Molana Khursheed Haider

Molana Khursheed Haider Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Molana Khursheed Haider, Gulshan Iqbal block 7, Karachi.

نگران اعلیٰ حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
Founder:- NiJTij Education System
مدیر : گھر مدرسہ تعلیمی پروجیکٹ
Director : Noorain Education System

Manage by Media Team.

سبحان اللہ علماء کا کردار جس میدان میں بھی قدم رکھا انقلاب برپا کیا1992 میں گوجرانوالہ کا ایک خاندان اسلام آباد میں بری ...
24/09/2026

سبحان اللہ علماء کا کردار جس میدان میں بھی قدم رکھا انقلاب برپا کیا
1992 میں گوجرانوالہ کا ایک خاندان اسلام آباد میں بری امامؒ کے مزار پر آیا ہوا تھا۔ رات کے وقت تقریباً دو سالہ محمد صدیق اپنے ماں باپ کے درمیان سو رہا تھا۔ والدین کی آنکھ لگی تو اسی دوران کوئی ان کے درمیان سے بچے کو اٹھا کر لے گیا۔ صبح آنکھ کھلی تو ان کا دو سالہ بیٹا غائب تھا۔

بچے کو تلاش کیا گیا، مزار اور آس پاس کے علاقوں میں پوچھ گچھ کی گئی، مگر محمد صدیق کا کوئی سراغ نہ ملا۔ محمد صدیق کے مطابق اسے ایک عورت اپنے ساتھ لے گئی تھی، جو اپنی والدہ اور تین بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ اسے اسلام آباد سے دور سرگودھا کے قریب جھانوریا نامی گاؤں لے جایا گیا۔ اس کا اصل نام محمد صدیق ختم کردیا گیا اور اسے نیا نام محمد آصف دے دیا گیا۔

صرف نام ہی نہیں بدلا تھا، دو سال کا بچہ اتنا چھوٹا تھا کہ کچھ عرصے بعد اسے اپنے حقیقی والدین، گھر اور اصل شناخت کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔ اس گھر میں آصف کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی موجود تھا جسے وہ اپنا بڑا بھائی سمجھتا تھا۔ بعد میں اسی لڑکے نے اسے بتایا کہ وہ دونوں اس خاندان کے اصل بچے نہیں بلکہ اغوا کرکے لائے گئے ہیں۔

گاؤں والوں کو بھی آہستہ آہستہ شک ہونے لگا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ بچے اس خاندان سے شکل و صورت میں نہیں ملتے۔ آصف کے مطابق اردگرد کے لوگ بھی انہیں بتاتے رہتے تھے کہ تمہیں کہیں سے اٹھا کر لایا گیا ہے۔ جب گاؤں میں سوال اٹھنے لگے تو وہ خاندان جھانوریا چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوگیا۔

آصف تقریباً 9 یا 10 سال کا ہوا تو وہاں سے نکل کر دوبارہ جھانوریا کی طرف آگیا۔ اب اس کے پاس نہ اپنے حقیقی والد کا نام تھا، نہ گھر کا پتا اور نہ یہ معلوم تھا کہ وہ اصل میں کس شہر کا رہنے والا ہے۔ وہاں مہر عمر نامی ایک وکیل اور ان کے خاندان نے اسے سہارا دیا۔ اسے گھر میں رکھا، پرورش کی اور اسکول بھی بھیجا۔ آصف زیادہ عرصہ تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور بعد میں الیکٹریشن کا کام سیکھ کر اپنی زندگی خود بنانے لگا۔

سال گزرتے گئے۔ وہ بڑا ہوا، کام کیا، اپنی جمع پونجی سے گھر خریدا اور 2017 میں شادی بھی کرلی، لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جس ماں نے اسے جنم دیا، جس باپ کے درمیان وہ دو سال کی عمر میں سویا تھا اور جس گھر سے اس کی زندگی شروع ہوئی تھی، وہ لوگ آخر کہاں ہیں۔

پھر ایک دن ایک سنار کی دکان پر آصف نے ایک شخص سے اپنی کہانی بیان کی اور کہا کہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اپنے اصل والدین کو تلاش کرنا ہے۔ اسی شخص کے ذریعے اس کا رابطہ بچھڑے خاندانوں کو ملانے والے سماجی کارکن ولی اللہ معروف سے ہوا۔

مسئلہ یہ تھا کہ آصف کے پاس اپنے خاندان تک پہنچنے کے لیے تقریباً کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ والدین کے نام یاد تھے، نہ گھر کا پتا، نہ بچپن کی کوئی تصویر، نہ خاندان کے کسی فرد کا فون نمبر۔

بس چند معلومات تھیں: 1992، بری امام اسلام آباد، تقریباً دو سال کا بچہ، اور اغوا۔ ولی اللہ معروف نے انہی معلومات کے ساتھ آصف کی ویڈیو اور تفصیلات 20 جون 2025 کو سوشل میڈیا پر شیئر کردیں اور لوگوں سے اپیل کی کہ اگر کسی خاندان کا بچہ 1992 میں بری امام سے لاپتہ ہوا تھا تو رابطہ کرے۔

کچھ ہی عرصے بعد گوجرانوالہ سے ایک خاندان سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1992 میں بری امام سے ان کا بھی تقریباً دو سال کا بیٹا لاپتہ ہوا تھا، جس کا نام محمد صدیق تھا۔ لیکن 32 سال بعد صرف کہانی مل جانے کو ثبوت نہیں مانا جاسکتا تھا۔

اس لیے آصف اور اس کے والد کے DNA نمونے لیے گئے اور ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے۔ پھر وہ رپورٹ آگئی جس نے تین دہائیوں سے زیادہ پرانی گتھی سلجھا دی۔ DNA میچ ہوگیا۔

محمد آصف واقعی اسی خاندان کا گمشدہ بیٹا محمد صدیق تھا۔ جس بچے کو دو سال کی عمر میں سوتے ہوئے والدین کے درمیان سے اٹھایا گیا تھا، وہ اب ایک شادی شدہ بالغ شخص بن کر اپنے اصل ماں باپ کے سامنے کھڑا تھا۔

بعد میں جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں اسلام آباد میں دونوں طرف کے خاندان کو پہلی بار آمنے سامنے لایا گیا۔ آصف سرگودھا سے اپنی اہلیہ اور دوسرے قریبی لوگوں کے ساتھ پہنچا جبکہ اس کے والدین اور بہن بھائی گوجرانوالہ سے آئے۔

32 سال پہلے جس ماں باپ کی آنکھ کھلی تو ان کے درمیان سویا ہوا دو سالہ بیٹا غائب تھا، انہی والدین نے تین دہائیاں گزرنے کے بعد اپنے اسی بیٹے کو دوبارہ اپنے سامنے دیکھا اور گلے لگا لیا۔

اغوا کے وقت اس کا نام محمد صدیق تھا۔ دنیا اسے برسوں محمد آصف کے نام سے جانتی رہی۔ اور بالآخر ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ولی اللہ معروف کی کوشش اور DNA ٹیسٹ نے اسے 32 سال بعد اس شناخت اور خاندان تک پہنچا دیا
جس سے اسے صرف دو سال کی عمر میں جدا کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ بھی بہت سے میدان ہیں جہاں کام کرنے کی ضرورت ہے اور انشاءاللہ امید ہے کہ مستقبل میں ان میدانوں میں بھی ایک اچھی لیڈرشپ کام کے لیے میسر ہوگی

بہانے بنانے والے یا مستقبل بنانے والے؟دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں:ایک وہ جو حالات کا رونا روتے رہتے ہیں،اور دوسرے وہ...
23/09/2026

بہانے بنانے والے یا مستقبل بنانے والے؟

دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں:

ایک وہ جو حالات کا رونا روتے رہتے ہیں،
اور دوسرے وہ جو حالات کے باوجود راستہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ایک طویل عرصے سے حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے ساتھ کام کرتے ہوئے مختلف اداروں، اساتذہ اور تعلیمی ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس تجربے نے ایک بات بہت واضح کر دی کہ کامیابی کا تعلق صرف وسائل کی فراوانی سے نہیں، بلکہ سوچ، شکر، اخلاص اور مسلسل کوشش سے ہے۔

کچھ احباب کے پاس ہر وقت شکایتوں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے:

بچے اچھے نہیں ہیں،
بچے ذہین نہیں ہیں،
وسائل بہت کم ہیں،
علاقہ کمزور ہے،
والدین تعاون نہیں کرتے،
ادارے والے ساتھ نہیں دیتے،
حالات سازگار نہیں ہیں۔

یقیناً یہ مسائل حقیقی ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان مسائل کے بعد ہمارا اگلا قدم کیا ہے؟

کیا ہم صرف شکایت کریں گے؟
یا راستہ تلاش کریں گے؟

اس کے برعکس کچھ ایسے اساتذہ اور ذمہ داران بھی نظر آتے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ جو یہ نہیں دیکھتے کہ میرے پاس کیا نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ میرے پاس جو کچھ ہے، میں اس سے کیا کر سکتا ہوں۔

وہ دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہیں،
اپنی کمی کو محنت سے پورا کرتے ہیں،
مسائل میں مواقع تلاش کرتے ہیں،
اور ہر دن خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پھر ایک وقت آتا ہے کہ ان کا اپنا مستقبل بھی بن رہا ہوتا ہے اور ان کے سامنے بیٹھے ہوئے بچوں کا مستقبل بھی روشن ہوتا نظر آتا ہے۔

یہی ایک اچھے استاد کی پہچان ہے۔

اچھا استاد وہ نہیں جو بہترین حالات کا انتظار کرتا رہے؛
اچھا استاد وہ ہے جو موجود حالات میں بہترین کام کرنے کی کوشش کرے۔

اس لیے کبھی اپنے آپ سے ضرور پوچھیں:

میں کس صف میں کھڑا ہوں؟

کیا میں ہر مشکل کے ساتھ ایک نیا بہانہ تلاش کرتا ہوں؟
یا ہر مشکل کے اندر ایک نیا راستہ تلاش کرتا ہوں؟

یاد رکھیے!

وسائل کی کمی ہمیشہ ناکامی کی وجہ نہیں بنتی،
لیکن کوشش کی کمی اکثر کامیابی کا راستہ ضرور روک دیتی ہے۔

حالات کا شکوہ کم کیجیے،
اللہ کی نعمتوں کا شکر زیادہ کیجیے،
جو کچھ میسر ہے اسے پوری قوت سے استعمال کیجیے،
اور یہ سوچنے کے بجائے کہ:

"یہ کیوں نہیں ہو رہا؟"

یہ سوچنا شروع کیجیے:

"یہ کیسے ہو سکتا ہے؟"

کیونکہ بہانے بنانے والے حالات کو دیکھتے ہیں،
اور مستقبل بنانے والے راستہ تلاش کرتے ہیں۔

اور بالآخر فرق صرف اتنا ہوتا ہے:

ایک کے پاس ہر کام کے لیے ایک بہانہ ہوتا ہے،
اور دوسرے کے پاس ہر مشکل کے لیے ایک کوشش۔

آپ اپنے آپ کو دیکھیں…
آپ کس طرف جا رہے ہیں؟

مولانا خورشید حیدر
نگران حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان
مدیر نج تج ایجوکیشن سسٹم
ڈائرکٹر نورین ایجوکیشن سسٹم

Muhammad Shokat Al-Manhal Islamic Institute Gujrat ادارہ المنھل الاسلامی بھدر گجرات

کافی لمبے عرصے بعد اج جامعۃ الانور فقیرہ گوٹھ عربی اور انگلش لینگویج پڑھنے والے علماء کی کلاس سے مخاطب ہونے کا موقع ملاا...
22/09/2026

کافی لمبے عرصے بعد اج جامعۃ الانور فقیرہ گوٹھ عربی اور انگلش لینگویج پڑھنے والے علماء کی کلاس سے مخاطب ہونے کا موقع ملا

الحمدللہ ہمارا اس سال علماء کی ایک بڑی تعداد جن میں عربی انگلش پلس یعنی ایک سال میں دونوں لینگویج سیکھنے والے اور ایک کلاس میں انگلش پلس کمپیوٹر والی کلاس ہے

سیرتِ نبوی ﷺ — پڑھنے کے ساتھ پڑھانے کی بھی ضرورتسیرتِ نبوی ﷺ صرف تاریخ کا ایک موضوع نہیں، بلکہ ہماری پوری زندگی کے لیے ر...
22/09/2026

سیرتِ نبوی ﷺ — پڑھنے کے ساتھ پڑھانے کی بھی ضرورت

سیرتِ نبوی ﷺ صرف تاریخ کا ایک موضوع نہیں، بلکہ ہماری پوری زندگی کے لیے رہنمائی اور تربیت کا مکمل نظام ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیرتِ طیبہ ﷺ کو صرف مخصوص مواقع یا ربیع الاول کی محافل تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ بچوں، بچیوں، نوجوانوں، بڑوں، طلبہ اور عام افراد کے لیے باقاعدہ سیکھنے اور سکھانے کا اہتمام کیا جائے۔

الحمدللہ! ہمارے برادرِ مکرم حضرت مفتی مصطفیٰ عزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے سیرتِ نبوی ﷺ پر نہایت محنت اور خوبصورت انداز میں کام کیا ہے اور سیرت کے مختلف پہلوؤں کو آسان، مختصر، جامع اور قابلِ تدریس انداز میں پیش کیا ہے، تاکہ مختلف عمر اور طبقے کے افراد اپنی ضرورت کے مطابق اس سے استفادہ کر سکیں۔

حضرت کی ایک خوبصورت کاوش یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارہ نمایاں صفات کو تین اہم ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے:

نبوت سے قبل 40 سال — مکی دور 13 سال — مدنی دور 10 سال

اور ہر دور میں چار نمایاں صفات کے ذریعے سیرتِ طیبہ ﷺ کا ایک جامع اور مختصر خاکہ سامنے آتا ہے۔ اس طرح سیرت کے بڑے وسیع موضوع کو نہایت آسان، مربوط اور یاد رہنے والے انداز میں پڑھنے اور پڑھانے کے قابل بنا دیا گیا ہے۔

ماشاءاللہ! سیرتِ نبوی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر بھی باقاعدہ کام کیا گیا ہے، جس سے طلبہ، علماء، معلمین و مدرسین اور عام افراد سب اپنے اپنے ذوق اور ضرورت کے مطابق استفادہ کر سکتے ہیں۔

اب صرف پڑھنے کی نہیں، پڑھانے کی باری ہے!

خصوصاً اساتذہ، معلمین و معلمات، ائمہ مساجد، مدارس کے ذمہ داران اور دینی حلقات سے وابستہ احباب سے گزارش ہے کہ اپنے طلبہ و طالبات، مسجد کے حلقۂ درس، مدرسے کے شعبے، خواتین کی نشست، بچوں کی کلاس یا اپنے احباب کے درمیان سیرتِ نبوی ﷺ کا باقاعدہ کورس شروع کرنے کا عزم کریں۔

الحمدللہ! مختلف طبقات اور ضروریات کے مطابق سیرت کے کورسز اور تدریسی مواد تیار ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم آگے بڑھیں، ہمت کریں اور سیرتِ رسول اللہ ﷺ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔

اگر آپ سیرتِ نبوی ﷺ کا کورس سیکھنا یا اپنے ادارے، مدرسے، مسجد، کلاس یا حلقے میں کروانا چاہتے ہیں تو حضرت مفتی مصطفیٰ عزیز صاحب سے ضرور رابطہ کریں۔ ان شاء اللہ کورس کے انتخاب، تدریسی طریقۂ کار اور مکمل رہنمائی میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔

آئیے! سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف خود پڑھنے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ سیکھیں، سکھائیں اور اپنے معاشرے میں سیرت کے حلقات قائم کریں۔

اللہ تعالیٰ حضرت مفتی مصطفیٰ عزیز صاحب کی اس علمی و تربیتی کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو عام کرنے کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

مولانا خورشید حیدر
نگران حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان

#معلمین #معلمات #اساتذہ #مدارس #تربیت ٰ_عزیز

20/09/2026

الصفہ اسلامک انسٹیٹیوٹ گجرات

استاذ العلماء حضرت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے قیمتی افادات سے استفادے کا موقعاکثر احباب، بالخ...
19/09/2026

استاذ العلماء حضرت مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے قیمتی افادات سے استفادے کا موقع

اکثر احباب، بالخصوص علماء وفضلاء، دریافت کرتے رہتے ہیں کہ حضرت مفتی صاحب کے بیانات وگفتگو سے استفادے کا موقع کب میسر آئے گا۔ حضرت کی گوناگوں مصروفیات کے باعث کراچی میں بھی حاضری کم ہوتی ہے۔

ایسے تمام احباب کے لیے خوش خبری ہے کہ ان شاء اللہ کل بروز اتوار، نمازِ ظہر کے بعد جامعۃ الشیخ یحییٰ المدنی کی مسجد میں حضرت مفتی صاحب کی خصوصی گفتگو ہوگی۔

موضوع: موجودہ حالات اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں

علمی و فکری رہنمائی اور حضرت کے قیمتی افادات سے مستفید ہونے کے خواہش مند احباب کے لیے یہ ایک خوب صورت موقع ہے۔

مولانا خورشید حیدر
نگرانِ حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان

فیصل آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد حضرت مولانا اسد محمود مکی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے خلفاء و متعلقین کے ہمر...
19/09/2026

فیصل آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد حضرت مولانا اسد محمود مکی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے خلفاء و متعلقین کے ہمراہ جامعۃ الانور، گلشنِ اقبال کراچی کا تفصیلی وزٹ فرمایا۔

حضرت نے طلبہ سے اصلاحی بیان بھی فرمایا۔ فیصل آباد میں حضرت کے ادارے میں حفاظ ایجوکیشن سسٹم کے آغاز کے حوالے سے بھی مشاورت ہوئی، جس کا آغاز ان شاء اللہ آئندہ سال متوقع ہے۔

مولانا خورشید حیدر
نگران حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان

18/09/2026

📖 *عالم اسلام پر مسلط کردہ امریکی صلیبی و استعماری جنگیں*

تحریر بڑی اچھی لگی اس لیے شیئر کیا جا رہا ہے
معلومات اچھی ہیں
ضروری نہیں ہے کہ تمام معلومات کے ساتھ اتفاق کیا جائے

▪️*دہشت گرد امریکہ نے دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد کی 25 سال گزرنے کے باوجود اس اصطلاح کی تعریف پر دنیا متفق ہی نہیں ہوسکی*
▪️*جارج بش کی طرح ٹرمپ نے ایران جنگ کو مذہبی جنگ بنادیا، پادریوں نے اپنے ہاتھ سے ٹرمپ کے جسم کو ڈھانپ لیا، اس کےلئے دعائیں کیں*
▪️*منٹگمری واٹ نے لکھا ہے کہ عالم اسلام کو علمی، عقلی، مذہبی، تہذیبی، دینی طور پر امام غزالی نے بچایا، اسے صدمہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض تھے مگر ان کی دیوار پر دو تلواریں لٹک رہی تھیں، ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی المراحم بھی تھے اور نبی الملاحم بھی*
▪️*عالم اسلام کے خلاف اس وقت نویں صلیبی جنگ جاری ہے، صلیبی جنگ پوپ نے اپنے اقتدار بچانے کےلئے شروع کی جو دو سو سال سے جاری رہی*
▪️*جدید قومی ریاستوں کے قیام کے بعد فتویٰ بھی ریاستی ہوتا جا رہا ہے، تفصیل مضمون میں دیکھئے! ریاست معاشرے کو اپنے اندر تحلیل نہیں کرسکی تو اس نے دین کو اپنی طاقت سے اپنے اندر تحلیل کرنے کی کوشش کی*
▪️*کچھ علماء فرماتے ہیں کہ کتاب السیر انٹرنیشنل لاء سے پہلے آگئی جبکہ کتاب السیر اور انٹرنیشنل لاء کا پس منظر، مابعد الطبیعات اور مقاصد ہی مختلف ہیں*
▪️*جو بائیڈن نے کہا افغانستان ایمپائرز کا قبرستان ہے، ہم ہار گئے واپس جا رہے ہیں، مفتی منیب الرحمان صاحب فرماتے ہیں وہاں امریکا کو شکست نہیں ہوئی، مقاصد پورے ہوئے تو چلا گیا، ٹرمپ کہہ رہا ہے شکست کے ذمہ دار 200 عہدیداروں کو برطرف کر رہا ہوں*
▪️*میشل فوکو ایرانی انقلاب کو سمجھنے کےلئے دوبار ایران گیا، ایرانی علماء نے اقتدار میں شرکت قبول نہیں کی اور ریاست کے غیر اسلامی اعمال کے خلاف زبردست مہم چلائی، اس کی مخالفت کی*
▪️*امریکہ کو دینا بھر میں ذلیل ہوکر مذاکرات کرنا پڑے، اسے شکست ہوچکی، اس کی صلیبی جنگ پادریوں کی دعاؤں سے کامیاب نہیں ہوئی، عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کافر قوت کا ایران کی طرح مقابلہ کرے اور مقابلہ کی تیاری کریں*

___ *سید خالد جامعی* ___

پوپ اربن دوم (2 Pope urban) نے صلیبی جنگوں کے نام پر دو سو سال تک پورے عالم اسلام میں قتل و غارت گری کی اور 90 لاکھ مسلمانوں کو قتل کر ڈالا، اس کا مقابلہ صلاح الدین ایوبی نے کیا اور صلیبی لشکروں کو عبرت ناک شکست دی، عالم اسلام کے خلاف یہ پہلی اقدامی عیسائی جنگ تھی جس میں سینکڑوں شہر تباہ ہوئے، لاکھوں لوگ زخمی ہوئے، قحط آئے، وباؤں کا طوفان آیا، چرچ نے Crusaders کو حکم دیا کہ خدائی منصوبے God's plan کو مکمل کرنے کےلئے
Disturb trade routes destroy agri cultural land religious sites and commerce prostitution in these camps
صلیبی جنگجو ہر طرف پھیل گئے، تمام عیسائی ریاستوں کے بادشاہوں کے شہزادے بھی اس جنگ میں شریک تھے کیونکہ اس جنگ کو مقدس جنگ (Holy war) کا نام دیا گیا تھا لہدا ”مقدس جنگ“ جیتنا ہر عیسائی کا مقصد زندگی بنا دیا گیا، ایک امریکی مصنف نے صلیبی وار پر ایک کتاب لکھی (جو اس وقت ہمارے سامنے نہیں) اس کتاب میں ثابت کیا گیا ہے کہ پوپ نے بادشاہوں کو جھوٹی اطلاعات دیں کہ مسلمان حملہ آور ہو رہے ہیں، حقیقت یہ تھی کہ پوپ کا اقتدار خطرے میں تھا اور یورپ کے بادشاہ پوپ کا تختہ الٹنے کی تیاریاں کر رہے تھے کیونکہ پوپ City of God کی سرحدیں عبور کر کے مسلسل اور مستقل City of man میں مداخلت کر رہا تھا جو انہیں گوارا نہ تھا لہذا یوپ نے اپنے تحفظ کےلئے مقدس جنگ (Holy war) کا قضیہ کھڑا کیا جس کی کوئی حقیقت نہ تھی (کتاب کا نام اور عبارت ان شاء اللہ تلاش کر کے پیش کر دیں گے) _

عالم اسلام کے خلاف ساتویں صلیبی جنگ امریکی عیسائی صدر جارج بش کے ذریعے افغانستان پر مسلط کی گئی لیکن یہ جنگ پوپ کی جنگ سے مختلف تھی، اب پوپ کا منصب جارج بش نے سنبھال لیا تھا، اس جنگ کی خصوصیت یہ تھی کہ دنیا کے تمام ممالک، تمام مذاہب، مسلم ممالک، عالمی قومی قوتیں، جدید ترین اسلحہ، اعلی ترین سائنس و ٹیکنالوجی نہتے، معصوم طالبان کے خلاف بیس سال تک مسلسل اور مستقل استعمال کی گئی، تاریخ انسانی کی یہ پہلی جنگ تھی جس میں تمام دنیا ایک طرف تھی اور دو کروڑ افغان تنہاء تھے، ان کے پاس قابل ذکر اسلحہ تھا نہ نیوی، ائیر فورس، نہ روایتی فوج، 2005ء میں بش نے کہا تھا ”میں خدائی مشن پر مامور کیا گیا ہوں افغانستاں میں بھی اور عراق میں بھی“ اس کے الفاظ تھے:
I am drivin with a mission from God and fight thoes terrorist in Afghanistan. And I did then God would tell me George go and end The tyranny in Iraq and I did.

امریکہ نے ایران کو تباہ کرنے کےلئے عراق کو ایران سے جنگ پر آمادہ کیا، ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، عراق کے شیعہ صدام حسین کے ساتھ تھے اگر وہ صدام کے خلاف بغاوت کر دیتے تو عراق ناکام ہو جاتا لیکن قوم پرستی نے عراقی مسلم قوم پرستی کا ساتھ دینے پر مجبور کیا، جدید ریاست کے تسلط کے بعد فتویٰ بھی قومی ہوگیا ہے، وہ عالمگیر نہیں رہا، سادہ سی مثال ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام کا نقطہ نظر کچھ اور ہوتا ہے اور ہندوستان میں انہی جماعتوں کا موقف ان سے مختلف ہوتا ہے، جدید ریاست نے کئی مقامات پر یہ صورتحال پیدا کی ہے، اس کے باوجود علمائے حق موجود ہیں جو ریاستی تناظر میں فتوی دینے کے بجائے خالص اسلامی علمی عالمی تناظر میں فتوی دیتے ہیں _

افغانستان پر صدر بش نے حملہ کرتے ہوئے اعلان کیا ”کوئی ملک اس جنگ میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتا یا تو ہمارا ساتھ دینا ہوگا ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ تم افغانستان کے ساتھ ہو“ عالمی دہشت گرد امریکہ کی یہی تاریخ ہے، 245 سال سے وہ مسلسل دہشتگردی کر رہا ہے اور پوری سفید فام نسل اس کے ساتھ ہے کیونکہ کانٹ نے یہ فلسفہ پیش کردیا تھا کہ ”سفید فام نسل دنیا کی سب سے بہتر، برتر اور اعلیٰ نسل ہے، اس کا فرض ہے کہ وہ سویلائزیش مشن پر کام کرے“ جس کے بعد تمام یورپی طاقتوں نے پوری دنیا کو غلام بنایا، ان علاقوں کو state less society قرار دیا جب ان طاقتوں کے مابین کالونیوں پر قبضے کےلئے آپس میں جنگیں شروع ہوئیں، ہند میں برطانیہ، فرانس، پرتگالیوں کے درمیان تو انٹرنیشنل لاء تخلیق کیا گیا اور ہر ملک کی کالونی میں کسی دوسرے یورپی ملک کو داخلے کی اجازت نہ دی گئی، حیرت ہے کہ عالم اسلام کے بہت سارے مفکرین فرماتے ہیں کہ ”دنیا کو اسلام نے کتاب السیر کے ذریعے انٹرنیشنل لاء دیا ہے“، یہ نادان مفکرین کالونیل ازم اور انٹرنیشنل لاء کے تعلق سے ہی ناواقف ہیں، صدر بش نے جذبات میں آکر تقریر کی ہم کہ ”پوری دنیا کے عیسائیوں کی نمائندگی کرتے ہیں یہ صلیبی جنگ ہے، فتح ہمیں ہوگی“ لیکن اگلے دن ہی اس بیان کی تردید کر دی گئی اور کہا کہ ”یہ جنگ دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہے گی، ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، ہم افغانستان میں Nation building کےلئے آئے ہیں اور ہم افغانستان کے ہر غار میں جمہوریت کی شمع روشن کریں گے“، بش جب چین گئے وہاں چنگیز خان کی نسل تاتاریوں سے ملاقات کی، گھوڑی کا دودھ پیا، ان کا لباس پہنا اور بتایا کہ ”جس طرح تم نے مسلمان کو شکست دی تھی اسی طرح ہم بھی انہیں عبرت ناک شکست دیں گے“، بعد میں اس بیان پر بھی معذرت کر لی کیونکہ تمام مسلم ممالک (جو استعماری اور سامراجی غلبے پر مطمئن ہیں) ناراض ہوسکتے تھے، امریکہ اور پوری دنیا کو افغانوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا، بیس سالہ جنگ کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، ترکی کے سپاہی بھی NATO کی فوج کے ساتھ مسلمان بھائیوں کے قتل میں شریک تھے، پاکستان امریکی افواج کے اڈے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، جناح صاحب نے اکتوبر 1947ء میں امریکہ سے عہد وفا نبھانے کا جو خط لکھا تھا پاکستان جناح صاحب کے راستے پر چل رہا تھا، خط کے الفاظ تھے، ”امداد کےلئے سب سے پہلے ہم آپ کی طرف اور پھر برطانیہ کی طرف دیکھتے ہیں ہمیں دو ارب ڈالر کا قرض افواج کےلئے چاہیے“، تفصیل کےلئے دیکھئے! کے عارف (K.Arif) کی کتاب
America Pakistan relation (2 valume)

یو این او (UNO) دہشت گردی کی تعریف پر متفق نہیں ہوئی، 25 سال سے دنیا کے تمام ممالک Terrorist کی تعریف پر متفق ہی نہیں ہوئے مگر امریکہ نے دہشت گردی کے نام پر جنگ کی، افغان جیتے، ان کو دہشت گرد کی فہرست سے نکالا گیا مگر دہشت کی تعریف پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا، جو بائیڈن کے زمانے میں امریکہ اور پوری دنیا، تمام ممالک افغانستان سے ذلیل ہو کر نکالے گئے، بائنڈن نے تقریر کی Afghanistan is the graveyard of impires امریکی صدر یہ کہہ رہا ہے اور ہمارے مفتی منیب الرحمان صاحب لکھ رہے ہیں کہ امریکہ کو کوئی شکست نہیں ہوئی، اس کے مقاصد پورے ہوگئے تو وہ واپس چلا گیا، امریکہ کے بارے میں اس قدر نرم گوشہ محترم، مکرم، معظم مفتی صاحب کے شایانِ شان نہیں، انہیں اپنا یہ کالم واپس لے لینا چائیے

(1) پہلی صلیبی جنگ پوپ لوئیس دوم نے شروع کی
(2) دوسری صلیبی جنگ برطانیہ، فرانس نے ترکی کے خلاف کی، شکست کھا لی
(3) تیسری صلیبی جنگ امریکہ نے عراق کے ذریعے ایران پر مسلط کی
(4) چوتھی صلیبی جنگ امریکہ نے دنیا بھر کے ساتھ مل کر افغانستان پر مسلط کی
(5) پانچویں صلیبی جنگ امریکہ نے عراق کے اوپر مسلط کی
(6) چھٹی صلیبی جنگ لبنان، یمن اور لیبیا کے خلاف
(7) ساتویں جنگ شام پر چین روس ایران نے مسلط کی
(8) آٹھویں صلیبی جنگ غزہ پر امریکہ اسرائیل نے مسلط کی
(9) نواں صلیبی جنگ 2026ء میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کی

امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اس جنگ کےلئے پادریوں کو وائٹ ہاؤس طلب کیا، ان سے روحانی امداد اور خدائی مدد طلب کی، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقے کے پادری اس جنگ میں ٹرمپ کے ساتھ نہیں تھے لہٰذا 7 مارچ کو پوری دنیا نے صلیبی جنگ کے سپہ سالار ٹرمپ کےلئے عیسائی Evangelical church کے سربراہان کو طلب کیا، ان سے دعا، سرپرستی، خدائی مدد، مذہبی روحانی سرپرستی کی درخواست کی کہ ”ایران کے خاتمے کے خدائی مشن کے سلسلے میں وہ روحانیت کے نور سے امریکہ اور ٹرمپ کو معمور کریں“، وہائٹ ہاؤس میں کیا منظر تھا؟ صلیبی جنگ کا منظر دیکھئے!
The president is surrounded by Evangelical Leaders placing their hands on him Praying and father we just pray you continue to give our president the strength that he needs to lead our nation as we Come back to one nation under God
پادری اس درندے دہشت گرد ٹرمپ کےلئے خدائی مدد اور روحانی سہارا مانگ رہے تھے، جس کے بارے میں Epestein files میں لکھا ہے کہ یہ Ra**st اور pe*****le تھا _

عالم اسلام کے صف اول کے بعض علمائے کرام کا موقف تھا کہ ”سائنس کا مقابلہ صرف سائنس سے اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ صرف ٹیکنالوجی سے کیا جاسکتا ہے“ لیکن ان کا یہ عقیدہ افغانستان، ترکی، غزہ اور ایران میں غلط ثابت ہو چکا ہے، افغانستان نے تو اپنے زمانے کی تین سائنسی طاقتوں (برطانیہ، روس، امریکہ) کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ اگر ہم پر حملہ ہو تو ہم دفاع کرنا جانتے ہیں، حماس نے شکست تسلیم نہیں کی، میز پر بیٹھ کر معاہدہ کیا، اس کا مطلب اصول استقراء کے تحت یہ نہیں ہے کہ سائنس وٹیکنالوجی حاصل نہ کی جائے، تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اس کا حصول لازمی ہے، سورہ انفال تو حکم دیتی ہے کہ دشمن کو خوف زدہ رکھنے کےلئے اپنی عسکری طاقت کو مضبوط بناؤ، یہ کام امارت کا اور امت کا ہے اور لازم ہے کہ ہم یہ صلاحیت پیدا کریں، ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ میں یہ بات ثابت ہوچکی کہ دونوں ممالک کے بھاری ہتھیار، بم ان کی لاگت دونوں ملکوں کےلئے مالی بوجھ بن گئی ہے جبکہ ایران نہایت سستے ہتھیاروں سے مقابلہ کر کے اسرائیل، امریکہ، عرب ممالک کی لاگت میں اضافہ کر رہا ہے، صرف ایک ایف 16 طیارے کو ہوا میں ایک گھنٹے تک رکھنے کےلئے ستر ہزار ڈالر کی ضرورت ہے، اگر پچاس طیارے چوبیس گھنٹے فضائی نگرانی کریں تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، امریکہ ایران پر روزانہ دو بلین ڈالر خرچ کر رہا ہے _

طالبان کا اصل کارنامہ حکومت میں واپسی نہیں بلکہ تین عالمی طاقتوں کو شکست دینا ہے اگر وہ کامیابی سے حکومت نہیں چلا سکے تب بھی ان کی عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، ایران نے جس طرح دو عالمی دہشت گرد طاقتوں کا براہ راست مقابلہ کیا تاریخ میں یہ ایک حیرت انگیز کام ہے، مغرب کی سائنس، سائنس دان، مفکر سب پریشان ہیں کہ ایران کیسے مزاحمت کر رہا ہے؟ اس کی مزاحمت ہی بہت بڑا کارنامہ ہے _

دنیا میں جدید ریاستوں میں تبدیلی اور انقلاب لانے کے دو ہی طریقے ہے یا تو فوج کو شکست دے دی جائے یا فوج کو اپنا ہم نوا بنا لیا جائے چین، روس، امریکہ، ایران اس کی مثالیں ہیں، عہد حاضر کا اہم ترین فلسفی میشل فوکو دو مرتبہ ایران گیا، وہ اس بات پر حیران تھا کہ نہتے مذہبی ایرانیوں نے شہنشاہ کی فوج کو کیسے شکست دے دی؟ بہشت زہرہ قبرستان میں انقلاب کے ستر ہزار مجاہدوں کی قبریں دیکھ کر وہ حیرت زدہ ہوگیا تھا، وہ تجزیہ کرتا رہا کہ یہ واقعہ کیسے ممکن ہوا؟ Foucault on iran نامی کتاب میں اس کے خیالات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جو لوگ ایرانی انقلاب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں ان کےلئے کتب کے نام درج ذیل ہے _
(1) Focanalt on Iran
(2) W.R. Nasar: Shia Revival
(3) W.R Nasar: Meccanomics
(4) Sherin hunter: The voices of Islam
(5) Brown: The history of Persia
(6) Answer to historian
یہ کتاب رضا شاہ پہلوی نے لکھی اور تسلیم کیا ہے کہ میری بر طرفی میں علمائے کرام کا گہرا حصہ تھا ایرانی علماء کبھی کسی قومی حکومت کا حصہ نہیں بنے _

دنیا کی تمام اسلامی تحریکوں نے 2013ء میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں ایک اعلامیہ پیش کیا جسے سراج الحق صاحب نے سنایا جس میں بتایا گیا تھا کہ ”ہم عسکری جدو جہد کے راستے کو اختیار نہیں کریں گے، پر امن جمہوری راستوں کے ذریعے جدو جہد کریں گے“ لیکن جیسے ہی حماس نے اسرائیل پر اکتوبر 2023ء میں حملہ کیا تو انہی تحریکوں نے حماس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیا، سوال یہ ہے کہ 2013ء کا اعلامیہ کیوں جاری کیا گیا؟ ایسا کیا خوف تھا کہ جہاد سے خوف زدہ ہوگئے؟ حدیث مبارک ہے کہ ”میری امت میں قیامت تک کہیں نہ کہیں جہاد ہوتا رہے گا“ اور ہمارا خیال ہے کہ جس دن امت میں جہاد ختم ہو جائے گا تو فتنہ دجال کا ظہور ہوگا جس کے بعد پھر جہاد شروع ہوگا یہ امت، امت جہاد ہے، منٹگمری واٹ نے اپنی کتاب میں دو اہم باتیں لکھی ہیں، ایک تو یہ کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال مبارک سے پہلے مقروض تھے لیکن ان کے حجرے کی دیوار پر دو تلواریں لٹک رہی تھیں، وہ یہ بھول گیا کہ آپ کا فرمان ہے کہ ”میں نبی مراحم بھی ہوں اور نبی ملاحم بھی“، جہاد کا ذکر سورہ نساء اور سورہ محمد میں موجود ہے اور دوسرے مقامات پر بھی _

دوسری بات اس نے یہ لکھی کہ ”اگر مسلمانوں میں امام غزالی پیدا نہ ہوتے تو اسلامی علمیت، تاریخ، تہذیب کا احیاء و تحفظ نہ ہوتا“ انہوں نے یونانی فلسفہ کو ”تہافت الفلاسفہ“ کے ذریعے عبرتناک شکست دی، ڈاکٹر حسین نصر نے اپنے ایک مضمون میں امام غزالی کو فلسفے کا دشمن فلسفی قرار دیا ہے، فلسفے کی روایت سنی دنیا میں ختم ہوئی لیکن شیعہ دائروں میں آج بھی باقی ہے، ڈاکٹر حسین نصر نے ایران کے دو علماء کا خاص طور پر ذکر کیا ہے، جو فرنچ، جرمن، انگریزی اور فلسفے کے ماہر ہیں، ہر فلسفی کی کتاب کا دار الترجمہ سے ترجمہ شائع ہوتا رہتا ہے، فلسفے کے اثر نے شیعہ اسلامی روایت پر بہت خطرناک اثر ڈالا ہے، وہ شریعت میں متعین عورت کے کردار، دائرہ کار، مقصد سے مختلف ہے، ایران میں عورتیں پبلک لائف میں داخل ہیں جو شیعہ علمیت کے بھی مطابق نہیں _

غزہ پر اسرائیل نے حملہ کیا تو پاکستان کے تمام علماء نے اس کی اجتماعی مذمت کی، مفتی منیب الرحمان صاحب نے تمام عرب ممالک سے اپیل کی کہ وہ حماس کی ہر طرح مدد کریں، مفتی تقی عثمانی صاحب نے فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس کی مدد کر سکتی ہے، اسے یہ کام کرنا چاہیے، آج ہماری فوج اسرائیل کے قریب موجود ہے حیرت ہے کہ ہمارے علماء نے ہماری فوج، سعودی عرب، مصر سے مطالبہ نہیں کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر اسرائیل کو عبرتناک شکست سے دوچار کر کے اس کی کمر توڑ دیں اور یہودیوں کو وہاں سے بے دخل کر دیں، امن کا ایک ہی راستہ ہے _

امریکہ کے بارے میں ایک مفکر نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے

in the 21st century, the US and the West as a whole are ready to throw off all civility and lay bare in the eyes of humanity the real, uncouth, fierce barbarian who will now devour upon human-ity- in the name of God

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شاہ محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایرانی رجیم کے خلاف جنگ جاری رکھیں تاکہ مشرق وسطیٰ پر امن رہے، نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ ہے:

A call to keep fighting
MBS is said to urge us (America) to prolong war arguing that the US-Israel military Compaign presents a historic opportunity to re make the middle east. He most press towards the distruction of iran hard line govt (NYT 26-3-26)

محمد بن سلمان ایک ماڈرنسٹ شہنشاہ ہیں لیکن ماڈرن ازم کی حقیقت، حیثیت، ماہئيت، مابعد الطبیعات، مقاصد، اہداف، ارادوں، عزائم، علمیت، ہدف سے قطعاً ناواقف ہیں، ماڈرن ازم عیسائیت اور یہودیت کی ہی نئی شکل ہے، ماڈرن ازم اصلا Judo Christian Tradition ہی ہے، ماڈرن ازم نے خدا مرکز کائنات کو فرد مرکز اور پھر ریاست مرکز کائنات میں تبدیل کرکے عیسائیت سے الوہیت انسانی کا عقیدہ لیا، جس کا ماخذ Trinity کا عقیدہ ہے، یہودیت نے تالمود اور انجیل سے greater Israel کا عقیدہ لیا ہے، جس کا نقاب ماڈرن ازم ہے، ماڈرن ازم کی علمیت، عقلیت، مابعد الطبیعات اور بربریت سفاکی کی داستان پڑھنے سمجھنے کےلئے مندرج ذیل مصادر دیکھئے!
(1) theological origin of Modernity
(2) The dark side of modernity
(3) امریکہ کی دہشت گردی کی تاریخ

ماڈرن ازم سے عیسائیت اور یہودیت کا فطری اور خلقی رشتہ ہے، دونوں مذاہب نے اپنا نام ماڈرن ازم کے حجاب میں چھپا دیا ہے، اسی لئے کہا گیا الکفر ملت واحدہ قرآن نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہودی، عیسائی، کافر، مشرک کبھی اسلام کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے لہذا ان سے دوستی نہ کرو _
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِيۡنًا (النساء : 14)
”اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟“
امریکہ کو دینا بھر میں ذلیل ہوکر مذاکرات کرنا پڑے، اسے شکست ہوچکی، اس کی صلیبی جنگ پادریوں کی دعاؤں سے کامیاب نہیں ہوئی، عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کافر قوت کا ایران کی طرح مقابلہ کرے اور مقابلہ کی تیاری کریں _

Address

Gulshan Iqbal Block 7
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Molana Khursheed Haider posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share