BSAC S.M Collage Unit

BSAC S.M Collage Unit

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from BSAC S.M Collage Unit, Education, Shahra e Kamal Ata Turk Opposite، Burns Garden, Karachi.

08/05/2020

خضدار میں تعلیمی اداروں کا خاتمہ تشویشناک ہے.
بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں حکومتی کمیٹی کے جانب سے ویمن یونیورسٹی خضدار کیمپس اور پولی ٹیکنیکل کالج کے منصوبے کو ختم کرنے کی شدید الفاظوں میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ منصوبے کی منسوحی جھالاوان کے طالبعلموں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے. ویمن یونیورسٹی خضدار کیمپس اور پولی ٹیکنیکل کالج جیسے ادارے جھالاوان کے طالبعلموں کے لئے تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک نادر مواقع فراہم کرتے ہیں لیکن حکومتی کمیٹی کی جانب سے ایسے منصوبوں کو ختم کرنے کی سفارش طالبعلموں کےلیے تعلیمی دروازے بند کرنے کے مترادف ہے.

ترجمان نے مزید کہا کہ ویمن یونیورسٹی اور پولی ٹیکنیکل کالج کی منصوبوں کی بحالی کےلیے طلبا تنظیموں کی جانب سے بھر پور احتجاج کیا گیا تھا جس کے بدولت مذکورہ جامعات کے منصوبوں کا آغاز کیا گیا. لیکن اب ان منصوبوں کی بندش کرنے کی سفارش اس بات کی نمایاں دلیل ہے کہ حکومتی انتظامیہ تعلیم جیسے ضروری شعبے کےلئےمتحرک نہیں ہے.

مرکزی ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ شہید سکندر یونیورسٹی ایک قابل احسن اقدام ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہے لیکن اس کے ساتھ سرداربہادر خان ویمن یونیورسٹی اور پوٹیکنیکل کالج کے منصوبوں کو ختم کرنے کی سفارش نہایت ہی تشویشناک ہے. اسی اثنا میں ہم حکومت وقت سے تعلیمی اداروں کی بحالی کو برقرار رکھنے اور نئے تعلیمی اداروں کے اجرا کی اپیل کرتے ہیں.

05/02/2020

بہاولدین زکریا یونیورسٹی میں بلوچ اور پشتون طلبا پر مقامی طلبا تنظیم کی جانب سے مسلح تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بہاولدین یونیورسٹی میں موجود بلوچ اور پشتون طلبا پر مسلح تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے کے احاطے میں اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے طالبعلموں میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے۔جامعہ زکریا میں زیر تعلیم غنڈہ گردعناصروں کی جانب سے کیمپس کے اندر بلوچ اور پشتون طلبا پرسرِ عام فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں بلوچستان اور فاٹا کے دو طالبعلم شدید زخمی ہوئے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے طالبعلم میلوں دور فاصلہ طے کر کے پنجاب کے اداروں میں زیر تعلیم ہیں لیکن وہاں بھی پُرامن ماحول میں اُن کی علمی و تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی بجائے مختلف ہربوں سے ٹارچر کیا جا رہاہے۔ اس سے پہلے بھی پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بلوچ اور پشتون طلبا پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے۔تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات کا رونما ہونا، کیمپس کے اندر سر عام اسلحہ کی نمائش اور یونیورسٹی انتظامیہ کا ایسے عناصر کی پشت پناہی پر تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پایا جاتا ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہاؤلدین یونیورسٹی میں اسلح کلچرکی فروغ کیخلاف نوٹس لیکر غیر جانبدارانہ تحقیق کرکے ایسے پُرتشدد واقعات میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان کے طالبعلموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

25/12/2019

Wahab Seyal central working committee member Of BSAC has been picked up by the people in plain clothes from Gawadar on 10th December 2019. He is a peaceful student activist. We urge concern authorities to immediately release of Wahab Seyal Baloch.

10/12/2019

طلباء کی شعوری و سیاسی پختگی کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر نواب بلوچ

بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی خضدار کا زونل جنرل باڈی اجلاس خالد بلوچ زونل صدر اور وقار بلوچ زونل جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی خضدار کا جنرل باڈی اجلاس زیر صدارت زونل صدر خالد بلوچ منعقد ہوا۔اجلاس میں تنظیم کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر نواب بلوچ بطور مہمان خاص شریک رہے جبکہ اجلاس کے ایجنڈوں میں مرکزی سرکولر، گذشتہ کارکردگی رپورٹ، تنقیدی نشست ، تنظیمی امور اور آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے زیر بحث رہے۔

تنظیمی امور کے ایجنڈے میں زونل رہنماؤں نے مستقبل کے لئے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی مارچ کے مہینے میں خضدار لٹریری فیسٹول کا انعقاد کرے گی. طالب علموں کی سیاسی و شعوری پختگی کے لئےعملی جدوجہد جاری رکھا جائے گا اور جدوجہد کی راہ میں آنے والی تمام مشکلات اور مصائبوں کا مقابلہ کریں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر نواب بلوچ نے کہا طالب علم کتاب کلچر کے فروغ کے لئے اپنا کردار نبھاتے ہوئے بحث مباحثے کی ایک ایسی ماحول کو پروان چڑھائیں جہاں طالبعلم کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں. طالب علم، علمی و سیاسی شعور سے لیس ہوکر معاشرے کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں اس وقت ایک گھٹن کی فضا قائم ہے. طالبعلموں کی علمی, سیاسی , سماجی اور تربیتی نشستوں پر قدغن عائد ہے. تعلیمی اداروں میں ان پابندیوں اور گٹھن کیخلاف جمہوری جدو جہد طلباء کی زمہ داری ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں ڈاکٹر نواب بلوچ نے طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا مقصد تعلیمی اداروں میں بلوچ طالب علموں کو یکجا کرکے انکی شعوری و سیاسی تربیت کرنے کے ساتھ طلبا ء مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کرنا ہے. طلباء کی فلاح و بہبود کے لئے جہدوجہد کو ہم اپنا اولین مقصد و فرض سمجھتے ہیں اور ہمارا یہ جدوجہد تسلسل کیساتھ جاری ہے ۔

اجلاس کے آخری ایجنڈہ آئندہ لائحہ عمل میں سابقہ کابینہ تحلیل ہوئی اور نئی کابینہ تشکیل دی گئی. نئی زونل کابینہ میں خالد بلوچ صدر, جنید بلوچ نائب صدر, وقار بلوچ جنرل سیکرٹری, آصف بلوچ ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور عدنان بلوچ انفارمیشن سیکرٹری منتخب ہوئے.

08/12/2019

One of the speaker of program is the prominent political figure Haji Mir lashkari Raisani Central committee member of Balochistan national party (BNP).

07/12/2019

معزز صحافی حضرات!
ہم آپکے انتہائی مشکور و ممنون ہے کہ آپ نے اپنی قیمتی وقت سے کچھ وقت ہمیں دی، ہمارے اس پریس کانفرنس کا مقصد خضدار کے تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کے حوالے آپ کو بریف کرنا ہے تاکہ یہ مسلئہ صیح طور پر اجاگر ہو اور ہمارے حکمرانوں کو پتہ چل جائیں کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نعروں کو عملی شکل دینے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔
اور ہم آپ ہی کے تعاون اور مدد سے ان حقیقی اور بنیادی مسائل کو حکام بالا کے ایوانوں تک پہچانا چاہتے ہیں۔جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ خضدار صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن بدقسمتی سے پچھلے دس سالوں سے خضدار کی حالت انتہائی خراب رہی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات کی وجہ سے یہاں بہت سے مسائل درپیش ہیں اور خاص کر ایجوکیشن کے شعبے میں۔ ہماری شروع دن سے ہی یہی کوشش اور جدوجہد رہی ہے کہ ہر فورم ہر علاقے کے تعلیمی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں اور حکام بالا تک اپنی آواز پہنچائیں لیکن اس کیلئے آپ صحافی حضرات کا بہت بڑا کردار ہےاور رہا ہے ۔
‏‎معززصحافی حضرات
‏‎جس طرح آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں 2013 سے لے کر آج تک تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے لیکن افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی نعروں کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے اسی لیے
‏‎بلوچستان کے تعلیمی ادارے مسائل کےگڑھ بن چکے ہیں ، خضدار جیسا صوبے کا دوسرا بڑا شہر جہاں تقریبا تمام بڑے تعلیمی ادارے موجود ہیں انجیئرنگ یونیورسٹی سے لے کر جھالاوان میڈیکل کالج ، سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کیمپس، شہید سکندر یونیورسٹی ، بلوچستان ریزیڈنشل کالج جیسے ادارے موجود ہیں ۔لیکن یہ تمام تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔اگر ہم انجیئرنگ یونیورسٹی کی طرف نظر دوڑائیں تو 1994 کو اسےانجئیرنگ یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا لیکن آج بھی صرف چھ ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ چل رہی ہے اور پورے بلوچستان میں دو کیمپسز صرف منظور ہوئے ہیں لیکن ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔ خضدار انجینئیرنگ یونیورسٹی کے تمام فیکلٹی اسٹاف میں ممبر کی کمی ہے اور یونیورسٹی میں ہر سال فیسیں بڑھائی جاتی ہے جس کی وجہ سے پسماندہ علاقوں کے طلبہ اپنی کیئریر کو جاری نہیں رکھ سکتے اور بہت سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

‏‎صحافی حضرات :
‏‎شہید سکندر یونیورسٹی کی منظوری کو سالوں کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن تاحال فنکشنل نہیں ہے۔ اس پورے ریجن میں کوئی یونیورسٹی نہیں ہے یہی ایک شہید سکندر یونیورسٹی ہے کہ جو اس ریجن کے تمام تعلیمی پسماندگی میں کردار ادا کر سکتی ہے لیکن ضلعی انتظامیہ اور صوبائی گورنمنٹ کی جانب سے توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔
‏‎جھالاوان میڈیکل کالج اساتذہ کی کمی کا شکار ہے اور اس کےساتھ لیبارٹریز وغیرہ بھی پورے نہیں ہے حالیہ کچھ وقت جھالاوان میڈیکل کالج کے طلبہ و طالبات نے بھی بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیے ۔بوائزڈگری کالج و گرلز ڈگری کالج خضدار میں سائنس مضامین کے اساتذہ تک موجود نہیں ہیں۔ بوائز ڈگری کالج ہاسٹل کی کمی کا شکار ہے اور انٹر کالج وڈھ کے تعمیرات عرصہ ہونے کو ہے اب تک تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ انٹر کالج نال اساتذہ و کلاس رومز کی کمی کا شکار ہے اور انٹر کالج زہری سائنس اساتذہ کی کمی کا شکار ہے۔ اسی طرح خضدار کے مضافات میں موجود اسکول اساتذہ کی غیر حاضری کا شکار ہیں ۔
صحافی حضرات :
ان تمام مسائل کو مد نظر رکھ کر یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ صوبائی گورنمنٹ کے ترجیحات میں تعلیم جیسے ادارے نہیں ہیں اور تعلیمی ایمرجنسی صرف نام کی حد تک موجودہ ہے کیونکہ اگر واقعی میں صوبائی گورنمنٹ اور ضلعی انتظامیہ تعلیمی جیسے ادارے کے حوالے سے سنجیدہ ہوتے تو اتنے بڑے مسائل کب حل کیے جا چکے ہوتے لیکن تعلیمی ایمرجنسی کو سات سال گزرنے کے باوجود مسائل جوں کے توں آج بھی موجود ہے لہذا ہم آپ صحافیوں کے اور پریس کانفرنس کے توسط سے ضلعی انتظامیہ اور صوبائی گورنمنٹ کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ تعلیمی ایمرجنسی کو صرف کاغذات کی زینت نہ بنائے بلکہ صیح طور پر تعلیم کے میدان میں انقلاب لائیں۔

Photos from Baloch Students Action Committee's post 07/12/2019
06/12/2019

Central Chairman Baloch Students Action Committee, Dr. Nawab Baloch briefing press about the educational issues of Khuzdar at Press club Khuzadar

06/12/2019

لسبیلہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا اساتذہ کیساتھ متعصبانہ روش اپنانا انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے لسبیلہ یونیورسٹی میں اساتذہ کیساتھ انتظامیہ کی نامناسب اورمتعصبانہ رویے کی مُزمت کرتے ہوئے کہا کہ طالبعلموں کی علمی و تخلیقی سرگرمیوں میں شرکت کرنے پر اساتذہ کیخلاف تعصبانہ روش اختیار کرنا نہایت ہی افسوسناک ہے۔ کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے میں اساتذہ کو قوم کے معمار کے حیثیت سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہی وہ معلم ہیں جو نوجوان نسل کو شعور جیسے شمع سے آراستہ کر کے قوموں کے مستقبل کا ضامن بنا دیتی ہیں۔
ٓانھوں نے کہا کہ آج اگر بلوچستان کے تعلیمی نظام پر نظر دوڑائی جائے تو طالبعلموں کیساتھ اساتذہ کو بھی ایک گھیرے میں رکھے جانے کیلیے منظم طور پر سازشی اور گھناؤنے حرکتوں کا استعمال تسلسل کیساتھ جاری ہے۔طالبعلموں کے تربیتی نشستوں پر پابندی عائد کر کے اساتذہ کو اُن سے دور رہنے کے ہدایات کا اجرا اس بات کی عکاسی ہیں کہ طالبعلموں کی سیاسی سماجی ءُ معاشرتی نشونما میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔طالبعلموں کی تربیتی نشستوں کو غیر انتظامی سرگرمی قرار دینا نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے دور رکھنے کے مترادف ہے۔ مُختلف جامعات میں طالبعلموں کیساتھ انتظامیہ کا یہ برتاؤ اداروں میں گُٹھن کی ایک ایسی فضا قائم کر رہی ہے جہاں طالبعلم مثبت سرگرمیاں جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔
انہوں مزید کہا کہ استاد علم کا سر چشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا کردار اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی، معاشرے کی فلاح و بہبود، جذبہ انسانیت کی نشو ونما اور طلباء کی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔لیکن لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ نے تعلیم دشمنی میں تمام اخلاقی حدود کو پار کرچکی ہے استاتذہ کو اپنے شاگردوں کی تربیت میں مگن رہنے کیوجہ سے دھمکی دینا ایک تعلیم دشمنی پالیسی عمل ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہاکہ تعلیمی اداروں کے دائرہ کار میں ہونے والے طالبعلموں کی مثبت سرگرمیوں کے سراہے جانے کیساتھ ساتھ اُن کے فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ مذکورہ واقعے پر ہم لسبیلہ یونیورسٹی کے اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اساتذہ کے خلاف جاری ہونے والے نوٹس کو جلد از جلد واپس لیا جائے بصورت دیگر ہم اساتذہ کے تعلیمی مفادات کو مدنظر رکھ کر انتظامیہ کی غیر اخلاقی رویے اور تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف سخت احتجاج کرینگے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address

Shahra E Kamal Ata Turk Opposite، Burns Garden
Karachi
74100