28/05/2026
"بعض اوقات علّت (وجہ) ختم ہو جاتی ہے لیکن حکم باقی رہتا ہے۔"
مثال کے طور پر:
(1) طواف میں رمل کرنا (کندھے ہلا کر تیز چلنا)
جب نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام علیھم الرضوان کے ہمراہ عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے، تو کفا/رِ مکہ نے یہ افواہ پھیلائی کہ مدینہ کی آب و ہوا نے مسلمانوں کو جسمانی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ اس پروپیگنڈے کا جواب دینے کیلئے نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا کہ طواف کے پہلے تین پھیروں میں 'رمل' کیا جائے۔ یعنی پہلوانوں کی طرح کندھے ہلا کر تیز چلا جائے۔
اب علت موجود نہیں ہے لیکن حکم باقی ہے۔
(2) سفر میں قصر نماز (دو رکعت پڑھنا)
ابتدا میں کفا/ر کی جانب سے مسلمانوں پر حملے ہوتے تھے، لہذا زمانۂ خوف میں صحابہ کرام علیھم الرضوان کو رخصت دی گئی کہ وہ چار رکعت نماز والی نماز کو مختصر کرکے دو رکعت ادا کریں، بعد میں جب اَمن ہوگیا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں اس اختصار کے حوالے سے عرض کی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: *"یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے ایک ہدیہ (تحفہ) ہے، لہذا اس کو قبول کرو۔"*
دیکھیے علت ختم ہوچکی، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض بھی کی، مگر نبی کریم ﷺ کی جانب سے حکم باقی رکھا گیا۔
یہ حدیث ہمارے پیش کردہ مقدمے پر واضح دلیل ہے۔
(3) عورت کے لئے اب راستہ کتنا ہی پر امن ہو، دو چار گھنٹے میں جہاز سے آنا جانا بسہولت میسر ہو مگر حکم وہی ہے کہ عورت کو بغیر محرم شرعی مسافت کے سفر کی اجازت نہیں۔
اس کی مزید مثالیں کتبِ فقہ سے دی جاسکتی ہیں۔
دنیوی اور پروفیشنل طبقوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد میں ایک غلط روش پائی جاتی ہے کہ قرآن و حدیث کے واضح احکامات سن کر بھی ناک منہ ٹیڑھے ہو جاتے ہیں کہ یہ کیوں؟ کس لئے؟ وجہ؟ اسکی کوئی درست تعبیر بتادی جائے۔ گویا ان کے دل و دماغ اسے فورا قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
ان لوگوں کے صحبت یافتہ بعض روشن خیال اسکالرز کی بھی یہ حالت ہوجاتی ہے کہ واضح طور پر یہ کہنے کے قابل نہیں ہوتے *کل من عند ربنا* یہ سارے احکام ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔
احکام کی حکمتیں اللہ و رسول (عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم) جانیں ہمیں حکم کی تعمیل سے کام ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمارا مزاج، ہماری طبیعت، ہماری سوچ اپنے دین کے بارے میں اتنی راسخ اور پکی ہونی چاہیے کہ بس کسی چیز کا حکم معلوم ہو تو اگلا مرحلہ عمل ہونا چاہیے۔
سوالات قلبی اطمینان کیلئے، خلجان دور کرنے کیلئے اور علم میں اضافے کیلئے ہونے چاہیے نہ کہ اپنی کمزور عقل کے مطابق صحیح غلط کا فیصلہ کرنے کے لئے۔
ابو محمد عارفین القادری
#عارفین
28 مئی 2026 ء
عروس البلاد کراچی
27/05/2026
16/05/2026
10/05/2026