26/01/2026
حمزہ کا باپ چاہتا تھا کہ وہ نمازی بنے۔
ہر روز حکم ہوتا:
“نماز پڑھو!”
حمزہ ڈرتے ڈرتے پڑھ لیتا،
لیکن دل نہیں لگتا تھا۔
ایک دن اس کے دادا چند دن کے لیے گھر آئے۔
دادا فجر کے وقت خاموشی سے اٹھتے،
وضو کرتے،
مسکرانے کے ساتھ نماز پڑھتے۔
کبھی آواز نہیں دی،
کبھی ڈانٹ نہیں۔
چند دن بعد حمزہ خود اٹھنے لگا۔
کسی نے پوچھا کیوں؟
وہ بولا:
“دادا کی نماز خوبصورت لگتی تھی۔”
تب باپ نے سمجھا
کہ نماز سکھانے کے لیے
لفظ نہیں،
منظر چاہیے۔
سبق:
بچے وہ عبادت اپناتے ہیں
جو انہیں خوبصورت لگے۔