ضروری نہیں، صرف لیٹ جانا ہی کافی ہے۔"

25/10/2021

مرد کا نامحرم عورت کو نظر بھر کر دیکھنا اور عورت کا نامحرم مرد کو نظر بھر کر دیکھنا بد نظری ہے، البتہ اگر غیر ارادی طور پر اچانک کسی نامحرم پر نظر پڑجائے اور فورًا نظر پھیر لے تو اس پر بد نظری کا گناہ نہیں ہے،بدنظری کرنے والے کے لیے عذاب یہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں ایسے شخص پرلعنت آئی ہے،یعنی رحمتِ خداوندی سے محرومی کا فیصلہ وارد ہواہے۔
اگر اچانک کسی غیر محرم پرنظر پڑجائے تو فورًا اپنی نگاہ پھیر دینی چاہیے،مسلم شریف کی روایت میں ہے:
''حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچانک نظر پڑجانے کے بارے میں دریافت کیا،یعنی اچانک کسی نامحرم عورت پر نظر پڑجائے تومجھے کیاکرناچاہیے؟تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے حکم دیاکہ میں اُدھرسے نگاہ پھیرلوں''۔
نیز بد نگاہی انسان کی عبادت کی حلاوت کوختم کردیتی ہے اور اس کا ذہن مختلف گندے خیالات کی آماج گاہ بن جاتاہے، جس سے اس کی خانگی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے اور خیر وبرکت سے محرومی بھی ہوجاتی ہے۔ اور جو شخص اللہ کے خوف کے پیشِ نظر بد نگاہی سے بچتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے حلاوتِ ایمانی نصیب ہونے کا مژدہ سنایا گیا ہے۔
قرآن کریم کی سورۂ نور آیت 30 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ﴾
ترجمہ : آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں ۔
(بیان القرآن )
حدیث شریف میں ہے:
'' عن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: " يا علي لا تتبع النظرة النظرة فإن لك الأولى وليست لك الآخرة''۔
ترجمہ: حضرت بریدہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ علی! نظر پڑ جانے کے بعد پھر نظر نہ ڈالو (یعنی اگر کسی عورت پر ناگہاں نظر پڑجائے تو پھر اس کے بعد دوبارہ اس کی طرف نہ دیکھو )؛ کیوں کہ تمہارے لیے پہلی نظر تو جائز ہے ( جب کہ اس میں قصد و ارادہ کو دخل نہ ہو) مگر دوسری نظر جائز نہیں ہے

24/09/2021
24/09/2021

شبِ جمعہ (جمعہ کی رات) اور جمعہ کے دن دونوں میں سورۂ کہف پڑھنے کے فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں، بعض روایات میں صرف جمعہ کی رات کا ذکر ہے اور بعض میں صرف جمعہ کے دن کا ذکر ہے، شارحینِ حدیث نے لکھا ہے کہ ان تمام روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جن روایات میں صرف رات کا ذکر ہے ان سے مراد رات اپنے دن سمیت ہے اور جن روایات میں صرف دن کا ذکر ہے ان سے مراد دن اپنی گزشتہ رات سمیت ہے۔
شبِ جمعہ (جمعرات کی مغرب) سے جمعہ کے دن کی مغرب تک سورہ کہف پڑھنے سے جمعے کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ نیز کسی مخصوص وقت میں اسے پڑھنا زیادہ فضیلت کا سبب نہیں ہے، شبِ جمعہ اور جمعہ کے دن میں کسی بھی وقت پڑھ لے۔
’’سنن دارمی‘‘ کی روایت میں ہے:
"عن أبي سعيد الخدري قال: من قرأ سورة الكهف ليلة الجمعة أضاء له من النور فيما بينه وبين البيت العتيق".
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جس شخص نے سورہٴ کہف جمعہ کی رات میں پڑھی اس کے لیے اس کی جگہ سے مکہ تک ایک نور روشن ہوگا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Shahrah Fesal Qadir Masjid Madarsa Taleemulquran Karachi
Karachi
74800