19/05/2024
سرمایہ داری نظام !!!
موجودہ سودی نظام میں جب تک اپ دوسرے کی محنت کو نہیں کھاٸیں گے اپ اپنی محنت سے امیر نہیں بن سکتے ۔ جب سے اپ دوسرے کی محنت کھانا شروع کریں گے اپ امیر ہوتے جاٸیں گے اور اپ جتنی زیادہ محنت دوسرے کی کھاٸیں گے اپ اتنے زیادہ امیر ہوتے جاٸیں گے اور یہی ہمارے معاشی نظام کے اصول ہیں جو تین سو سال سے چلے ا رہے ہیں ۔ اگر میں اپنی محنت کرتا ہوں بیس یا تیس لاکھ جمع کر لیتا ہوں اب میں اس کو بنک میں رکھ دیتا ہوں یا دوکان یا زمین خرید لیتا ہوں اب میں کوٸی اور کام کروں گا اور وہ پیسہ مجھے 30 ہزار سے 50 ہزار تک دوسرے کی محنت سے کما کر دے گا یعنی 20 ہزار میں خود کما رہا ہوں اور 50 میرے لیے کوٸی اور کما رہا ہو گا ۔ اب اسی طرح میں ایک کروڑ تک پہچ جاتا ہوں اب وہ پیسے میں بنک میں رکھ دیتا ہوں یا کوٸی مکان , دوکان یا زمین خرید لیتا ہوں اب میں دو لاکھ تک دوسرے کی محنت لے سکتا ہوں اب میرے لیے کمانے والے زیادہ ہو گے اور میں اب زیادہ امیر ہوتا جاٶں گا اب میں ایک ارب تک پہنچ جاتا ہوں تو اب مجھے محنت کرنے کی ضرورت ہی نہیں اب بہت سارے لوگ میرے لیے کام کریں گے اور میں امیر سے امیر ہوتا چلا جاٶں گا ۔ اپ بل گیٹ کو دیکھ لیں 28 کروڑ ایک منٹ کی امدن ہے اور کرروڑں لوگ اس کے لیے محنت کرتے ہیں۔ اس طرح میں اور چند اور سرمای دار لوگ مل کر اک سرمایہ دار طبقہ create کر لیتے اربوں کے مالک بن جاتے ہیں اور ملک کے تقریبا سارے لوگ ان کی دولت میں اضافے کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ سرمایا داری نظام کے logical framework میں کل انسانیت کی ترقی کا پروگرام سرے سے ہے نہیں ہے کیوں کہ اکثریتی طبقہ ضرور محروم رہتا ہے جس کی محنت سرمایہ دار لے جاتا ہے ۔ اب اک سرمایہ دار انسان سے , سرمایہ دار طبقہ پیدا ہو جاتا ہے اور اب سرمایہ دار ممالک تک یہ chain پہچ چکی ہے ۔ جس طرح اک سرمایہ دار اک کسان یا مزدور کی محنت کھا رہا ہوتا ہے اور امیر ہوتا چلا جاتا ہے اسی امیر اور سرمایہ دار ممالک غریب ممالک کی عوام کی محنت کو لوٹ رہے ہوتے ہیں ۔ جسے اپ نے دیکھا کہ ہمارے چودہ ہزار ارب بجٹ میں سے سات ہزار ارب IMF لے گیا یہ دولت تو ہمارے غریب کسان مزدور پیدا کر رہے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اگر ڈالر ایک روپیہ مہنگا ہوتا ہے تو IMF کو 105 ارب روپے کا فاٸدہ ہوتا ہے یعنی وہ ایک منٹ میں ایک روپیہ ڈالر مہنگا کر کے 105 ارب کما لیتا ہے یعنی جتنا بڑا سرمایہ دار ہو گا وہ اتنا زیادہ دوسروں کی محنت کو ہڑپ کرے گا ۔ اج اپ کو یورپ اور امریکہ میں بلند و بالا عمارتیں اوردلکش مناظر اور خوبصورتی نظر اتی ہے تو وہ خوبصورتی ہمارے تیسری دنیا کے مزدور اور کسان کی بھوک سے ماری اولاد کی ہڈیوں اور رخسار کی لالی ہے جس کی چمک سے اپ کی انکھیں چندھا جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ سرمایہ دار طبقہ اک گاٶں , شہر , صوبہ , ملک , ریجن اور پھر بین الااقوامی سطح تک معاشی استحصال کر رہا ہوتا ہے ۔ Oxfam کی اک رپورٹ کے مطابق اب دنیا کے صرف پانچ لوگ دنیا کی ادھی دولت کے مالک بن چکے ہیں اور اگر دولت اک طرف جمع ہوگی تو دوسری طرف لازماً غربت , بھوک او ر فلاس ہی نظر اۓ گی ۔ حضرت شاہ ولی اللہ رح فرماتے ہیں کہ غربت دنیا میں وساٸل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہے ۔ اج دنیا کی ادھی ابادی دو وقت کا کھانا نہیں کھا سکتی اور ساٸنس نے اتنی ترقی کی ہے کہ وہ 49 ارب لوگوں کے لیے خوراک پیدا کر سکتی ہے اور ہماری ابادی 8 ارب ہے ۔ حقیقت میں یہ بھوک چند سرمایہ پرست ذہنیت کے نفسیاتی مریضوں کی ہے جنہنوں اپنے سرمایہ داری نظام کے زریعے سے دنیا کے وساٸل پر قابض ہیں اور دنیا کو جہنم بنایا ہوا ہے ۔