Govt High School Qalagay Kabal Swat
ÜK-GHSQalagay
بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے لیے ہمارا ساتھ دیں کم از کم ایک مرتبہ سکول آکر اپنے بچے کی تعلیم وتربیت کے بارے معلوم کریں۔
19/08/2025
موسمیاتی تبدیلی کے معاملات ہمارے ہاتھ سے تقریباً نکل چکے ہیں۔ پھر بھی، ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہنے سے بہتر ہے کہ ہاتھ پاؤں مارتے رہیں:
سب سے اہم کام ہے آئی ایم ایف اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ سے ہونے والی لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھانا۔ آپ کے ملک میں بجلی کا کینیڈا سے مہنگا ہونا، پیٹرول امریکہ سے مہنگا ہونا اور ٹیکس یورپ کے کئی ملکوں سے زیادہ ہونا کسی ترقی کا اندیکیٹر نہیں بل کہ اسی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ آئی ایم ایف کا سود اتنا زیادہ ہے کہ ترقیاتی کام اب خواب ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈرینیج انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی سی دیر کی بارش گاؤں کے گاؤں بہا لے جاتی ہے۔ ریسکیو کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے امداد گھنٹوں تک نہیں آتی۔ مسئلہ وسائل کا ہے جو عوام کے بجائے بین الاقوامی ڈاکوؤں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ غریب طبقات کو زبان، مذہب، نسل، صوبے وغیرہ کی بنیاد پر آپس میں لڑنے کے بجائے استحصال کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔
دوسرا کام دنیا سے کلائمیٹ جسٹس کا تقاضا کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ اس تبدیلی کی وجہ بننے والے ممالک اور لوگوں کو کرنا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ اس کاربن (پیٹرولیم مصنوعات اور کوئلہ وغیرہ) کو نکال کر جلانا ہے جسے فطرت نے ہزاروں سال لگا کر دفن کیا تھا۔ اس میں پاکستان جیسے ملکوں کا دوش تو نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن غریب اور بے ہنگم ہونے اور گلیشیرز اور سمندر کے درمیان ڈھلوان نما ہونے کی وجہ سے نقصان سب سے زیادہ ہو رہا ہے۔ کلائمیٹ جسٹس کا تقاضا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سفارت کاری کے ذریعے تو کیا جاتا ہے، مگر اسے ایک عوامی اور علمی تحریک کے طور پر بھی سامنے آنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ عموماً اصل نقصان سے کہیں کم پہ راضی ہو جاتی ہے کیوں کہ عام لوگوں کے نقصان کا ازالہ ان کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ وہ ہر بحران سے اپنا الو سیدھا کر کے سائیڈ پہ ہو جاتے ہیں۔ (مثلاً تمام تر امداد کے باوجود 2022 کے سیلاب میں ٹوٹنے والی چشمہ رائٹ بینک کینال آج تک پوری طرح نہیں چلائی گئی۔)
سرسبز جنگلوں کو صحرا اور یا پھر کنکریٹ بننے سے روکنا۔ ٹمبر مافیا، قبضہ مافیا اور پراپرٹی ڈیلروں کے گٹھ جوڑ کی خود عوام کو اپنی کمیونٹی کی کمیٹیاں وغیرہ بنا کر سرویلینس اور سرزنش کرنی ہو گی۔
نئے درخت لگانا۔ درخت، سفیدے نہیں اور نہ ہی ایک دن میں ایک ارب پودے لگا کر بھیڑ بکریوں کے کھانے کو بے یارومددگار چھوڑنا جیسے کہ پہلے کئی بار کیا گیا۔ اس کام کو ہمیں اپنے کلچر کا حصہ بنانا ہو گا تاکہ سبز انقلاب آرگینیکلی آئے۔ (میں نے زرتاج گل صاحبہ کو Tree-20 کے نام سے ایک ورکنگ پیپر بنا کے دیا تھا۔ وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی اسے بغیر ایک روپے کے خرچ کے امپلیمنٹ کر سکتی ہے۔ اس کے تحت ہر طالب علم ہر سال اپنی تعلیمی اور سندی ضرورت کے طور پر بیس پودے لگائے گا۔)
ماہرین (اگر/جو ملک میں بچ گئے ہوں) کی مدد سے موزوں مقامات پر ڈیم بنانا اور پانی کو چینالائز کرنا۔
رہائشی سوسائٹیوں کو ماحول دوست قوانین کی خلاف ورزی پر رعایت نہ دینا۔ عمارات کو ندیوں، نالوں، دریاؤں وغیرہ کے فطری راستوں سے دور بنانا۔
اس بات کو سمجھنا کہ نظام رائج الوقت کی طرف سے پاکستان کو ایک غریب ملک کے درجے سے نوازا گیا ہے تاکہ ہم دنیا کے چودھریوں کے مزدور، مزارع والا کام کریں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے قبضے میں اتنے وسائل نہیں ہیں جتنی ہماری آبادی ہے۔ لہٰذا کم از کم جب تک ہم وسائل کو استعمار سے واپس نہیں لے پاتے ہمیں آبادی کو ایٹم بم بننے سے روکنا ہے۔ نہیں تو وہی ہو گا جو ہو رہا ہے۔۔۔
یہ پوسٹ ہمیں پسند آئی اور حقیقت پر مبنی ہے جس کی وجہ سے ہم نے شیراز دستی صاحب کی وال سے اٹھائی ہے۔کمنٹ میں ان کی آئی ڈی کے زریعے ان کو مینشن کر دیا گیا ہے۔
مزید اپڈیٹس اور معلومات کے لیے فالو Education News
صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام ونٹر زون اسکولز (سرکاری و نجی) 19 اگست سے 25 اگست 2025 تک بند رہیں گے۔
All Govt schools in Distt Swat will reopen today on 01.03.2025 after winter vacations.Students should make sure their attendance at 08:15 am sharply.