03/07/2026
*مَہد سے لَحد تک*
از ريحانہ شفيق
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو انہیں علم کی بنیاد پر اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾
(البقرۃ: 31)
ترجمہ:
اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔
گویا انسان کی سرشت جب گوندھی گئی تو اس میں علم کو بھی شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح انسان کو جو دعا سکھائی گئی، وہ علم کے اضافے سے متعلق تھی:
﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾
(طٰہٰ: 114)
ترجمہ:
اور کہہ دیجیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
یہ دعا اس بات کی علامت ہے کہ علم میں رکنا نہیں، ٹھہرنا نہیں، بلکہ مسلسل آگے بڑھتے رہنا ہے۔
قرآنِ مجید نے انسان کو محض عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ کائنات میں غور و فکر، تدبر اور عقل کے استعمال کی بار بار دعوت دی ہے۔ فرمایا:
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾
(آلِ عمران: 190)
ترجمہ:
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
اسی طرح قرآن سوالیہ انداز میں انسان کو جھنجھوڑتا ہے:
﴿أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ﴾
(الغاشیہ: 17–18)
ترجمہ:
کیا یہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا؟ اور آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا؟
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام انسان کو غور و فکر اور تحقیق کی راہ پر لگاتا ہے، تاکہ وہ کائنات کی تسخیر کے ذریعے اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے یوں بیان فرمایا:
﴿وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ﴾
(الجاثیہ: 13)
ترجمہ:
اور اس نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے مسخر کر دیا۔
انسان کی زندگی کا سفر علم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک وہ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے،
اقوال صحابہ و سلف صالحین اور ماہرین تربیت کے نزدیک
مَہد سے بھی بہت پہلے، جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، تب بھی سیکھنے کا عمل جاری ہوتا ہے۔ ماں کا ہر عمل، اس کا ہر رویہ، بچے کی شخصیت کا حصہ بن رہا ہوتا ہے۔
اسلام میں علم کا حصول عورت اور مرد دونوں پر فرض قرار دیا گیا ہے، اس میں کوئی تخصیص نہیں