Al-Istidlal Online Academy

Al-Istidlal Online Academy

Share

رد الالحاد | آن لائن کورسز | دعوتِ حق | اشاعت دین

11/06/2026

الاستدلال اکیڈمی سے آپ کیا حاصل کر سکتے ہیں ؟

اگر آپ الحاد ، سیکولرزم ، لبرل ازم اور دیگر معاصر فکری نظریات کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ نوجوان فکری گمراہی کا شکار کیوں ہوتے ہیں اور اس کے مؤثر حل کیا ہیں ؟
اگر آپ اپنی مطالعے کی عادات ، علمی ذوق اور فکری صلاحیت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ دلیل کے ساتھ لکھنا ، مؤثر انداز میں اپنی بات پیش کرنا اور علمی تحریر کے اصول سیکھنا چاہتے ہیں۔
اگر آپ دعوت ، اصلاح اور فکری رہنمائی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا چاہتے ہیں ۔
اگر آپ ایک نوجوان عالمِ دین ، طالبِ علم یا داعی کی حیثیت سے اپنی علمی شخصیت کو منظم انداز میں تشکیل دینا چاہتے ہیں ۔
اگر آپ اہلِ سنت کے علمی و فکری منہج کو سمجھنا اور معاصر چیلنجز کے تناظر میں اس کا دفاع کرنا چاہتے ہیں ۔

تو ۔۔۔ الاستدلال اکیڈمی ۔۔۔ آپ کے لیے مختلف علمی ، فکری اور تربیتی پروگرامز پیش کرتی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ اپنے بچوں کو ناظرہ قرآن ، حفظ کی بنیادی تعلیم ، تجوید اور آسان نماز کی عملی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں تو اس سلسلے میں ابتدائی سطح کی رہنمائی اور تدریس بھی فراہم کی جاتی ہے۔

کورسز :

• ردِ الحاد کورس
• تحریر و تحقیق کورس
• علم نفسیات کورس
• تجوید القرآن کورس

مزید برآں مختلف علمی ، فکری اور تربیتی موضوعات پر لیکچرز ، نشستیں اور رہنمائی سیشنز بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

اکیڈمی کی علمی سرگرمیوں کی سرپرستی اور تیاری میں گزشتہ کئی برسوں کے مطالعے ، تدریس ، تحریری خدمات اور اہلِ علم و ماہرین کی رہنمائی سے حاصل ہونے والے تجربات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

مقصد ایسے افراد کی فکری و علمی تربیت میں حصہ ڈالنا ہے جو دین کو سمجھنے ، دلیل کے ساتھ پیش کرنے اور عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا سنجیدہ علمی جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مزید تعاون اور رابطہ کے لیے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے :
03229582963
03098608416

محمد مدثر فاروقی ✒️
فاضل درسِ نظامی ، حافظِ قرآن ۔
بانی و مدیر: الاستدلال اکیڈمی ۔

27/05/2026

قربانی کیجیے ، بڑھ چڑھ کر کیجیے اور پورے تین دن کیجیے !

کیونکہ ان دنوں میں اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں اور ہاں ، غریبوں کا حق غریبوں تک پہنچائیے ، رشتہ داروں کو کھلائیے اور خود بھی خوب گوشت اڑائیے!!!

اور ہاں ، اگر راستے میں کوئی موسمی دانشور مشورہ دیتا ہوا ملے تو بحث کرنے کے بجائے اسے پیار سے ہاتھ پکڑ کر کہیے : آپ نے جو قربانی کے پیسے بچائے تھے ان کا واٹر کولر کہاں لگا ہے ؟ کیونکہ یہ تیکھے کباب کھا کر پیاس تو لگے گی تو ہم سوچ رہے تھے کیوں نہ پانی آپ ہی کے والے واٹر کولر سے پی لیا جائے ؟ ☺️

مدثر فاروقی ✒️

26/05/2026

تحریر کورس پر " طالبات" کے فیڈ بیک ۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ رب العالمین تحریر کورس سے بہت زیادہ فائدہ ہوا۔

سب سے منفرد اور اچھی بات یہ لگی کہ استاد محترم نے تحریر کے لیے عملی طریقے بتایے، اور بتدریج سکھایا جیسا کہ استاد محترم کا انداز ہے کہ مربوط انداز میں اور تدریج کے ساتھ سکھاتے ہیں کہ ایک بات پڑھنے کے بعد دوسری بات بہت آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔

اور دوسری بات جس سے بہت فائدہ ہوا وہ یہ کہ سوشل میڈیا پہ کیسے لکھا جائے اور وہاں قارئین کی کیا نفسیات ہے اس کو نہایت عمدہ انداز میں واضح کیا۔

تیسرا یہ کہ ہمیشہ ایک فکر سے لکھنے کی ترغیب دی کہ تحریر کا مقصد محض الفاظ کو صفحات پر اتارنا نہیں ہے بلکہ فکر سے،حکمت سے لکھنا ہے اور قارئین میں شعور پیدا کرنا ہے ، ان کو بیدار کرنا ہے۔

اور ایک نئے لکھاری کے لیے نہایت اہم چیز کہ جب بھی مشق کرتے ہوئے تحریر لکھی استاد محترم نے ہمیشہ حوصلہ افزائی اور اصلاح فرمائی۔

اللہ رب العزت استاد محترم کی کاوشوں کو قبول فرمائیں اور ہمیشہ دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے آمین ثم آمین۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــ

کیا آپ بھی ایک اچھا لکھاری بننا چاہتے ہیں ؟ کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کی تحریر پڑھنے والے پر اثر کرے ؟ کیا آپ آپ کو بھی یہی مسئلہ ہے کہ شروع کیسے کروں ؟ کہاں سے کروں ؟ کیا آپ بھی جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو سب آگے پیچھے ہو جاتا ہے ( یعنی باتیں ترتیب سے نہیں رہتیں ) ۔۔۔ سمجھ ہی نہیں آتا کہ تحریر میں ایسا تسلسل کیسے لائیں کہ پڑھنے والا بات کو پوری طرح سمجھ سکے ۔

تو اب پریشان ہونا چھوڑیے ۔۔۔ آپ کے ان تمام سوالات کے جوابات میرے پاس پندرہ دن پر مشتمل " تحریر کورس " کی صورت میں موجود ہے!

آپکا یہ مسئلہ : جب کاغذ سامنے آتا ہے تو دماغ بالکل خالی ہو جاتا ہے (یعنی کچھ سوجھتا ہی نہیں)۔

آپکا یہ مسئلہ کہ : ہم بات شروع تو کر لیتے ہیں لیکن دو جملوں بعد سمجھ نہیں آتا کہ اب آگے کیا لکھیں ؟ (یعنی تحریر کا فلو ٹوٹ جاتا ہے ۔ )

آپکا یہ سوال کہ : کیا اچھا لکھنے کے لیے بہت زیادہ مطالعہ یا مشکل الفاظ کا آنا ضروری ہے ؟

آپکا یہ مسئلہ کہ : اگر ہم نے لکھا اور لوگوں کو پسند نہ آیا یا کسی نے تنقید کر دی تو کیا ہوگا؟ اور پھر آپ اس ڈر کی وجہ سے کبھی پہلا قدم ہی نہیں اٹھا پاتے۔

تو محترمین اور محترمات ، ان تمام سوالوں اور ان کے علاوہ بھی جتنے مسائل آپ کو لکھنے کے دوران آتے ہیں ، ان سب کے حل کے لیے ہم یہ کورس لے کر آئے ہیں ۔
اس موقعے کو ہاتھ سے مت جانے دیجیے ۔ انتہائی مناسب فیس اور کم وقت میں آپ کو لکھنے کے تمام طریقے سیکھنے کا موقع مل رہا ہے تو فائدہ اٹھا لیجیے ۔ "پہلے آئیے ، پہلے پائیے"۔

کورس کی تمام تفصیلات (جیسے کلاسوں کا وقت اور فیس وغیرہ) نیچے کمنٹ سیکشن میں دستیاب ہیں ۔۔۔ اور داخلے کے لیے آپ ابھی اس نمبر پر واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں : 03098608416

نوٹ! یہ کورس طلباء و طالبات دونوں کیلئے ہے!

مدثر فاروقی ✒️

25/05/2026

کیا آپ بھی ایک اچھا لکھاری بننا چاہتے ہیں ؟ کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کی تحریر پڑھنے والے پر اثر کرے ؟ کیا آپ آپ کو بھی یہی مسئلہ ہے کہ شروع کیسے کروں ؟ کہاں سے کروں ؟ کیا آپ بھی جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو سب آگے پیچھے ہو جاتا ہے ( یعنی باتیں ترتیب سے نہیں رہتیں ) ۔۔۔ سمجھ ہی نہیں آتا کہ تحریر میں ایسا تسلسل کیسے لائیں کہ پڑھنے والا بات کو پوری طرح سمجھ سکے ۔

تو اب پریشان ہونا چھوڑیے ۔۔۔ آپ کے ان تمام سوالات کے جوابات میرے پاس پندرہ دن پر مشتمل " تحریر کورس " کی صورت میں موجود ہیں!

آپکا یہ مسئلہ : جب کاغذ سامنے آتا ہے تو دماغ بالکل خالی ہو جاتا ہے (یعنی کچھ سوجھتا ہی نہیں)۔

آپکا یہ مسئلہ کہ : ہم بات شروع تو کر لیتے ہیں لیکن دو جملوں بعد سمجھ نہیں آتا کہ اب آگے کیا لکھیں ؟ (یعنی تحریر کا فلو ٹوٹ جاتا ہے ۔ )

آپکا یہ سوال کہ : کیا اچھا لکھنے کے لیے بہت زیادہ مطالعہ یا مشکل الفاظ کا آنا ضروری ہے ؟

آپکا یہ مسئلہ کہ : اگر ہم نے لکھا اور لوگوں کو پسند نہ آیا یا کسی نے تنقید کر دی تو کیا ہوگا؟ اور پھر آپ اس ڈر کی وجہ سے کبھی پہلا قدم ہی نہیں اٹھا پاتے۔

تو محترمین اور محترمات ، ان تمام سوالوں اور ان کے علاوہ بھی جتنے مسائل آپ کو لکھنے کے دوران آتے ہیں ، ان سب کے حل کے لیے ہم یہ کورس لے کر آئے ہیں ۔
اس موقعے کو ہاتھ سے مت جانے دیجیے ۔ انتہائی مناسب فیس اور کم وقت میں آپ کو لکھنے کے تمام طریقے سیکھنے کا موقع مل رہا ہے تو فائدہ اٹھا لیجیے ۔ "پہلے آئیے ، پہلے پائیے"۔

کورس کی تمام تفصیلات (جیسے کلاسوں کا وقت اور فیس وغیرہ) نیچے کمنٹ سیکشن میں دستیاب ہیں ۔۔۔ اور داخلے کے لیے آپ ابھی اس نمبر پر واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں : 03098608416

نوٹ! یہ کورس طلباء و طالبات دونوں کیلئے ہے!

مدثر فاروقی ✒️

23/05/2026

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا :

"رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ" (اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟)

اللہ رب العزت نے پوچھا : أَوَلَمْ تُؤْمِن ؟ (ابراہیم ، کیا تمہیں یقین نہیں ؟)

ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا : بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي (کیوں نہیں! ایمان تو ہے ، مگر میں دل کا اطمینان چاہتا ہوں) ۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ دنوں " رد الحاد کورس " کی ساتویں کلاس کے اخیر میں ایک " طالبہ " نے بہت ہی اہم اور عجیب سا سوال پوچھ لیا ، جو شاید اِن لفظوں میں اس سے قبل کسی نے نہیں پوچھا تھا ۔

سوال یہ تھا کہ : جب ہم الحاد کے خلاف تمام منطقی دلائل سیکھ اور سن لیتے ہیں ، عقل بھی تسلیم کر لیتی ہے کہ خدا ، آخرت ، جنت اور جہنم بالکل ممکن ہیں اور مخبرِ صادق کی خبر کی وجہ سے یقینی ہیں ۔۔۔ تو پھر بھی دل کے کسی کونے میں ایک خلش ( دھند یا بے چینی ) کیوں باقی رہ جاتی ہے ؟ کیا اس خلش کا مطلب یہ ہے کہ ہم اندر سے ابھی تک شک میں مبتلا ہیں ؟ اور ہمارا ایمان ابھی کامل نہیں ہوا ۔

علم ِنفسیات کا طالب علم ہونے کی وجہ سے ۔۔۔ میں ، اس سوال کی تہہ میں اترگیا ۔۔۔ کہ ہاں یار ، بات تو ٹھیک ہے ۔۔۔ انسان تمام دلائل جان لینے کے بعد بھی ۔۔۔ کہیں نہ کہیں اس " خلش " اور بے چینی کو محسوس کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔ جو اس طالبہ نے بیان کی ۔۔۔ اور یہ سوال تقریباً ہر خاص و عام کو ۔۔۔ حتی کہ اللہ رب العزت کے جلیل القدر پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کے تعلق سے تفصیلا ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔ پیش آتا ہے ۔

بہرحال ، سؤال کو مکمل سننے اور سمجھ لینے کے بعد جو جواب اس وقت ذکر کیا اس میں کچھ اضافہ کرکے آپ احباب کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔۔۔ پڑھ لیجئے ۔

ترتیب کچھ یوں ہوگی کہ پہلے عقلی و منطقی بنیادوں پہ اس سوال کا جواب سمجھیں گے پھر اِس واقعے ( ابراہیم علیہ السلام ) کو سمجھیں گے!

دیکھئے ، عقلی اور منطقی اعتبار سے آپکا یہ سوال ایک نہیں ہے ، بلکہ یہ دو بالکل الگ الگ سوالات ہیں جنہیں آپ نے اپنے ذہن میں خلط ملط (Mix) کر دیا ہے :
آپکا پہلا سؤال ) یہ ہے کہ کیا کسی غیبی حقیقت (جیسے جنت/جہنم) کا عقلی طور پر ممکن ہونا اور اس کے ہونے کا حتمی یقین قائم ہونا دلیل سے ثابت ہے ؟

(اس سوال کا تعلق عقل کے فیصلے یعنی تصدیق سے ہے)۔

دوسرا سوال ) اگر یقین قائم ہو چکا ہے تو پھر ذہن میں اس کی کوئی صاف شکل ، نقشہ یا مادی تصویر کیوں نہیں بن پاتی ؟

(اس کا تعلق دماغ کی مادی حد یعنی تصور سے ہے کہ ہم پھر تصور کیوں نہیں کرپاتے ۔۔۔ اگر ہمیں یقین ہوتا ہے )۔

اب آپ کی اصل غلطی یہ ہے کہ آپ دوسرے سوال ( تصویر نہ بن پانے ) کو پہلے سوال (یقین نہ ہونے) کی دلیل سمجھ رہی ہیں حالانکہ تصویر کا نہ بننا ایک الگ مادی مسئلہ ہے اور یقین کا ہونا ایک الگ عقلی معاملہ ہے۔

اور ایسا اس لئے کہ منطق کا ایک بنیادی قانون ہے کہ کسی چیز کے وجود (Existence) کو سچ ماننے کے لیے اس کی کیفیت یا شکل (Form) کا دیکھنا یا ذہن میں لانا شرط نہیں ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل کسی غیبی بات کو ماننے کے لیے صرف تین فلٹرز دیکھتی ہے :

ایک یہ ) کہ وہ بات "عقلاً ممکن" ہو یعنی اس میں 2+2=5 جیسا کوئی عقلی تضاد نہ ہو۔

دوسرا یہ کہ ) اس کی خبر دینے والا "مخبرِ صادق" ہو (جس کی سچائی پہلے ثابت ہو چکی ہو)۔

اور تیسرا ) یہ کہ پہلا کام ہمیشہ مشکل ، دوسرا کام ہمیشہ آسان ۔۔۔ یہ منطق اور ریاضی کا مسلمہ اصول ہے کہ کسی چیز کو عدم (پہلی بار ، جب کچھ بھی نہ ہو) سے وجود میں لانا زیادہ بڑی قدرت کا تقاضا کرتا ہے جبکہ اسی چیز کو دوبارہ (جب اس کا مٹیریل اور نمونہ پہلے سے موجود ہو) زندہ کرنا پہلی بار کے مقابلے میں عقل کے نزدیک بہت آسان ہوتا ہے۔

اب عقل یہ فلٹر لگاتی ہے کہ : جو ذات ہمیں پہلی بار پیدا کرنے پر قادر تھی وہ ہمیں دوسری بار پیدا کرنے پر بدرجہِ اولیٰ (زیادہ آسانی سے) قادر ہے ۔ جب صانع کی یہ صلاحیت ثابت ہو گئی تو مستقبل کے اس واقعے پر شک کرنا عقل کو معطل کرنا ہے ۔۔۔قرآنِ کریم نے اس منطق کو ایک ہی جملے میں یوں سمو دیا ہے : "وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ" (سورت الروم: 27) اور وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے ، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) تو اس پر اور بھی زیادہ آسان ہے ۔

لہذا جب " یقین کرنے " کی یہ تینوں شرطیں پوری ہو جائیں تو عقل اس چیز کے ہونے کا 100% یقین قائم کر لیتی ہے ۔ اب اس چیز کی تفصیلات یا نقشہ ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے ، اس سے عقل کے قائم کردہ یقین پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اسکی وجہ میں آگے ذکر کرتا ہوں ۔

رہی یہ بات ، کہ اس یقین کے بعد بھی آپکے دل میں ہلکی سی خلش یا دھند باقی ہے ، اور اس خلش کو لیکر آپ پریشان ہیں کہ کہیں میں شک میں تو نہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ تو یہ بات سمجھ لیجئے ۔۔۔ کہ یہ " خلش " یا " بے چینی " کا ہونا ایمان کا شک یا عقل کا اعتراض نہیں ہے ، بلکہ وہ صرف ہمارے انسانی دماغ کی ایک مادی کمزوری ہے ۔

مادی کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دماغ ایک ایسے کمپیوٹر کی طرح ہے جس میں صرف اس مادی دنیا (Phenomena) کا ڈیٹا ڈاؤنلوڈ ہے ۔ ہمارا وہم (Imagination) جب بھی کوئی تصویر بنائے گا وہ انہی مادی چیزوں کو جوڑ توڑ کر بنائے گا جو اس نے دنیا میں دیکھ رکھی ہیں ۔۔۔ اور چونکہ جنت ، جہنم اور آخرت اس مادی دنیا کے قوانین سے بالکل مختلف اور ماوراء ہیں ۔۔۔ پھر جب ہمارا دماغ اپنے پرانے مادی سانچوں میں ان غیبی حقیقتوں کو فٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ فٹ نہیں ہو پاتیں کیونکہ ان کا ڈیٹا ہمارے پاس ہے ہی نہیں ۔۔۔ چونکہ ذہن میں کوئی مادی تصویر نہیں بن پا رہی ہوتی ، اس لیے ہمارا وہم ایک ہلکی سی بے چینی یا خلش پیدا کر دیتا ہے اور یہ خلش حقیقت کا انکار ہر گز نہیں ہوتی بلکہ ہمارے دماغ کی محدودیت کا اعتراف ہوتا ہے اور یہ اچھی چیز ہے ۔

اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم سب کو 100% یقین ہے کہ ہمارے جسم کے اندر روح ، عقل ، درد اور محبت موجود ہیں (یہ عقل کا یقین ہے) ۔۔۔ لیکن کیا دنیا کا کوئی انسان اپنے ذہن میں درد کی کوئی شکل ، یا عقل کا کوئی رنگ ، یا روح کی کوئی تصویر بنا سکتا ہے ؟ نہیں بنا سکتا!
تو کیا تصویر نہ بننے کی وجہ سے ہم ان چیزوں کے ہونے پر شک کرتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ بالکل یہی معاملہ جنت اور جہنم کا ہے عقل کو ان کے ہونے کا پورا یقین ہے ، اور ذہن میں تصویر نہ بننا صرف ہماری مادی محدودیت ہے۔

اب اس پوری بات کو سمجھنے کیلئے ۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے طرف لوٹتے ہیں!

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا :
"رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ" (اے میرے رب! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟)
اللہ نے پوچھا : "أَوَلَمْ تُؤْمِن؟" (کیا تمہیں یقین نہیں ؟)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا : "بَلَىٰ وَلَٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي" (کیوں نہیں! ایمان تو ہے مگر میں دل کا اطمینان چاہتا ہوں)۔

اب دیکھیے ، جب اللہ نے پوچھا کہ کیا تمہیں یقین نہیں ؟ تو ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ "مجھے شک ہے" بلکہ فرمایا : بَلٰی (کیوں نہیں! مجھے پورا یقین ہے کہ تو زندہ کرنے پر قادر ہے)۔

تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس بات پر 100% تصدیق (Certainty) حاصل تھی کہ اللہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے کیونکہ ان کی عقل صانع کی قدرتِ کاملہ کو جانتی تھی ۔ وہ اس عقلی یقین کے مرتبے پر پہلے سے قائم تھے ، انہیں کوئی عقلی شک یا اعتراض نہیں تھا ۔

غور کیجئے ، ابراہیم علیہ السلام کا سوال یہ نہیں تھا کہ "کیا" تو زندہ کرے گا ؟ بلکہ سوال یہ تھا کہ "کیسے" (کیفیت) زندہ کرے گا ؟ یعنی وہ اس مادی عمل کا نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے۔

جیسا کہ عرض کیا کہ انسان کا ذہن چونکہ مادی دنیا کا قیدی ہے ۔۔۔ اس لیے وہ مٹی کے ذرات کا دوبارہ گوشت پوست میں بدلنے کی "اصل تصویر" اپنے وہم میں نہیں لا پا رہا تھا ۔۔۔ دل میں جو یہ تڑپ یا خلش تھی ، وہ عقلی اعتراض نہیں تھا بلکہ صرف یہ خواہش تھی کہ ذہن کی مادی حد دور ہو جائے اور وہم کو بھی ایک تصویر مل جائے تاکہ دل کو اطمینان نصیب ہو جائے ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس خلش کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا نہ ہی اسے "بے ایمانی" یا "شک" قرار دیا بلکہ ان کی اس مادی حد کو پورا کرنے کے لیے چار پرندوں کا معجزہ دکھا دیا۔

اور اس مکالمے کو قیامت تک کے لیے اس لیے محفوظ کر دیا تاکہ انسانوں کو یہ اصل نکتہ سمجھ آ جائے کہ عقل کے یقین (تصدیق) کے باوجود ، ذہن میں تصویر نہ بننے کی وجہ سے دل میں ایک تڑپ یا خلش کا ہونا کفر یا شک نہیں ہے ۔۔۔ یہ ایک جلیل القدر پیغمبر کے دل میں بھی آئی تھی ۔۔۔ اللہ نے پرندوں کا معجزہ دکھا کر ان کے وہم کو تصویر عطا کر دی ، جس سے عقل کا یقین بدل کر عین الیقین (آنکھوں دیکھا سچ) بن گیا ۔ ( اور ہاں ، جن کے دماغ میں فتور موجود ہے ۔۔۔ وہ اس نکتے پر چہ میگوئیاں کریں گے ۔۔۔ اس لئے اپنے وساوس کی دکان بند رکھئے گا کچھ دیر )۔

اسکے بعد میں نے اس طالبہ سے یہ بھی کہا کہ اگر تم سے پوچھا جائے کہ کیا تمہیں خدا کی قدرت اور مخبرِ صادق کی خبر پر یقین ہے ؟ تو تمہارا جواب بھی ابراہیم علیہ السلام کی طرح ہوگا کہ : بَلٰی کیوں نہیں ، مجھے پورا یقین ہے کہ جنت جہنم برحق ہے) ۔۔۔ لیکن تمہارا دماغ چونکہ مادی ہے ، اس لیے وہ اس کی شکل دیکھنے اور تصور کرنے کے لیے تڑپتا ہے اور یہی تڑپ خلش بنتی ہے ۔۔۔ اور پھر ہم لا علمی میں یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایک سچے مومن کے ذہن میں کبھی کوئی خلش یا وسوسہ آنا ہی نہیں چاہیے اور اگر آگیا تو شاید ایمان کمزور ہے ۔۔۔ حالانکہ صحابہ کرام کے ذہنوں میں بھی ایسے وسوسے آئے تھے اور آپ ﷺ نے اسے صریح ایمان فرمایا تھا ۔

رہی یہ بات کہ ایسی صورتحال میں کیا کیا جائے ؟ کیونکہ اب اللہ تعالیٰ نے معجزہ کرکے ہمیں دکھانا تو ہے نہیں ۔۔۔ لیکن جہاں یہ قانون بیان کیا ہے ۔۔۔ وہیں پر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیا ہے : الا بذکر اللہ تطمئن القلوب ( دلوں کا اطمینان چاہتے ہو تو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو ) یعنی اگر چاہتے ہو کہ یہ خلش بھی دل سے نکل جائے تو پھر ۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے گزارش کرو کہ یا اللہ مجھے اس کشمکش سے نکلنا ہے ، مجھے اس بے چینی میں نہیں رہنا ۔۔۔ تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ دلوں کو مطمئن کرے ۔۔۔ کیونکہ ( ان اللہ لا یخلف المیعاد ) اللہ پاک وعدہ خلافی نہیں فرماتے ۔

اور اسی طرح کا یہ شبہ بھی کہ " جنت جہنم تو مستقبل کا ایونٹ ہے ، وہ کیسا ہوگا ؟
ان باتوں پر انسان کیسے یقین رکھتا ہے یا رکھے ؟

دیکھئے ، جو چیز مستقبل میں ہونی ہے جیسے جنت میں جانا ، جہنم میں جانا وغیرہ ۔۔۔ اعاذنا اللہ ۔۔۔ عقل اسے تین بنیادوں پر "یقینی" مانتی ہے :
پہلا ) وہ کام کرنے والے کی صلاحیت (Capability)۔
دوسرا ) اس کام کا ماضی میں کوئی نمونہ موجود ہونا۔
تیسرا ) کام کرنے والے کا وعدہ یا خبر۔

ان تینوں کو سمجھتے ہیں ایک مثال سے ۔۔۔ فرض کریں کہ دنیا کی سب سے بڑی موبائل بنانے والی کمپنی (مثلاً Apple یا Samsung) آج ایک پریس کانفرنس کرے اور اعلان کرے کہ : آج سے ٹھیک دو سال بعد (مستقبل میں) ہم ایک ایسا فون لانچ کریں گے جو ہوا میں تیرے گا اور اس کی بیٹری کبھی ختم نہیں ہوگی۔

اب عقل سے پوچھیں کیا ہم اس فون کے لانچ ہونے پر شک کریں گے یا یقین ؟ عقل کہتی ہے کہ ہم اس مستقبل کے واقعے پر یقین کریں گے کیونکہ : یہ فون بنانا عقلی طور پر ممکن ہے (Impossible نہیں) ۔۔۔۔ یہ اعلان کرنے والی کمپنی نے ماضی میں اس سے ملتے جلتے بڑے بڑے کارنامے (اسمارٹ فونز) سچ مچ کر کے دکھائے ہیں جس سے اس کی قدرت اور صلاحیت ثابت ہے ۔۔۔ وہ کمپنی جھوٹ نہیں بول رہی (اس کا ریکارڈ سچا ہے) کہ ہر بار وہ اعلان کرکے بناتی بھی آئی ہے ۔

اس مثال کو سامنے رکھئے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اسی منطق سے آخرت ( مستقبل کے واقعے ) کو سمجھایا ہے ۔۔۔ مشرکین کہتے تھے کہ جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے؟ اللہ نے فرمایا :"أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۔۔۔۔ (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پہلی بار پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے ؟) عقل کہتی ہے کہ جس صانع (خالق) نے ہمیں پہلی بار مٹی سے پیدا کر کے دکھا دیا (ماضی کا نمونہ) اس کے لیے ہمیں دوبارہ پیدا کرنا اور جنت جہنم بنانا (مستقبل کا واقعہ) اس کی قدرت میں بہت آسان ہے۔

اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ عقل کا اصول ہے کہ اگر ایک صانع (خالق) نے یہ موجودہ کائنات اتنی بے عیب ، حسین اور اربوں کہکشاؤں پر محیط پیدا کر دی ہے جس میں زمین، سورج اور پورا نظامِ زندگی اتنی باریک بینی سے چل رہا ہے تو وہ اس بات پر بھی پوری طرح قادر ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ بہترین ، لازوال اور ابدی جہان (جنت اور جہنم) پیدا کر دے ۔ جب اس مادی جہان کو دیکھ کر صانع کی ڈیزائننگ (Designing) کی صلاحیت پر ہمارا یقین قائم ہو چکا ہے تو اس کے اگلے اور بہترین الہیٰ پروجیکٹ (آخرت) پر شک کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ایک معمار نے محل تو بنا لیا ، مگر وہ ایک کمرہ نہیں بنا سکتا ۔

اور آخری بات ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے انسان صرف یقین کا مکلف بنایا ہے ، تصویر کا نہیں ۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے صرف یہ مانگا ہے کہ ہم غیب کی حقیقتوں پر ایمان ( یقین ) لائیں ۔۔۔ یقین لانے کی تفصیلات اوپر گزر چکی ہیں ۔۔ اللہ اور اسکے رسول نے ہم سے یہ نہیں مانگا کہ ہم ان کی شکلیں اور نقشے بھی بنائیں۔
کیونکہ یہ بھی اسلام کا اصول ہے کہ انسان جس چیز کی صلاحیت نہیں رکھتا ، وہ اس کا مکلف یعنی ذمہ دار بھی نہیں ہے ۔ جب مادی انسان غیب کی نعمتوں کی تصویر بنا ہی نہیں سکتا تو شریعت ہم سے اس کا مطالبہ بھی نہیں کرتی ۔۔۔ ہمارا کام صرف دلائل اجمالیہ یا دلائل تفصیلیہ کی بنیاد پہ " ہونے کا یقین " رکھنا ہے " کیسا ہونے کی تفصیل " میں پڑنا نہیں )۔

بارک اللہ فیکم ۔۔۔ آپ کے توسط سے ۔۔۔ مجھ پر کئی چیزیں کھلی ہیں ۔۔۔ جن کی طرف ذہن نے کبھی توجہ ہی نہیں کی ۔۔ جزاک اللہ خیرا ۔

مدثر فاروقی ۔✒️
بانی : الاستدلال آن لائن اکیڈمی ۔

22/05/2026

ایسے دماغ کا تصور کیجیے جو اکیلا ہی علم کی ایک پوری کائنات ہو ۔

کر سکتے ہیں ؟ شاید آج کے دور میں یہ ممکن ہی نہیں ۔۔۔ اور سچ تو یہ ہے کہ کیسے ممکن ہو ۔۔۔ کہ آج دور دور تک کوئی ایسا دماغ ہے ہی نہیں ۔۔۔ اور جو اسوقت آپ کے دماغ میں علم و تحقیق کے بڑے بڑے نام آ رہے ہیں ، یہ تحریر پڑھنے کے بعد وہ سب بھی آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے ، ان شاء اللہ۔

تو ۔۔۔ تصور کیجئے ، ایسے دماغ کا جو صرف حافظِ قرآن نہیں بلکہ ایسا شخص ہے جسے ہر آیت کا سیاق ، اس کا شانِ نزول ، اس کی تفسیر ، اس کے احکام ، اس کے ناسخ و منسوخ ، اس کے عام و خاص ، اس کے ظاہر و باطن ، اس کے الفاظ کی تہیں اور اس کے مقاصد تک معلوم ہیں ۔۔۔ جسے یہ بھی پتا ہے کہ کون سی آیت کب اور کیوں اتری ، اس کا مطلب اور پسِ منظر کیا ہے ، اس کے احکام کیا ہیں۔

پھر صرف اتنا ہی نہیں وہ حدیث کا بھی حافظ ہے ، اصولِ حدیث پر بھی کامل عبور رکھتا ہے ، ہزاروں روایات کو سند کے ساتھ یاد رکھنے والا حافظِ حدیث بھی ہے ، پھر
صرف روایتیں سنانے والا نہیں بلکہ لاکھوں روایتوں کے راوی ، ان کے حافظے ، ان کے زمانے ، ان کے سفر ، ان کے اخلاق ، ان کے اوہام اور ان کے hidden defects تک جاننے والا ہے ،

پھر وہ اصولِ حدیث بھی جانتا ہے ، اصولِ تفسیر بھی ، اصولِ فقہ بھی ، عربی زبان اس کے لیے زبان نہیں بلکہ اسکے گھر کی لونڈی ہے ۔

نحو ، صرف ، بلاغت ، فصاحت ، علم معانی ، علم بیان علم بدیع گویا اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ۔۔۔ پھر اس کے پاس صرف کتابی علم نہیں ، وہ انسانی نفسیات بھی سمجھتا ہے ، انسان غصے میں کیسے بدلتا ہے ؟ خوف میں کیسے سوچتا ہے ؟ خواہش میں کیسے بہکتا ہے ؟ معاشرہ انسان پر کیسے اثر ڈالتا ہے ؟

وہ معاشرے کے بگاڑ اور اس کی اصلاح کے گر جاننے والا ماہرِ سماجیات بھی ہے ،
حلال و حرام کی وسعتوں میں معاشی نظام کی گرہیں کھولنے والا ماہرِ معاشیات بھی ہے ، انسانی طبیعت ، مزاج اور امراض کی پہچان رکھنے والا نبض شناس بھی ہے ،
یعنی وہ سماجیات بھی جانتا ہے ، معاشیات بھی ، تجارت بھی ، رسم و رواج بھی ، انسانی ، تعلقات بھی پھر تاریخ بھی اس کے سامنے کھلی ہوئی ہے ، گوکہ وہ تاریخ دان بھی ہے
پھر صرف ذہانت نہیں ، تقویٰ بھی ہے ، راتوں کی عبادت بھی ، نفس سے جنگ بھی دنیا سے بے رغبتی بھی ، اللہ کا خوف بھی ہے ۔

پھر وہ صرف محقق نہیں ، استاد بھی ہے ، مربی بھی ہے ، شیخ الحدیث بھی ہے ، قاضی بھی ہے ، مفتی بھی ہے اور یہ سب علوم اس کے اندر الگ الگ خانوں میں نہیں بلکہ ایک ہی شعور میں جمع ہیں ۔

پھر وہ کوئی ایسا انسان نہیں جس نے تنہا بیٹھ کر یا صرف کتابیں دیکھ کر علم سیکھا ہو بلکہ وہ تاریخِ اسلام کے سب سے جلیل القدر اور جادو اثر اساتذہ کا تربیت یافتہ ہے۔ اس کے علم کے پیچھے زمانوں کے سب سے بڑے اماموں کا فیض چھپا ہوا ہو :
وہ امام شعبہ بن الحجاج ، امام سفیان ثوری اور امام سفیان بن عیینہ جیسے حدیث کے پہاڑوں کی مجلسوں کا فیض یافتہ ہو جنہوں نے اسے روایتوں کی باریکیاں سکھائیں۔
وہ علم و بصیرت کے اس گہوارے سے نکلا ہو جہاں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے شاگرد ، جیسے ابراہیم نخعی اور حماد بن ابی سلیمان مصلّے پر بیٹھتے تھے اور اس نے برسوں ان کے گھٹنے ٹیک کر دین کا فہم حاصل کیا ہو۔
اس نے امام مالک بن انس کے دربار میں بیٹھ کر مدینے کے علم کو پیا ہو ، اور امام محمد بن حسن شیبانی اور امام ابو یوسف جیسے عظیم قانون دانوں کی صحبت میں رہ کر عقل اور اصولوں کو تراشا ہو ۔

ایسے جلیل القدر اساتذہ اور شیوخ کی ایک نہیں ، دو نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد ہے جن کے علم کا نچوڑ اس ایک ذات کے اندر سما گیا ہو۔

غرض کہ وہ قرآن کے تمام علوم ، حدیث کے تمام فنون ، تاریخ ، عمرانیات اور انسانی زندگی کے ہر گوشے کا احاطہ کرنے والا جامعِ کمالات ہو ۔۔

آپ یقین کیجیے ، جب اتنے سمندر ایک انسان کے اندر جمع ہوتے ہیں تب کہیں جا کر تاریخ اسے ایک نام دیتی ہے :

" فقیہ " ۔ " مجتہد " ۔ " امام "

کوئی آسان ہے ایسا شخص بن جانا ؟

آج آپ کو ضرور نظر آئے گا کہ ان نام نہاد اسکالروں کے پاس یا تو کوئی ایک آدھ چیز ہوگی اور دوسری غائب ہوگی ، یا تیسری صفت ہوگی تو چوتھی کا دور دور تک پتہ نہیں ہوگا ایسوں کی مثال اس نادان جیسی ہے جو خود کو عمارت کا ماہر سمجھے ، لیکن اسے یہ نہ پتہ ہو کہ بنیاد کیسے رکھی جاتی ہے!

ان کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ یا تو ان کا کوئی باقاعدہ استاد نہیں ہے ، یا وہ استادوں کی علمی حیثیت کو ماننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں اور بس اپنی ذاتی تحقیق کے گھمنڈ پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں ۔۔۔ اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کتابیں مارکیٹ سے خریدی جا سکتی ہیں ، الفاظ انٹرنیٹ سے تلاش کیے جا سکتے ہیں لیکن جو علمِ دین کا اصل فہم ، اس کا مزاج اور جو عاجزی جلیل القدر استادوں کے گھٹنے ٹیک کر حاصل ہوتی ہے وہ بند کمرے میں اکیلے بیٹھ کر کبھی نہیں مل سکتی۔

خیر آگے بڑھئے ، پھر ایسا شخص ( مجتہد ، فقیہ ، امام ) جب کسی مسئلے پر تحقیق کرنے بیٹھتا ہے تو کتابیں کھولنے سے پہلے وہ اس نئے مسئلے کی مادی ، معاشی اور معاشرتی حقیقت کو اس کے اصل ماحول میں جا کر دیکھتا ہے ۔ اگر مسئلہ کرنسی ، جینیاتی تبدیلی (Genetic Engineering) یا کسی پیچیدہ تجارتی معاہدے کا ہے تو وہ اس کے ماہرین کے ساتھ بیٹھ کر اس کی آخری حد تک تفہیم حاصل کرتا ہے ۔ پھر وہ محض سنی سنائی بات پر فتویٰ نہیں دینے لگ جاتا بلکہ مسئلے کی جڑ اور اس کے پسِ پردہ محرکات کو پوری طرح اپنے ذہن میں واضح کرتا ہے ۔

حقیقتِ واقعہ کو سمجھنے کے بعد ، وہ اس مسئلے سے جڑے افراد کی نفسیات کا جائزہ لیتا ہے۔ یہاں اس کا ماہرِ نفسیات سرگرم ہوتا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ یہ مسئلہ معاشرے میں کس ذہنی دباؤ ، ضرورت یا مجبوری کے تحت پیدا ہوا ہے ؟ سائلین کا اس کی طرف رجحان کس جذبے کے تحت ہے ؟ اس نفسیاتی تجزیے سے اسے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اس حکم کو کس درجے میں بیان کرنا ہے۔

جب مسئلہ اور اس کا ماحول بالکل واضح ہو جاتا ہے تو فقیہ شریعت کے اصل ماخذ یعنی قرآنِ کریم کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ یہاں اس کا حافظِ قرآن اور مفسرِ قرآن متحرک ہوتا ہے ۔ اس کے حافظے کی سکرین پر قرآن کی وہ تمام آیاتِ احکام ابھر آتی ہیں جن کا اس مسئلے سے براہِ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق ہو سکتا ہے ۔ پھر وہ اصولِ تفسیر کو سامنے رکھ کر ان آیات کے سیاق و سباق ، ناسخ و منسوخ اور عام و خاص ہونے کا تعین کرتا ہے۔

قرآن کے بعد وہ سنتِ نبوی ﷺ کے وسیع سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے ۔ یہاں اس کا حافظِ حدیث اور عالمِ حدیث حرکت میں آتا ہے ۔۔۔ وہ مسئلے سے متعلق تمام احادیث کو یکجا کرتا ہے ۔۔۔ پھر اس کا ماہرِ جرح و تعدیل اور اصولِ حدیث کا امام بیدار ہوتا ہے۔ وہ روایات کی اسناد کا انتہائی سخت معیارات پر جائزہ لیتا ہے راویوں کے احوال دیکھتا ہے ، شذوذ اور علتِ قادحہ (چھپے ہوئے عیوب) کو الگ کرتا ہے، اور صرف وہی روایاتِ صحیحہ اخذ کرتا ہے جو استدلال کے قابل ہوں۔

جب صحیح نصوص (آیات و احادیث) سامنے آ جاتی ہیں تو وہ ان کے الفاظ سے حکم کشید کرنے کے لیے لغت کا ترازو اٹھاتا ہے ۔ یہاں اس کا ماہرِ لغت اور فصاحت و بلاغت کا شناور کام شروع کرتا ہے۔ وہ عربی زبان کے اسلوب ، حقیقت و مجاز ، کنایہ اور دلالت کی اقسام (دلالتِ نص، اشارۃ النص، اقتضاء النص) کی روشنی میں یہ معلوم کرتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اصل مراد کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اس کا ماہرِ منطق متحرک ہو کر استدلال کو کسی بھی قسم کے فکری جھول یا تضاد سے پاک رکھتا ہے تاکہ استنباط کا ہر قدم عقلی طور پر لوہے کی طرح مضبوط ہو۔

لفظی مراد معلوم کرنے کے بعد ، فقیہ اس جزوی حکم کو اسلام کے کلی نظام (Universal Principles) کے ساتھ ٹکراتا ہے۔ یہاں اس کا علمِ کلام کا ماہر اور فقہی بصیرت کام کرتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جو حکم نکل رہا ہے ، کیا وہ اسلام کے بنیادی عقائد اور مقاصدِ شریعت (تحفظِ جان، مال، عقل، نسل اور دین) کے موافق ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس جزوی حکم پر عمل کرنے سے اسلام کا کوئی بڑا کلی قاعدہ (جیسے لا ضرر ولا ضرار - نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ اٹھایا جائے) پامال ہو رہا ہو؟ وہ جزئیات کو کلیات کے تابع کرتا ہے۔

اب وہ آخری اور نازک ترین مرحلے میں داخل ہوتا ہے ۔ یہاں اس کا مدرس ، صوفی اور زمانے کا سب سے بڑا متقی ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر میں یہ فتویٰ یا اجتہاد جاری کروں تو اس کے عملی نتائج (Consequences) معاشرے پر کیا نکلیں گے ؟ کیا اس سے لوگوں کے لیے دین پر چلنا آسان ہوگا یا وہ دین سے باغی ہو جائیں گے ؟ کیا اس سے کسی برائی کا دروازہ بند (سدِ ذرائع) ہو رہا ہے یا کوئی نیا فتنہ کھل رہا ہے ؟

اس تقویٰ اور للہیت کی روشنی میں وہ حکم کی ایسی ایسی باریک اور دقیق جزئیات (Nuances) نکالتا ہے جو عام سطحی نظر والے کو دکھائی نہیں دیتیں ۔ وہ حرام اور حلال کے درمیان چھپے ہوئے سرمئی خطوط (Grey Areas) کو واضح کرتا ہے اور ایسی رعایتیں ، استثنائی صورتیں (Exceptions) اور متبادل راستے پیدا کرتا ہے کہ شریعت کا وقار بھی قائم رہے اور امتِ مسلمہ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔
یقین کیجئے ۔ جب یہ پورا تسلسل اپنے کمال کو پہنچتا ہے ، تب مصلّے پر بیٹھا ہوا وہ فقیہ قلم اٹھاتا ہے اور جو حلِ مسئلہ یا فتویٰ اس کے قلم سے نکلتا ہے ، وہ علم، عقل، روح، معاشرت اور تقویٰ کا نچوڑ ہوتا ہے ۔ اسی مربوط اور الہامی فکری عمل کا نام "اجتہاد" ۔

آگے پڑھئے ۔۔ جب وہ یہ سب کچھ کر رہا ہوتا ہے , اتنے سارے علوم اپنے سینے میں سمیٹ کر جب وہ کسی نئے مسئلے کا حل نکالنے بیٹھتا ہے تو وہ اکیلے بیٹھ کر فیصلہ نہیں سناتا اور نہ ہی اپنے علم پر گھمنڈ کرتا ہے ۔۔۔ بلکہ جب وہ اس اجتہاد کے مصلّے پر سجتا ہے تو ایک ایک پیچیدہ مسئلے پر چالیس چالیس دن تک اپنے زمانے کے سب سے متبحر اور روشن دماغوں کو اپنے گرد بٹھا کر رکھتا ہے ۔۔۔ وہ علمِ حدیث کے پہاڑوں ، لغت کے اماموں ، منطق کے ماہرین اور تقویٰ کے مجسموں کی ایک پوری شوریٰ قائم کرتا ہے۔ وہ ان کے سامنے مسئلہ رکھتا ہے ، خود خاموشی سے سنتا ہے ، بحث کے دروازے کھولتا ہے ، ہر زاویے سے جرح کرواتا ہے اور دوسروں کی عقل و رائے کو سمجھنے کی آخری حد تک کوشش کرتا ہے۔ دن گزرتے ہیں ، راتیں ڈھلتی ہیں ، بحث و تکرار اور دلائل کا ایک سمندر ہوتا ہے جو چالیس چالیس دن تک متلاطم رہتا ہے یہاں تک کہ جب اس علمی کائنات کے تمام درخشندہ ستارے کسی ایک نقطے پر متفق ہو جاتے ہیں تب جا کر وہ مسئلہ درج کیا جاتا ہے۔

بات یہاں ختم کب ہوئی ؟! اتنی تکلیف ، اتنی کٹھن ریسرچ ، برسوں کی قربانی اور چالیس چالیس دن امت کے بڑے دماغوں کو نچوڑنے کے بعد بھی ، اس کا عجز دیکھیے کہ وہ کبھی انا یا ضد کا شکار نہیں ہوتا ۔ وہ سارے مراحل پار کرنے کے بعد ، سب سے آخر میں عاجزی سے گردن جھکا کر امت سے یہی کہتا نظر آتا ہے :
لوگو اگر میری کوئی بات یا میرا کوئی فیصلہ قرآن اور حدیث کے خلاف نظر آئے تو میری بات کو دیوار پر مار دینا ، اسے چھوڑ دینا اور تم صرف اور صرف قرآن و حدیث پر عمل کرنا ۔ اللہ اکبر ۔

اور آج کا المیہ یہ ہے کہ دو لفظ ہاتھ کیا آتے ہیں ، لوگ سمجھتے ہیں کہ مجھ سے بڑا کوئی محقق نہیں ، چند ٹوٹی پھوٹی اصطلاحیں سیکھ کر اپنی بات کو معاشرے کے سامنے ایسے پیش کرتے ہیں جیسے معاذ اللہ ، ان کا جبرائیلؑ سے ڈائریکٹ رابطہ رہتا ہو اور چودہ سو سال کی علمی تاریخ نعوذ باللہ اندھیرے میں تھی ۔

اور ہر وہ شخص جو دین کی کسی پابندی سے آزاد ہونا چاہتا ہے ، وہ اجتہاد کا نعرہ بلند کرتا ہے ۔۔۔ وہ چاہتا ہے کہ شریعت کو ان کی خواہشاتِ نفس ، ان کے معاشی مفادات اور مغربی تہذیب کے سانچوں میں ڈھال دیا جائے ۔۔۔ لیکن اسلاف کے ہاں اجتہاد کا مطلب شریعت کو بدلنا نہیں تھا ، بلکہ بدلتے ہوئے حالات کو شریعت کے تابع کرنا تھا۔

آج ہمارے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ "امام" جن کے نام پر آج مسالک اور فقہ قائم ہیں انہوں نے اس مقامِ تفقہ کے لیے کیا قیمت چکائی ہے۔

امام مالک بن انس کا وہ دور بھی تاریخ نے دیکھا جب علمِ حدیث کی پیاس اور کتب کی فراہمی کے لیے ان کے گھر کی چھت کے شہتیر تک بک گئے ۔ وہ تپتی ہوئی دھوپ میں مدینے کی گلیوں میں ننگے پاؤں اس لیے پھرتے تھے کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کے شہر کی مٹی اور ان کی احادیث کی حرمت میں کوئی کمی نہ آ جائے۔

امام شافعی کسی کتاب کا مطالعہ کرتے تو ایک صفحہ پڑھتے ہوئے دوسرے صفحے پر اپنا ہاتھ یا ہتھلی رکھ لیتے تھے۔اس کی وجہ وہ خود فرماتے تھے کہ میرا حافظہ اتنا تیز ہے کہ اگر میری بائیں آنکھ کی نظر دوسرے صفحے پر پڑ جائے تو میرا ذہن اس سطر کو بھی اپنے اندر نقش (محفوظ) کر لے گا ، جس سے میرا دھیان پہلے صفحے سے بٹ جائے گا اور دونوں صفحات کا مضمون آپس میں خلط ملط ہونے کا خدشہ ہوگا اور پھر ان کا وہ عجز کہ فرماتے : وَدِدْتُ أَنَّ الْخَلْقَ تَعَلَّمُوا هَذَا الْعِلْمَ، عَلَى أَنْ لَا يُنْسَبَ إِلَيَّ مِنْهُ شَيْءٌ"ترجمہ: "میرا دل چاہتا ہے کہ تمام مخلوق (لوگ) اس علم کو سیکھ لے اور سمجھ لے ، لیکن اس شرط پر کہ اس علم میں سے ایک حرف بھی میری طرف منسوب نہ کیا جائے۔ تاکہ مجھے اس کا اجر صرف اللہ سے ملے اور لوگ میری تعریف نہ کریں۔

آپ دیکھئے ، کہ جب امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا گیا : ایک شخص کے پاس ایک لاکھ احادیث کا علم ہو ، کیا وہ مفتی بن سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا : نہیں۔ پوچھا گیا: دو لاکھ؟ فرمایا: نہیں۔ یہاں تک کہ جب پانچ لاکھ احادیث تک بات پہنچی ، تو انہوں نے اشارہ فرمایا کہ ہاں ، اب امید کی جا سکتی ہے!
اور آج ؟ آج جس نے پانچ احادیث بھی سند ، متن ، علل اور جرح و تعدیل کے ساتھ نہیں پڑھیں ، وہ امام بخاری پر نقد کر رہا ہوتا ہے ۔۔۔ ہنسی نہ آئے تو رونا ضرور آتا ہے ۔

پڑھئیے تو سہی کہ جب امام بخاری رحمہ اللہ کی علمی شہرت بغداد پہنچی تو وہاں کے جلیل القدر محدثین اور علماء نے ان کے حفظ اور امامت کو پرکھنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے ایک ایسی چال چلی جس کی مثال علمی تاریخ میں نہیں ملتی :انہوں نے ۱۰۰ مشہور احادیث کا انتخاب کیا۔ان تمام احادیث کے متون اور اسانید (chains and texts) کو آپس میں بری طرح الٹ پلٹ کر دیا (یعنی ایک حدیث کی سند دوسری کے متن کے ساتھ جوڑ دی)۔ان مکس شدہ ۱۰۰ احادیث کو ۱۰ چوٹی کے علماء میں تقسیم کیا گیا کہ ہر شخص امام صاحب سے ۱۰ ، ۱۰ احادیث کے بارے میں سوال کرے گا ۔۔۔ پھر جو ہوا انسانی عقل دنگ رہ جائے ۔۔۔ مکمل واقعہ کتابوں میں مل جائے گا ۔۔۔ لیکن میں آپکی توجہ فی الوقت اس طرف دلانا چاہتا ہوں ۔۔۔ کہ حافظ ابن حجر عسقلانی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : امام بخاری کا صحیح احادیث کو یاد رکھنا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی ، تعجب اور کمال کی بات یہ تھی کہ امام بخاری نے صرف ایک بار مجلس میں سن کر ان محدثین کی کی گئی ۱۰۰ غلطیوں کو بھی اسی ترتیب سے زبانی یاد کر لیا اور پھر ان کا پوسٹ مارٹم کر کے رکھ بھی سب کو حیران کردیا ۔ اور اس دن پورے بغداد نے ان کی امامت کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔

میں کیا کچھ لکھوں ؟ اور کیا کچھ کہوں ؟ بس اتنا ہی کہوں گا کہ خدارا!
ان عظیم ائمہ کے علم اور ان کی نیتوں پر اعتماد کیجئے ۔ یہ وہ لوگ تھے جو صحابہ کے شاگردوں کے شاگرد رہے ، یہ اس خیر القرون کے امین تھے جس زمانے کی سچائی کی سند خود رسولِ خدا ﷺ نے اپنے مبارک لبوں سے دی تھی۔

طرف طرف سے اٹھنے والی ان گمراہ کن آوازوں کو یکسر مسترد کر دیجیے یہ لوگ خود بھی ڈوبیں گے ، آپ کو بھی غرق کریں گے اور آپ کی آنے والی نسلوں کے دین و دنیا دونوں کا بیڑا غرق کر دیں گے۔

مدثر فاروقی ✒️

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Korangi Industrial Area
Karachi
74900