12/12/2023
خون پِھر خون ہے – ساحر لدھیانوی
ظلم پِھر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پِھر خون ہے ، ٹپکے گا تو جم جائیگا
خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پا ۓ سلاسل پہ جمے
تیغِ بے داد پہ یا لاشۂ بسمل پہ جمے
خون پِھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
لاکھ بیٹھے کوئی چُھپ چُھپ كے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلاّدوں كے مسکن کا سُراغ
سازشیں لاکھ اُڑھاتی رہیں ظلمت کا نقاب
لے كے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ
ظلم کی قسمت ناکارہ و رُسوا سے کہو
جبر کی حکمتِ پُرکار كی ایما سے کہو
محملِ مجلسِ اقوام کی لیلی سے کہو
خون دیوانہ ہے ، دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلہ تند ہے ، خرمن پہ لپک سکتا ہے
تم نے جس خون کو مقتل میں چھپانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ،کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن كر
خون چلتا ہے تو رُکتا نہیں سنگینوں سے
سَر اُٹھتا ہے تو دبتا نہیں آ ئینوں سے
ظلم کی بات ہی کیا ، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے ، آغاز سے انجام تلک
خون پِھر خون ہے ، سو شکل بَدَل سکتا ہے
ایسی شکلیں كے مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے كے بجھاؤ تو بجھاۓ نہ بنے
ایسے نعرے كے دباؤ تو دبائے نہ بنے
29/09/2020