06/02/2023
ترجمہ:
ابي هريره رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں:
فرمایا رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وسلم نے:
"نہیں قبول کرتا اللّٰه پاک تم میں سے کسی کی نماز اگر اس سے حدث واقع ہوجائے، یہاں تک کہ وہ وضو کرلے۔"
حوالہ: البخاری نمبر (6904)، اور مسلم نمبر (225)۔
مشکل الفاظ:
حدث: حدث سے مراد استنجا والی دونوں جگہوں سے کسی شے کا خارج ہونا (مراد قضائے حاجت سے ہے) یا وضو توڑنے والا کوئی اور عمل۔
حدیث سے کیا اخذ کیا گیا ہے:
1 - یہاں اللّٰه تعالٰی نے نماز پڑھنے والوں کو ہدایت کی کہ جب وہ نماز کا ارادہ کریں تو پہلے اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری حالت اختیار کریں، کیونکہ یہ نماز رب تعالٰی اور اس کے بندے کے درمیان گہرا تعلق ہے، اور یہ نماز اس بندے کی دعاؤں کا راستہ ہے، اس لیے اسے حکم دیا گیا ہے کہ نماز کے لیے وضو اور طہارت اختیار کرے، اور اسے یہ تاکید کی گئی ہے کہ کی نماز وضو کے بغیر قبول نہیں ہوگی۔
2 - نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ انسان بڑی اور چھوٹی نجاست سے پاک نہ ہو جائے۔
3 - چھوٹی نجاست: جس سے صرف وضو واجب ہو۔
بڑی نجاست: جس سے غسل واجب ہو جائے۔