معزرت کے ساتھ
پچھلے کسی جگہ میں نے انسان بارے لکھا ہے کہ انسان سر تا پا بد ہے۔۔لہزا میں اپنے الفاظ واپس لے لیتا ہوں۔۔اور میرا رائے اس طرح ہے۔کہ انسا ن نیک و بد دونوں کا ملغوبہ ہے۔۔
Thinker&writer
Hkazad Academia
موجودہ دور مین انسان لالچی ہے۔صرف اپنی مفاد کا سوچ رکھتا ہے۔باقی تمام رشتے ناطے ختم ہو چکے ہیں۔
لوگوں کے ہجوم میں رہتے ہوئے بھی انسان کو ڈر لگتا ہے۔بلکہ انسان کا سب سے بڑا دشمن خود انسان ہے۔ اسے ہر وقت اپنی فطری ساتھی سے خوف کا احساس ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہی کہ انسان ایک سوشل انیمل ہے۔اسلئے انسان کھبی بی تنہا نہی رہ سکتا ہے۔
اسلئے کہ وہ دوسرے انسان کا محتاج ہے۔ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ ایک دوسرے کا زریعہ اور وسیلہ ہیں۔صرف اس لئے کہ وہ اپس میں پرامن رہیں۔تاکہ انہیں کسی سے ڈر اور خوف نہ رہے۔۔
نوٹ ۔۔۔جنگ اور امن۔۔۔جنگ اور موت بھی انسانی معاشرے کا فطری خاصیت ہیں۔
اج کے انسان خون خوار بن چکی۔ہر طرف بھوک افلاس ہے۔غربت ہے۔ اکثریت بیروزگاری کا شکار ہے۔ملکی قوانین موجود ہیں۔مگر ان پر عمل درامد ممکن نہی۔کیونکہ زور اور طبقے غلب ہے۔ہمیشہ ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔جن سے لوگوں کو ڈرا یا دھمکا یا جاتا ہے۔تاکہ لوگ خوف محسوس کریں۔اور خا صکر موت سے ڈریں۔ ج
ج۔
مطلب یہ کی لوگ ایک زمانے میں ایک دوسرے کے لئے مرتے تھے۔۔ نیچرل زندگی تھا۔ ایک سب کے لئے اور سب ایک کے لئے جیتے اور مرتے تھے۔انسان دوستی تھی۔
اج جہان لوگ بستے اور رہتے ہیں۔شہر ہون یا دیہات انسانی معاشرے میں جنگل کا قانون ہے۔ جو زور اور ہوگا۔ قانون بلا حجت و حیلہ اسی کا ہوگا۔
کہنے کو تو قانون ہے۔لیکن یہ صرف کمزور طبقات کے لئے ہے۔ہر طرف دیکھو انارکی پھیلی ہوئی ہے۔اج کے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہی۔۔۔۔ج
یعنی کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جانور چرند پرند اور کیڑے مکوڑے وغیرہ ایک دوسرے کی خوراک ہیں۔
لیکن یہ واحد انسان ہے جو ایک دوسرے سے خوف کھاتا ہے۔گوکہ زمانہ قدیم میں ۔ماضی بعید میں جو ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے۔۔لیکن اج کا انسان اکھٹے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی خون کا پیاسا ہے۔
حالانکہ انسان باہم ایک دوسرے کی زریعہ اور ضرورت ہیں۔از کی باوجود بھی احساس کمتری اور احساس برتری کی دوڑ میں مقابلہ اسکی جاری ہے۔اس سلسلے میں وہ ایک دوسرے کی جانی دشمن ہیں۔
اس سلسلے میں بات واضح ہے کہ جنگل میں بہت سارے جو جانور ہوتے ہیں۔وہ خنخوار بھی اسلئے ہیں کہ وہ طاقت ور ہیں۔ اپنے سے کمتر طاقت ور کو چیر پھاڑ کر کھا جاتے ہیں۔جنگل میں جانور و جاندار کے بر تر و کمتر ی جو قانون لاگو ہے۔یہ صرف خالق کائنات کی خود کردہ عطا کردہ ہے۔ یہ قانون قدرت ہے۔۔ج
اس بات کو اگے بڑھاتے ہوئے انسان کے خوف اور اسکی تخلیق کردہ قوانین پر اتے ہیں۔
جیسے عام طور کہا جاتا ہے۔جنگل کا قانون ہے۔اس کا مطلب یہ کہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس۔ بلکہ جنگل میں قانون طاقت کی ہے۔اور یہ نیچرل ہے۔ ۔۔ج
موت۔۔
انسان کو سب سے بڑا خوف موت سے ہی اتا ہے۔اور اسی خطرے اور خوف کی وجہ سے اسے خدا ملا یا اس نے خدا تخلیق کیا۔
زمانہ پہلے لوگ کرہ ارض پر جتھوں اور گروہوں کی تعداد میں رہتے تھے۔ لائیف زندگی نیچرل تھی۔لوگ پہاڑوں، ندی نالوں اور بیابانوں ،جنگلوں کے اردگرد گزر بسر کرتے تھے۔
لوگ جنگلوں میں اسلئے نہی جاتے تھے ۔کہ وہاں جنگل کا قانون تھا۔۔خوں خوار جانور وہا ہوتے تھے۔ااس طرح لوگوں کو ڈر اور خوف تھا کہ اگر ہم گئے تو ہمارا سلامتی سے انا ممکن نہ تھا۔ اور واقعی وہ انسان چیر پھاڑ کر کھا جاتے۔۔۔ج
سیاست میں محبت کہاں اور کیسی۔۔،
پھر وفاداری اور غدداری کی سرٹیفکٹ کا جاری ہونا۔۔کیوں۔
سیاست میں مفادات interest کو سب سے برتری حاصل ہوتی ہے۔۔یعنی کہ سیاست مفادات کا کھیل ہے۔
نوٹ۔۔۔۔۔۔معزرت کے ساتھ واضح کروں کہ تمام دوتوں سے عرض ہے۔اگر کہیں اپ کو ایک بات کی تکرار یا بات کو دھرانے کا احساس ہو ۔پلیز درگزر کردیں۔کوںکہ لکھنے کا تسلسل جاری رہے گا۔اور جو کچھ لکھا جا چکا ہے۔اب تو مجھے معلوم نہی۔کہ کیا کچھ لکھا ہے۔۔
شکریہ
عام طور پر لوگ اکثر کسی نا خوندہ شخص کو جاہل سمجھتے ہیں۔حالانکہ جہالت خواندہ یا نا خواندہ مشروط نہی۔۔۔ بلکہ جو شخص خواندہ یا نا خواندہ ہے۔وہ ہر حال میں اپنی رائے پر ۔۔اپنی بات پر ڈٹا رہے ۔کسی بھی منطق ۔دلیل وغیرہ کو خاطر میں نہ لائے۔۔اور ضدی بنکر کہے کہ میری رائے ہی اچھا اور سچا ہے۔
گو کہ لوگ علمی ترقی میں اگے ہیں ۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جو ہماری بحث میں پہلے سے کچھ بات ہوچکی ہے۔۔۔ایک دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں۔اس میں منطق۔فلسفہ اور دیگر سماجی علوم نے عقل و فہم میں کوئی بھی ایسا مسئلہ نہی جسکا حل موجود نہی۔ رہی دوسری دنیا کو سمجھنا عام ادمی کی سوجھ بوجھ سے اسان نہی۔۔۔دوسری دنیا کو صرف ایمان کے زریعے سمجھنا ہو گا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.