20/09/2026
دوپہر کے تین بجے ہیں۔ بچہ اسکول سے آیا، کھڑے کھڑے آدھا سینڈوچ کھایا، اور دوبارہ جوتے پہن رہا ہے۔ منزل؟ اکیڈمی۔ اس ہفتے چوتھی مرتبہ ہے۔
یہ سلسلہ میٹرک سے شروع نہیں ہوتا۔ یہ کے جی ون یا کے جی ٹو سے شروع ہوتا ہے، جب پہلی بار "ٹیوشن والی باجی" یا "ٹیوشن والے باجے" اسکول کے بعد دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ کلاس چار پانچ تک بہت سے بچے اکیڈمی جانا شروع کر دیتے ہیں، باقی باجی یا بھائی کے ساتھ ہی چلتے رہتے ہیں۔ میٹرک پر یہ نیا نہیں ہوتا، بس اب یہ آکسیجن بن جاتا ہے، کیونکہ اب رپورٹ کارڈ نہیں، بورڈ کا امتحان سامنے ہوتا ہے۔
اعداد و شمار دیکھیں: نجی اسکولوں کے 44 فیصد اور سرکاری اسکولوں کے 24 فیصد بچے فیس کے علاوہ ٹیوشن پر بھی خرچ کرتے ہیں (ASER پاکستان 2025)۔
اس پورے کاروبار پر کوئی لائسنس نہیں، کوئی چیک نہیں۔ کوئی نہیں دیکھتا اکیڈمی والا استاد کیا پڑھا رہا ہے، یا کتنا جانتا ہے۔
آپ کے گھر میں یہ سلسلہ کب شروع ہوا تھا؟ کمنٹ میں بتائیں۔