sessions
Ibne ahmed almuabbir official
I am dream interpreter. I am hafiz & Aalim, I tell you interpretation of your dreams. you can ask about your dreams that you see in sleeping.
ap apny khawboon ki tabeer free poch sakty hen. 03001053080
14/05/2026
*خوابوں کی حقیقت -قسط نمبر 3: جھوٹا خواب بیان کرنا*
جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے، اور جھوٹے خواب سے مراد یہ ہے کہ انسان وہ کچھ بیان کرے جو اس نے خواب میں نہیں دیکھا۔
لوگ اسے گناہ نہیں سمجھتے، بلکہ جھوٹ بول دیتے ہیں کہ "میں نے خواب دیکھا ہے"۔
شریعت کے مطابق سچا خواب اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتا ہے۔ یعنی اللہ خواب کے ذریعے اپنے بندے کو خوشخبری دیتا ہے۔
یاد رہے، جھوٹا خواب گھڑ کر بیان کرنے والا اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا
*ترجمہ:*
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔
*مطلب:*
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے، یعنی اللہ کے نام پر جھوٹ بولے، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ خوابوں کے معاملے میں بھی اگر کوئی جھوٹا خواب گھڑ کر یہ کہے کہ "میں نے ایسا خواب دیکھا ہے"، تو یہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے زمرے میں آتا ہے۔
سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں کو وہ دکھائے جو اس نے نہ دیکھا ہو۔ سب سے خطرناک عمل یہ ہے کہ انسان خود سے جھوٹا خواب گھڑ کر بیان کرے۔
جس نے خواب میں وہ چیز نہ دیکھی ہو اور اسے بیان کر دے، قیامت کے دن اسے دو جو کے دانے جوڑنے کا حکم دیا جائے گا اور وہ کبھی نہیں جوڑ سکے گا۔ یعنی یہ اتنا بڑا گناہ ہے۔
سچا خواب اللہ کی طرف سے رحمت ہوتا ہے، اور جھوٹا خواب بیان کرنا گناہ ہے۔ اگر کسی نے جھوٹا خواب سنا دیا اور معبر نے اس کی تعبیر کر دی، تو وہ ویسے ہی ہو جائے گا۔
مثال کے طور پر:
جیل میں ایک قیدی نے یوسف علیہ السلام کو خواب سنایا تھا کہ "میں نے سر پر روٹیاں اٹھائی ہوئی ہیں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں"۔
یوسف علیہ السلام نے تعبیر میں فرمایا: "آپ کو سولی دی جائے گی اور پرندے آپ کا سر نوچ کر کھائیں گے"۔
وہ شخص کہنے لگا: میں نے مذاق کیا ہے، میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا۔
تو یوسف علیہ السلام نے فرمایا: قضی الامر "اب فیصلہ ہو چکا ہے۔یعنی جو کچھ تم نے بیان کیا تھا اور میں نے جو تعبیر بتائی ہے، وہ اب ہو کر رہے گا"۔
اسی طرح اگر کسی نے جھوٹا خواب بیان کیا ہو اور معبر نے تعبیر کر دی، تو وہ ویسے ہی ہو جائے گا جیسے بیان کیا گیا ہے۔
لہٰذا اس معاملے میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اور خواب دیکھنے والے کو چاہیے کہ اپنے خواب کا کوئی حصہ معبر سے نہ چھپائے، بلکہ ہر چیز کھل کر بیان کر دے۔
آپ بھی ہم سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھ سکتے ہیں۔
شیخ ابن احمد المعبر
+923001053080
12/05/2026
*خوابوں کی حقیقت - قسط نمبر 2
اس مضمون میں ہم یہ سمجھیں گے کہ دین اسلام میں نیند میں آنے والے خوابوں کے سلسلے میں ہماری کیا رہنمائی کی گئی ہے۔
*سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیں:*
کسی بھی شخص کا خواب شریعت کا حکم ثابت کرنے کے لیے نہیں۔
خواب سے حلال حرام طے نہیں ہوتا۔
قرآن مجید میں خوابوں کا ذکر موجود ہے، مثلاً ابراہیم علیہ السلام کا خواب (یہ بات یاد رہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں)
اور یوسف علیہ السلام کا خواب ،
بلکہ یوسف علیہ السلام کو خوابوں کی تعبیر کے علم میں خاص مقام حاصل ہے۔
یہاں میں یوسف علیہ السلام کا اپنا خواب ذکر کرتا چلوں
*قرآن مجید میں ہے*
*إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِي سَاجِدِينَ*
*ترجمہ:*
_جب یوسف نے اپنے والد سے کہا: اے ابا جان! میں نے خواب میں گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا، میں نے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔_
*حوالہ:* سورۃ یوسف، آیت 4
---
یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنا وہ خواب ہے جو انہوں نے خود دیکھا تھا۔ اور خواب دیکھنے کے بعد سب سے پہلے اپنے والد سے خواب بیان کیا
باپ اور بیٹے کی آپس میں جو محبت تھی وہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔
اور اس کے بعد آگے چل کر پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ اپنا خواب اپنے بھائیوں کو بیان نہ کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے خلاف کوئی چال چلیں۔
اب حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے والد سے بڑی محبت تھی اس لیے انہوں نے اپنا خواب ان کو بیان فرمایا۔ اس سے بات ثابت ہوتی ہے کہ خواب اس کو بیان کرنا چاہیے جس سے آپ کو محبت ہو۔ لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ صرف محبت کا ہونا ضروری نہیں، محبت کے ساتھ ساتھ خوابوں کی تعبیر کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ محبت میں آپ نے خواب کسی کو بتا دیا اپنی فیملی میں سے اور انہوں نے اپنی مرضی سے اس کی غلط تعبیر کر دی، اس سے آپ کو نقصان کا اندیشہ ہے،
اور حدیث کے مطابق پہلی دفعہ کی بیان کردہ تعبیر سے اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوجاتا ہے ،
بہر حال پھر جب یوسف علیہ السلام الزام کی بنیاد پر ناحق جیل گئے تو جیل میں ایک شخص نے یوسف علیہ السلام سے ایک خواب کی تعبیر پوچھی اس شخص نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں نے سر پر روٹیاں اٹھائی ہوئی ہیں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں، تو حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ اس کی یہ تعبیر بیان فرمائی کہ اس کو سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ کر کھائیں گے۔ اور آخر میں پھر ایسا ہی ہوا۔ تو صاحبِ خواب قیدی کو سولی دی گئی اور اس کے سر کو پرندے نوچ کر کھا رہے تھے۔
پھر عزیز مصر بادشاہ نے خواب دیکھا تھا۔ اس کے بعد جب تعبیر یوسف علیہ السلام سے پوچھی گئی تو انہوں نے بتلایا کہ قحط سالی آئے گی۔ تو انہوں نے ساتھ حل اور تدبیر بھی بتلائی کو اس قحط سالی کے زمانے میں فقر و فاقہ سے بچنا کیسے ہے،
تو معبر کو بھی چاہیے کہ وہ خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ حل بھی بتائے، مشکل حالات سے نکلنے کا راستہ بھی بتائے۔
*دوسری بات یہ بتاؤں* کہ یہ تعبیر بتلانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ میں نے بڑے بڑے علماء کو دیکھا ہے، مفتیوں کو دیکھا جو غلط تعبیر بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کو نہیں پتہ اس حوالے سے قرآن کے بارے میں وہ جانتے ہوں گے، حدیث کے بارے میں جانتے ہوں گے، فقہ کے بارے میں جانتے ہوں گے، وہ لیکن تعبیر ایک الگ فن ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ ہر عالم اور حافظ معبر نہیں ہو سکتا،
یہاں ایک مثال آپ کو دیتا چلوں۔
یہ رہا آپ کی آڈیو کا اردو متن:
---
میں نے اپنی زندگی میں ایک حافظ صاحب سے پوچھا، یہ صاحب قرآن مجید کے حافظ تھے، میں نے ان کو خوابوں کے بارے میں بتلایا۔ انسان رات کو نیند میں جو کچھ دیکھتا ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے، اس کی تعبیر ہوتی ہے، اشارہ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے۔ وہ آگے سے حیرت سے میرا منہ دیکھنے لگے کہ یہ خواب بھی کوئی چیز ہوتے ہیں؟ اس کی تعبیر بھی ہوتی ہے ،
مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ شخص حافظِ قرآن ہے، قرآن کا حافظ ہے، اس کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ انسان جو رات کو سوتے ہوئے دیکھتا ہے اسے خواب کہتے ہیں اور خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے، خوشخبری بھی ہو سکتا ہے، شیطان کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس بات کا ان کو علم ہی نہیں تھا۔
لہٰذا آپ کو چاہیے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر ہر ایرے غیرے شخص سے عالم سمجھ کر، داڑھی والا سمجھ کر، حافظ سمجھ کر نہ پوچھیں۔ صرف ان سے پوچھیں جو اس بارے میں علم رکھتے ہوں۔
نبی کریم ﷺ کا معمول تھا
آپ ﷺ فجر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں صحابہ سے پوچھتے تھے: تم میں سے کس نے رات کو خواب دیکھا ہے؟ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین خواب بیان فرماتے اور نبی کریم ﷺ ان کے خوابوں کی تعبیر بیان فرماتے۔
*نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:* سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے۔
ان تمام باتوں سے بات ثابت ہوتی ہے کہ سچا خواب اللہ کی طرف سے بندے کے لیے خوشخبری ہوتا ہے اور اچھا خواب کبھی بھی شیطان کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: تم میں سے جو شخص اچھا خواب دیکھے تو اس کو صرف اس کو بتلائے جس سے محبت کرتا ہے۔ اگر برا خواب دیکھے تو وہ کسی کو نہ بتلائے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین دفعہ اپنے بائیں جانب تھتکار دے اور اپنی کروٹ تبدیل کرے۔
اچھا خواب بھی دیکھنے کے بعد خوب سوچ سمجھ کر اپنوں میں سے ان کو بتلانا چاہیے جن سے محبت بھی ہو اور ان کو علم بھی ہو اور ان سے حسد اور جلن وغیرہ کا بھی اندیشہ نہ ہو۔
جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے جب خواب میں گیارہ ستارے, چاند و سورج کو اپنے آگے سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے اپنے والد کے سامنے اپنا خواب بیان کیا جن سے وہ بڑی محبت کرتے تھے اور باپ بھی بیٹے سے بڑی محبت کرتے تھے۔ تو والد نے فرمایا، حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، کہیں وہ تمہارے خلاف وہ چال نہ چل لیں۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ یوسف علیہ السلام نے آگے چل کے بادشاہ بننا ہے اور تمام لوگ، بھائی وغیرہ سب ان کے تابع ہوں گے۔
برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ وہ یقین کرے یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ اور برا خواب، ڈراؤنا خواب آگے بیان نہ کرے۔
اس بات کا یقین کر لینے کی صورت میں کہ یہ برا اور ڈراؤنا خواب شیطان کی طرف سے ہے، اس کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔
*آپ بھی ہم سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھ سکتے ہیں۔*
شیخ ابن احمد المعبر
+923001053080
*خوابوں کی حقیقت*
قسط نمبر 1۔
یہ بات تمام لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسان جو کچھ سوتے میں نیند کی حالت میں دیکھتا ہے اسے خواب کہتے ہیں۔ ہمارے یہاں اکثر لوگ نیند کی حالت میں دیکھے گئے خوابوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، یعنی ان کی تعبیر معلوم نہیں کرتے۔ یا پھر اگر کسی سے خوابوں کی تعبیر پوچھتے بھی ہیں تو وہ ان کم علم لوگوں سے جو تعبیر الرؤیا یعنی خوابوں کی تعبیر سے ناواقف لوگوں سے پوچھتے ہیں۔ جس کا ان کو نقصان یہ ہوتا ہے کہ غلط تعبیر بیان کرنے والے اپنی عقل کی بنیاد پر جو کچھ بیان کرتے ہیں، اور لوگ اس پر پھر یقین کر لیتے ہیں اور ویسا ہی ہو جاتا ہے۔
لہٰذا ہمیشہ اپنے خوابوں کی تعبیر ، علم تعبیر کے ماہر لوگوں سے پوچھنی چاہیے۔
یہ بات یاد رکھیں کہ سب خواب جھوٹے نہیں ہوتے جس طرح کہ لوگ سمجھتے ہیں۔ سب سے بہترین خواب وہ ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف سے کسی بندے کے لیے خوشخبری ہوتے ہیں۔
خوابوں کی تین قسمیں ہیں:
*نمبر ایک: حدیثِ نفس* یعنی دل کی خواہشات پر مبنی خواب۔ انسان جو کچھ سوچتا ہے اس کو رات کو خواب میں دیکھ لے۔ اس کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔
*نمبر دو: تخویفِ شیطانی* یعنی شیطان کی طرف سے ڈر اور خوف میں مبتلا کرنے کے لیے۔ شیطان خواب میں آتا ہے اور ڈر اور خوف میں مبتلا کرنے کے لیے خواب دکھاتا ہے۔ انسان کو برے برے خواب دکھاتا ہے۔ (شیطانی خواب دیکھنے کے بعد ، شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی چاہیے اور ایسا خواب کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہئے)
*نمبر تین: بشارتِ الٰہی* یعنی اللہ کی طرف سے خوشخبریاں۔ یعنی ایسے خواب جو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں۔
اور یہ آخری قسم سب سے بہترین خواب ہوتے ہیں ۔
اب یہ کیسے معلوم ہوگا کہ یہ دیکھا گیا خواب کس قسم کا ہے؟
آیا یہ خواب شیطان کی طرف سے ہے یا پھر اللہ کی طرف سے کوئی خوشخبری ہے؟
تو خواب کی کیفیت سے بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات خواب دیکھنے والا خود سمجھ سکتا ہے، اور ایسا بہت کم ہوتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ صحیح معنوں میں صرف ماہر معبر (تعبیریں بتانے والا) ہی جان سکتا ہے اور آپ کو بتا سکتا ہے کہ یہ جو خواب دیکھا ہے آپ نے یہ شیطانی خواب ہے یا اللہ کی طرف سے کوئی خوشخبری ہے۔ عام لوگوں کے لیے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک مثال میں آپ کو دوں: خواب میں پاخانہ/پوٹی دیکھنے سے مراد کشادگی رزق ہوتا ہے، مگر لوگ اسے شیطانی خواب سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں اور تعبیر نہیں لیتے۔ اور خود ہی گمان کر لیتے ہیں کہ یہ شیطانی خواب ہے، جس کی وجہ سے وہ لوگ بہت بڑی خیر سے محروم ہو جاتے ہیں۔
خواب میں بڑا پیشاب \ پاخانہ وغیرہ دیکھنا اس سے مراد رزق ہوتا ہے۔ ایک شخص نے مجھ سے خواب کی تعبیر پوچھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے اپنی بہن کے گھر کے باتھ روم میں نے بڑا پیشاب وغیرہ کیا ہے۔ اس کی تعبیر میں نے ان کو یہ بتائی کہ آپ اپنی بہن کی مدد کریں گے۔ وہ جواباً کہنے لگے: جی بالکل ایسا ہی ہے، میری بہن کے مالی حالات کچھ کمزور ہیں، اور میں ان کی مدد کرتا رہتا ہوں اور آئندہ بھی میں ان کی مدد کروں گا۔
ایک دوسری مثال میں آپ کو دوں:
خواب میں ہوا میں اڑنے کو لوگ جادو سمجھتے ہیں۔ اور جو لوگ اس خواب کی تعبیر کم علم لوگوں سے پوچھتے ہیں ان کو وہ بتاتے ہیں کہ جادو ہوا ہے آپ پر، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر کسی نے خواب میں دیکھا کہ وہ ہوا میں اڑ رہا ہے تو اس کی تعبیر ہرگز ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس پر جادو ہوا ہے۔
خواب میں خود کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھنا یہ بہت ہی اچھے خوابوں میں سے ہے۔ اس کی تعبیر یہ ہے کہ یہ شخص جس نے خواب دیکھا ہے، یہ اپنی زندگی میں خوب ترقی کرے گا اور بہت ساری کامیابیاں سمیٹے گا اور خوشحال زندگی بسر کرے گا۔ یہ اس کی تعبیر ہے۔
یاد رکھیں کہ علم نہ رکھنے والے لوگوں سے تعبیر معلوم کرنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان کم علم لوگوں سے تعبیر لینے سے بہت بڑی خیر اور بھلائی سے محروم ہو جاتا ہے۔ غلط تعبیر بتانے کی وجہ سے بہت بڑے نقصان کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔
آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی خوابوں کی تعبیر علم والے لوگوں سے پوچھیں۔ ان لوگوں سے پوچھیں جو خوابوں کی تعبیر پر عبور رکھتے ہوں ۔ یعنی ماہر معبر سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھیں۔
آپ بھی ہم سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھ سکتے ہیں۔
اس کی کوئی فیس نہیں ہے ۔
شیخ ابن احمد المعبر
+923001053080
10/05/2026
10/05/2026
08/05/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.