Alfaz Kahaniالفاظ کہانی

Alfaz Kahaniالفاظ کہانی

Share

"الفاظ جو دل کو چھو لیں، کہانیاں جو زندگی بدل دیں۔ ہماری تحریر، آپ کی کہانی۔"

28/05/2026

"کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ رشتوں میں لحاظ ختم ہو جائے تو سب ختم ہو جاتا ہے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔"

28/05/2026

"بھروسہ اگر دنیا پر ہو تو ٹوٹ جاتا ہے، اور اگر اللّٰہ پاک پر ہو تو معجزہ بن جاتا ہے۔ جہاں ہماری عقل ختم ہوتی ہے، وہاں سے میرے رب کی رحمت شروع ہوتی ہے۔
الحمداللّٰہ۔ 🌸☝️"


27/05/2026

عید الاضحیٰ مبارک!"

"اللّٰہ پاک اس عیدِ قربان پر آپ کی زندگی کو امن، دل کو سکون اور روح کو اپنی رحمت کے نور سے بھر دے۔ آپ کی تمام نیک تمنائیں اور قربانیاں قبول فرمائے"۔

آمین



ٰ #سکونِ_دل

26/05/2026

عنوان: داستانِ وفا اور عیدِ قربان کی پہلی کرن...
چاند رات مبارک! ✨🕋

چاند نظر آ گیا ہے، فضائیں درود و سلام سے مہک رہی ہیں اور صبح عیدِ قربان کی بابرکت صبح ہے۔ لیکن کیا ہم نے سوچا کہ یہ قربانی، یہ عید، کس عظیم یادگار کا نام ہے؟
یہ یاد ہے اللہ کے خلیل، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صابر بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی!

ایک باپ جس نے رب کی رضا کے لیے اپنے بوڑھاپے کا اکلوتا سہارا قربان کرنے میں سیکنڈ کی بھی دیر نہ کی، اور ایک بیٹا جس نے مسکرا کر چُھری کے نیچے گردن رکھ دی۔

کائنات نے محبت، اطاعت اور وفا کا ایسا منظر نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا، نہ بعد میں کبھی دیکھے گی۔

عیدِ قربان محض ایک تہوار یا جانور کی قربانی کا نام نہیں، یہ اپنے اندر کے "میں" اور "انا" کو رب کے حکم کے آگے ذبح کر دینے کا نام ہے۔

❤ الفاظ کہانی کی طرف سے آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے عید الاضحیٰ کی چاند رات مبارک!

💬 کمنٹ سیکشن میں بتائیے:
اس عید پر جانور کی قربانی کے ساتھ ساتھ، آپ اپنے اندر کی کس برائی یا غصے کو قربان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اپنے پیاروں کو کمنٹس میں ٹیگ کریں اور عید کی مبارکباد دیں!


#اِسلامک ٰی #قُربانی

25/05/2026

"ایک باپ کی انا بڑی ہوتی ہے یا بیٹے کی؟
دل جھنجھوڑ دینے والی ایک مختصر کہانی..."

کہانی: آخری دستک

وہ پچھلے دس سالوں سے اس بوڑھے چوکیدار کو دیکھ رہا تھا۔ سردی ہو یا گرمی، وہ ہمیشہ سڑک کے اس پار بیٹھتا، ہاتھ میں تسبیح ہوتی اور نظریں سامنے والے عالی شان مکان کے بند گیٹ پر ٹکی رہتیں۔

اس نے کبھی اس بوڑھے کو کسی سے بات کرتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ بس خاموشی سے وہاں بیٹھا رہتا، جیسے کسی صدیوں پرانے انتظار میں ہو۔

ایک دن، تجسس سے مجبور ہو کر وہ اس بوڑھے کے پاس چلا گیا اور پوچھا، "بابا جی! آپ روز یہاں بیٹھتے ہیں، اس گھر کو دیکھتے رہتے ہیں۔ یہاں کون رہتا ہے؟ آپ کس کا انتظار کرتے ہیں؟"

بوڑھے نے ایک گہری سانس لی، اس کی آنکھوں میں ویرانی تیر گئی۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا، "اس گھر میں میرا بیٹا رہتا ہے۔ بہت بڑا افسر ہے۔"

نوجوان حیران ہوا اور بولا، "آپ کا بیٹا؟ تو آپ باہر سڑک پر کیوں بیٹھتے ہیں؟ اندر کیوں نہیں چلے جاتے؟"

بوڑھے نے مسکرا کر اپنی تسبیح کے دانے کو آگے سرکایا اور بولا، "دس سال پہلے، جب اس کی نئی نئی نوکری لگی تھی اور اس کی بڑے گھر والوں میں شادی ہوئی تھی، تو اس نے مجھ سے کہا تھا کہ 'بابا! میری سوسائٹی میں آپ جیسے ان پڑھ اور غریب باپ کے ساتھ میرا گزارا نہیں ہو سکتا۔ آپ گاؤں واپس چلے جائیں۔' میں چلا گیا تھا..."

"پھر آپ واپس کیوں آئے؟" نوجوان نے پوچھا۔
بوڑھا بولا، "دو سال پہلے مجھے معلوم ہوا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ اب چل پھر نہیں سکتا۔ اس کی بیوی اور سسرال والے اسے اسی حال میں چھوڑ کر الگ ہو گئے ہیں۔ اب وہ اس بڑے گھر میں اکیلا ہے۔"

نوجوان کی آنکھیں نم ہو گئیں، "تو بابا جی، آپ اندر جا کر اس کا سہارا کیوں نہیں بنتے؟ وہ تو اب مجبور ہے۔"
بوڑھے نے مکان کے گیٹ کی طرف دیکھا، جہاں اب ہلکی سی روشنی نمودار ہو رہی تھی، اور بولا:

"میں اندر اس لیے نہیں جاتا کیونکہ وہ اب بھی اپنی انا کے قفل میں بند ہے۔ میں نے اسے پیغام بھجوایا تھا کہ میں باہر بیٹھا ہوں، لیکن اس کی غیرتِ نفس ایک غریب باپ کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔ میں یہاں اس لیے بیٹھتا ہوں کہ جب بھی اس کی انا ٹوٹے گی اور وہ مجھے پکارے گا، اسے گیٹ کھول کر میرا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ باپ تو بس ایک دستک کی دوری پر بیٹھا ہے..."

بوڑھے نے بات ختم کی اور سڑک پار کر کے گیٹ کے قریب چلا گیا، کیونکہ رات گہری ہو رہی تھی۔

اگلی صبح جب نوجوان وہاں سے گزرا، تو اس نے دیکھا کہ اس عالی شان مکان کا بڑا گیٹ کھلا ہوا تھا اور اندر صحن میں ایک وہیل چیئر خالی پڑی تھی۔ نوجوان نے تڑپ کر آگے بڑھ کر دیکھا...

وہاں بیٹا وہیل چیئر سے گر کر زمین پر اپنے باپ کے قدموں سے لپٹا رو رہا تھا، اور بوڑھا باپ ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں بند کر چکا تھا، لیکن اس کے چہرے پر ایک سکون تھا... جیسے اس کا دس سالہ انتظار پورا ہو گیا ہو۔ بیٹے کی انا ٹوٹ چکی تھی، لیکن دستک سننے والا اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔


#داستان

25/05/2026

25/05/2026

"نصیب کا لکھا تو مل ہی جاتا ہے، پر افسوس اس مخلص جذبے کا ہوتا ہے جو کسی کے دل میں ہمارے لیے تھا اور ہم سمجھ نہ سکے۔" ✨


#احساس #محبت #نصیب #زندگی

24/05/2026

"کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ آج کے دور میں سچے اور مخلص انسان کی قدر صرف تب ہوتی ہے جب وہ سب کچھ چھوڑ کر چلا جائے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔ 👇"


#زندگی #فلسفہ

23/05/2026


#سکون #انسانیت #احساس

23/05/2026

📖 ناول: (بے نام تعلق)
​✨ قسط نمبر: 03

​"کچھ سچ اتنے بھاری ہوتے ہیں کہ انسان کا وجود انہیں سنبھال نہیں پاتا، اور کچھ سائے اندھیرے سے نکل کر زندگی کا احاطہ کر لیتے ہیں..." 🖤🌪️

کمرے کی ہوا جیسے یکدم جم گئی تھی۔ چٹخے ہوئے موبائل کی اسکرین پر چمکتا ہوا وہ آخری میسج شاہان کی روح میں اتر چکا تھا: "کھڑکی سے باہر دیکھو، میں واپس آ گیا ہوں، اور اب تمہاری باری ہے۔"

شاہان نے کانپتی ہوئی انگلیوں سے کھڑکی کا پردہ ذرا سا مزید سرکایا۔ گلی میں پھیلا اندھیرا اب اس کے لیے اجنبی نہیں رہا تھا، بلکہ وہ ایک ایسے جلاد کی شکل اختیار کر چکا تھا جو اس کی سانسیں گن رہا ہو۔ سامنے سڑک کے اس ویران، گیلے بینچ پر کالا چوغہ اوڑھے وہ سایہ موجود تھا۔ اس بار اس کا رخ سیدھا شاہان کی کھڑکی کی طرف تھا۔ اسٹریٹ لائٹ کی مدہم پیلی روشنی جب اس کے چہرے پر پڑی، تو شاہان کے حلق سے ایک دبی ہوئی چیخ نکل گئی۔

وہ چہرہ... وہ کوئی ہولناک یا اجنبی چہرہ نہیں تھا، بلکہ وہ ہو بہو شاہان کے اپنے چہرے سے ملتا جلتا تھا! وہی گہری، پرسرار آنکھیں، وہی ماتھے کی لکیریں، بس فرق صرف اتنا تھا کہ اس چہرے پر عمر بھر کی تھکن، درد اور وحشت کے گہرے نشانات تھے۔ وہ شخص جو بیس سال سے ایک سایہ بن کر اس مکان کے चक्कर کاٹ رہا تھا، کوئی روح نہیں بلکہ ہڈیوں اور گوشت کا بنا وہ انسان تھا جسے میر زمان (بڑے چوہدری) کے خط میں شاہان کا "اصل باپ" کہا گیا تھا۔

شاہان کے قدموں سے جیسے زمین سرک گئی۔ وہ پیچھے ہٹا، اس کا پیٹھ دیوار سے ٹکرایا اور وہ ہانپتے ہوئے فرش پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں موجود وہ خط اور خون آلود رومال اب بھی اس کی مٹھی میں دبا ہوا تھا۔ "یہ نہیں ہو سکتا... یہ کوئی خواب ہے... ایک ایسا خواب جس سے میں جاگ کیوں نہیں پا رہا؟" اس نے اپنے بال نوچتے ہوئے سوچا۔
ابھی وہ اس صدمے سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ نیچے مکان کے بھاری لکڑی کے دروازے پر ایک زوردار دستک ہوئی۔

ٹھک... ٹھک... ٹھک!
خاموش رات میں وہ آواز کسی ہتھوڑے کی طرح شاہان کے دل پر لگی۔ دستک میں کوئی جلدی نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سا ٹھہراؤ اور یقین تھا، جیسے باہر کھڑے شخص کو معلوم ہو کہ اندر موجود پرندہ اب کہیں بھاگ نہیں سکتا۔
شاہان نے نیچے گرے ہوئے فون کو اٹھایا۔ اسکرین کا شیشہ بری طرح ٹوٹ چکا تھا، مگر لائٹ اب بھی جل رہی تھی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے کھڑکی سے دوبارہ نیچے جھانکا۔ بینچ خالی ہو چکا تھا۔ وہ سایہ اب نیچے دروازے پر کھڑا تھا۔

شاہان جانتا تھا کہ وہ اس کمرے میں قید رہ کر سچ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ منشی کی باتیں، چوہدریوں کی دھمکی، اور اس کے باپ کا یہ اچانک سامنے آنا—ان سب سوالوں کے جواب نیچے اس دروازے کے پیچھے کھڑے تھے۔ اس نے گہرا سانس لیا، اپنے اندر کی تمام تر ہمت کو جمع کیا، میز پر رکھا وہ پرسرار رجسٹر اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈالا، اور الماری کی وہ چابی مٹھی میں دبا کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔

سیڑھیاں اب پہلے سے زیادہ تاریک اور سرد محسوس ہو رہی تھیں۔ ہر قدم کے ساتھ شاہان کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ جب وہ آخری سیڑھی پر پہنچا، تو دروازے پر دستک دوبارہ ہوئی۔ اس بار دستک کے ساتھ ایک انتہائی دھیمی، گھمبیر آواز بھی آئی:

"شاہان... دروازہ کھولو۔ سائے زیادہ دیر دھوپ میں نہیں ٹھہر سکتے، اور میری رات اب ختم ہونے والی ہے۔"
شاہان نے لکڑی کے بھاری کواڑ کے پیچھے لگے لوہے کے ہینڈل کو چھوا۔ اس کا پورا ہاتھ پسینے سے تر تھا۔ اس نے آہستہ سے تالا کھولا اور دروازے کو پیچھے کھینچا۔

بیرونی دروازہ کھلتے ہی رات کی یخ بستہ ہوا کا ایک جھونکا اندر داخل ہوا، جس سے شاہان کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ سامنے وہ کالا چوغہ پوش شخص کھڑا تھا۔ قریب سے دیکھنے پر اس کا وجود مزید پراسرار لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں انسوؤں کی ایک چمک تھی، مگر چہرے پر ایک عزم تھا۔

"تم... تم کون ہو؟" شاہان نے بمشکل اپنے الفاظ کو زبان دی۔
اس شخص نے آہستہ سے اپنے سر سے چوغے کا ہڈ (Hood) پیچھے ہٹایا۔ اس کے سفید ہوتے بال ہوا میں اڑے۔ اس نے شاہان کے چہرے کو ایسے دیکھا جیسے کوئی پیاسا برسوں بعد پانی کا کنواں دیکھتا ہے۔

"میں وہ گناہ ہوں شاہان، جسے میر زمان نے بیس سال پہلے مٹانے کی کوشش کی تھی، مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میں زمان شاہ ہوں... تمہارا بدقسمت باپ۔"
شاہان کا سر گھومنے لگا۔ "اگر تم میرے باپ ہو، تو بیس سال تک کہاں تھے؟ مجھے اس ویران مکان میں ایک یتیم کی طرح کیوں چھوڑ دیا گیا؟ اور وہ رجسٹر... وہ خون آلود رومال کیا ہے؟" شاہان کی آواز میں اب دکھ کے ساتھ ساتھ غصہ بھی شامل ہو چکا تھا۔

زمان شاہ نے گلی کے دونوں طرف دیکھا، جیسے اسے کسی کے آنے کا خطرہ ہو۔ "یہاں کھڑے ہو کر بات کرنے کا وقت نہیں ہے، شاہان۔ میر زمان کے آدمیوں نے منشی کو اٹھا لیا ہے، اور وہ اگلا وار تم پر کرنے والے ہیں۔ انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ منشی نے تمہیں اس الماری کی چابی دے دی ہے۔ ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔"

"میں کہیں نہیں جاؤں گا! جب تک مجھے یہ معلوم نہیں ہو جاتا کہ اس کہانی کا اصل سچ کیا ہے، میں ایک قدم آگے نہیں بڑھاؤں گا،" شاہان نے اصرار کیا۔
زمان شاہ نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنے کوٹ کے اندر سے ایک پرانی ڈائری نکالی۔ "یہ منشی کے رجسٹر کا دوسرا حصہ ہے۔ اس میں وہ سچ لکھا ہے جو منشی نے بھی تمہیں نہیں بتایا۔ تمہاری ماں، زویا... وہ میر زمان کی اکلوتی بہن تھی۔ اس نے مجھ سے، یعنی ایک معمولی زمیندار سے محبت کرنے کی جرات کی تھی۔ میر زمان کی غیرت نے یہ برداشت نہیں کیا کہ اس کی بہن کسی عام انسان کے نام کے ساتھ جڑے۔ انہوں نے زویا کو جیتے جی اس حویلی کے تہہ خانے میں قید کر دیا، اور دنیا کو بتا دیا کہ وہ مر چکی ہے۔"
شاہان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ "میری ماں... زندہ تھی؟"

"ہاں، وہ زندہ تھی جب تمہیں اس مکان میں لایا گیا تھا،" زمان شاہ کی آواز رندھ گئی۔ "میر زمان نے مجھے ایک جھوٹے قتل کے مقدمے میں بیس سال کے لیے جیل بھجوا دیا۔ جب میں رہا ہو کر آیا، تو مجھے معلوم ہوا کہ زویا اس دنیا میں نہیں رہی، مگر اس کا خون... تم... یہاں زندہ ہو۔ میں ہر رات اس بینچ پر بیٹھ کر تمہیں صرف اس لیے دیکھتا تھا تاکہ زویا کی امانت کی حفاظت کر سکوں۔ میں حویلی پر حملہ کرنا چاہتا تھا، مگر میرے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا مگرا اب... اب وہ ثبوت تمہارے ہاتھ میں ہے۔"
شاہان نے اپنی جیب سے وہ خط نکالا۔ "یہ خط... اس میں میر زمان کے دستخط ہیں، لیکن اس خون آلود رومال کا کیا مطلب ہے؟"

زمان شاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ "وہ خون تمہاری ماں کا نہیں تھا، شاہان۔ وہ خون میر زمان کے اس گواہ کا تھا جس نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دی تھی، اور مرنے سے پہلے اس نے اس رومال پر اپنے خون سے اعترافِ گناہ لکھا تھا کہ میر زمان نے اسے مجبور کیا تھا۔ یہ رومال اور وہ خط میر زمان کی سلطنت کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔"

ابھی زمان شاہ اپنی بات مکمل ہی کر پایا تھا کہ گلی کے موڑ پر دوبارہ وہی تیز ہیڈلائٹس چمکیں۔ گاڑی کے ٹائروں کی چیخ نے خاموشی کو تار تار کر دیا۔ میر زمان کے مسلح کارندے واپس آ چکے تھے، اور اس بار ان کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد زیادہ تھی۔

"شاہان! بھاگو... تالاب کی طرف جاؤ، وہاں پرانی سرنگ ہے جو شہر کے باہر نکلتی ہے۔ میں انہیں روکتا ہوں!" زمان شاہ نے شاہان کو پیچھے دھکیلتے ہوئے چلایا۔
"نہیں! میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا،" شاہان نے اپنے باپ کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی۔

"بھاگو شاہان! اگر تم پکڑے گئے، تو زویا کا سچ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا،" زمان شاہ نے اپنے چوغے کے اندر سے ایک پرانا پسٹیل نکالا اور گاڑیوں کی طرف رخ کر لیا۔
شاہان کے پاس سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ اس کے اندر کا خوف اب ایک انتقام کی آگ میں بدل رہا تھا۔ اس نے وہ خط، رومال اور رجسٹر سنبھالا اور اندھیری گلی کی طرف دیوانہ وار دوڑ لگا دی۔ پیچھے گولیوں کے چلنے کی تڑتڑاہٹ اور چیخ و پکار کی آوازیں گونجنے لگیں۔ شاہان کا دل دھماکے کر رہا تھا، اس کے بوٹوں کے نیچے گلی کا گندہ پانی اچھل رہا تھا، مگر وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ رہا تھا۔
وہ بھاگتا ہوا اسی پرانے، اجڑے ہوئے تالاب کے پاس پہنچا جہاں منشی ملا تھا۔ تالاب کے کنارے جھاڑیوں کے پیچھے واقعی ایک پرانی، خستہ حال لوہے کی جالی لگی تھی جو کسی سرنگ کا دہانہ معلوم ہوتی تھی۔ شاہان نے پوری طاقت سے اس جالی کو جھٹکا دیا، زنگ آلود لوہا ایک چیخ کے ساتھ ٹوٹ گیا۔ شاہان نے بغیر سوچے سمجھے اس تاریک اور بدبودار سرنگ کے اندر چھلانگ لگا دی۔

سرنگ کے اندر گھپ اندھیرا تھا اور پانی اس کے ٹخنوں تک آ رہا تھا۔ وہ دیواروں کا سہارا لے کر آگے بڑھتا رہا۔ کتنا وقت گزرا، اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔ جب وہ سرنگ کے دوسرے سرے سے باہر نکلا، تو صبح کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔ آسمان پر ہلکی سی سپیدی پھیل رہی تھی اور وہ شہر کے بیرونی صنعتی علاقے میں ایک ویران سڑک پر کھڑا تھا۔
شاہان تھکن سے چور ہو کر سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔ اس کا کوٹ کیچڑ سے لت پت تھا اور اس کے ہاتھ زخمی ہو چکے تھے۔ اس نے اپنی جیب سے فون نکالا، اسکرین بالکل ختم ہو چکی تھی مگر اسی لمحے اس پر ایک نئی وائبریشن (Vibration) ہوئی۔

شاہان نے لرزتے انگلیوں سے اسکرین پر انگلی پھیرے کر کسی طرح میسج کھولنے کی کوشش کی۔ اس بار میسج کسی انجان نمبر سے نہیں تھا، بلکہ اس کے اپنے ہی نمبر سے خود کو بھیجا گیا تھا—ایک ایسا میسج جو اس نے کبھی ٹائپ ہی نہیں کیا تھا!

میسج میں لکھا تھا:
"کھیل اب حویلی کے اندر منتقل ہو چکا ہے۔ شاہان... اگر اپنے باپ اور منشی کی جان چاہتے ہو، تو سورج ڈھلنے سے پہلے حویلی کے دروازے پر اس خون آلود رومال کے ساتھ پہنچ جاؤ، ورنہ تماشہ بڑا عبرتناک ہوگا..."

شاہان نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں سورج آہستہ آہستہ طلوع ہو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر اب خوف کا نام و نشان نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں اپنے باپ کا چہرہ اور ماں کا اداس عکس گھوم رہا تھا۔

اس نے مٹھی بند کی اور بڑبڑایا: "میر زمان... اب اس بے نام تعلق کو ایک نام ملے گا، اور وہ نام تمہاری بربادی کا ہوگا!"
(جاری ہے...)

💬 کمنٹس میں ضرور بتائیں:

کیا شاہان کو اکیلے حویلی جانا چاہیے یا پولیس کی مدد لینی چاہیے؟

کیا زمان شاہ واقعی شاہان کا باپ ہے یا یہ میر زمان کی کوئی نئی چال ہے؟

اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ باکس میں کریں! 👇




21/05/2026





‎ #اصلاحِ_نفس #الفاظ #کہانی #سکون

Want your school to be the top-listed School/college?

Website