مدارس میں جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگی: جامعہ فاروقیہ شجاع آباد
دورِ حاضر میں دینی مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے عصری علوم، بالخصوص عالمی زبانوں پر عبور حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے **جامعہ فاروقیہ شجاع آباد** نے **"حفاظ ایجوکیشن سسٹم"** کے تحت ایک ایسا تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا ہے، جو دینی حمیت کے ساتھ ساتھ جدید دنیا سے ہم آہنگ ہونے کا بہترین امتزاج ہے۔
# # # # **حضرت مفتی عبدالواحد قریشی صاحب مدظلہ العالی کا دورہ اور حوصلہ افزائی**
حال ہی میں، ممتاز عالمِ دین حضرت مفتی عبدالواحد قریشی صاحب نے جامعہ فاروقیہ شجاع آباد کا خصوصی دورہ فرمایا۔ آپ نے حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے شعبہ **"حفاظ انگلش"** کی کلاس کا معائنہ کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن طلبہ کو کلاس شروع کیے ہوئے ابھی صرف دو ہفتے ہی ہوئے تھے، ان کی کارکردگی دیکھ کر مفتی صاحب عش عش کر اٹھے۔ طلبہ کا آپس میں اعتماد کے ساتھ انگلش میں مکالمہ (Conversation) کرنا اور انگریزی زبان میں پرزور تقریر پیش کرنا، اس سسٹم کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
# # # # **تعلیمی نظام کی دو اہم جہتیں**
جامعہ فاروقیہ شجاع آباد کے اس جامع تعلیمی نظام کے دو نمایاں پہلو ہیں:
**۱۔ حفاظ ایجوکیشن سسٹم (شعبہ حفاظ انگلش):**
یہ نظام ایسے ننھے طلبہ کے لیے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ اس میں میٹرک تک کی تعلیم، انگلش میڈیم سائنسی مضامین، فزیکل ایکٹیویٹیز اور دیگر نصابی سرگرمیوں کا ایک متوازن نظام موجود ہے، جس سے طلبہ کی بہترین شخصیت سازی ہو رہی ہے۔
علماء کے لیے ایک سالہ انگلش لینگویج کورس:
اس سسٹم کا دوسرا اہم شعبہ علماء کرام کے لیے مختص ہے۔ اس ایک سالہ خصوصی پروگرام میں علماء کرام کو نہایت قلیل وقت میں عربی اور انگلش زبان پر ایسی دسترس حاصل کروائی جاتی ہے کہ وہ عصری میدانوں میں بھی اسلام کا علمی دفاع کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
ایک قابلِ تقلید ماڈل
حفاظ ایجوکیشن سسٹم کا یہ ماڈل اس بات کی دلیل ہے کہ دینی مدارس میں جدید علوم کا حصول نہ صرف ممکن ہے بلکہ نہایت کامیاب بھی ہے۔ یہ نظام اس قابل ہے کہ اسے پاکستان کے تمام مدارس میں رائج کیا جائے تاکہ ہمارے مدارس کے طلبہ اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی میدانوں میں بھی اسلام کا روشن چہرہ بن کر ابھریں۔
الحمدللہ، جن اداروں میں بھی یہ نظام رائج ہوا ہے، وہاں نتائج نہایت حوصلہ افزا رہے ہیں۔ یہ کامیابی جامعہ فاروقیہ شجاع آباد کی انتظامیہ کی انتھک محنت اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس تعلیمی نظام کو مزید ترقی عطا فرمائے اور اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے مفید تر بنائے۔ آمین۔
مولانا خورشید حیدر
منیجنگ ڈائریکٹر حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
Molana Khursheed Haider
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Molana Khursheed Haider, Gulshan Iqbal block 7, Karachi.
نگران اعلیٰ حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
Founder:- NiJTij Education System
مدیر : گھر مدرسہ تعلیمی پروجیکٹ
Director : Noorain Education System
Manage by Media Team.
21/05/2026
تحفظِ ختمِ نبوت ہر مسلمان کی ایمانی ذمہ داری ہے۔ ✨
الحمدللہ! حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے پلیٹ فارم سے جامعۃ الانور مرکز حفاظ ایجوکیشن سسٹم میں “عقیدۂ تحفظِ ختمِ نبوت”کے عنوان سے ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبۂ کرام کو عقیدۂ ختمِ نبوت، شانِ رسالت ﷺ اور فتنۂ قادیانیت کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کی گئی۔
اس ورکشاپ کا مقصد طلبہ کی فکری، نظریاتی اور ایمانی تربیت کرنا اور ان کے اذہان و افکار کو مضبوط بنانا تھا۔ الحمدللہ! طلبۂ کرام نے اس نشست سے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔
ایسے تربیتی پروگرامز وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ نوجوان نسل کے ایمان، فکر اور نظریات کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اس پروگرام کی چند خوبصورت جھلکیاں آپ کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔ آمین
حضرت مولانا خورشید حیدر
ڈائریکٹر حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
جامعۃ الحسن گلشن معمار کا دورہ
نگران اعلی حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
مولانا خورشید حیدر صاحب نے کا اپنے رفقاء کے ساتھ گلشن معمار کے دینی ادارے جامعۃ الحسن کا دورہ کیا۔۔۔ ادارے کے مہتمم مولانا آیت الرحمن صاحب نے استقبال کیا۔۔۔
19/05/2026
حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے چار تربیتی و عملی ستونوں میں سے ایک نہایت اہم ستون “خطابت” ہے۔
یہ صرف تقریر سکھانے کا نام نہیں بلکہ یہ طلبہ کے اندر اعتماد، قیادت، فکر، جرأتِ اظہار اور امت کی رہنمائی کی صلاحیت پیدا کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہے۔ اسی اہمیت کے پیشِ نظر حفاظ ایجوکیشن سسٹم میں ہفتے میں ایک دن باقاعدہ خطابت کی کلاس لازمی رکھی جاتی ہے۔ مختلف مدارس میں یہ اوقات مختلف ہوتے ہیں، کہیں منگل کے دن، کہیں بدھ کو، جبکہ جامعۃ الانور میں ہر جمعرات ظہر کے بعد ایک گھنٹہ طلبہ کی خطابت کی تربیت کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔
بظاہر یہ صرف ایک گھنٹہ محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہی ایک گھنٹہ ایک طالب علم کی پوری شخصیت بدل دیتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جہاں ایک خاموش بچہ اعتماد کے ساتھ لوگوں کے سامنے کھڑا ہونا سیکھتا ہے، اپنے خیالات کو ترتیب دینا سیکھتا ہے، الفاظ کے انتخاب کا شعور حاصل کرتا ہے اور لوگوں کے دلوں تک اپنی بات پہنچانے کا ہنر سیکھتا ہے۔
آج کے دور میں علم کے ساتھ “ابلاغ” سب سے بڑی طاقت بن چکا ہے۔
جو شخص اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنا جانتا ہے، لوگ اسی کی بات سنتے ہیں، اسی کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی کے پیچھے چلتے ہیں۔ چاہے تعلیم کا میدان ہو، دعوت و اصلاح کا شعبہ ہو، میڈیا ہو، کاروبار ہو یا قیادت و رہنمائی کا میدان، کامیاب انسان وہی بنتا ہے جو اعتماد اور حکمت کے ساتھ گفتگو کرنا جانتا ہو۔
اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے حفاظ ایجوکیشن سسٹم نے خطابت کو محض ایک اضافی سرگرمی نہیں بلکہ تربیت کا لازمی حصہ بنایا ہے۔ الحمدللہ ہمارے ہاں اس کی باقاعدہ ترتیب موجود ہے، جہاں ہر طالب علم سال بھر میں کم از کم سات تقریریں ضرور کرتا ہے۔ اس مسلسل مشق کے نتیجے میں طلبہ نہ صرف تقریر کے اصول، لب و لہجہ، اندازِ بیان، اوقات کی پابندی اور سامعین سے رابطے کے رموز سیکھتے ہیں بلکہ آہستہ آہستہ ایک بہترین پبلک اسپیکر بن جاتے ہیں۔
الحمدللہ آج اس کے نتائج پورے پاکستان میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ہمارے طلبہ صرف مدارس کے اندر نہیں بلکہ بڑے بڑے کالجز، یونیورسٹیز، نیشنل لیول کے مقابلوں، ڈیبیٹس، ڈیکلیمیشنز اور مختلف تنظیموں کے پروگرامز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے طلبہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور متعدد مقامات پر ونر قرار پا رہے ہیں۔
یہ صرف چند مقابلوں کی کامیابی نہیں بلکہ یہ آنے والے مستقبل کی تیاری ہے۔
امت کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو دین کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ ایسے نوجوان جو اعتماد کے ساتھ حق بات کہہ سکیں، لوگوں کی رہنمائی کر سکیں، نئی نسل کی ترجمانی کر سکیں اور امت کے فکری و تعلیمی میدان میں مضبوط قیادت فراہم کر سکیں۔
خطابت دراصل قیادت کی پہلی سیڑھی ہے۔
جو بچہ آج مدرسے کے اسٹیج پر کھڑا ہو کر چند منٹ گفتگو کرنا سیکھ رہا ہے، کل وہی قوم کا رہنما، بہترین معلم، مؤثر داعی، کامیاب منتظم اور امت کا ترجمان بن سکتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ مدارس میں بزموں اور تقریری سرگرمیوں کو صرف رسمی پروگرام نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں مکمل نظم، تربیت اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے، تاکہ ہماری نئی نسل صرف پڑھنے والی نسل نہ ہو بلکہ سوچنے، سمجھنے، بولنے اور امت کی رہنمائی کرنے والی نسل بن سکے۔
مولانا خورشید حیدر
ڈائریکٹر حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
18/05/2026
ادارہ معارف القرآن مرکز کراچی میں نج تج ایجوکیشن سسٹم کے تعلیمی نظم کی ابتدائی شروعات الحمدللہ ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔
حضرت مولانا عبدالوحید صاحب دامت برکاتہم العالیہ
خادم القرآن، مدیر ادارہ معارف القرآن، اور وفاق المدارس کی جانب سے شعبۂ تحفیظ کے مسئول کی خصوصی دعوت پر نج تج ایجوکیشن سسٹم کی پوری ٹیم نے ادارہ معارف القرآن مرکز کراچی کا دورہ کیا۔
الحمدللہ ادارہ معارف القرآن مرکز کراچی میں تقریباً 200
لیول ٹیسٹ میں شریک رہے، جس میں قاعدہ، ناظرہ اور حفظ کے طلبہ شامل ہیں ۔ ابتدائی مرحلے میں انہی طلبہ کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کی اسکولنگ کے نظم اور گریڈنگ کے حوالے سے لیول ٹیسٹ لیا گیا۔ جبکہ شعبۂ گردان کے طلبہ کا تفصیلی جائزہ لے کر ان کے لیے بھی مستقل نظم تشکیل دیا جائے گا۔
الحمدللہ تمام اساتذۂ کرام نے بھرپور تعاون فرمایا۔ خصوصاً مولانا امداد اللہ صاحب اور مولانا غازی واجد صاحب، نے اس پورے عمل میں نہایت محنت اور تعاون کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں 200 طلبہ کا لیول ٹیسٹ کامیابی سے مکمل ہوا۔
ان شاء اللہ جلد ہی اساتذہ کی تربیت کے بعد ادارہ معارف القرآن مرکز کراچی میں بھی قاعدہ، ناظرہ اور حفظ کے طلبہ کے لیے ڈیڑھ گھنٹے کی اسکولنگ کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جس میں ریاضی، اردو اور انگلش جیسے بنیادی مضامین کو شامل کیا جائے گا تاکہ طلبہ پنجم تک بنیادی تعلیمی مہارتوں کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
لیول ٹیسٹ کے اختتام پر حضرت مولانا عبدالوحید صاحب دامت برکاتہم العالیہ بنفسِ نفیس تشریف لائے۔ حضرت نے نہایت شفقت، محبت اور حوصلہ افزائی کے ساتھ اس پورے تعلیمی نظم کو سراہا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
حضرت نے گفتگو فرمائی کہ آج کے دور میں ضروری ہے کہ شعبۂ حفظ کے طلبہ کو ایسی بنیادی تعلیم بھی دی جائے تاکہ حفظ مکمل کرنے کے بعد اگر وہ حفاظ عربک، دینی یا عصری تعلیم کے دیگر مراحل میں آگے بڑھنا چاہیں تو ان کی بنیاد مضبوط ہو۔
بعد ازاں حضرت کی جانب سے پرتکلف ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا اور قاعدہ، ناظرہ اور شعبۂ حفظ میں اسکولنگ کے مستقبل کے نظام پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت مولانا عبدالوحید صاحب دامت برکاتہم العالیہ، ادارہ معارف القرآن کے تمام ذمہ داران و اساتذہ، اور اس کارِ خیر میں شامل تمام حضرات کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس نظام کو امت کے لیے نافع بنائے۔ آمین۔
مولانا خورشید حیدر
ڈائریکٹر حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
مدیر وبانی نج تج ایجوکیشن سسٹم
🎙️✨
جب آواز میں تاثیر ہو…
الفاظ میں ادب ہو…
اور دل میں عشقِ رسول ﷺ کی روشنی ہو…
تو پھر صرف نعت نہیں پڑھی جاتی… بلکہ دلوں پر اثر چھوڑا جاتا ہے۔
الحمدللہ!
حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے پلیٹ فارم سے حمد و نعت کے میدان میں باصلاحیت طلبہ کی تربیت کے لیے ایک عظیم الشان تربیتی ورکشاپ کا آغاز عید کے بعد کیا جا رہا ہے۔
اس پہلی خصوصی ورکشاپ میں پاکستان کے معروف اور ممتاز نعت خواں حضرات، جن میں حافظ منیر صاحب، حافظ ابوبکر بیروی صاحب اور دیگر مشہور نعت خواں شامل ہوں گے، ہمارے طلبہ کو عملی تربیت فراہم کریں گے۔
یہ تربیت خاص طور پر اُن طلبہ کے لیے ہوگی جنہیں اللہ تعالیٰ نے خوبصورت آواز اور نعت خوانی کا ذوق عطا فرمایا ہے، تاکہ ان کی صلاحیتوں کو صحیح رہنمائی، بہترین انداز اور اعلیٰ معیار کے ساتھ نکھارا جا سکے۔
ورکشاپ میں درج ذیل اہم موضوعات پر خصوصی رہنمائی دی جائے گی:
• مجلس، محفل اور عوامی جلسوں میں حمد و نعت پڑھنے کا درست اور مؤثر انداز
• مقابلہ جات کے لیے مناسب اور مؤثر کلام کا انتخاب
• آواز کے اتار چڑھاؤ، اندازِ پڑھائی اور تاثرات پیدا کرنے کی تربیت
• بڑے اسٹیج، بین المدارس مقابلوں اور ٹی وی چینلز کے پروگرامز میں بہترین پرفارمنس کے اصول
• نعت خوانی کے مختلف اسالیب اور آواز کو بہتر بنانے کے طریقے
ان شاء اللہ یہ تربیت ہمارے طلبہ کو صرف ایک اچھا نعت خواں ہی نہیں بلکہ باوقار، باادب اور باصلاحیت نمائندہ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ورکشاپ کے مقام، تاریخ اور دیگر تفصیلات کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔
تمام اساتذہ کرام اور طلبہ سے گزارش ہے کہ اس اہم موقع کو مدنظر رکھیں اور اپنے باصلاحیت طلبہ کی تیاری شروع کریں۔
اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے اور اسے دینِ اسلام کی خدمت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
مولانا خورشید حیدر
ڈائریکٹر حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Address
Karachi