12/09/2025
لبرل سوچ کہتی ہے کہ عورت کی آزادی کا مطلب ہے کہ وہ ہر وقت بازار، کلب اور تفریحی مقامات پر گھومے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ "اصل آزادی" گناہوں اور خواہشات کی غلامی سے نکل کر اللہ کی بندگی میں داخل ہونا ہے۔
لبرل کہتے ہیں کہ پردہ عورت کو قید کر دیتا ہے۔
مگر یاد رکھو! یہی پردہ عورت کو عزت دیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جتنی باپردہ عورتیں گزری ہیں، ان کا ذکر آج بھی احترام سے ہوتا ہے، جب کہ "فحاشی کی علامت عورتیں" مردوں کی ہوس کی گندی منڈی کا سستا مال بن کر رہ جاتی ہیں۔
لبرلز کہتے ہیں کہ عورت کو "کارئیر، شوبز اور سیاست" میں آگے آنا چاہیے۔
لیکن دین کہتا ہے: عورت کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اللہ کو راضی کرے، اپنے گھر کو جنت بنائے، اور اپنی عفت کی حفاظت کرے۔
یہ قصہ لبرل ذہن کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ عورت کی عزت اور کامیابی باہر نکلنے میں نہیں بلکہ اللہ کے حکم پر جم جانے میں ہے۔
فاطمہ بنت العطار رحمۃ اللہ علیہا کا نام آج سینکڑوں سال بعد بھی عزت و عظمت سے لیا جا رہا ہے، لیکن عریانی و بے حیائی کے نمائندے تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہیں۔
اے لبرل سوچ رکھنے والوں!
عورت کو بازار، سڑک اور میڈیا کی زینت بنانے کے بجائے اسے عفت و حیا کی علامت بناؤ۔
اصل "پاور فل وومن" وہ ہے جو اللہ کے سامنے جھکتی ہے، نہ کہ وہ جو سکرین پر ناچتی ہے۔
خادم العلم والعلماء
ابوسعد محمد انعام المصطفٰی اعظمی
دارالعلوم نوریہ رضویہ کہکشاں کلفٹن بلاک 5 کراچی
10/09/2025
22/08/2025
11/03/2024
10/03/2024
01/01/2024
16/12/2023