Al-BADAR Quran Academy

Al-BADAR Quran Academy

Share

Al-Badr Quran Academy offers premium online and offline Quranic and Islamic education. Contact us today to start your journey! https://wa.me/923102129157

Join us to learn Tajweed, Hifz, Nazra, Arabic and Islamic values from expert teachers.

14/06/2026

انہتائی افسوس ہے! ایسے بے ایمان اور بے غیرت حکمرانوں پر، جو سود دے کر ﷲ اور اس کے رسولﷺ سے تو جنگ کے لیے تیار ہیں، لیکن سود ختم کر کے امریکا اور اس کے کتوں سے جنگ کے تیار نہیں۔

بے غیرتی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، لیکن جنہیں دیکھ کر بےغیرتی کو بھی غیرت آ جائے وہ ہمارے آج کے حکمران ہیں۔

کتنی گھٹیا ترین سوچ ہے کہ ہمارے حکمران امریکہ، آئی ایم ایف اور عالمی طاقتوں کو تو ناراض کرنے سے ڈرتے ہیں، مگر ربِ کائنات کے اعلانِ جنگ سے نہیں ڈرتے۔ سودی نظام کو تو ختم کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتے، (بلکہ اس کے دلدادہ بنے بیٹھیں ہیں) لیکن قوم کی کمائی سے قسطیں بڑے شوق سے ادا کر رہے ہیں۔

اور سوال صرف حکمرانوں سے نہیں، عوام سے بھی ہے کہ، کیا ہم نے کبھی سود کے خلاف وہ آواز بلند کی جو ہم دنیاوی مسائل پر بلند کرتے ہیں؟ کیا ہمیں اللہ کے غضب کا خوف ہے یا صرف مہنگائی اور ٹیکسوں کا؟
یاد رکھیں! عوام صحیح ہو تو حکومت بھی ٹھیک رہتی ہے، لیکن جب عوام میں ہی گڑ بڑ ہو تو پھر حکمرانوں کی عقل پر ماتم نہیں کرنا چاہئے۔

خدارا حق کو پہچانیں، اور اپنے اندر دین کے مٹنے کا کچھ غم پیدا کریں، ورنہ یاد رکھیں! یہ دین ہم سے پہلے بھی کامیاب تھا، دین آج بھی کامیاب ہے، اور ہمارے اس دنیا سے مٹنے کے بعد بھی کامیاب رہے گا۔ لیکن ہمارا اس مین کوئی حصہ شامل نہیں ہو گا۔

امریکہ سے جنگ نہ کرنا شاید سیاسی مجبوری ہو، لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ جاری رکھنا کوئی مجبوری نہیں، بلکہ یہ آپ کا اپنا ایک تباہ کن انتخاب ہے۔

آپ اگرچہ حکمرانوں تک یہ آواز نہیں پہنچا سکتے، لیکن اپنی ذات کے تو ذمہ دار ہیں نہ، آپ بس اپنی ذات سے عہد کر لیجئے کہ *"آج سے کوئی سودی معاملہ نہیں کروں گا اور جو کرتے ہیں ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھوں گا"*

وقت لگے گا لیکن کامیابی ضرور ملے گی۔ ان شاءاللہ

*تحریر: ابنِ شبیر*

*البدر قرآن اکیڈمی پاکستان*

https://whatsapp.com/channel/0029VadnfrhLSmbfbSNZ1f2R







#بجٹ2026





ٰ






13/06/2026

چہرے پہ اتر آئی ہے کال تیرے دل کی
یہ بغضِ صحابہ کی سند ہے کہ نہیں ہے۔

#محرم #مسائل #صحابہ
#اسلام #تربیت

08/06/2026

کمیشن کی دوائیاں اور غریب کی چیخیں

آج کا زمانہ ترقی کا ہے، مگر افسوس کہ اسی ترقی کے پردے میں انسانیت کہیں گم ہو گئی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ڈاکٹر کو "مسیحا" کہا جاتا تھا۔ لوگ یقین رکھتے تھے کہ یہ ہاتھ شفا کے لیے اٹھتے ہیں، نہ کہ پیسے کمانے کے لیے۔ آج وہی ہاتھ نسخے پر ایسی دوائیں لکھتے ہیں جن کا مریض کو کوئی فائدہ نہیں، صرف اس لیے کہ کمپنی نے ماہ کے آخر میں کمیشن دینا ہے۔

اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مخصوص کمپنیوں کی مہنگی دوائیں لکھنے پر ڈاکٹروں کو تحائف، بیرون ملک ٹور، اور نقد رقم ملتی ہے۔ مریض کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ جنیرک دوا بھی وہی کام کر سکتی ہے جو برانڈ کی دوا کرے گی، بلکہ آدھی قیمت میں کام ہو سکتا ہے۔ لیکن جنیرک لکھنے پر کمیشن کہاں سے آئے گا؟ اس لیے نسخہ ایسا لکھا جاتا ہے کہ میڈیکل اسٹور والا بھی مسکرا دے اور مریض کی جیب خالی ہو جائے۔

اس سے بھی بڑا ظلم "فضول ٹیسٹوں" کا ہے۔ بخار ہے تو پورا باڈی چیک اپ، سر درد ہے تو ایم آر آئی، تھوڑی کمزوری ہے تو دس طرح کے بلڈ ٹیسٹ۔ لیب والے اور ڈاکٹر دونوں خوش، کیونکہ کمیشن دونوں طرف سے بندھا ہوتا ہے۔ غریب آدمی جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، وہ ادھار لے کر، بیوی کے زیور بیچ کر، یہ ٹیسٹ کرواتا ہے۔ نتیجہ؟ رپورٹ میں کچھ نہیں نکلتا، سوائے اس کے کہ جیب خالی ہو گئی اور دل ٹوٹ گیا۔

جو ڈاکٹرز اس طرح کی حرکتیں کر رہیں ان سے سوال یہ کہ اپ نے حلف کس چیز کا اٹھایا تھا؟
اپ نے حلف اٹھایا تھا کہ مریض کی جان بچاؤ گے، نہ کہ اس کی مجبوری کا سودا کرو گے۔ آپ نے قسمیں کھائی تھیں کہ غریب اور امیر میں فرق نہیں کرو گے، مگر آج اپکا نسخہ دیکھ کر لگتا ہے اپ نے قسم صرف کمیشن کے ساتھ نبھائی ہے۔

ایک مزدور جب دن بھر کی مزدوری کے 800 روپے لے کر آتا ہے اور آپکا نسخہ 5000 کا نکلتا ہے، تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ وہ اپنے بچوں کی روٹی کاٹ کر آپکی کمیشن پوری کرتا ہے۔ آپ اے سی کمرے میں بیٹھ کر اگلے مریض کو بلاتے ہو، اور وہ باہر کھڑا سوچتا ہے کہ اب دوا لے یا گھر کا راشن۔

یاد رکھیں، یہ دنیا عارضی ہے۔ آج آپکے پاس طاقت ہے، کل آپ بھی مریض بنو گے۔ اس وقت آپکو بھی کوئی ایسا ہی ڈاکٹر ملے گا جو آپکی مجبوری سے کھیلے گا۔ وہ وقت بتائے گا کہ لوٹا ہوا پیسہ کسی کام نہ آیا۔

ڈاکٹری کوئی کاروبار نہیں، یہ ایک امانت ہے۔ اگر ےاپ ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ ایک غیرت مند انسان بھی ہیں تو آج عہد کریں:
1. دوا صرف وہ لکھیں گے جو ضروری ہے، نہ کہ وہ جس پر کمیشن ملے۔
2. ٹیسٹ صرف وہ کرواکروائیں گے جس کی حقیقت میں ضرورت ہو۔
3. غریب کو دیکھ کر رحم کریں گے، نہ کہ اسے شکار سمجھیں گے۔

آپکی عزت آپکی فیس کے ہندسے سے نہیں، مریض کی دعا سے بنتی ہے۔ ایک غریب کی سچی دعا آپکے کمیشن کے لاکھوں پر بھاری ہے۔

اب فیصلہ اپکا ہے: مسیحا بنو گے یا قصائی؟
آج بھی وقت ہے، لوٹ آؤ۔ ورنہ تاریخ اپکو اسی نام سے یاد رکھے گی جو تآپ نے اپنے اعمال سے کمایا۔

06/06/2026

دینِ اسلام ہماری مرضی کا نہیں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کا نام ہے!
​آج ہم میں سے ہر کوئی دین کو اپنے مفاد اور فائدے کی حد تک تو مانتا ہے، لیکن جہاں اپنی باری آئے یا حقوق دینے کا وقت ہو، وہاں ہم کنی کٹانے لگتے ہیں۔ لڑکے جہیز کے خلاف سننا نہیں چاہتے، لڑکیاں دوسری شادی کے فضائل سے نالاں ہیں، بھائی بہنوں کی وراثت پر بات کرنے سے کتراتے ہیں، اور تاجر حلال و حرام کی حدوں سے بے پرواہ دکھائی دیتے ہیں۔
​سچی کامیابی اور معاشرے کی اصلاح تب ہی ممکن ہے جب ہم "خود احتسابی" کی طرف آئیں اور دین کو اپنی پسند اور سہولت کے مطابق نہیں، بلکہ کامل اور مکمل طور پر اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔
​"اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ..."



​ #اسلام #تربیت

04/06/2026

آج کے جدید دور میں، جہاں آزادی کے نام پر اکثر حیا کے تصور کو نشانہ بنایا جاتا ہے، پردے اور حیا کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ اسلام کا وہ خوبصورت نظام ہے جو عورت کو محض ایک نمائش کی چیز بننے سے روکتا ہے اور اسے معاشرے میں اس کے حقیقی کردار، علم اور تقویٰ کی بنیاد پر عزت دلاتا ہے۔

عورت کا پردہ اس کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کی خودداری اور عظمت کا اعلان ہے۔ حیا دل کا نور ہے اور پردہ اس نور کی حفاظت کرنے والا حجاب، جو مل کر ایک پرامن اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔

​ #حجاب





03/06/2026

✨️ہم میں سے اکثر لوگوں کے فون میں ایک خاص قسم کا فولڈر ضرور ہوتا ہے۔ کہیں Saved Posts، کہیں Bookmarked Videos، اور کہیں متاثر کن جملوں کے اسکرین شاٹس۔ ہم انہیں اس امید سے محفوظ کرتے ہیں کہ "کبھی فرصت ملی تو دیکھوں گا"، "کبھی وقت ملا تو اس پر عمل کروں گا"۔

کچھ دن پہلے میں نے بھی اپنے فون کا ایسا ہی ایک فولڈر کھولا۔ وہاں مہینوں بلکہ بعض جگہوں پر برسوں پرانی محفوظ پوسٹس موجود تھیں۔ کامیابی کے راز، وقت کی قدر، کاروبار کے مشورے، شخصیت سازی کے نکات اور نہ جانے کیا کچھ۔ انہیں دیکھتے ہوئے اچانک ایک خیال ذہن میں آیا کہ ان میں سے کتنی چیزوں نے مجھے متاثر تو کیا، مگر تبدیل نہیں کیا؟ کتنی ویڈیوز ایسی تھیں جنہیں دیکھ کر میں نے سوچا تھا، "یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں"، مگر آج تک وہ کام شروع نہ ہو سکا۔

سچ یہ ہے کہ متاثر کن مواد (Inspiring Content) دیکھنا اور زندگی میں عملی قدم اٹھانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ ہم منصوبے بنانے، خواب سجانے اور امکانات کے جنگل میں بھٹکنے میں اتنا وقت گزار دیتے ہیں کہ آغاز کا لمحہ ہی ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ بڑے بڑے ارادے باندھتے ہیں، بلند منزلوں کا تصور کرتے ہیں، مگر پہلا قدم اٹھانے سے ہچکچاتے ہیں، پہلی اینٹ رکھنے سے گھبراتے ہیں۔ حالانکہ جب تک پہلی اینٹ زمین پر نہیں رکھی جاتی، عمارت صرف ذہن کے نقشے میں موجود رہتی ہے، حقیقت میں نہیں۔

💫ایک دانا کا قول ہے: "ایک چھوٹا سا عمل، دنیا کے سب سے بڑے ارادے سے بہتر ہے۔"

عمل خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اپنی حقیقت رکھتا ہے؛ لیکن ارادہ خواہ کتنا ہی بڑا ہو، اگر اس کے ساتھ عمل نہ ہو تو وہ محض ایک خواب رہ جاتا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں آہستہ آہستہ صرف ایک "صارف" (Consumer) بنا دیا ہے۔ ہم معلومات جمع کرتے رہتے ہیں، نئے منصوبے بناتے رہتے ہیں اور کامیابی کے بارے میں پڑھتے رہتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم اگلی ویڈیو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا فریب ہے۔ یہ آپ کو مصروفیت کا احساس دیتی ہے، یوں لگتا ہے جیسے آپ آگے بڑھ رہے ہوں، حالانکہ آپ صرف دوسروں کا سفر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

آج ایک کام کریں۔ وہ ایک چھوٹا سا قدم اٹھا لیں جسے آپ کسی ارادے، خواب یا منصوبے کے لیے بہت عرصے سے ٹالتے آ رہے ہیں۔ پوری منزل طے کرنا ضروری نہیں، صرف پہلی اینٹ رکھ دیجیے۔ پھر کل ایک اور اینٹ، اور پرسوں ایک اور۔

یاد رکھیے، عمارتیں ایک دن میں نہیں بنتیں۔ ہر عظیم عمارت کبھی ایک تنہا اینٹ سے شروع ہوئی تھی۔ خواب دیکھنے والے بہت ہیں، مگر پہلی اینٹ رکھنے والے کم۔ آپ کی زندگی کو بدلنے والا دن وہ نہیں ہوگا جب آپ نے بہترین موٹیویشنل ویڈیو دیکھی تھی، بلکہ وہ ہوگا جب آپ نے پہلا قدم اٹھایا تھا۔

خیر اندیش
سید سلیمان شیرازی
ڈائریکٹر زینب ایجوکیشنل ایجوکیشنل
2 جون 2026


02/06/2026

تعلیم و تربیت کورس۔۔۔
اپنے بچوں کے وقت کو قیمتی بنائیں۔





​ ​


27/05/2026

مقدس ہستیوں کے تو، جسم سے ٹکرانے والی، ہوا کی بھی قدر و قیمت ہوتی ہے۔
خود ان ہستیوں کی پھر کیا ہی بات ہو گی۔
سبحان اللّٰه!

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Online
Karachi