Khud Parhao - خود پڑھاو

Khud Parhao - خود پڑھاو We all know that traditional education system has completely failed us and now it is failing our younger generations.

At KHUD PARHAO, we aim to teach those skills that students can't learn in schools and other traditional institutes.

دوپہر کے تین بجے ہیں۔ بچہ اسکول سے آیا، کھڑے کھڑے آدھا سینڈوچ کھایا، اور دوبارہ جوتے پہن رہا ہے۔ منزل؟ اکیڈمی۔ اس ہفتے چ...
20/09/2026

دوپہر کے تین بجے ہیں۔ بچہ اسکول سے آیا، کھڑے کھڑے آدھا سینڈوچ کھایا، اور دوبارہ جوتے پہن رہا ہے۔ منزل؟ اکیڈمی۔ اس ہفتے چوتھی مرتبہ ہے۔
یہ سلسلہ میٹرک سے شروع نہیں ہوتا۔ یہ کے جی ون یا کے جی ٹو سے شروع ہوتا ہے، جب پہلی بار "ٹیوشن والی باجی" یا "ٹیوشن والے باجے" اسکول کے بعد دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ کلاس چار پانچ تک بہت سے بچے اکیڈمی جانا شروع کر دیتے ہیں، باقی باجی یا بھائی کے ساتھ ہی چلتے رہتے ہیں۔ میٹرک پر یہ نیا نہیں ہوتا، بس اب یہ آکسیجن بن جاتا ہے، کیونکہ اب رپورٹ کارڈ نہیں، بورڈ کا امتحان سامنے ہوتا ہے۔
اعداد و شمار دیکھیں: نجی اسکولوں کے 44 فیصد اور سرکاری اسکولوں کے 24 فیصد بچے فیس کے علاوہ ٹیوشن پر بھی خرچ کرتے ہیں (ASER پاکستان 2025)۔
اس پورے کاروبار پر کوئی لائسنس نہیں، کوئی چیک نہیں۔ کوئی نہیں دیکھتا اکیڈمی والا استاد کیا پڑھا رہا ہے، یا کتنا جانتا ہے۔
آپ کے گھر میں یہ سلسلہ کب شروع ہوا تھا؟ کمنٹ میں بتائیں۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Bushra Aamir, Iram Ibrahim
18/09/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Bushra Aamir, Iram Ibrahim

رپورٹ کارڈ گھر آئی۔ نمبر اچھے تھے۔ آپ خوش ہو گئے۔پھر ایک دن آپ بچے کے ساتھ بیٹھے اور کہا، "بیٹا، یہ سوال ذرا کر کے دکھاؤ...
11/09/2026

رپورٹ کارڈ گھر آئی۔ نمبر اچھے تھے۔ آپ خوش ہو گئے۔
پھر ایک دن آپ بچے کے ساتھ بیٹھے اور کہا، "بیٹا، یہ سوال ذرا کر کے دکھاؤ۔"
وہ نہیں کر سکا۔
قصور بچے کا نہیں ہے۔ وہ کمزور نہیں ہے۔ وہ نمبر بچے کی سمجھ کو ناپ ہی نہیں رہے تھے۔ وہ یہ ناپ رہے تھے کہ بچہ کتاب کی بات، کتاب کی ترتیب میں، کتنی اچھی طرح دہرا سکتا ہے۔
اب ذرا یہ سنیں۔
ملک بھر میں ہونے والے تعلیمی سروے "اثر 2025" کے مطابق، پانچویں جماعت میں پرائیویٹ اسکولوں کے 51 فیصد بچے دوسری جماعت کی سطح کی عبارت پڑھ سکتے ہیں۔
سرکاری اسکولوں میں؟ 52 فیصد۔
جی ہاں، سرکاری اسکول ایک فیصد آگے ہیں۔ اب ذرا اپنی فیس کی رسید دوبارہ دیکھیں۔
آپ دو گنا، تین گنا، چار گنا فیس دیتے ہیں، اور بچے کے پڑھ پانے کا امکان ذرا بھی نہیں بدلتا۔
اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ پرائیویٹ اسکولوں کے 44 فیصد بچوں کو اسکول کے بعد ٹیوشن بھی چاہیے۔ یعنی ایک بار پیسے دے کر ادھوری تعلیم خریدیں، پھر دوبارہ پیسے دے کر اسے پورا کروائیں۔
بارہ سال کی فیس، ٹیوشن، وین، کتابیں، یونیفارم، سب جوڑیں تو میرا حساب 34 سے 42 لاکھ روپے تک پہنچتا ہے۔
اور بدلے میں؟ پانچویں جماعت کے تقریباً آدھے بچے دوسری جماعت کی عبارت بھی نہیں پڑھ پاتے۔
میں نے دس سال کلاس روم میں پڑھایا ہے۔ اور پچھلے چھ سال سے میرے اپنے بچے گھر پر سیکھ رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہر گھرانہ اسکول چھوڑ دے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جو راستہ محفوظ لگتا ہے، وہ صرف جانا پہچانا ہے۔
محفوظ نہیں۔
پوری تفصیل پہلے کمنٹ میں ہے۔

کچھ سال پہلے، جب میں پڑھاتا تھا، ہمارے اسکول کے اونر کی آمد کی خبر آئی۔ صاحب مفتی تھے اور کئی برانچز چلاتے تھے۔دو ہفتے پ...
29/08/2026

کچھ سال پہلے، جب میں پڑھاتا تھا، ہمارے اسکول کے اونر کی آمد کی خبر آئی۔ صاحب مفتی تھے اور کئی برانچز چلاتے تھے۔

دو ہفتے پہلے سے تیاریاں شروع ہو گئیں۔ ہر ٹیچر نے اپنے بہترین بچے چن لیے۔ تقریریں، نظمیں، اتنی بار رٹوائی گئیں کہ بچے نیند میں بھی سنا دیتے۔

پھر وہ دن آگیا۔ میرے ایک طالبعلم نے بہت خوبصورتی سے نظم سنائی۔ مفتی صاحب نے خوش ہو کر پوچھا، "بیٹا، یہ لائن کا مطلب کیا ہے؟"

بچہ خاموش ہو گیا۔ ایک لفظ نہیں بولا۔

اسی دن مجھے سمجھ آئی کہ اسکول کا "خاص دن" دراصل ہوتا کیا ہے۔ یہ اسکول دکھانے کے لیے نہیں ہوتا۔ یہ وہ پرفارمنس ہے جو دو ہفتے پہلے سے رٹی جاتی ہے۔

اور جو "اوپن ہاؤس" آپ کے بچے کے اسکول میں ہوتا ہے؟ وہی ڈرامہ ہے، بس تھوڑا نرم انداز میں۔

اصل سچائی کہاں ملتی ہے؟ گیٹ پر، جب بچوں کی چھٹی ہو رہی ہوتی ہے۔ ویٹنگ ایریا میں، جب کوئی آپ کو کچھ دکھانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ اور کلاس ٹیچر سے وہ ایک سوال، جو کسی نے پہلے سے تیار نہیں کروایا۔

پوری آرٹیکل نیچے دیے گئے لنک پہ موجود ہے۔ اگر آپ بھی اپنے بچے کے اسکول کا اصل دن جاننا چاہتے ہیں، پانچ منٹ کافی ہیں۔

Your child doesn't have enough friends.You know it. You don't say it. But it sits there.You pulled them out of a system ...
28/06/2026

Your child doesn't have enough friends.
You know it. You don't say it. But it sits there.
You pulled them out of a system that was failing them. You built something better. And then you discovered that the one thing school did almost automatically, put your child in a room with other children every single day, you now have to build yourself. From scratch. In a country where almost nobody else is doing this.
Most Pakistani homeschooling parents respond by waiting. Parks. WhatsApp groups. Occasional classes. Hoping community will form around them.
It won't. Not like that.
I wrote about why, and what to do instead. One action. This week. Not a ten-step plan.

16/06/2026

چارٹ لگایا۔
ستارے دیے۔
انعام دیا۔
بچے نے پڑھا۔ انعام مل گیا۔ اگلے دن پھر وہی حال۔
ہم نے پڑھنا نہیں سکھایا۔ سودا کرنا سکھایا۔
بہت جلد پڑھنے کے بارے میں ویبینار لانچ کر رہا ہوں۔ اس میں دیکھیں گے کہ پڑھنے کی عادت کیسے لگائی جاتی ہے ۔

15/06/2026

آپ کا بچہ صورت اس وقت پڑھتا ہے جب آپ پاس ہوں۔
آپ اٹھے اور کتاب بند۔
یہ بچے کی غلطی نہیں۔
طریقے کی غلطی ہے۔
آیئے میرے اگلے ویبینار میں اس کو تفصیل سے دیکھیں۔ میرا واٹس ایپ چینل جائن کریں۔ اس میں ساری تفصیلات شیئر کروں گا۔

The most common question I get about homeschooling: "What about socialization?"Here is my honest answer.My son goes with...
07/06/2026

The most common question I get about homeschooling: "What about socialization?"
Here is my honest answer.
My son goes with me everywhere. He sits with me at the Islahi Majlis. He comes to the madrassa where I teach. He goes with me to visit friends, teachers, mentors. He goes to the market and handles transactions on his own.
Before age 10, he has spoken to more people, across more ages and contexts, than most school-going children will encounter in their entire childhood.
He is not learning to socialize. He is socializing.
School, meanwhile, puts 40 children of the exact same age in a room together for six hours a day and calls that socialization. At no point in adult life does anyone inhabit a world structured this way. Not at work. Not in a family. Not anywhere after graduation.
I spent 10 years teaching in Pakistani private schools. I have been homeschooling my own children for 6 years without formal enrollment. The question "what about socialization?" deserves a real answer, not a reassuring one.
I wrote that answer. The article covers the myths, the research, Pakistan-specific data on what school socialization is actually producing, and a framework I am calling the Horizontal Trap.
It also ends with a question nobody asks: are school-going children properly socialized?

25/05/2026

AP office se thakay haray Ghar atay ho.

Soch rahay ho ke ek cup chai milay gi.

Lekin.

Ghar me enter hotay hi sunnay ko milta hay. "Is ka Kuch karain. Meri to ek nahi sunnta."

Subha mobile.
Sham me mobile.
Raat me mobile

Ye rozana ka scene hay.

Koi kaam nahi.
Koi parhai nahi.

What to do?
ISS summer vacations me bachay ko ek skill sikha den. Jo saari Umar kaam aye.

22/05/2026

6 saal pehle hum nay faisla Kiya ke apnay bachon ko school nahi bhejen ge. Bara beta 4.5 Saal ka tha. Logon ne Wohi ghisay pitay sawal uthaye.
Log Kiya kahenge
Socialization kaisay Hogi
Khud kaisay parhao he
Waghera

Me ne books parheen. Apnay experience pe ghor Kiya. Pata Chala ke school me Jo English sikhai jati hay us ka tareeqa bilkul ghalat hay. Us se English nahi ATI English ka darr ajata hay.

AJ Mera beta Mashallah 10 Saal ka hay. Famous Five or Secret Seven parhta hay. Ek hafta me ek novel khatam karta hay. English Bolta hay. Samajhta hay. Mere Canadian clients se confidence se BAAT karta hay.

Me ne kabhi in k Sath zabardasti nahi ki.

AP bhi ye Kam kar saktay hain.




Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923126691612

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khud Parhao - خود پڑھاو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Khud Parhao - خود پڑھاو:

Shortcuts

Share