26/06/2026
خلیفہ ہارون الرشید نے امام ابو یوسف سے مدرسوں میں داخلے کی کمی کا سبب پوچھا۔ امام نے جواب اگلے سال دینے کا کہا۔ عید کے دن امام نے شرط رکھی کہ خلیفہ خود ان کی پالکی اٹھائے گا، خلیفہ نے مان لیا۔ عیدگاہ میں ہجوم دیکھ کر امام نے کہا: جب علم والے کو حکمران کا شانہ ملے گا، تو لوگ بچوں کو مدرسے لائے گا
یہ ایک ابدی اصول ہے کہ معاشرہ جن شعبوں کو اعزاز اور مقام دیتا ہے، اسی سمت آنے والی نسلوں کا رخ اور خواب بنتے ہیں۔
پاکستان میں 2024 سے 2026 تک کے صدارتی ایوارڈز کے اعداد و شمار اس اصول کا دردناک ثبوت ہیں۔ 73 ایوارڈز فن، شو بزنس اور سوشل میڈیا کو، صرف 10 سائنس و تعلیم کو، اور محض 4 دینی علوم کو ملے۔ یہ تناسب کسی حکمران کی غلطی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ترجیحات کا آئینہ ہے۔
جب تفریح، نمائش اور دکھاوے کو حقیقی علم اور اخلاق پر فوقیت دی جائے، تو نتیجہ صرف یہ نہیں کہ یونیورسٹیاں اور مدارس خالی ہوتے ہیں—بلکہ ایک پوری نسل اپنی شناخت، صلاحیتوں اور عمق سے محروم ہو جاتی ہے۔ نوجوان دیکھتا ہے کہ ٹک ٹاک پر ہنسی مذاق اور اداکاری کے بدلے ملک کا سب سے بڑا اعزاز مل رہا ہے، تو وہ طبیعیات یا فقہ سے دور بھاگتا ہے۔
ہمارا مستقبل اس بات کا محتاج ہے کہ ہم اعزازات کی تقسیم میں انصاف کریں، سائنس اور دین کو وہ مقام دیں جو شہرت کے اسباب سے کہیں بلند ہے۔ ورنہ ہماری قوم ایک ایسے سمندر میں گم ہو جائے گی جہاں ساحل سائنس اور اخلاق کا نہیں، بلکہ صرف سیلبریٹی کا ہوگا—اور پھر ہمارے بچے مدرسوں کی بجائے سوشل میڈیا کے سٹوڈیوز میں اپنی "پالکی" ڈھونڈیں گے۔
#منقول