ابن القلم رمیز مدنی

ابن القلم رمیز مدنی

Share

قرآن، حدیث، فقہ، ادب، شاعری اور اسلامی فکر پر علمی و ادبی تحریریں...

26/07/2026
24/07/2026

❣️جُمعة مُباركة
یہ پر لطف گنبد یہ پر کیف منظر
فدا باغِ رضواں ہے صبحِ مدینہ

23/07/2026

ﻗﺮﺍﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺳﻄﺮﻭﮞ
ﻣﯿﮟ ﺟﻮ
ﺗﺴﻠﯽ ﮐﮯ، ﮨﻤﺖ ﮐﮯ، ﺍﻣﯿﺪ ﮐﮯ
ﻟﻔﻆ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ
ﮨﯿﮟ۔❤❤ ﯾﮧ ﺻﺮﻑ ﻟﻔﻆ ﮨﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﺳﻮﺕ ﮨﯿﮟ
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑُﻨﻨﮯ ﮐﮯ
ﻟﯿﮯ..
ﺍﻥ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻮﮌ
ﮐﺮ ﭘﻮﺷﺎﮎ ﺑﻨﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﮌﮪ
ﻟﻮ۔
ﻧﺎﺍﻣﯿﺪﯼ ﮐﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ
ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮔﺮﻡ
ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﯽ.
ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻭﺭﻧﮧ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪﯼ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ
ﭘﮍﺗﮯ ﻟﻮﮒ ﻧﺎ ﺍﻣﯿﺪﯼ ﮐﯽ
ﭨﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ


#ادبيات #نعت #غزل

22/07/2026

🍂مجھے محبت کے بدلے تمہاری محبت نہیں چاہیے، مجھے بس اتنا یقین دلاؤ کہ تم اس کے مستحق بھی ہو....

22/07/2026

🔶 علمی عمق اور نازک خیالی کا نادرِ روزگار امتزاج:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان

ادب اور فلسفے کا ایک بڑا مشہور مقولہ ہے:

> "علمی تحقیق اور نازک خیالی، یہ دونوں صفتیں بیک وقت کسی ایک شخص کے اندر یکجا نہیں ہو سکتیں!"
>
اس مقولے کی بنیادی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ فقہ، فتاویٰ اور علمی تدقیق انسان کے مزاج میں ایک خاص قسم کی متانت اور خشکی پیدا کر دیتی ہے، جبکہ شعر و شاعری کے لیے لطافت، حساسیت اور پروازِ تخیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن امامِ اہل سنت، اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلویؒ کی ہمہ جہت شخصیت اس روایتی نظریے کے خلاف ایک محکم اور زندہ دلیل ہے!

🏜️ خشک صحرا اور 🏰 ہوائی قلعہ

کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے:
> "جامد تحقیق خشک صحرا کی مانند ہے اور بے لگام نازک خیالی ایک ہوائی قلعہ…
لیکن جہاں یہ دونوں صفات ایک جگہ جمع ہو جائیں، وہاں علم و حکمت کی زرخیز وادی جنم لیتی ہے۔"
>
اعلیٰ حضرتؒ بیک وقت ایک جلیل القدر محقق، نامور فقیہ اور مجدد ہونے کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی اور اردو زبان کے ایک باکمال اور نازک خیال شاعر بھی تھے۔
آپ کی شاعری محض الفاظ کا جوڑ توڑ یا رسمی قافیہ پیمائی نہیں، بلکہ حقیقی وارداتِ قلبی اور سچی محبت کی ترجمان ہے۔

⚖️ فقہی احتیاط اور تخیل کی بلند پروازی

اہلِ علم و ادب اس بات پر متفق ہیں کہ پختہ ترین علمی و فقہی تحقیق کے باوجود اعلیٰ حضرتؒ کے تخیل کی نازک خیالی اور شعر کی لطافت میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔
آپ کی نعت گوئی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اس میں:
* ایک طرف: فقہی احتیاط اور علمی تدقیق کی شرعی حدود کا مکمل پاس ہے۔

* دوسری طرف: نازک خیالی اور تخیل کی ایسی بلند پروازی ہے جو قارئین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

✒️ فتاویٰ رضویہ سے "حدائقِ بخشش" تک!

آپ کی فکر کی جامعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ:
* جب ان کا علمی قلم چلتا ہے، تو فتاویٰ رضویہ جیسی ضخیم، محققانہ اور بے مثال فقہی دستاویزات وجود میں آتی ہیں۔
* اور وہی قلم جب دیارِ نعت میں قدم رکھتا ہے، تو حدائقِ بخشش، قصیدۂ نور اور سلامِ رضا ("مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام") کی شکل میں نازک خیالی، بلاغت اور چاشنی کا سمندر بہا دیتا ہے

💡 علمی و اعتقادی نکات اور نازک خیالی کی معراج

ان کے کلام کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ایک خشک فقہی یا اعتقادی مضمون کو انہوں نے شعری نزاکت کے ساتھ موم کر دیا ہے۔
مثال کے طور پر، حضور اکرم ﷺ کے "نورانیت اور سائے کے نہ ہونے" کے علمی و اعتقادی نقطے کو جس نازک خیالی سے انہوں نے نظم کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے:

»راہِ نبی میں کیا کمی، فرشِ بیاضِ دِیدہ کی
»چادرِ ظل ہے مَلْگجی، زیرِ قدم بچھائے کیوں!

> تو ہے سایہ نور کا، ہر عُضْو ٹکڑا نور کا
> سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے، نہ سایہ نور کا!
>
ایک اور جگہ زمین کی تپش اور آپ ﷺ کے لطفِ سایہ کو یوں بیان فرماتے ہیں:
> جلتی تھی زمیں کیسی، تھی دھوپ کڑی کیسی
> لو! وہ قدِ بے سایہ اب سایہ کناں آیا!
>

🌟 اعلیٰ حضرتؒ کا وجود اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ
علم کی گہرائی، تقویٰ کی پاکیزگی اور عشقِ رسول ﷺ کی تپش ایک دل میں جمع ہو جائیں، تو وہاں سے عقلِ محقق اور روحِ شاعر کا وہ حسین امتزاج پھوٹتا ہے جو تاریخ میں صدیوں بعد ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

22/07/2026

الفت نہیں رہی وہ محبت نہیں رہی
جب سے دلوں میں عزت و حرمت نہیں رہی

تو کیا ہوا جو پھولوں میں نکہت نہیں رہی
لہجوں میں دیکھ شیریں لطافت نہیں رہی

ہمدردیاں تھیں ان پہ تو کچھ دل نوازیاں
پھر یوں ہوا کہ اپنی وہ وقعت نہیں رہی

دیکھی کمانِ ابروئے جاناں پہ تیوری
دل میں دھڑک تو روح میں حرکت نہیں رہی

شب تھی دراز ایسے میں آیا خیالِ یار
پھر آنکھ جب کھلی تو وہ ظلمت نہیں رہی

چھوڑا تھا ایسے موڑ پہ اس نے ہمیں فراز
اب یوں کسی کے جانے سے کلفت نہیں رہی

تنہائیوں میں اتنی اٹھائی ہے انسیت
اب دل کو بھی کسی کی ضرورت نہیں رہی

کچھ اس طرح سے ہم کو ستایا زمانے نے
وہ وحشتِ قیامِ قیامت نہیں رہی

دو پل خوشی کے آٹھ پہر پھر عذاب کے
اس کے سوا مری کوئی حالت نہیں رہی

زاہد شراب سنتے ہی کیونکر بگڑتا ہے
ہو حکمِ شرع جس پہ وہ حالت نہیں رہی

ہیں رخشِ عُمْر تیرے غبارِ غرَر میں ہم
ایسے کہ اب نکلنے کی صورت نہیں رہی

طولِ اَمَل سے پائے عبادت پھسل گئے
رخشِ رجوع و توبہ میں عجلت نہیں رہی

چبھ جاتا دل میں خارِ مدینہ تو کہتے ہم
نازِ دوائے درد کی حاجت نہیں رہی

یارب دکھا دے پھر سے بہارِ حرم مجھے
آنکھوں میں رونقِ گُلِ جنت نہیں رہی

پا کر رمیٓز موجِ کرم کی ہواؤں کو
دل میں کسے کے جام کی حسرت نہیں رہی


#غزل #شعر
#ادب
#دل #احساس #عشق

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

سرجانی ٹاؤن کراچی
Karachi