31/08/2024
پاکستان میں بارشوں سے پیدا ہونے والے نقصانات کو خدا کا عذاب کہا جاتا ہے۔ حالانکہ دُنیا بھر کے 195 ممالک میں ہونے والی اوسط بارش میں پاکستان کا نمبر 145 واں ہے۔ یعنی 144 ملکوں میں پاکستان سے زیادہ بارش ہوتی ہیں۔ مگر وہاں بارشوں سے اتنا نقصان نہیں ہوتا، جتنا پاکستان میں ہوتا ہے۔ بارشوں سے پیدا ہونے والا سیلاب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا نقصان خدا کا عذاب نہیں ہے۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی بد انتظامی، خود غرضی اور غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
19/05/2024
سرمایہ داری نظام !!!
موجودہ سودی نظام میں جب تک اپ دوسرے کی محنت کو نہیں کھاٸیں گے اپ اپنی محنت سے امیر نہیں بن سکتے ۔ جب سے اپ دوسرے کی محنت کھانا شروع کریں گے اپ امیر ہوتے جاٸیں گے اور اپ جتنی زیادہ محنت دوسرے کی کھاٸیں گے اپ اتنے زیادہ امیر ہوتے جاٸیں گے اور یہی ہمارے معاشی نظام کے اصول ہیں جو تین سو سال سے چلے ا رہے ہیں ۔ اگر میں اپنی محنت کرتا ہوں بیس یا تیس لاکھ جمع کر لیتا ہوں اب میں اس کو بنک میں رکھ دیتا ہوں یا دوکان یا زمین خرید لیتا ہوں اب میں کوٸی اور کام کروں گا اور وہ پیسہ مجھے 30 ہزار سے 50 ہزار تک دوسرے کی محنت سے کما کر دے گا یعنی 20 ہزار میں خود کما رہا ہوں اور 50 میرے لیے کوٸی اور کما رہا ہو گا ۔ اب اسی طرح میں ایک کروڑ تک پہچ جاتا ہوں اب وہ پیسے میں بنک میں رکھ دیتا ہوں یا کوٸی مکان , دوکان یا زمین خرید لیتا ہوں اب میں دو لاکھ تک دوسرے کی محنت لے سکتا ہوں اب میرے لیے کمانے والے زیادہ ہو گے اور میں اب زیادہ امیر ہوتا جاٶں گا اب میں ایک ارب تک پہنچ جاتا ہوں تو اب مجھے محنت کرنے کی ضرورت ہی نہیں اب بہت سارے لوگ میرے لیے کام کریں گے اور میں امیر سے امیر ہوتا چلا جاٶں گا ۔ اپ بل گیٹ کو دیکھ لیں 28 کروڑ ایک منٹ کی امدن ہے اور کرروڑں لوگ اس کے لیے محنت کرتے ہیں۔ اس طرح میں اور چند اور سرمای دار لوگ مل کر اک سرمایہ دار طبقہ create کر لیتے اربوں کے مالک بن جاتے ہیں اور ملک کے تقریبا سارے لوگ ان کی دولت میں اضافے کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ سرمایا داری نظام کے logical framework میں کل انسانیت کی ترقی کا پروگرام سرے سے ہے نہیں ہے کیوں کہ اکثریتی طبقہ ضرور محروم رہتا ہے جس کی محنت سرمایہ دار لے جاتا ہے ۔ اب اک سرمایہ دار انسان سے , سرمایہ دار طبقہ پیدا ہو جاتا ہے اور اب سرمایہ دار ممالک تک یہ chain پہچ چکی ہے ۔ جس طرح اک سرمایہ دار اک کسان یا مزدور کی محنت کھا رہا ہوتا ہے اور امیر ہوتا چلا جاتا ہے اسی امیر اور سرمایہ دار ممالک غریب ممالک کی عوام کی محنت کو لوٹ رہے ہوتے ہیں ۔ جسے اپ نے دیکھا کہ ہمارے چودہ ہزار ارب بجٹ میں سے سات ہزار ارب IMF لے گیا یہ دولت تو ہمارے غریب کسان مزدور پیدا کر رہے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اگر ڈالر ایک روپیہ مہنگا ہوتا ہے تو IMF کو 105 ارب روپے کا فاٸدہ ہوتا ہے یعنی وہ ایک منٹ میں ایک روپیہ ڈالر مہنگا کر کے 105 ارب کما لیتا ہے یعنی جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گا وہ اتنا زیادہ دوسروں کی محنت کو ہڑپ کرے گا ۔ اج اپ کو یورپ اور امریکہ میں بلند و بالا عمارتیں اوردلکش مناظر اور خوبصورتی نظر اتی ہے تو وہ خوبصورتی ہمارے تیسری دنیا کے مزدور اور کسان کی بھوک سے ماری اولاد کی ہڈیوں اور رخسار کی لالی ہے جس کی چمک سے اپ کی انکھیں چندھا جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ سرمایہ دار طبقہ اک گاٶں , شہر , صوبہ , ملک , ریجن اور پھر بین الااقوامی سطح تک معاشی استحصال کر رہا ہوتا ہے ۔ Oxfam کی اک رپورٹ کے مطابق اب دنیا کے صرف پانچ لوگ دنیا کی ادھی دولت کے مالک بن چکے ہیں اور اگر دولت اک طرف جمع ہوگی تو دوسری طرف لازماً غربت , بھوک او ر فلاس ہی نظر اۓ گی ۔ حضرت شاہ ولی اللہ رح فرماتے ہیں کہ غربت دنیا میں وساٸل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہے ۔ اج دنیا کی ادھی ابادی دو وقت کا کھانا نہیں کھا سکتی اور ساٸنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ وہ 49 ارب لوگوں کے لیے خوراک پیدا کر سکتی ہے اور ہماری ابادی 8 ارب ہے ۔ حقیقت میں یہ بھوک چند سرمایہ پرست ذہنیت کے نفسیاتی مریضوں کی ہے جنہنوں اپنے سرمایہ داری نظام کے زریعے سے دنیا کے وساٸل پر قابض ہیں اور دنیا کو جہنم بنایا ہوا ہے ۔
13/05/2024
حیرت کی بات ہے کہ سویڈن جیسی سٹیٹ نے قرآن و حدیث کو پڑھے بغیر اس کی طے میں باتیں (خاص طور پر جو ایک فلاحی ریاست بنانے سے متعلق ہیں)، اپنے تجربات سے ہی سیکھ لیں۔ یہاں باہر نکل کر دیکھیں تو برابری نظر آتی ہے ہر طرف۔ کسی کا گھر کسی سے مختلف نہیں، سب ایک جیسے گھر میں تقریبا رہتے ہیں۔ سب کے لیے ماحول ایک جیسا بنایا گیا ہے، سہولیات کے لحاظ سے یہاں کوئی صادق آباد یا بحریہ ٹاون نہیں ہے، سب کے لیے یکساں ہیں۔ کوئی پروفیسر ہو یا کوڑا صاف کرنے والا، سب کے چہرے پر اطمینان نظر آتا ہے، ہر ایک کا بچہ ایک ہی سکول میں جاتا ہے، کوئی بھی شہری ہو اور جاب نہ ہو تو ریاست اس کو بنیادی ضروریات دیتی ہے اور کام تلاش کرنے میں نہ صرف مدد کرتی ہے بلکہ جہاں تک ممکن ہو ٹریننگ بھی دیتی ہے۔ رات کے وقت بھی اگر واک کرنے نکلے بندہ تو امن نظر آتا ہے ڈر نہیں لگتا، رات کو اکیلی خاتون واک کے لیے بھی جاتی نظر آتی ہے، اس کو بھی ڈر نہیں لگتا۔ نظام کام کرتا ہے اور تمام ادارے قوانین کو فالو کرتے ہیں، کوئی بھی شخص ہو اس کو قانون کے مطابق ہی لیا جاتا ہے۔
یہ وہ معاشرے ہیں جہاں بغیر مسلمانوں کے علامہ اقبال کو اسلام نظر آیا ۔۔۔
ہمارے پاس قرآن ہے، حضور ﷺ کی سنت ہے، ہم اس سے زیادہ بہتر سوسائٹی بنا سکتے ہیں، لیکن ہمارے اندر will نہیں اور سمجھ بھی نہیں ہے۔ ہم نام کے مسلمان ہیں نہ صرف نام کے ہیں بلکہ سخت ترین منافقت میں بھی پھسے ہیں، غلام ہیں، تقسیم ہیں۔ سوچیں کہ ہمارا حال اور کیا ہونا چاہیے۔
14/02/2024
سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے:
“مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے، فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کنندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس کی نشست و برخاست کے طور طریقے، اس کے تمام حالات، رسم و رواج ، اس کے ماضی کو اپنی تاریخ سے جوڑ لیتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حملہ آور فاتح کی چال ڈھال کی بھی پیروی کرنے لگتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جس طاقتور سے شکست کھاتے ہیں اس کی کمال مہارت پر آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں۔
محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے ، ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا ہے، ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان اتنا ہی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اور جنسی جبلت کے لیے زندہ رہتا ہے۔
جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔
مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔ بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔
بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے "ہجرت"، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔”
ابن خلدون خدا آپ پر رحم کرے! کیا آپ ہمارے مستقبل کی جاسوسی کر رہے تھے؟ آپ سات صدیاں قبل وہ دیکھنے کے قابل تھے جو ہم آج تک دیکھنے سے قاصر ہیں!
منقول
مقدمہ ابن خلدون سے...
ترجمہ ڈاکٹر ابو الخیر کشفی
10/02/2024
نوجوانوں پریہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ معاشرتی خرابی کی جڑ یہ نظام ہےجو (برٹش) کالونیل دور کی پیداوار ہے۔ جسے 75سال سے امریکہ اور اس کے مالیاتی ادارے چلاتے آرہے ہیں۔
نوجوان اپنی توانائیاں ضائع نہ کریں، بلکہ اس توانائی نئے نظام کے لیے شعوری جدوجہد میں صرف کریں۔
Rasheed AZ Ahmad
03/02/2024
قابل رحم قوم
قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں
مگر دل یقیں سے خالی ہیں
قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو ایسے کپڑے پہنتی ہے
جس کے لیے کپاس
اُن کے اپنے کھیتوں نے پیدا نہیں کی
اورقابلِ رحم ہے وہ قوم
جو باتیں بنانے والے کو
اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے
اور چمکتی ہوئی تلوار سے بنے ٹھنے فاتح کو
اپنا ان داتا سمجھ لیتی ہے
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو بظاہر خواب کی حالت میں بھی
ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے
مگر عالم بیداری میں
مفاد پرستی کو اپنا شعار بنا لیتی ہے
قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو جنازوں کے جلوس کے سوا
کہیں اور اپنی آواز بلند نہیں کرتی
اور ماضی کی یادوں کے سوا
اس کے پاس فخرکرنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا
وہ اس وقت تک صورتِ حال کے خلاف احتجاج نہیں کرتی
جب تک اس کی گردن
عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے نام نہاد سیاستدان
لومڑیوں کی طرح مکّار اور دھوکے باز ہوں
اور جس کے دانشور
محض شعبدہ باز اور مداری ہوں
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو اپنے نئے حکمران کو
ڈھول بجا کر خوش آمدید کہتی ہے
اور جب وہ اقتدار سے محروم ہوں
تو ان پر آوازیں کسنے لگتی ہے
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے اہلِ علم و دانش
وقت کی گردش میں
گونگے بہرے ہو کر رہ گئے ہوں
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو ٹکڑوں میں بٹ چکی ہو اور جس کا ہر طبقہ
اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہو
خلیل جبران
(اردو ترجمہ: فیض احمد فیض)
07/01/2024
آ ج کے سیاسی کشمش کے دور کو اگر ہم سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے ۔ اگر نظام ابو جہل کا ہو اور وہ آپ صلی علیہ وسلم کو سردار بنے کی یا عہدہ دینے کی بات کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آ گے سے یہ جواب دینا کے تم لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی رکھ دو میں
آپنے میشن سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ آ ج ہماری مذہبی جماعتیں اس بات پر کیوں غور وفکر نہیں کرتی کے آپ ص نے اس آ فر کو کیوں ٹھکرا دیا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے کےاس نظام میں رہ کر یا کوئی عہدہ حاصل کرنے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی گی کیونکہ کے نظام تو ابو جہل کا ہی رہے گا۔ آ ج کے ہمارے مذہبی جماعتیں کیوں اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اس نظام میں رہ کر یا الیکشن کے ذریعے سے کچھ عہدے حاصل کرکے کوئی دین کی خدمت کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نے واقعی دین کی خدمت کرنی ہے یا آ پ غلبہ دین چاھتے ہوتو نظاموں کا مطالعہ کرو ۔ پاکستان میں کونسا نظام چل رہا ہے ۔ اور دین کا نظام کیا ہے ۔ اور پھر نبی ص کے ہی طریقے پر جس میں (شریعت طریقت اور سیاست) پر عمل کر کے اس موجودہ نظام کو ختم کیاجاسکتا ہے اور دین کے نظام کو نافذ کیا جا سکتا ہے ۔ آ ج ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنی انرجی کہاں استعمال کرنی چاہیے تھی اور ہم کہاں کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی قوت صحیح جگہ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔
M.Shoukat
31/12/2023
اسلامی معاشرے کی خدوخال
۔✍️
نوروہاب
جس معاشرے میں بظاہر نماز پڑھنے والے موجود ہوں
حج، زکواۃ اور روزہ رکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہوں… ہزاروں مدارس ہوں اور لاکھوں علماء ہوں، اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ملک کے کاروباری لوگ عمرہ جاتے ہوں …
ہزاروں کی تعداد میں خانقاہیں موجود ہوں
شیوخ اور مفتیان کرام لاتعداد ہوں …
مفتی اعظم اور مفتی کل کائنات موجود ہوں …
بظاہر شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاق المدارس، سیرت النبیؐ اتھارٹی کے بلند و والا عمارتیں اور اوقاف کے نام سے ادارے موجود ہوں، اسلامی بینکاری کے نام سے معاشی کاروبار ہو
لاکھوں کی مجمعے اور اجتماعات اسلام کے نام پر منعقد ہوتے ہوں
لیکن وہاں عام انسان کی جان اور مال محفوظ نہ ہوں
عوام الناس امن سے محروم ہوں ان کے اوپر خوف اور بدامنی کے سائے ہوں،
دہشتگردی ہوں ان کے مساجد، مدارس اور بازار محفوظ نہ ہوں
اس معاشرے میں ظلم کی انتہاء ہو، طبقاتی بنیاد پر قوانین ہوں، امیروں کے لئے مرضی کے قوانین ہوں اور غریبوں پر قانون کا اطلاق ہو،
سالہاسال مقدمات کی سنوائی نہ ہو نواسہ دادا کے کیسز بھگت رہے ہوں،
عام عوام کی ٹیکسز کے پیسوں سے ججوں کی اٹھ دس لاکھ تنخواہیں ہوں،
معاشرتی طور پر چودھراہٹ، نوابی سسٹم اور جاگیرداری کا نظام ہو،
پولیس ان باثر افراد کی محافظ ہو
معاشی طور پر معاشرہ بھوک، افلاس، غربت کا شکار ہو،
بے روزگاری ہو، ٹیکسز کا ظالمانہ نظام ہو،
قرضوں پر ملک چل رہا ہو، سودی معیشت ہو،
مزہب کے دعویدار ان کے پشت پر ہوں،
ملک میں غربت اور اس کے نتیجے میں برائیوں کی ذمّہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف نعوز باللہ منسوب ہوں،
ملک میں معاشی بدحالی اور بے روزگاری کے نتیجے میں نوجوان ملک سے بھاگ رہے ہوں
اور دوسرے ملکوں میں غلام بن کر دھکے کھا رہے ہوں،
اور جہاں عام اور متوسطہ طبقہ محفوظ نہ ہوں، بھتہ خوری اور بندوق کا راج ہو، دھمکیوں اور ڈر اور خوف کے سائے میں زندگی ہو
تو خدارا !
بتائیے کیا یہ اسلامی ملک یا اسلامی معاشرہ ہوسکتا ہے
یہ تو بدترین انسان دشمنی پر مبنی غیر اسلامی اور غیر انسانی معاشرہ ہے
جس میں انسان دوستی کا شائبہ تک موجود نہیں
اس میں تو ظلم اور ادم خوری پر مبنی نظام ہے
مسلمان کا فرض تو ایسے سسٹم کی سیرتِ نبوی کو سامنے رکھتے ہوئے اس سسٹم کا خاتمہ ہے نہ کہ اس سسٹم کے جواز کے فتوے دیکر اسے مسلمان اور اسلامی ثابت کرنے اور اسے مضبوط بنانے کی کوشش ہو
اسلام ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ مکہ، مدینہ اور قیصر وکیسری میں اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جماعت صحابہؓ کی سیرت کیا تھی
یہی تھی کہ مکہ میں جماعت بنائی اس کی تربیت کرکے مدینہ ہجرت کرکے وہاں قومی حکومت بنائی
ابوجہل، عتبہ، ولید شیبہ اور ابولہب کو شکست دیکر قیصر اور کیسری کے خلاف تیاری کرکے ان ظلم اور طبقات پر مبنی نظاموں کا خاتمہ کیا
اور ہزار بارہ سو سال دنیا میں انسانیت کے لئے امن کا سسٹم دیا
یہی اسلام ہے اور یہی اسلامی معاشرے کو بنیاد فراہم کرنے کا راستہ اور طریقہ ہے جس کے نتیجے میں عدل اور معاشی خوشحالی بلا تفریق رنگ، نسل اور مذہب ممکن ہو سکتی ہیں اور اسلام بطور ایک سسٹم کے غالب اسکتا ہے
Noor Wahab