24/09/2026
سبحان اللہ علماء کا کردار جس میدان میں بھی قدم رکھا انقلاب برپا کیا
1992 میں گوجرانوالہ کا ایک خاندان اسلام آباد میں بری امامؒ کے مزار پر آیا ہوا تھا۔ رات کے وقت تقریباً دو سالہ محمد صدیق اپنے ماں باپ کے درمیان سو رہا تھا۔ والدین کی آنکھ لگی تو اسی دوران کوئی ان کے درمیان سے بچے کو اٹھا کر لے گیا۔ صبح آنکھ کھلی تو ان کا دو سالہ بیٹا غائب تھا۔
بچے کو تلاش کیا گیا، مزار اور آس پاس کے علاقوں میں پوچھ گچھ کی گئی، مگر محمد صدیق کا کوئی سراغ نہ ملا۔ محمد صدیق کے مطابق اسے ایک عورت اپنے ساتھ لے گئی تھی، جو اپنی والدہ اور تین بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اسے اسلام آباد سے دور سرگودھا کے قریب جھانوریا نامی گاؤں لے جایا گیا۔ اس کا اصل نام محمد صدیق ختم کردیا گیا اور اسے نیا نام محمد آصف دے دیا گیا۔
صرف نام ہی نہیں بدلا تھا، دو سال کا بچہ اتنا چھوٹا تھا کہ کچھ عرصے بعد اسے اپنے حقیقی والدین، گھر اور اصل شناخت کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔ اس گھر میں آصف کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی موجود تھا جسے وہ اپنا بڑا بھائی سمجھتا تھا۔ بعد میں اسی لڑکے نے اسے بتایا کہ وہ دونوں اس خاندان کے اصل بچے نہیں بلکہ اغوا کرکے لائے گئے ہیں۔
گاؤں والوں کو بھی آہستہ آہستہ شک ہونے لگا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ بچے اس خاندان سے شکل و صورت میں نہیں ملتے۔ آصف کے مطابق اردگرد کے لوگ بھی انہیں بتاتے رہتے تھے کہ تمہیں کہیں سے اٹھا کر لایا گیا ہے۔ جب گاؤں میں سوال اٹھنے لگے تو وہ خاندان جھانوریا چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوگیا۔
آصف تقریباً 9 یا 10 سال کا ہوا تو وہاں سے نکل کر دوبارہ جھانوریا کی طرف آگیا۔ اب اس کے پاس نہ اپنے حقیقی والد کا نام تھا، نہ گھر کا پتا اور نہ یہ معلوم تھا کہ وہ اصل میں کس شہر کا رہنے والا ہے۔ وہاں مہر عمر نامی ایک وکیل اور ان کے خاندان نے اسے سہارا دیا۔ اسے گھر میں رکھا، پرورش کی اور اسکول بھی بھیجا۔ آصف زیادہ عرصہ تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور بعد میں الیکٹریشن کا کام سیکھ کر اپنی زندگی خود بنانے لگا۔
سال گزرتے گئے۔ وہ بڑا ہوا، کام کیا، اپنی جمع پونجی سے گھر خریدا اور 2017 میں شادی بھی کرلی، لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جس ماں نے اسے جنم دیا، جس باپ کے درمیان وہ دو سال کی عمر میں سویا تھا اور جس گھر سے اس کی زندگی شروع ہوئی تھی، وہ لوگ آخر کہاں ہیں۔
پھر ایک دن ایک سنار کی دکان پر آصف نے ایک شخص سے اپنی کہانی بیان کی اور کہا کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اپنے اصل والدین کو تلاش کرنا ہے۔ اسی شخص کے ذریعے اس کا رابطہ بچھڑے خاندانوں کو ملانے والے سماجی کارکن ولی اللہ معروف سے ہوا۔
مسئلہ یہ تھا کہ آصف کے پاس اپنے خاندان تک پہنچنے کے لیے تقریباً کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ والدین کے نام یاد تھے، نہ گھر کا پتا، نہ بچپن کی کوئی تصویر، نہ خاندان کے کسی فرد کا فون نمبر۔
بس چند معلومات تھیں: 1992، بری امام اسلام آباد، تقریباً دو سال کا بچہ، اور اغوا۔ ولی اللہ معروف نے انہی معلومات کے ساتھ آصف کی ویڈیو اور تفصیلات 20 جون 2025 کو سوشل میڈیا پر شیئر کردیں اور لوگوں سے اپیل کی کہ اگر کسی خاندان کا بچہ 1992 میں بری امام سے لاپتہ ہوا تھا تو رابطہ کرے۔
کچھ ہی عرصے بعد گوجرانوالہ سے ایک خاندان سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1992 میں بری امام سے ان کا بھی تقریباً دو سال کا بیٹا لاپتہ ہوا تھا، جس کا نام محمد صدیق تھا۔ لیکن 32 سال بعد صرف کہانی مل جانے کو ثبوت نہیں مانا جاسکتا تھا۔
اس لیے آصف اور اس کے والد کے DNA نمونے لیے گئے اور ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے۔ پھر وہ رپورٹ آگئی جس نے تین دہائیوں سے زیادہ پرانی گتھی سلجھا دی۔ DNA میچ ہوگیا۔
محمد آصف واقعی اسی خاندان کا گمشدہ بیٹا محمد صدیق تھا۔ جس بچے کو دو سال کی عمر میں سوتے ہوئے والدین کے درمیان سے اٹھایا گیا تھا، وہ اب ایک شادی شدہ بالغ شخص بن کر اپنے اصل ماں باپ کے سامنے کھڑا تھا۔
بعد میں جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں اسلام آباد میں دونوں طرف کے خاندان کو پہلی بار آمنے سامنے لایا گیا۔ آصف سرگودھا سے اپنی اہلیہ اور دوسرے قریبی لوگوں کے ساتھ پہنچا جبکہ اس کے والدین اور بہن بھائی گوجرانوالہ سے آئے۔
32 سال پہلے جس ماں باپ کی آنکھ کھلی تو ان کے درمیان سویا ہوا دو سالہ بیٹا غائب تھا، انہی والدین نے تین دہائیاں گزرنے کے بعد اپنے اسی بیٹے کو دوبارہ اپنے سامنے دیکھا اور گلے لگا لیا۔
اغوا کے وقت اس کا نام محمد صدیق تھا۔ دنیا اسے برسوں محمد آصف کے نام سے جانتی رہی۔ اور بالآخر ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ولی اللہ معروف کی کوشش اور DNA ٹیسٹ نے اسے 32 سال بعد اس شناخت اور خاندان تک پہنچا دیا
جس سے اسے صرف دو سال کی عمر میں جدا کردیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے میدان ہیں جہاں کام کرنے کی ضرورت ہے اور انشاءاللہ امید ہے کہ مستقبل میں ان میدانوں میں بھی ایک اچھی لیڈرشپ کام کے لیے میسر ہوگی