Mafaad-E-Aamaa

Mafaad-E-Aamaa when i see the brightness of my deeds in the eyes of my clients....... i feel satisfaction �

ایک عرب ملک کی ایک خاتون نے خواتین کی تنظیموں کے بارے میں ایک خط لکھا، جو مسجدِ میقات کے خطیب ڈاکٹر احمد عبداللہ العمری ...
31/08/2026

ایک عرب ملک کی ایک خاتون نے خواتین کی تنظیموں کے بارے میں ایک خط لکھا، جو مسجدِ میقات کے خطیب ڈاکٹر احمد عبداللہ العمری کے نام ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
ڈاکٹر صاحب! آپ نسوانیت (Feminism) کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں، لیکن اللہ کی قسم! نہ آپ کو اور نہ ہی آپ کے ساتھ بیٹھے لوگوں کو معلوم ہے کہ نسوانیت آخر ہے کیا!
میں کئی سال سے ان لوگوں کے ساتھ رہی ہوں۔ میں یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ ہوں، ایک معلمہ ہوں، میری عمر 42 سال ہے، تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کی ماں ہوں۔ یعنی میں کوئی جاہل عورت نہیں ہوں۔
جب مجھے ٹوئٹر اور انسٹاگرام کی عادت پڑ گئی تو یہ نظریہ آہستہ آہستہ مجھے بھی اپنی طرف کھینچ لایا۔
اللہ اس شخص کو معاف نہ کرے جس نے یہ سوچ ہمارے معاشرے میں داخل کی۔ میں تو اپنے گھر میں بالکل سکون سے رہ رہی تھی۔ میرے شوہر بہت اچھے انسان تھے، شریف، کریم اور نیک طبیعت تھے، البتہ میرے اور میری بیٹیوں کے معاملے میں کچھ سخت مزاج تھے۔
ٹوئٹر اور انسٹاگرام کے ذریعے میری کچھ خواتین سے دوستی ہوئی۔ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو بہت شدت والی ہوتی تھی اور زیادہ تر اس بات پر مرکوز رہتی تھی کہ مرد سے متعلق ہر رشتے سے نفرت کی جائے:
شوہر، باپ اور بھائی۔
خاص طور پر وہ شوہر کو برا اور ظالم ثابت کرنے پر زور دیتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ اس وقت تک خوش نہیں رہ سکتی جب تک شوہر اس کے سامنے مکمل طور پر جھک نہ جائے، ورنہ صرف طلاق ہی راستہ ہے!
شروع میں میں صرف تفریح کے طور پر ان کی گفتگو میں شامل ہوتی تھی اور ان کی باتوں سے پوری طرح متفق بھی نہیں تھی۔
پھر انہوں نے میری ملاقات میری ہی شہر کی کچھ بااثر خواتین سے کروا دی۔ وہ مجھے مختلف تقریبات میں بلانے لگیں، لیکن میرے شوہر ہمارے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی کی دعوت قبول کرنے سے منع کرتے تھے۔
چنانچہ میں اپنے شوہر سے جھوٹ بولنے لگی۔
میں کہتی: ’’یہ میری ساتھی کی بیٹی کی منگنی ہے‘‘، ’’یہ میری ساتھی کے بیٹے کی ساتویں کی تقریب ہے‘‘ وغیرہ۔ ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی نیا جھوٹ بولتی۔
میں ان خواتین کو دیکھتی تو مجھے لگتا کہ وہ بہت خوش ہیں۔ ان پر کوئی پابندی نہیں تھی؛ نہ لباس کے معاملے میں، نہ باہر جانے میں۔ وہ مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہی تھیں!
میں ان تقریبات میں جانے لگی اور سوچتی: ’’میں اب تک خود کو کس قدر پابندیوں میں رکھے ہوئے تھی!‘‘ بلکہ یوں کہیں کہ انہوں نے مجھے یہ محسوس کرا دیا کہ میں اپنی زندگی خود برباد کر رہی ہوں۔
وہ تقریبات بہت زیادہ آزادانہ نوعیت کی ہوتی تھیں۔ میں ایسی محفلوں کی عادی نہیں تھی، لیکن شیطان نے انہیں میرے لیے خوبصورت بنا کر پیش کیا اور پھر میں ان کے بغیر رہ نہیں پاتی تھی۔
مجھے اپنا گھر جہنم اور وہ محفلیں جنت نظر آنے لگیں، جبکہ میرا شوہر مجھے سب سے بڑا شیطان دکھائی دینے لگا!
ہم کبھی کرائے کے تفریحی مقامات اور شیلے لیتے، اور کبھی ہم میں سے کسی ایک کے گھر جمع ہوتے۔ ان خواتین کے پاس کافی پیسہ تھا۔ سب ملازمت پیشہ تھیں، اور جو ملازمت نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ملازمت تلاش کی جاتی تاکہ وہ کسی مرد کی محتاج نہ رہے۔
ہماری محفلوں میں رقص، گانے اور نام نہاد مکمل آزادی ہوتی تھی۔
لیکن سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ ہر عورت اپنے شوہر کے ساتھ پیش آنے والی ’’کامیابیوں‘‘ کی کہانیاں سناتی:
وہ کیسے شوہر کو ’’سبق سکھایا‘‘، کیسے اسے عدالتوں کے چکر لگوائے، کیسے اسے قرضوں میں پھنسایا، کیسے اسے ذہنی طور پر پریشان کیا وغیرہ۔
اور میں بیوقوفوں کی طرح بیٹھی یہ سب سنتی رہتی اور اپنے اندر غصہ بھرتی جاتی۔
کبھی کبھار کچھ مرد بھی وہاں آتے اور ہمیں خود اعتمادی، خود مختاری اور ذاتی ترقی وغیرہ کے موضوعات پر لیکچر دیتے۔ لیکن ان کی گفتگو کے دوران بھی شوہروں کا مذاق اڑایا جاتا اور ان پر طنز کیا جاتا۔
اب میں اپنے شوہر کو شیطان سمجھنے لگی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اس نے مجھے خوشی سے محروم کر رکھا ہے، اور میں اس دن کا انتظار کر رہی تھی جب میں اس کے سامنے پھٹ پڑوں گی۔
آخرکار وہ دن آ ہی گیا، اور میں پہلے ہی ایک سال سے ذہنی طور پر تیار اور بھڑکائی جا چکی تھی۔
میں نے شوہر سے کہا:
’’آج رات میں اپنی ساتھی کی ایک تقریب میں جا رہی ہوں۔‘‘
انہوں نے پوچھا: ’’کون سی ساتھی؟‘‘
میں نے جواب دیا: ’’آپ کو اس سے کیا مطلب!‘‘
یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے ان سے اس انداز میں بات کی۔
انہوں نے مجھے سخت نظروں سے دیکھا اور کہا: ’’تم نہیں جاؤ گی۔‘‘
میں نے کہا: ’’میں جاؤں گی، اور آپ کو جو کرنا ہے کر لیجیے۔‘‘
مجھے خود نہیں معلوم کہ میں نے یہ الفاظ کیسے کہہ دیے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی اپنے شوہر سے اس انداز میں بات نہیں کی تھی۔
لیکن یہ ایک سال سے جاری ذہنی اشتعال اور مسلسل بھڑکانے کا نتیجہ تھا۔
بہرحال، میرے شوہر نے کہا:
’’اگر تم اس دروازے سے باہر نکلی تو تمہیں طلاق ہے۔‘‘
میں نے جواب دیا:
’’مجھے تو یہی چاہیے! میں جا رہی ہوں۔‘‘
میں یہ سب کچھ ایسے کر رہی تھی جیسے مجھے پروگرام کر دیا گیا ہو۔
حالانکہ، اللہ گواہ ہے، میرے شوہر سمجھدار اور معاملہ فہم انسان تھے۔ انہوں نے میرے ساتھ جھگڑا نہیں کیا۔
اور سچ یہ ہے کہ میں چاہتی تھی کہ وہ میرے ساتھ الجھیں، تاکہ میں ان سے لڑائی کروں، پولیس کو بلاؤں اور انہیں تھانوں اور عدالتوں کے چکر لگواؤں، بالکل ویسا ہی جیسا مجھے ان خواتین نے سکھایا تھا۔
وہ مجھے یہ بھی بتاتی تھیں کہ اگر معاملہ پولیس تک پہنچ گیا تو وہ میرے لیے ایسے شخص کا انتظام کر دیں گی جو میرا مقدمہ سنبھالے گا۔
بہرحال، میں گھر سے نکل گئی اور اس تقریب میں پہنچ گئی۔
میں نے وہاں موجود خواتین کو سارا واقعہ سنایا۔ وہ خوشی سے شور کرنے لگیں، مجھے مبارک باد دی اور یوں میرا استقبال کیا جیسے میں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔
پورا ایک ہفتہ وہ مجھے ’’مبارک ہو، تم اس مرد کی غلامی سے آزاد ہو گئی ہو‘‘ جیسے پیغامات بھیجتی رہیں۔
اگلی صبح میرے شوہر نے عدالت میں طلاق کا اندراج کروا دیا، اور مجھے موبائل پر اس کی اطلاع مل گئی۔
میں نے طلاق کی دستاویز کی تصویر ان خواتین کو بھیج دی۔
انہوں نے میرے لیے خصوصی تقریب منعقد کی اور اس ’’عظیم کامیابی‘‘ پر مجھے مبارک باد دی۔
میں نے اپنا گھر اور اپنے بچوں کو چھوڑ دیا اور اپنی ملازمت کے قریب ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا۔
جلد ہی میرا فلیٹ بھی ان لوگوں کی محفلوں کا مرکز بن گیا۔
مجھے کبھی معمولی مالی امداد، کبھی تحفے اور کبھی فلیٹ کا سامان خریدنے کے لیے پیسے بھیجے جانے لگے۔
مختصر یہ کہ میں تقریباً چار سال تک ان کے ساتھ رہی۔
پھر میرے سامنے اس ’’مجرم گروہ‘‘ کی حقیقت کھلنے لگی۔
مجھے احساس ہوا کہ ان کا مقصد گھروں کو تباہ کرنا ہے؛ وہ مرد کے خلاف عورت کے دل میں نفرت اور دشمنی پیدا کرتے ہیں۔ وہ عورت کو یہ باور کراتے ہیں کہ مرد شیطان ہے، اور عورت کو اپنی تنخواہ، اپنی گاڑی اور اپنی مکمل آزادی ہونی چاہیے، یہاں تک کہ کوئی مرد، خواہ وہ اس کا اپنا باپ ہی کیوں نہ ہو، اس سے کسی بات کے بارے میں سوال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
چار سال بعد مجھے ہوش آیا اور میں نے اپنا احتساب کیا:
آخر مجھے اس گروہ سے ملا کیا؟
میں نے اپنا گھر برباد کر دیا۔
میں نے اپنے شوہر کو کھو دیا، جو ایک محبت کرنے والا، شریف، بہادر اور سخی انسان تھا۔
میرے بچوں اور بیٹیوں نے مجھ سے نفرت کرنا شروع کر دی۔ اب وہ بھی اپنے والد کے اصرار پر چند منٹ کے لیے مجھ سے ملنے آتے اور واپس چلے جاتے ہیں۔
میں اپنی بیٹیوں کے سامنے خود کو حقیر محسوس کرنے لگی۔
میرے بیٹے مجھ سے ملنے سے انکار کرتے ہیں۔
میں اپنی حقیقت سے فرار ہونے کے لیے منشیات کا سہارا لینے کے قریب پہنچ گئی تھی، لیکن پھر میں نے نسبتاً کم نقصان دہ راستہ اختیار کیا اور نفسیاتی ادویات استعمال کرنے لگی۔
یہ درست ہے کہ میں اللہ کی طرف واپس آ گئی، اپنے دین اور نماز کی پابندی شروع کر دی، لیکن میرے بچے اب بھی مجھے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
میری عمر اب 42 سال ہے، لیکن جو شخص مجھے دیکھتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میری عمر 60 سال ہے۔
برائی ان جگہوں سے شروع ہوتی ہے جنہیں لوگ ’’کیفے‘‘ کہتے ہیں۔ میرے خیال میں ان میں بہت سی برائیاں ہوتی ہیں۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ جو عورت سمجھدار اور ہوش میں ہو، وہ وہاں نہ جائے۔
ڈاکٹر صاحب! ہماری بیٹیوں کو بچائیے۔
ان باغی اور گمراہ ہونے والی خواتین کو بچائیے۔
اللہ کی قسم! میرے نزدیک یہ لوگ منشیات فروشوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
ڈاکٹر صاحب! میرے پاس اس گروہ کے بارے میں بہت کچھ ہے، لیکن میری صحت مجھے مزید لکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔
میں یہ خط لکھتے ہوئے بالکل ٹوٹ چکی ہوں، میرے ہاتھ اور پورا جسم کانپ رہا ہے۔
اے میرے رب! میں تیری طرف توبہ کرتی ہوں۔
یا اللہ! میرے شوہر، میرے بچوں اور میرے اس گھر کو مجھے واپس لوٹا دے جسے میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کر دیا۔
اگر کسی کی سفارش یا ثالثی سے صلح ممکن ہو تو میں اپنے گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔

27/08/2026

ہماری قوم اس قدر غلیظ ذہنی غلامی کا شکار ہے کہ اپنے خودداری کا سرعام تماشہ بنا دیتی ہے ان چور سیاستدانوں کی گاڑیوں کے اگے پاگلوں کی طرح ناچنا اور پائدانوں پر لٹک کر فتح کے نشان بنانا اور اس ذلت کو فخر سمجھنا بدترین اور گھٹیا ترین ذہنی معذوری ہے۔۔ خدارا اپنے حال پر رحم کرے اور اپنی اہمیت جانیے

18/06/2026
18/06/2026

..
الحمد لله يا الله على كل حال الحمد لله

03/01/2026

انسانی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز تحقیق جسے پڑھ کر ہم ہر بیماری سے بچ سکتے ہیں..
مصر کے ڈاکٹر عماد فہمی جو کہ ایک ماہر غذائیات (Nuitritionist) اور موٹاپے کے معالج Bariatric consultant ہیں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بتایا کہ انسانی صحت کا راز قرآن کی تین آیات میں پنہاں ہے:
1۔ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ (الاعراف آیت 31) ترجمہ: کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔
اس کی تشریح میں ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں کہ اکثر ڈاکٹر نشاستہ (carbohydrates) اور چکنائی ( fats) سے منع کرتے ہیں حالانکہ یہ دونوں چیزیں انسانی صحت کے لئے بنیادی ( اہمیت کی حامل ہیں۔
اصل چیز جس سے منع کیا جانا چاہئے، وہ حد سے تجاوز ہے.
2۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ (الانبياء آیت 30) ترجمہ: اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ پیاس لگے یا نہ لگے پانی ضرور پیجئے۔ طبی معیار کے مطابق ہر شخص اپنے وزن کے ہر ایک کلو پر 30 ملی گرام پانی پیئے۔ مثلاً اگر کسی کا 70 کلو وزن ہو تو وہ 70 × 30 یعنی 2100 ملی گرام یعنی 2 لیٹر اور 100 گرام (تقریباً) 8 گلاس پانی روزانہ پیئے۔
یہ جگر، گردوں اور دل کی اچھی کاکردگی کے لئے بہت ضروری ہے۔
3) وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا۝۱۰ۙ وَّجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا۝۱۱ (النباء آیت 10-11) ترجمہ: اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔
ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں کہ رات کو جلدی سویا جائے اور صبح جلدی اٹھا جائے۔ یہ سب سے بہترین نسخہ ہے جو آپ کو نہ موٹا کرے گا اور نہ بیمار کرے گا۔۔۔
اسلامی طرز پہ زندگی گزارتے ہوئے اپنے جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھے۔

21/12/2025

.وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا۔ وہ (خوب) جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے، اور جہاں کہیں تم ہو وه تمہارے ساتھ ہے اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے".

15/12/2025

یہ1928ء کا سال تھا، جب ڈاکٹر الیگزنڈر فلیمنگ مختلف بیکٹیریا (جرثوموں) پر تحقیقات کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے غور کیا کہ اُن کی ایک تحقیقاتی ڈش (پیٹری ڈش) میں پھپھوندی (فنگس) لگ گئی ہے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ پھپھوندی کے اردگرد بیکٹیریا مرگئے تھے۔ مزید تحقیق کرنے پر پتا چلا کہ پھپھوندی سے نکلنے والے ایک مادے نے بیکٹیریا کی نشوونما روک دی تھی۔

اُنہوں نے اس کمپاؤنڈ کا نام پینسلین ( Penecillin) رکھا۔ اور یہی پینسلین دنیا میں پہلی اینٹی بائیوٹک کےطور پر متعارف ہوئی۔ اور پھر اُس کے بعد مستقل تحقیق اور تجربات کے نتیجے میں نت نئی اینٹی بائیوٹکس کی دریافت و تعارف کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوگیا، جو تاحال جاری و ساری ہے۔

اینٹی بائیوٹکس، جدید طب کا ایک قیمتی تحفہ اور انسانیت کے لیے گویا بیش بہا نعمت ہیں۔ جن سے مہلک جراثیمی انفیکشنز میں مبتلا مریضوں کا کام یاب علاج ممکن ہوسکا اور بلا مبالغہ ان کے استعمال کے نتیجے میں کروڑوں زندگیاں بچائی جاسکیں۔ ایک اندازے کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے درست اور بروقت استعمال کی وجہ سے انسانی زندگی میں مجموعی طور پر 23 برس کا اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، ان اینٹی بائیوٹکس کی غیر معمولی افادیت کے باوجود ان کا غیرمناسب اور غیرضروری استعمال نہ صرف ان کی اِسی افادیت کو کم کر رہا ہے بلکہ اینٹی بائیوٹک ریزیسٹینس جیسے عالمی مسئلے کو جنم دے رہا ہے۔

یعنی اگر اینٹی بائیوٹکس کو بغیر کسی وجہ کے استعمال کیا جائے، تو آپ کے جسم میں موجود خطرناک بیکٹیریا کی ان کے خلاف مدافعت بڑھ سکتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ادویہ اُس وقت کام نہیں کریں گی، جب اِن کی اشد ضرورت ہوگی۔

عالمی ادارۂ صحت نے اینٹی بائیوٹک ریزیسٹینس کو دنیا میں صحت کے تحفّظ اور بہتری کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اور ہم اِس مضمون میں اینٹی بائیوٹکس کے مؤثر اور محفوظ استعمال ہی سے متعلق کچھ بنیادی باتوں پر روشنی ڈالیں گے۔

اینٹی بائیوٹکس کی اقسام اور اُن کا دائرۂ کار (اسپیکٹرم):

یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہر اینٹی بائیوٹک مخصوص جراثیم ہی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس کا دائرۂ کار وسیع ہوتا ہے، جن کو وسیع الاثر (Broad Spectrum) کہا جاتا ہے اور وہ کئی قسم کے جراثیم کے خلاف موثر ہیں۔ جب کہ کچھ کا دائرۂ کار محدود ہوتا ہے، جو محدود الاثر ( Narrow Spectrum ) کہلاتی ہیں۔ اورصرف چند مخصوص جراثیم ہی پر ہی اثر کرتی ہیں۔

عموماً ڈاکٹر، مریض کی علامات، انفیکشن کی قسم اور ممکنہ جراثیم دیکھتے ہوئے یا ترجیحی طور پر جرثومی حسّاسیت (Culture and sensitivity کی رپورٹ کی مطابقت سے مناسب اینٹی بائیوٹک تجویز کرتے ہیں۔ تواینٹی بائیوٹکس کے صحیح استعمال کے کچھ اصول ہیں۔

مناسب تشخیص پر مبنی استعمال:

اینٹی بائیوٹکس صرف ثابت شدہ بیکٹیریل انفیکشن پر اثر کرتی ہیں، وائرل اور فنگل انفیکشنز (Viral and fungal infections) میں یہ بے اثر ہیں۔ عام نزلہ، زکام اور کھانسی وغیرہ کی عموماً وجہ الرجی اور وائرل انفیکشنز ہوتے ہیں۔ خصوصاً اگر یہ بخار وغیرہ کے بغیر ہوں۔ لیکن بعض وائرل انفیکشنز جیسے کورونا، خسرہ، ممز (کن پیھڑ)، چکن گونیا یا ڈینگی وغیرہ میں تیز بخار بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح منہ اور جِلد کے چھالے اور جِلدی داد وغیرہ اکثر فنگل انفیکشنز کی وجہ سے ہوتے ہیں-

خون کے کچھ سادہ ٹیسٹ مثلاً CBC اس طرح کی بیماریوں کی تشخیص میں نہایت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ وائرل انفیکشنز میں سردی، انفلوئنزا، کروپ، سانس کی نالی کی سوزش، چھاتی میں سردی (کھانسی) اور زیادہ تر گلے کی خراش شامل ہیں۔

یہ عموماً بیکٹیریل انفیکشن کی بہ نسبت زیادہ متعّدی ہوتے ہیں۔ اگر خاندان میں ایک سے زیادہ فرد کو ایک ہی بیماری ہو تو یہ امکانی طور پر وائرل انفیکشن ہے۔ جو عموماً چار سے پانچ دِنوں میں ٹھیک ہوجاتا ہے، لیکن پوری طرح صحت یاب ہونےمیں تین ہفتے تک کی طویل مدت لگ سکتی ہے۔

دیکھا گیا ہے، اس قسم کی معمولی علامات ظاہر ہوتے ہی لوگ بےدریغ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال ازخود شروع کردیتے ہیں، جو ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے۔

حالاں کہ اِن حالات میں اینٹی بائیوٹک لینا سودمند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں چند عام طور پر کی جانے والی غلطیوں میں: ہر بخار میں اینٹی بایوٹک شروع کردینا۔ ہر قسم کی کھانسی میں اینٹی بایوٹک تجویز کرنا۔ کسی اور کی دوا خود استعمال کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

صحیح خوراک، وقفہ اور دورانیہ:

کسی بھی اینٹی بایوٹک کی مقدار یا خوراک مریض کی عُمر، وزن، گُردوں اور جگر کی صحت کو مدنظر رکھ کر طے کی جاتی ہے۔ اسی طرح کسی بھی مجوّزہ اینٹی بائیوٹک کا دورانیہ بھی اس کی کیمیائی ہیئت اور ساخت کے علاوہ مرض کی شدت کو مدِنظر رکھ کر طے کیا جاتا ہے، جس کے متعلق آپ کا ڈاکٹر آپ کو ہدایات دیتا ہے۔

خیال رہے کہ دوا کی مطلوبہ خوراک سے کم مقدار یا دورانیہ اینٹی بائیوٹکس کی اثرپذیری کو بُری طرح متاثر کرتا ہے۔ اپنے ڈاکٹر کے بتائے ہوئے مکمل دورانیے میں دوا لینا انتہائی اہم ہے۔ علامات بہتر ہونے پر بھی دوا جاری رکھیں، ورنہ انفیکشن دوبارہ ہو سکتا ہے یا اینٹی بائیوٹک ریزیسٹینس پیدا ہو سکتی ہے۔

دوخوراکوں کے درمیان وقفہ:

ہراینٹی بائیوٹک کی ہر دوخوراکوں کے درمیان ایک مخصوص وقفہ ہوتا ہے (جیسے 8، 12 یا 24 گھنٹے)۔ اس وقفے پرعمل کرنا خون میں دوا کی مسلسل مؤثر مقدار برقرار رکھنے کے لیےضروری ہے۔ وقفے میں غیرضروری تعطل اینٹی بائیوٹکس کے مطلوبہ نتائج کے حصول میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

دوا دینے کا ترجیحی راستہ:

زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس منہ کے ذریعے (گولیاں/ کیپسول) دی جاتی ہیں۔ شدید انفیکشن میں انجیکشن کے ذریعے یا عضلاتی راستے ( I/V or I/M) سے دی جاتی ہیں، تاکہ فوری اثر ہوسکے۔ کسی بھی کی مرض دوا لینے کا بہترین ذریعہ یا طریقہ (رُوٹ) آپ کا ڈاکٹرہی طے کرے گا۔

ذخیرہ کرنے کے طریقے:

اینٹی بائیوٹکس کو عام طور پر کمرے کے معمول کے درجۂ حرارت پر، سورج کی روشنی اور نمی سے دُور رکھیں۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس کو فریج میں رکھنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں ہمیشہ دوا بنانے والی کمپنی کی دی گئی ہدایات پرعمل کریں۔
کھانے کے ساتھ تعلق:
ایک عام تاثر یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹکس ہمیشہ کھانے کے بعد لی جائیں، جو درست نہیں۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس خالی پیٹ لی جاتی ہیں (کھانے سے ایک گھنٹہ پہلے یا دو گھنٹے بعد) تاکہ ان کے خون میں جذب ہونے کا عمل بہتر طریقے پر ہو، مثلاً، ایزیتھرومائسین۔ کچھ اینٹی بائیوٹکس کھانےکےساتھ لی جاتی ہیں تاکہ پیٹ پران کے مضراثرات کو کم کیا جاسکے۔ مثلاً، اموکسی کلیو کلاویولانک ایسڈ اور کلنڈامائسین وغیرہ۔

اینٹی بائیوٹکس کو دودھ اور دہی کے ساتھ لینا، بعض اینٹی بائیوٹکس کے معدے سے جذب ہونے کا عمل متاثر کرسکتا ہے۔ مثلاً ،ڈوکسی سائیکلین کو۔

تیاری کا طریقہ (بطورِ خاص سسپنشن)

یہ ایک نہایت اہم عمل ہے، جس سے آگہی بہت ضروری ہے۔ بچّوں کے لیے اینٹی بائیوٹک سسپنشن (پاؤڈر سے تیار ہونے والا محلول) تیار کرتے وقت بوتل یا اُس کے ڈبّے پر لکھی ہدایات کا سختی سے خیال رکھیں۔
ذیابطیس میں پاؤں بچائیں
ہمیشہ صاف پانی (عام طور پر ابلے ہوئے ٹھنڈے پانی) کااستعمال کریں۔ بوتل پر دیئے گئے نشان تک پانی ڈالیں اور اچھی طرح ہلائیں تاکہ پاؤڈر مکمل گھل جائے۔ بعض ادویہ کو پانی میں حل کرنے کے لیے زور زور سے ہلانا دوا کا ذائقہ خراب کردیتا ہے، جس سے بچّوں کے لیے دوا ایک بد ذائقہ اور نا پسندیدہ محلول بن جاتی ہے اور وہ دوا پینے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ چناں چہ دوا کے پاؤڈر کو پانی میں حل کرنے کے لیے تحمّل سے کام لیں تاکہ بچّے کے لیے دوا کی قبولیت برقرار رکھی جا سکے۔

تیار شدہ سسپنشن کو عام طور پر فریج میں رکھا جاتا ہے۔ تیار شدہ دوا کو مخصوص مدّت (7سے 14 دن) میں استعمال کریں، خواہ اُس کی حتمی معیاد بوتل پر کچھ بھی لکھی ہو۔

احتیاطی تدابیر:

کبھی بھی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس استعمال نہ کریں۔ مائع دوا کی ہر خوراک سے قبل بوتل ہلانا ضروری ہے۔ دوسروں کے لیے تجویز کردہ اینٹی بائیوٹک ہرگز استعمال نہ کریں۔

ڈاکٹر کو اپنی تمام الرجیز اور دیگر بیماریوں کے بارے میں ضرور بتائیں۔ اگر اینٹی بائیوٹک لینے کے بعد کوئی مضر اثر (جیسے خارش، سُوجن، سانس لینے میں دشواری) محسوس ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اینٹی بائیوٹکس سے بچاؤ کا آزمودہ نسخہ :

حفظانِ صحت کے لیے اینٹی بائیوٹکس کے بےجا استعمال سے اجتناب، آج کے دَور کی اہم ضرورت ہے۔ اگر روزمرّہ زندگی میں صفائی، احتیاط اور بیماریوں سے بچاؤ کے اصول اپنا لیے جائیں تو اکثر انفیکشنز کو ہونے سے پہلے ہی روکا جاسکتا ہے۔ اِس طرح نہ صرف صحت بہتر رہتی ہے بلکہ اینٹی بائیوٹکس کے بار بار استعمال کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

انفیکشنز سے بچاؤ کی تدابیر:

اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے بچنا ہے تو سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ انفیکشن سے بچاؤ کے طریقوں پر توجّہ دی جائے اور اُن پر عمل بھی کیا جائے۔ اِن تدابیر میں سرفہرست مندرجہ ذیل ہیں:

ہاتھوں کی صفائی: ہاتھ دن میں کئی بار اچھی طرح دھوئیں، خاص طور پر کھانے سے پہلے، باتھ روم کے استعمال کے بعد اور کہیں باہر سے گھر آنے پر۔ اس طرح جراثیم پھیلنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

منہ کی صفائی: دن میں کم از کم دو بار صُبح اور رات سونے سے پہلے برش کریں۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی انفیکشن اور دیگر منہ کی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

ویکسی نیشن: بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے تجویز کردہ تمام ویکسینز وقت پر لگوانا ضروری ہے، کیوں کہ ویکسینز مختلف بیماریوں سے بچاؤ کی مضبوط اور محفوظ راہ ہیں۔

ماسک کا استعمال: دھول، دھواں اور فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں۔ یہ عمل سانس کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتا ہے۔

متوازن غذا اور ورزش: صحت بخش غذا کھائیں اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔ اس سے قوتِ مدافعت مضبوط رہتی ہے اور جسم بیماریوں کا مقابلہ بہتر طور پر کر سکتا ہے۔

پانی کا زیادہ استعمال: دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے اور بیماریوں کے خلاف قدرتی دفاعی نظام بہتر کرتا ہے۔
صاف ستھرا، معیاری کھانا پینا: کھانے پینے میں حفظانِ صحت کا خاص خیال رکھیں اور باسی یا آلودہ چیزوں کے استعمال سے پرہیز کریں۔ جس قدر ممکن ہو، گھر کا تازہ اور محفوظ کھانا استعمال کریں، کیوں کہ باہر تیار ہونے والے کھانوں میں صفائی کا معیار ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔

یاد رکھیں، اینٹی بائیوٹکس قیمتی ادویہ ہیں، جن کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمّے داری ہے۔ آپ اِنہیں ڈاکٹر کے مشورے، مقررہ خوراک، وقفے اور دورانیے میں استعمال کرکے نہ صرف اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ان ادویہ کی افادیت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

Copied

عموما پاکستان میں بتایا جاتا ہے کہ باقی ممالک کی نسبت سعودی عربیہ کے پیسے میں برکت ہوتی ہے اپ کو پتہ ہے اس برکت کے پیچھے...
05/12/2025

عموما پاکستان میں بتایا جاتا ہے کہ باقی ممالک کی نسبت سعودی عربیہ کے پیسے میں برکت ہوتی ہے
اپ کو پتہ ہے اس برکت کے پیچھے راز کیا ہے؟؟؟
باہر ممالک سے ائے لوگوں میں اکثریت جب یہاں ا جاتی ہے تو ان کی زندگی بدل جاتی ہے اگر میں بات کروں پاکستان کی تو پاکستان میں وہ تمام تر نوجوان یا کسی بھی عمر کے لوگ جب یہاں محنت اور مشقت کے لیے اتے ہیں تو ان کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی اتی ہے اور یہ تبدیلی ان کے لائف سٹائل اور 24 گھنٹے کی زندگی گزارنے کے طور طریقے میں اتی ہے،
پاکستان سے یہاں ائے ہوئے اکثریت نماز کے بڑے پابند ہوتے ہیں یہاں لوگ عموما فجر کے اذان سے پہلے یا فجر کی اذان کے ساتھ ہی اٹھتے ہیں اپ کو یہاں کے مساجد میں ہمارے ،
،پاکستان کے نسبت یہاں نمازی زیادہ ملیں گے فجر کے وقت تو جب اپ کے دن کا اغاز ہی نماز فجر سے ہو جائے تو
اٹومیٹکلی کامیابی کیے دروازے کھل جاتی ہے۔۔۔۔۔۔پاکستان کے اکثر لوگ یہاں نماز کی بڑی پابندی کرتے ہیں یا اس مٹی کی اپنی تاثیر ہے کہ انہیں اس پر مجبور کر دیتی ہے یا کام کی وجہ سے لوگوں کے اندر پیدا ہونے والے اس ڈسپلن کی وجہ سے لیکن عموما یہاں کے تمام مزدور ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ بروقت نماز پڑھے پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور بہت سارے لوگ قران مجید کی تلاوت بھی پابندی کے ساتھ کرتے ہیں ہر بندہ صبح بہت جلدی اٹھتا ہے اور اکثریت کی بات کروں تو وہ رات کو بھی بہت جلدی ہی سو جاتے ہیں تو یہ جو برکت ہے وہ کسی کرنسی میں نہیں ہوتی یہ برکت نہ کسی ملک کے کسی خاص پیسے میں ہوتی ہے یہ برکت اصل میں اس ڈسپلن کے اندر ہے اس محنت اس لائف سٹائل کے اندر ہیں جو ایک پروڈکٹیو لائف سٹائل ہے یہاں ہر بندے کی زندگی ایک خاص مقصد کے لیے ایک خاص شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے ہر بندہ صبح جلدی اٹھتا ہے اور شام کو جلدی سو جاتا ہے پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرتا ہے اور روزانہ کی بنیاد اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے محنت مزدوری کر لیتا ہے اسی لیے ان کے رزق میں بھی برکت ہوتی ہے میں بات اکثریت کی کر رہا ہوں اب بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو یہاں پہ بھی اس طرح کی لائف سٹائل نہیں گزارتے وہ یہاں سعودی عربیہ میں بھی ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے پاکستان میں ا اکثر لوگ گزارتے ہیں تو ان کی زندگی یہاں سعودی عربیہ کے سرزمین پہ بھی ایسے ہی خوار گزر رہی ہوتی ہے بس میں سوچ یہ رہا تھا کہ اگر ہم اس طرح کی لائف سٹائل اپنے گاؤں میں اپنے ملک میں شروع کریں تو یقینا ہماری زندگی میں بہت بڑی تبدیلی ا سکتی ہے بھلے ہمارے پاس روزگار ہو یا نہ ہو لیکن ہمیں صبح فجر کے ٹائم اٹھنا اور عشاء کے بعد جلدی سو جانا دن میں پانچ وقت کی نماز کی پابندی اور رزق کی تلاش میں کچھ نہ کچھ محنت کرنا تو انشاءاللہ ہماری زندگی گاؤں میں ہوتے ہی بہتر ہو جائے گی۔۔۔۔

*سعودی عرب۔ پچاس سال بعد کفالت نظام ختم ۔ لاکھوں تارکین وطن مزدوروں کو آزادی اور نئے حقوق**ایک تاریخی اقدام کے طور پر سع...
24/10/2025

*سعودی عرب۔ پچاس سال بعد کفالت نظام ختم ۔ لاکھوں تارکین وطن مزدوروں کو آزادی اور نئے حقوق*

*ایک تاریخی اقدام کے طور پر سعودی عرب نے اپنے پچاس سال پرانے کفالت نظام کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو تارکین وطن مزدوروں کی رہائش اور ملازمت کو ان کے آجر سے جوڑتا تھا۔ جون 2025 میں اعلان کی گئی اس اصلاح کا اثر تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ غیر ملکی مزدوروں پر پڑے گا۔ زیادہ تر مزدور جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو طویل عرصے سے ملازمت کی تبدیلی پر پابندیوں اور محدود مزدور حقوق کا سامنا کر رہے تھے۔*

*کفالت نظام کیا تھا اور یہ کیسے شروع ہوا۔*

کفالت نظام عربی لفظ کفالت سے ماخوذ ہے۔ یہ کوئی قدیم روایت نہیں بلکہ ایک جدید قانونی ڈھانچہ ہے جو خلیجی ممالک میں انیس سو پچاس کی دہائی میں سامنے آیا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں رائج تھا جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ اس نظام کے تحت تارکین وطن مزدوروں کی قانونی حیثیت براہ راست ان کے آجر یعنی کفیل سے منسلک تھی۔ جس سے آجر کو مزدور پر غیر معمولی کنٹرول حاصل ہو جاتا تھا۔ مزدور اپنی ملازمت تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔ ملک نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ حتیٰ کہ قانونی تحفظ تک بھی رسائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے نتیجے میں مزدوروں کو استحصال اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ وہ اپنے آجر کی اجازت کے بغیر متبادل روزگار یا قانونی تحفظ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

یہ نظام اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ مزدوروں کی قانونی اور انتظامی ذمہ داری مقامی افراد یا کمپنیوں کے سپرد کی جا سکے۔ جس میں ویزا اور رہائشی امور شامل تھے۔ اس طرح ریاستی بیوروکریسی پر بوجھ نہیں پڑتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نظام سخت تنقید کا نشانہ بنا۔ کیونکہ اس میں مزدور کی قانونی حیثیت کو براہ راست آجر سے جوڑ دیا گیا تھا۔ جس سے طاقت کا شدید عدم توازن پیدا ہوا۔ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے جبری مشقت اور غلامی جیسی صورتحال قرار دیا۔

*اصلاحات۔ کیا بدلا۔*

سعودی عرب کی حالیہ مزدور اصلاحات نے کفالت نظام کی جگہ معاہداتی ملازمت کے ماڈل کو دے دی ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نئے نظام کے تحت غیر ملکی مزدور اب اپنے موجودہ آجر کی اجازت کے بغیر ملازمت تبدیل کر سکتے ہیں۔ ملک چھوڑنے کے لیے انہیں کسی ایگزٹ ویزا کی ضرورت نہیں۔ اور وہ قانونی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں جو پہلے ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔

یہ اصلاح سعودی عرب کے وژن 2030 منصوبے کا حصہ ہے۔ جس کا مقصد معیشت کو جدید بنانا اور غیر ملکی مزدوروں کے حقوق اور بہبود کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت نے اس اصلاح کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد اور نگرانی ضروری ہے تاکہ مزدوروں کی زندگی میں حقیقی بہتری آ سکے۔

*کفالت نظام کے تحت مزدوروں کی صورتحال۔*

سعودی عرب کا کفالت نظام لاکھوں تارکین وطن مزدوروں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈال چکا ہے۔

کل غیر ملکی مزدور۔ تقریباً ایک کروڑ چونتیس لاکھ تارکین وطن مزدور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ جو ملک کی آبادی کا تقریباً بیالیس فیصد ہیں۔

اہم ممالک۔ سب سے زیادہ مزدور بنگلہ دیش اور بھارت سے آتے ہیں۔ دو ہزار تئیس میں چار لاکھ اٹھانوے ہزار بنگلہ دیشی اور چار لاکھ چھبیس ہزار نو سو اکاون دیگر پڑوسی ممالک کے شہری روزگار کے لیے سعودی عرب گئے۔

گھریلو ملازمین۔ تقریباً چالیس لاکھ افراد گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جن میں تمام غیر ملکی ہیں۔

روزگار کے شعبے۔ تارکین وطن مزدور تعمیرات گھریلو خدمات ہوٹلوں اور زراعت جیسے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ جہاں وہ کفالت نظام کے تحت سخت پابندیوں میں رہتے تھے۔

*نئے کفالت اصلاحات کا اثر۔*

سعودی عرب میں کفالت نظام کے خاتمے سے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ تارکین وطن مزدوروں کی زندگی بدلنے جا رہی ہے۔ نئے نظام کے تحت مزدور اب اپنے کفیل کی اجازت کے بغیر ملازمت بدل سکتے ہیں۔ ایگزٹ ویزا کے بغیر ملک چھوڑ سکتے ہیں۔ اور قانونی تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی استحصال میں کمی لائے گی۔ کام کے حالات بہتر کرے گی۔ اور مزدوروں کو زیادہ خودمختاری اور عزت دے گی۔ اس کے ذریعے ملازمین کو منصفانہ شرائط پر گفت و شنید کا موقع ملے گا۔ معیشت میں ان کی شمولیت بڑھے گی۔ اور یہ خلیجی خطے میں مزدور حقوق کے لیے ایک تاریخی قدم ثابت ہو گا۔

Address

Metrovile
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mafaad-E-Aamaa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mafaad-E-Aamaa:

Shortcuts

Share