16/01/2021
ہمارے معاشرے میں 98 فیصد لوگ تو وہ ہیں جنہیں دین سیکھنے کی ضرورت نہیں- وہ پیدائشی حافظ بھی ہیں ، متقی بھی ہیں اور مفتی بھی 😊 ۔۔۔ باقی جو دو چار فیصد جہلا مجھ جیسے ہیں وہ دین کا علم کہاں سے سیکھیں ؟؟؟
میں نہیں جانتا میں قران کیسا پڑھتا ہوں ، میں اپنی قرات درست کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ میں قرانی آیات کا مطلب نہیں سمجھتا ، باترجمہ پڑھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ مجھے حدیث اور ایک عام عربی قول کی پہچان نہیں- میں حدیث سیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ جمعے کے جمعے خطبا کی جزباتی تقاریر بہت سن چکا ، اب سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں-
میں نے مدرسہ نہیں پڑھا ، عصری تعلیم پڑھا ہوا ہوں- میں ایک وکیل ہوں ، تاجر ہوں ، ڈاکٹر ہوں ، بزنس مین ہوں ، دکاندار ہوں ، صحافی ہوں ، کیا دین کا علم حاصل کرنے کےلیے مجھے دوبارہ پیدا ہونا پڑے گا؟ اسکول کی بجائے مدرسے میں داخلہ لینا ہو گا ؟ اگر نہیں تو پھر میں دین کب سیکھوں گا ، کہاں سے سیکھوں گا کیسے سیکھوں گا؟
گزشتہ کچھ سال سے "البرھان" اس مسئلے پہ کام کر رہا ہے- یہ ایک نان پرافٹڈ ، نان پولیٹیکل آرگنائزیشن ہے جو بلامعاوضہ تجوید ، ترجمہ ، حدیث اور سیرت پڑھا رہی ہے- یہ ایک سالہ کورس ہے ، جس کے بعد آپ اپنی موجودہ پوزیشن پر رہتے ہوئے دین کے بنیادی علم سے واقف ہوں
"البرھان" کا شیڈول یہ ہے کہ ہفتے میں صرف دو دن ، ہفتہ اور اتوار کو دن میں دو کلاسز کا انعقاد ایک مخصوص مقام پہ کرتی ہے- علمِ دین کےلیے جب آپ سفر کر کے آئیں گے تو ثواب الگ ملے گا اور عظمت اس علم کی دل میں پیدا ہوگی-
آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ، صرف ہفتہ اور اتوارکے روز چار گھنٹے ، دین سیکھنے کےلیے مختص کیجیے- یاد رکھیے ، جاننے والا ، نہ جاننے والے سے بہتر ہے اور سب سے بہترین علم ، دین کا علم ہے-
داخلے جاری ہیں-
اپلائی کیجیے !
تحریر ۔ ظفر اقبال محمد ۔ المعروف ظفر جی
Al-Burhan Admissions 2021
Apply here:
Alburhan.org