23/10/2025
شان سیدہ فاطمتہ الزھراسلام اللہ علیھا
صالحہ ، صاحبہ ، ساترہ ، سالکہ
مالکہ ، حاکمہ ، راحمہ ، عاطفہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
صادقہ ، صالحہ ، صائمہ ، صابرہ
صاف دل ، نیک خو ، پارسا ، شاکرہ
عابدہ ، زاہدہ ، ساجدہ ، ذاکرہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
جس کا دامن ہے سادات کا دائرہ
شاہدہ ، شاکرہ ، فاخرہ ، ناصرہ
عابدہ ، ساجدہ ، زاہدہ ، صابرہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
فاطمہ دینِ اسلام کی ناصرہ
حامدہ ، خاشعہ ، کاملہ ، صابرہ
عادلہ ، عاطفہ ، ساجدہ ، ساترہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
جن کا نام مبارک ہے بی فاطمہ
جو خواتین عالم میں ہیں عالیہ
عابدہ ، زاہدہ ، ساجدہ ، صالحہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
اس کی عظمت کا ہے کب کسی کو پتہ
کب کسی پر عیاں اس کا ہے مرتبہ
جس کی خاک قدم سرمۂ چشمِ مَہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
وجہِ تسکینِ قلبِ شہِ دو سَرا
راضیہ ، عابدہ ، ساجدہ ، شاکرہ
صابرہ ، زاہدہ ، صادقہ ، ذاکرہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
قدسیوں کی در سیدہ بوسہ گہ
جس کی پاکی کی کھائیں قسم مہر و مہ
جس کا فیض جُدا اور بڑا مرتبہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
صالحہ ، صادقہ ، صائمہ ، صابرہ
فاطمہ ، کاملہ ، زاہدہ ، ذاکرہ
نورِ چشمِ نبی ، عابدہ ، شاکرہ
*”سیدہ ، زاہرہ ، طیبہ ، طاہرہ*
*جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام“*
[4/6, 8:04 PM] Shiffa Natt Khwn: "خاتون جنت دختر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدہ فاطمة الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا"
اسم مبارك : حضرت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا
كنيت : ام الحسن ، ام الحسين ، ام المحسن ، ام الائمہ و ام ابيھا
القاب : زھرا ، بتول ، صديقہ ، كبري ، مباركہ ، عذرہ ، طاھرہ ، و سيدۃ النساء
ولادت : 20 جمادي الاخر اعلان نبوت سے 5 سال قبل بروز جمعہ شہر مكہ معظمہ میں
والد :
حضرت محمد مصطفی صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم
والدہ :
ام المومنين حضرت خديجہ الكبري رضی اللہ تعالی عنہا
"بھائی"
• حضرت قاسم رضی اللہ تعالی عنہ
• حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ
• حضرت عبداللہ (طیب-طاھر) رضی اللہ تعالی عنہ
"بہنیں"
• حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا
• حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا
• حضرت رقیہ رضی اللہ تعالی عنہا
شوہر:
حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ
اولاد پاک:
"صاحبزادگان (بیٹے)"
• حضرت حسن ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ
• حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ
• حضرت محسن ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ
"صاحبزادیاں (بیٹیاں)"
• حضرت زینب بنت علی رضی اللہ تعالی عنہا
• حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ تعالی عنہا
• حضرت رقیہ بنت علی رضی اللہ تعالی عنہا
وصال :3 رمضان المبارک 11 ہجري مقام وفات : شہر مدينہ منورہ
مقام تدفین : جنت البقیع شہر مدينہ منورہ شریف
سیدۂ کائنات خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی مدرسۂ نبوت اور بیت رسالت میں تربیت:
سیدۂ کائنات خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور پیاری بیٹی اور تمام عورتوں کی سردار ہیں۔
پروردگار عالم نے اولاد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلسلہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) سے جاری فرمایا۔
آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کی پرورش زمانہ نبوت کے انوار وتجلیات میں ہوئی۔
آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کا مرتبہ بنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ممتاز ہے۔
عرب کے رواج کے مطابق نومولود بچوں کو پرورش کے لئے دایہ کی گود میں دے دیا جاتا تھا لیکن آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) سے بے پناہ محبت والفت کی بناء پر حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی دایہ کے سپرد کرنے کی بجائے خود اپنی گود میں رکھا اور اپنا دودھ پلا کر پرورش کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ رب العزت نے میری بیٹی کا نام "فاطمہ" رکھا تا کہ
"قیامت کے دن اللہ رب العزت
اس کو اس کی اولاد کواور اس کے چاہنے والوں کو دوزخ سے آزاد رکھے۔"
زمانۂ جاہلیت میں عربوں کے نزدیک بیٹی کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھنا تو دور کی بات ہے ان کے حقیر اور ننگ و عار ہونے کا تصور اس طرح معاشرے میں رائج تھا کہ وہ بیٹیوں کو زندہ در گور کردیا کرتے تھے ۔
ایک ایسے ماحول میں جناب فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا خانہ نبوت و رسالت کی زینت بنیں اور اپنے نور وجود سے انہوں نے نہ صرف رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر بلکہ تاریخ بشریت کے بام و در روشن و منور کردئے اور خداوند تبارک و تعالی نے آپ کی شان میں سورۂ کوثر نازل کردیا ۔
" اے نبی ! ہم نے آپ کو کوثر عطا کیاہے "
سورۂ کوثر کے علاوہ جیسا کہ مفسرین و مورخین نے لکھا ہے سورۂ نور کی پنتیسویں آیت بھی آپ کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔
ایک عورت کے لئے جتنے فضائل و کمالات ضروری ہیں جیسے انسانیت ،عفت، پاکدامنی، کرامت قداست و غیرہ کو شہزادی کائنات ؐ نے اپنے کردار و عمل کی شکل میں بالکل مجسم کرکے پیش کردیا-
اس کے علاوہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کی روشن و تابناک ذکاوت و ذہانت، منفرد زیرکی(فطانت)اور وسیع علم اپنی جگہ پر ہے-
اور آپ کے افتخار کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے مدرسۂ نبوت اوربیت رسالت میں تربیت پائی اور اپنے والد گرامی سے وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو ان پر رب العالمین کی جانب سے نازل کیا گیا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) اپنے والد گرامی کے گھر میں اس علمی دولت سے آراستہ ومزین ہوئیں جو مکہ کی کسی عورت کو نصیب نہ ہوسکی۔
* حضرت بی بی سیدہ فاطمہ مکارم اخلاق اور فضائل و اوصاف:
حضرت بی بی سیدہ فاطمہؓ (رضی اللہ تعالی عنہا) تمام مکارم اخلاق اور فضائل و اوصاف سے متصف تھیں۔
آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) متین الطبع، سنجیدہ، باوقار،
بہت زیادہ عبادت میں مشغول رہنے اور سخت مجاہدات کی عادی تھیں۔
تقوی و پرہیز گاری میں یکتا، توکل و صبر و قناعت میں بے مثال، سخاوت و مہربانی، جود و عطا، لطف و کرم میں بے نظیر، وسیع القلب، کشادہ دست،غریبوں، محتاجوں ، یتیموں ، بیوائوں،مسکینوں، فقیروں ،محتاجوں اور ناداروں کی امدادفرمایا کرتیں، یتامیٰ و بیوگان کی سرپرست، شکرگزار، اطاعت الٰہی میں منہمک اور
اپنے والد بزرگوار سرکار دو عالمؐ کا بے حد ادب و احترام اور تعظیم و توقیر معمول تھا۔
ذات اطہرؐ پر جان نچھاور کیا کرتیں
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
" کہ انھوں نے نشست و برخاست، عادات و خصائل، طرزگفتگو اور لب و لہجہ میں رسول اللہؐ کے مشابہ(حضرت سیدہ) فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑ ھ کر کسی کو نہیں دیکھا-"
* جناب زہراء سلام اللہ کی معنوی و نسبی انفرادیت:
آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کی ذات مبارکہ یا آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کاحسب و نسب ہی نہیں بلکہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کی آل والاد اور آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کی نسل بھی اسلام اور تاریخ اسلام کے شاندار ابواب اور عالم انسانیت میں قابل فخروقابل ستائش ہے۔
جناب زہراء سلام اللہ علیہا کے ارد گرد عظمتوں کا نورانی ہالہ انکی معنوی و نسبی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے۔
آپ سلام اللہ علیہا کے چاروں اطراف کائنات کی ارفع ترین ہستیاں نظر آتی ہیں۔
ایک طرف سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحیثیت والدِ گرامی-
دوسری جانب بحیثیت ماں ملیکتہ العرب حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ہیں۔
تیسری اور چوتھی جانب مولائے کائنات علی مرتضیٰ بحیثیت شوہر اور سردارانِ جنت بحیثیت اولاد ہیں۔
علامہ اقبال حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام کی بارگاہ میں عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نورِ چشم رحمۃ العالمین ص
آں امامِ اولین و آخریں
نسبتوں کی اس سہ گونہ جلالت سے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے یہ ثابت کر دکھایا کہ آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کائنات کی سب سے اعلیٰ و ارفع بیٹی، بہترین زوجہ اور عظیم ترین ماں ہیں۔
وہ ماں جس کی آغوش میں ایسے فرزند پروان چڑھے جن کو اگر سرمایۂ دین اور حاصلِ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔
* سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا خواتین کے لیے ایک روشن نمونہ:
جرمنی کی مشہوراسکالر اور نامور محقق این میری شمل اپنے ایک مضمون ”خواتین اور پیغمبر اسلام میں سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا کے حضور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں :
"حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تاریخ اسلام میں متعدد قصے اور واقعات معروف ہیں جواس امر سے متعلق ہیں کہ انہوں نے غربت اور تنگ دستی کیونکر سہی ۔
یہ واقعات اہل تقویٰ کے خوش کن تصور میں اضافہ کرتے ہیں جن کے لیے وہ درحقیقت انسانیت کی ملکہ تھیں ان کی غرباو مساکین کے لیے ایثار وسخاوت اور فیاضی ( حالاں کہ ان کا اپنا گھرانا بھوکا رہتا)
یہ تمام واقعات اتنے متاثر کن اتنے اثر انگیز اور اتنے خوب صورت ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تمام مسلمان خواتین کے لیے ایک روشن نمونہ اور رول ماڈل نظر آتی ہیں۔
* وفات :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات شریف کے بعد اہل بیت اطہار میں سب سے پہلے حضرت بی بی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوا۔
آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کو اپنی وفات کی خبر رسول اللہؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل چکی تھی ۔
سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت شریف کے بعد آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کو کسی نے ہنستا ہوا نہیں دیکھا۔
چھ ماہ بعد ۳؍ رمضان المبارک سنہ ۱۱ ھ کو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دنیا سے پردہ فرمایا۔ رات کے وقت آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے انتقال فرمایا تھا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ (رضی اللہ تعالی عنہا) کی وصیت کے مطابق رات ہی کو سپرد لحد کیا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی لحد مبارکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی لحد مبارک کے ساتھ ہی جنت البقیع میں ہے۔
مدینہ منورہ کے تاریخی قبر ستان جنت البقیع میں سیدہ فاطمتہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا سے منسوب مزار پر صدیوں تک ایک شان دار عمارت قائم رہی۔ آپ کی لحد مبارکہ جنت البقیع میں مرجع خلائق ہے۔
گدائے در زھراء سلام اللّه علیہا
معرفعت زہراء سلام اللہ علیھا کے لیے صرف خواتین واٹس ایپ گروپ جوائن کر یں
https://chat.whatsapp.com/EfvQnJPu6hs2KKMzdood70?mode=wwc