22/02/2025
**مجلس ترحیم و تجلیل شیخ نوروز علی نجفی مرحوم**
حسینیہ بلتستانیہ قم میں استاد معظم شیخ نوروز علی نجفی مرحوم کی برسی کے موقع پر ایک مجلس ترحیم و تجلیل کا انعقاد کیا گیا۔ اس مجلس میں آیت اللہ شیخ غلام عباس رئیسی نے شیخ نوروز علی نجفی کے علمی، اخلاقی اور تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی۔
**شیخ نوروز علی نجفی کی علمی عظمت:**
آیت اللہ رئیسی نے فرمایا کہ شیخ نوروز علی نجفی ایک عظیم عالم دین تھے۔ ان کے علمی ثمرات آج بھی علماء کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ انقلاب اسلامی سے پہلے پاکستانی مدارس نیم جان تھے، لیکن شیخ صاحب نے ان مدارس میں روح پھونکنے کا کام کیا۔ ان کی کوششوں سے پاکستانی مدارس میں علمی اور روحانی تحریک پیدا ہوئی۔ شیخ صاحب علماء کے لیے ایک اسوہ اور نمونہ تھے۔ ان کی زندگی مثبت نکات سے بھری ہوئی تھی، جو ہر انسان کے لیے قابل تقلید ہے۔
**تعلیمی سفر:**
شیخ نوروز علی نجفی نے 18 سال کی عمر میں تعلیم کا سفر شروع کیا۔ ابتدا میں انہیں گھر سے نکلنے کے بعد راستے میں روک لیا گیا، لیکن دوسری بار والدہ کی سفارش سے نجف اشرف جانے میں کامیاب ہو گئے۔ نجف اشرف میں انہوں نے علم کو اپنا ہدف بنایا اور ہمیشہ اس کے پیچھے لگے رہے۔ ابتدائی دور میں بیمار ہونے کی وجہ سے وہ سامرہ چلے گئے، جہاں انہوں نے علامہ راستی سے بھرپور استفادہ کیا۔ بعد میں نجف اشرف واپس آ کر انہوں نے ہر قسم کے علمی امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔ علامہ راستی نے انہیں کچھ اہم کتب اور اساتذہ سے متعارف کرایا، جن سے شیخ صاحب نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
**علمی جرأت اور استقلال:**
شیخ نوروز علی نجفی میں علمی جرأت اور استقلال کی بھرپور صلاحیت تھی۔ وہ اصولوں پر سخت تھے اور کسی بھی قسم کے مادی لالچ سے دور رہتے تھے۔ پاکستان میں حتیٰ کہ نکاح پڑھانے کے لیے بھی پیسے قبول نہیں کرتے تھے، تاکہ کسی مادی فائدے کے سامنے بے بس نہ ہوں۔ ایک مرتبہ کسی نے انہیں کچھ پیسے دیے اور شرائط رکھیں، تو انہوں نے فوراً وہ پیسے واپس کر دیے اور اپنے استقلال کی حفاظت کی۔
**طلباء سے محبت اور احساس ذمہ داری:**
شیخ صاحب طلباء سے بے حد محبت کرتے تھے۔ وہ ہر طالب علم کے مسائل سے آگاہ رہتے تھے اور انہیں تعلیم کا شوق دلاتے تھے۔ جامعہ جعفریہ کے طلباء انہیں بطور استاد مانگتے تھے۔ انہیں زبردست احساس ذمہ داری تھا، اور وہ کئی کئی دن تک مدرسے میں رہ کر طلباء کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے انہیں بڑے مدرسے بنانے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کی ذمہ داری کو پورا نہیں کر سکیں گے۔
**تعلیم پر زور:**
شیخ صاحب ایمان اور تقویٰ کے بعد سب سے زیادہ زور تعلیم پر دیتے تھے۔ وہ اپنے طلباء کو علم کا عاشق بناتے تھے، کیونکہ علم ہی فضیلت کا معیار ہے۔ ان کے مدرسے کے طلباء صرف و نحو میں بہت مضبوط ہوتے تھے۔ وہ طلباء کو خود سے مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتے تھے اور امتحانات میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ کسی قسم کی سفارش قبول نہیں کرتے تھے اور ہر طالب علم کو اس کی صلاحیت کے مطابق داخلہ دیتے تھے۔
**سادگی اور اعتدال:**
شیخ صاحب اسراف سے دور تھے اور فضول خرچیوں سے پرہیز کرتے تھے۔ وہ ضرورت کی چیزوں میں بخل نہیں کرتے تھے، لیکن غیر ضروری چیزوں میں سختی سے کام لیتے تھے۔ انہوں نے اپنے مدرسے میں طلباء کو ضرورت کے مطابق خوراک دینے کا اہتمام کیا، اور غیر ضروری چیزوں کو کم کر دیا۔
**واقع بینی:**
شیخ صاحب احساساتی اور جذباتی نہیں تھے، بلکہ واقع بین تھے۔ وہ ہر طالب علم کو اس کی صلاحیت اور استعداد کے مطابق تعلیم دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر شخص طالب علم نہیں بن سکتا، اس لیے وہ داخلہ دیتے وقت طالب علم کی شرائط کو دیکھتے تھے۔
**خلاصہ:**
شیخ نوروز علی نجفی مرحوم ایک عظیم عالم دین، مخلص استاد اور بے مثال مربی تھے۔ ان کی زندگی علم، تقویٰ، استقلال اور سادگی سے بھری ہوئی تھی۔ ان کی خدمات اور تعلیمات آج بھی علماء اور طلباء کے لیے مشعل راہ ہیں۔
**محرر: محمد علی شریعتی**