24/09/2025
*معلّمِ قرآن قاری انس شہید رح*
اس دنیا میں جو بھی آیا جانے کے لئے ہی آیا ہے، اگر کسی نے دائمی طور پر رہنا ہوتا تو وہ ذات رسالت مآب ﷺ (ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں) کی ہوتی، کہ اصلاحِ عالٙم کے لئے آپ کو دائمی حیات عطا ہوتی، لیکن اس دنیا کی ریٹھ ہے، یہاں جو بھی آیا اسے جانا ہے، پہلے اور بعد کا فرق ہے، بچپن اور پچپن کا فرق ہے۔
آج حضرت قاری انس صاحب کو *"رحمہ اللہ"* کہتے زبان پر آبلے سے پڑ جاتے ہیں، لیکن یہ وہ حقیقت جس کا اقرار ہر ایک کو کھلے بندوں کرنا پڑا کہ قاری انس صاحب اب *رحمہ اللہ* ہوگئے۔
رات گئے برادرم مفتی عبدالرحمن صاحب کا وٹس ایپ پر اندوہ ناک پیغام موصول ہوا کہ قاری انس صاحب رحمہ اللہ کا انتقال ہوچکا ہے، اس خبر نے دل و دماغ پر سکتہ طاری کردیا، کیا قاری صاحب کا سفر طالبانِ علومِ نبوت کے ہمراہ اتنا مختصر تھا،
*ابھی آ کے بیٹھے بھی نہ تھے کہ چل دئیے*
قاری صاحب رحمہ اللہ کو محاسِن انسانیت میں سے شرافت، خوبیِ اخلاق، بُلندیِ کردار، کم گوئی اور بُردباری میں سے حظِّ وافر نصیب ہوا، بلکہ قاری صاحب ان تمام صفات سے آراستہ تھے کہ جن پر انسانیت کو رشک آتا ہے۔
اتنی کم عُمر میں تدریس کا ایسا دبنگ انداز، سلیقہ جوئی اور نظم و ضبط کا ایسا حسین امتزاج کہ جس پر خود درسگاہ کو فخر ہو، یہ تمام صفات قاری انس صاحب رح میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
قاری صاحب رح کا مدرسة الحسنین میں عرصہ چار سال قبل تقرر ہوا تھا، ابتدا سے ہی آپ کا کردار باوقار رہا۔
طلباء میں ذوق بیدار کرنا، مسابقتی ذہن دینا، غبی و کُند ذہن ہر طرح کے طالب علم کو ساتھ لے کر چلنا، ایک ایک طالب علم کی کارکردگی پر نظر رکھنا، کم وقت میں تمام طلباء کی دہرائی کمالِ تیقظ و بیداری سے سننا۔۔۔۔۔۔ یہ قاری انس شہید رح کی وہ صفات تھیں جس کا میں نے خود کھلی آنکھوں مشاہدہ کیا، اور بارہا میں نے مہتمم مدرسہ مفتی عبدالرحمن غزنوی صاحب کے سامنے اس بات کا ذکر کیا کہ قاری انس صاحب کی محنت دیدنی ہے اور کلاس پر ان کا کنٹرول غضب کا ہے۔
ان تمام کمالات کے باوصف قاری صاحب رح کی مسکنت و عاجزی کا بھی کوئی جواب نہیں تھا، متانت اور سنجیدگی اس قدر کہ کبھی قاری صاحب کو قہقہ مارتے ہوئے یا کھل کھلا کر ہنستے نہیں دیکھا گیا، جب بھی دیکھا ایک "متواضع قاری صاحب" ہی کو دیکھا۔
اللہ پاک قاری صاحب کی شہادت قبول فرمائے، ان کے درجات بُلند فرمائے، اُن سے قرآن کریم کو سینے محفوظ کرنے والے طلباء کو اُن کے لئے ذریعہ نجات بنائے اور مدرسة الحسنین کو قاری صاحب کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین
*امان اللہ غزنوی غفرلہ ولوالدیہ آمین*
02/10/2024