عائشه بنت ابى بكر رضى الله عنها

عائشه بنت ابى بكر رضى الله عنها

Share

Aisha bint Abi Bakr is a knowledge platform inspired by Hazrat Aisha (RA). She narrated 2,210 hadiths and had deep insight into fiqh.

Our goal is to spread her hadiths and Islamic teachings and connect people to the Sunnah.

03/07/2026

*مَہد سے لَحد تک*
از ريحانہ شفيق

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو انہیں علم کی بنیاد پر اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾
(البقرۃ: 31)
ترجمہ:
اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے۔
گویا انسان کی سرشت جب گوندھی گئی تو اس میں علم کو بھی شامل کر دیا گیا۔ اسی طرح انسان کو جو دعا سکھائی گئی، وہ علم کے اضافے سے متعلق تھی:
﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾
(طٰہٰ: 114)
ترجمہ:
اور کہہ دیجیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
یہ دعا اس بات کی علامت ہے کہ علم میں رکنا نہیں، ٹھہرنا نہیں، بلکہ مسلسل آگے بڑھتے رہنا ہے۔

قرآنِ مجید نے انسان کو محض عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ کائنات میں غور و فکر، تدبر اور عقل کے استعمال کی بار بار دعوت دی ہے۔ فرمایا:
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾
(آلِ عمران: 190)
ترجمہ:
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
اسی طرح قرآن سوالیہ انداز میں انسان کو جھنجھوڑتا ہے:
﴿أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ۝ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ﴾
(الغاشیہ: 17–18)
ترجمہ:
کیا یہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا؟ اور آسمان کو کہ کیسے بلند کیا گیا؟

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اسلام انسان کو غور و فکر اور تحقیق کی راہ پر لگاتا ہے، تاکہ وہ کائنات کی تسخیر کے ذریعے اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے یوں بیان فرمایا:
﴿وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ﴾
(الجاثیہ: 13)
ترجمہ:
اور اس نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے مسخر کر دیا۔

انسان کی زندگی کا سفر علم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پیدائش سے لے کر موت تک وہ ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے،

اقوال صحابہ و سلف صالحین اور ماہرین تربیت کے نزدیک
مَہد سے بھی بہت پہلے، جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، تب بھی سیکھنے کا عمل جاری ہوتا ہے۔ ماں کا ہر عمل، اس کا ہر رویہ، بچے کی شخصیت کا حصہ بن رہا ہوتا ہے۔
اسلام میں علم کا حصول عورت اور مرد دونوں پر فرض قرار دیا گیا ہے، اس میں کوئی تخصیص نہیں

14/06/2026

جامع ترمذی
کتاب: فتنوں کا بیان
باب: زمین کے دھنسنے کے بارے میں
حدیث نمبر: 2185
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَكُونُ فِي آخِرِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْخٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَذْفٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا ظَهَرَ الْخُبْثُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

Translation:
Sayyidah Aisha (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, “Towards the concluding period of this ummah, there will be (punishment through) sinking of the earth, metamorphosis and rain of stones from the sky. She asked, O Messenger of Allah, ﷺ will we perish while among us are the righteous?” He said, ‘Yes when evil is rampant (and overpowering).’

25/05/2026

جامع ترمذی
کتاب: دعاؤں کا بیان

حدیث نمبر: 3585
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَذَّاءُ الْمَدِينِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،‏‏‏‏ لَهُ الْمُلْكُ،‏‏‏‏ وَلَهُ الْحَمْدُ،‏‏‏‏ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ .

25/05/2026

سنن ابن ماجہ
کتاب: قربانی کا بیان
باب: رسول اللہ کی قربانیوں کا ذکر
حدیث نمبر: 3122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ، ‏‏‏‏‏‏اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوءَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَبَحَ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ لِمَنْ شَهِدَ لِلَّهِ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے سینگ دار، چتکبرے، خصی کئے ہوئے مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے، جو اللہ کی توحید اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، اور دوسرا محمد اور آل محمد ﷺ کی طرف سے ذبح فرماتے۔

03/05/2026

صحیح بخاری
کتاب: وحی کا بیان
باب: کیفیت وحی
حدیث نمبر: 2
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:‏‏‏‏ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.

ترجمہ:
ہم کو عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، ان کو مالک نے ہشام بن عروہ کی روایت سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے نقل کی، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ سے نقل کی آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس (فرشتے) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہوجاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔ عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔

20/03/2026

تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال

10/03/2026

جامع ترمذی
کتاب: دعاؤں کا بیان
باب: باب
حدیث نمبر: 3513

حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُولِي:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي .

ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو «اللهم إنک عفو کريم تحب العفو فاعف عني» اے اللہ! تو عفو و درگزر کرنے والا مہربان ہے، اور عفو و درگزر کرنے کو تو پسند کرتا ہے، اس لیے تو ہمیں معاف و درگزر کر دے ۔
www.instagram.com/ayeshaabibakar

07/03/2026

(کوئی دنیا میں تجھ سا کہاں عائشہ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا

24/02/2026

غم اور فکر سے حفاظت

اَللّٰهُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، اِكْفِنِيْ كُلَّ مُهِمٍّ مِّنْ حَيْثُ شِئْتَ ، وَ كَيْفَ شِئْتَ، وَ مِنْ أَيْنَ شِئْتَ. حَسْبِيَ اللّٰهُ لِدِيْنِيْ، حَسْبِيَ اللّٰهُ لِدُنْيَايَ حَسْبِيَ اللّٰهُ لِمَا أَهَمَّنِيْ، حَسْبِيَ اللّٰهُ لِمَنْ بَغٰى عَلَيَّ، حَسْبِيَ اللّٰهُ لِمَنْ حَسَدَنِيْ حَسْبِيَ اللّٰهُ لِمَنْ كَادَنِيْ بِسُوْءٍ، حَسْبِيَ اللّٰهُ عِنْدَ الْمَوْتِ، حَسْبِيَ اللّٰهُ عِنْدَ الْمَسْأَلَةِ فِي الْقَبْرِ، حَسْبِيَ اللّٰهُ عِنْدَ الْمِيْزَانِ، حَسْبِيَ اللّٰهُ عِنْدَ الصِّرَاطِ، حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ

ترجمہ:اے اللہ !اے ساتوں آسمانوں اور عظیم عرش کے پروردگار!میرے ہر اہم کام کیلئے کافی ہوجاجس طرح تو چاہے،جس جگہ سے تو چاہے اورجہاں کہیں تو چاہے۔ اللہ میرے دین کیلئے کافی ہے، اللہ میری دنیاکیلئے کافی ہے،اللہ میری فکروں کیلئے کافی ہے،اللہ میری جانب سے اُس شخص کیلئے کافی ہے جو مجھ پر زیادتی کرے،اللہ میری جانب سے اُس شخص کیلئے کافی ہے جو مجھ سے حسد کرے،اللہ میری جانب سے اُس شخص کیلئے کافی ہے جو میرے خلاف بُری چال چلے،اللہ میرے لئے کافی ہے موت کے وقت،اللہ میرے لئے کافی ہےقبر میں(مُنکَر نکیر کے) سوال کے وقت،اللہ میرے لئے کافی ہےنامہ عمل تُلنے کے وقت،اللہ میرے لئے کافی ہےپُل صِراط(پر سے گزرنے)کے وقت، اللہ میرے لئے کافی ہے،اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ،اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔

ترمذی:2/274) (الدر المنثور:2/390)

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Karachi