IQRA Usmania Academy

IQRA Usmania Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from IQRA Usmania Academy, School, Caman, Karachi.

22/08/2026
سندھ کے شہر مٹھی سے تعلق رکھنے والی افشین گل صرف دس ماہ کی تھی جب وہ اپنی بہن کے ہاتھوں سے گر گئی۔ اس حادثے کے بعد اس کی...
22/08/2026

سندھ کے شہر مٹھی سے تعلق رکھنے والی افشین گل صرف دس ماہ کی تھی جب وہ اپنی بہن کے ہاتھوں سے گر گئی۔ اس حادثے کے بعد اس کی گردن ایک طرف جھکتے جھکتے تقریباً 90 ڈگری کے زاویے پر جم گئی۔ والدین اسے مقامی ڈاکٹر کے پاس لے گئے، جہاں دوائیں اور گردن کو سہارا دینے کے لیے بیلٹ دی گئی، لیکن اس کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتی چلی گئی۔
2019 میں برطانوی صحافی الیگزینڈریا تھامس نے افشین کی حالت پر رپورٹ بنائی اور اس کے خاندان کا رابطہ دہلی کے انڈراپرستھا اپولو ہسپتال کے ماہر ریڑھ کی ہڈی ڈاکٹر راجاگوپالن کرشنن سے کروایا۔ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر کرشنن نے افشین کا پیچیدہ علاج اپنی جراحی فیس لیے بغیر کرنے کی پیشکش کردی۔ خاندان کے سفر اور دیگر اخراجات ایک آن لائن مہم سے پورے کیے گئے۔
معائنے میں معلوم ہوا کہ افشین کی گردن کے اوپری مہروں میں شدید بے ترتیبی، حرام مغز پر دباؤ اور سانس کی کمزوری پیدا ہوچکی تھی۔ ڈاکٹر کے مطابق علاج میں مزید تاخیر اسے گردن سے نیچے مفلوج کرسکتی تھی یا سانس بند ہونے سے اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔ سرجری اتنی خطرناک تھی کہ خاندان کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ آپریشن کے دوران افشین کا دل یا پھیپھڑے کام کرنا بند کرسکتے ہیں۔
افشین کے مجموعی طور پر چار بڑے آپریشن کیے گئے—مرکزی سرجری سے پہلے دو، پھر چھ گھنٹے طویل مرکزی آپریشن اور اس کے بعد ایک اور بڑا آپریشن۔ مرکزی سرجری میں اس کی کھوپڑی اور گردن کے مہروں کو درست حالت میں لاکر راڈز اور پیچوں کی مدد سے مضبوط کیا گیا۔
تمام خطرات کے باوجود آپریشن کامیاب رہا۔ چند ماہ بعد افشین کی گردن سیدھی ہوچکی تھی، زخم بھر گئے تھے اور وہ خود چلنے، کھانے اور بات کرنے کے قابل ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر کرشنن بھارت واپس جانے کے بعد بھی ہر ہفتے ویڈیو کال کے ذریعے اس کی صحت اور بحالی کی نگرانی کرتے رہے۔
جس پاکستانی بچی نے بارہ سال دنیا کو جھکی ہوئی گردن سے دیکھا، سرحد پار ایک بھارتی ڈاکٹر کی مہربانی اور مہارت نے اسے پہلی مرتبہ سر اٹھا کر زندگی جینے کا موقع دے دیا۔

20/08/2026

With English with Ayesha145 – I'm on a streak! I've been a top fan for 3 months in a row. 🎉

کسی کا بچہ بیس سال پہلے گھر سے نکلا اور پھر کبھی واپس نہ آیا، کسی ماں کو انسانی سمگلر سرحد پار لے گئے اور اس کے بچے جوان...
20/08/2026

کسی کا بچہ بیس سال پہلے گھر سے نکلا اور پھر کبھی واپس نہ آیا، کسی ماں کو انسانی سمگلر سرحد پار لے گئے اور اس کے بچے جوان ہوگئے مگر ماں کا کوئی پتا نہ چلا، اور کوئی شخص دہائیاں گزرنے کے بعد بھی صرف چند دھندلی یادوں کے سہارے اپنے خاندان کو تلاش کرتا رہا۔ ایسے لوگوں کے لیے کراچی کے ولی اللہ معروف نے سوشل میڈیا کو صرف ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کرنے کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے بچھڑے خاندانوں کو ملانے کا وسیلہ بنا دیا۔ حالیہ 2026 کے انٹرویوز میں ان کے مشن کے ذریعے 600 سے زائد بچھڑے خاندانوں کو 12 ممالک میں ملانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

ولی اللہ معروف کراچی کے علاقے منگھوپیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے فارغ التحصیل، ایک مقامی مسجد کے خطیب ہیں اور تدریس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ ان کا یہ غیرمعمولی سفر کسی بڑی تنظیم، سرکاری منصوبے یا بھاری فنڈنگ سے شروع نہیں ہوا بلکہ اپنی والدہ کی ایک نصیحت سے شروع ہوا۔

2018 میں ان کی زندگی کا پہلا بڑا کیس ان کی پڑوسن زاہدہ کا تھا۔ زاہدہ کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا اور وہ انسانی سمگلنگ کا شکار ہو کر پاکستان پہنچی تھیں۔ تقریباً 37 سال سے اپنے خاندان سے جدا تھیں۔ ولی اللہ کی والدہ نے انہیں زاہدہ کی کہانی سنائی اور بیٹے سے کہا کہ اس خاتون کے اپنوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرے۔

ولی اللہ نے زاہدہ کو اپنے گھر بلایا، ان سے بنگلہ دیش کے پرانے پتے، رشتہ داروں کے نام اور جو کچھ انہیں یاد تھا وہ معلومات حاصل کیں اور انہیں اپنی فیس بک پر شیئر کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر تقریباً ایک ہفتے بعد زاہدہ کی والدہ، بہن بھائی اور بیٹے سمیت خاندان کا سراغ مل گیا۔ جس بیٹے کو وہ شیر خوار حالت میں چھوڑ کر بچھڑی تھیں وہ اب بڑا ہو چکا تھا۔ پہلے خاندان کو ویڈیو کال پر ملایا گیا اور بعد میں زاہدہ اپنے وطن اور اپنوں تک پہنچ گئیں۔ 37 سال بعد ہونے والی اس ملاقات نے ولی اللہ معروف کی زندگی کا راستہ ہی بدل دیا۔

اس ایک کیس کے بعد پاکستان میں موجود ایسی دوسری خواتین نے بھی ان سے رابطہ شروع کر دیا جو برسوں پہلے انڈیا یا بنگلہ دیش سے انسانی سمگلنگ، غربت یا دوسرے حالات کے باعث پاکستان پہنچیں اور اپنے خاندانوں سے رابطہ کھو بیٹھی تھیں۔ 2024 تک اردو نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ولی اللہ تقریباً 180 خواتین کو انڈیا اور بنگلہ دیش میں ان کے پیاروں سے ملا چکے تھے، جبکہ بعد کے برسوں میں ان کا کام بچوں، مردوں اور دوسرے ممالک تک بھی وسیع ہوتا گیا۔

ان کا طریقہ صرف ایک تصویر فیس بک پر لگا دینے تک محدود نہیں۔ وہ گمشدہ شخص کے پاس بیٹھ کر اس کی پرانے گھر، گاؤں، سکول، رشتہ داروں، جسمانی نشانات، بچپن کے واقعات اور علاقے کی چھوٹی چھوٹی یادوں تک کو جمع کرتے ہیں۔ پھر معلومات سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی ہیں اور مختلف علاقوں یا ممالک میں موجود رابطوں کے ذریعے چھان بین کی جاتی ہے۔ ممکنہ خاندان ملنے کے بعد دونوں طرف کی معلومات کی تصدیق کی جاتی ہے، ویڈیو کال کروائی جاتی ہے اور شناخت تسلی بخش ہونے کے بعد خاندانوں کو براہ راست رابطے میں لایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں ان کے ساتھ ایک مقامی ٹیم بھی کام کرتی رہی ہے۔

اس طریقے کی ایک خوبصورت مثال محمد اسامہ میاں خان کی ہے۔ اسامہ 2005 میں گجرات میں بچپن کے دوران گھر سے کوئی چیز لینے نکلے اور راستہ بھٹک گئے۔ مختلف مقامات اور ایدھی مراکز سے ہوتے ہوئے آخرکار کراچی پہنچے اور برسوں ایک فیکٹری میں کام کرتے رہے۔ تقریباً 22 سال بعد انہوں نے ولی اللہ معروف سے اپنے خاندان کی تلاش کے لیے رابطہ کیا۔

اسامہ کو اپنے گھر کا مکمل پتہ یاد نہیں تھا، لیکن کچھ نشانیاں باقی تھیں: ہاتھ اور ٹھوڑی پر پرانے زخم، سر کا نشان، کان کی مخصوص بناوٹ، گھر میں پالے گئے خرگوش اور صحن میں موجود شہتوت کے درخت کی یاد۔ پہلی سوشل میڈیا پوسٹ سے نتیجہ نہ نکلا، مگر ولی اللہ نے دوبارہ کوشش کی۔ دوسری پوسٹ بالآخر اسامہ کے خاندان تک پہنچ گئی۔ شناخت اور رابطوں کے مراحل کے بعد جولائی 2026 میں وہ اپنی والدہ، نانی، خالہ، بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں سے دوبارہ مل گئے۔ ان کے والد اپنے بیٹے کی واپسی دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے؛ ان کا کئی سال پہلے انتقال ہو چکا تھا اور خاندان کے مطابق آخری وقت تک انہیں اپنے گمشدہ بیٹے کی یاد تھی۔

ولی اللہ معروف کے سب سے معروف کیسز میں ممبئی کی حمیدہ بانو بھی شامل ہیں۔ انہیں 2002 میں دبئی میں ملازمت کا جھانسہ دے کر گھر سے نکالا گیا لیکن وہ انسانی سمگلنگ کے ذریعے پاکستان پہنچ گئیں۔ برسوں تک ان کے بچوں کو معلوم نہ تھا کہ ان کی ماں کہاں ہے۔ کراچی میں ولی اللہ انہیں جانتے تھے اور بالآخر ان کی ویڈیو اور معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے انڈیا تک پہنچیں۔ حمیدہ کی بیٹی نے اپنی ماں کو پہچان لیا، حکام بھی شامل ہوئے اور 22 سال بعد دسمبر 2024 میں حمیدہ بانو انڈیا واپس اپنے خاندان تک پہنچ گئیں۔

شاید ولی اللہ معروف کے کام کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ صرف گمشدہ انسان تلاش نہیں کرتے؛ وہ کئی مرتبہ کسی ماں کے بیس، تیس یا چالیس سال سے رکے ہوئے انتظار کو ختم کرتے ہیں۔ بعض ملاقاتوں میں ایک طرف بوڑھی ماں ہوتی ہے اور دوسری طرف وہ بچہ جو بچھڑتے وقت شیر خوار تھا مگر اب خود بچوں کا باپ بن چکا ہوتا ہے۔ وقت واپس نہیں آتا، بیتے ہوئے سال کوئی نہیں لوٹا سکتا، مگر ولی اللہ معروف کم از کم اتنا ضرور کرتے ہیں کہ باقی بچی زندگی اپنوں کے بغیر نہ گزرے۔

اور شاید اسی لیے ولی اللہ معروف کی اصل پہچان کسی عہدے سے نہیں بلکہ ان مناظر سے بنتی ہے جہاں دہائیوں سے بچھڑے دو انسان ایک دوسرے کو سکرین پر دیکھتے ہیں، چند لمحے بول نہیں پاتے، صرف روتے رہتے ہیں—اور پھر انہیں یقین آتا ہے کہ جسے وہ شاید ہمیشہ کے لیے کھو چکے تھے، وہ آج بھی زندہ ہے۔

ناشر الحدیث خطیب اسلام حضرت مولانا عبد الشکور دین پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ ۔  خطابت ایک ایسا مؤثر فن ہے جو دلوں کو بدل دیتا...
16/08/2026

ناشر الحدیث خطیب اسلام حضرت مولانا عبد الشکور دین پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ ۔

خطابت ایک ایسا مؤثر فن ہے جو دلوں کو بدل دیتا اور ذہنوں کو بیدار کرتا ہے۔ اسلام کی دعوت میں یہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے دعوتِ حق، تعلیم و تربیت، جہاد اور اصلاحِ معاشرہ میں خطابت کو بہترین انداز میں استعمال فرمایا۔ قرآنِ مجید میں بھی بلاغت اور تاثیر کے اصول واضح ملتے ہیں، اور صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ کے بعد اسی اسلوب کو جاری رکھا۔
اسلامی تاریخ میں خطابت کا سفر عہدِ نبوی ﷺ سے شروع ہو کر خلفائے راشدینؓ، تابعینؒ، محدثین و مفسرین، اور مجاہدینِ اسلام تک جاری رہا۔ خطباء نے نہ صرف دین کی تبلیغ کی بلکہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی، حق و باطل کا فرق واضح کیا، اور عوام کو اصلاح و عمل کی طرف راغب کیا۔ برصغیر میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا فضل حق خیرآبادیؒ، اور دیگر اکابر نے خطابت کو اصلاحی و تحریکی رنگ دیا۔ تحریکِ آزادی ہو یا تحریکِ ختمِ نبوت، خطابت ہمیشہ عوامی بیداری کا بنیادی ذریعہ رہی۔
تاریخ کے ہر دور میں خطباء نے امت کو بیدار کیا، ایمان کی شمع روشن رکھی، اور معاشرتی و سیاسی حالات پر اثر ڈالا۔ منبر و محراب سے نکلنے والی آواز نے مسلمانوں کو متحد کیا اور ظالم حکمرانوں کو للکارا۔ ایک سچے خطیب کے الفاظ صرف تقریر نہیں بلکہ ایک مشن اور پیغام ہوتے ہیں۔
اس عظیم ورثے میں حضرت مولانا عبد الشکور دین پوریؒ کی خطابت ایک روشن باب ہے۔ آپ فی البدیہ تقریر میں کمال رکھتے تھے، بغیر تحریر کے طویل اور مربوط بیان کر لیتے۔ قرآن و حدیث کے دلائل، تاریخی واقعات اور ادبی رنگ کے ساتھ بات کو اس طرح پیش کرتے کہ سامعین کے دلوں میں اتر جاتی۔ سجع بندی اور ہم آہنگ جملے آپ کی تقریر کو دلکش بنا دیتے، اور حاضرین پر وجدانی اثر ڈالتے۔ آپ کی خطابت میں علمی گہرائی، جذباتی حرارت اور دعوتی درد یکجا تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے خطابات سن کر لوگ متاثر ہو کر عملی زندگی میں تبدیلی لاتے ۔
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ولادت 1931میں تاریخ ساز بستی “دین پور شریف”تحصیل خانپور ضلع رحیم یارخان میں عالم باعمل مولانا محمد عبداللہ رح کے گھر ہوئ ۔ ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں حاصل کی پھر سندھ کے اہم تاریخی مقامات جو علم و عمل کے مراکز تھے جن میں داد لغاری، میر پور ماتھیلو، بائ جی شریف، پنو عاقل اور جامعہ قاسم العلوم گھوٹکی میں تعلیم حاصل کی اور اسی مدرسہ سے 1953میں دستار فضیلت حاصل کی۔ اور اسی سال تحریک ختم نبوۃ میں مجاہدانہ کردار ادا کرنے پر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ 1954میں حافظ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے دورہ تفسیر القرآن پڑھا اور چار سال تک جامعہ مخزن العلوم خانپور میں احسن انداز سے تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور قرب و جوار میں دعوت و تبلیغ کے لیے بھی جاتے رہے ۔ 1958 سے مستقل میدان خطابت و تبلیغ میں قدم رکھا۔
آپ رح ظریف الطبع، خوش مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین علمی، تحقیقی مبلع تھے ۔اپنے ہم زمانہ خطباء میں ایک منفرد انداز کے مالک تھے۔ بیان اور وعظ میں تاثیر بھی ہوتی اور فصاحت و بلاغت بھی ، سجع بندی، قافیہ بندی سے فی البدیہ الفاظ کو ملاتے جوڑتے جاتے جس سے حاضرین و سامعین محظوظ ہوتے جاتے ۔مجمع میں موجود علماء ومشائخ بھی داد دیتے ہوئے نظر آتے۔ جب قرآن وحدیث کے جواہرات، دلائل و براہین سے مزین مسحور کن خطاب کرتے تو اپنے پراے سب متاثر ہوتے ، جوں جوں رات ڈھلتی تھی ان کی خطابت ابھرتی جاتی ۔ آپ رح کی خطابت میں توحید، ارکان اسلام، سیرت النبی ، اتباع قرآن وسنت، فضائل صحابہ و اہلبیت، اور صحیح سیاست کی جھلک نظر آتی تھی۔
آپ رح کے اعلی اخلاق اور عمدہ صفات کے باعث تمام مکاتب فکر کے علماء کرام احترام کرتے تھے، ہر تحریک، ہر دینی موضوع پر آپ کا دل تڑپتا تھا ، لباس میں سادگی ،دوستوں سے نبھاو، اسلوب خطابت میں بے تکلفی، اکابر سے تعلق، اصاغر سے انس اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ان کی تعریف کرنا دینی پروگرامات میں ان کا بیان کروانا، چھوٹوں کو بڑا بنانا، فخر وغرور اور تکبر سے کوسوں دور رہنا، یہ وہ صفات تھیں جو آپ کے ساتھ خاص تھیں اس دور میں بھی اور آج کل بھی یہ عادات بالکل ختم ہو چکی ہیں۔
آپ رح کو حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سلام بھی کئ مرتبہ پہنچے ۔ایک مرتبہ سندھ کے علاقے سے ایک حاجی صاحب نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں نیند کر رہا تھا کہ خواب میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا وطن واپس جاکر میرے مولوی عبد الشکور دین پوری کی تقریر بھی کرانا اور اس کو سلام بھی کہنا ۔ حاجی صاحب پاکستان آتے ہی سیدھا خانپور آے اور یہ مبارک خواب بتایا اور کہا کہ آپ میرے ہاں تقریر کرنے چلیں وہاں پہنچ کر عظمت رسول و اصحاب رسول پر ایسا پر تاثیر بیان کیا کہ مجمع میں بیٹھے کئ لوگوں نے گناہوں سے توبہ کی اور 300کے قریب لوگوں نے اسلام بھی قبول کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت کا اقرار بھی کیا ۔
تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں شیخ القرآن مولانا غلام اللّٰہ خان نے بیان کے لیے بلوایا اور عظمت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سیرت پر بیان کرنے کا بتایا جب حضرت دین پوری رحمۃ اللّٰہ علیہ نے بیان کا آغاز کیا تو آدھا گھنٹہ تک فضائل ومناقب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ پڑھتے رہے پھر دوگھنٹے تک پر اثر پر مغز علمی و تحقیقی اور ادبی اسلوب خطابت میں یاد گار خطاب کیا جس کا آغاز کچھ اس انداز سے تھا “ہماری تقریر جو بھی ہوگی اللہ کا قرآن ہوگا، کملی والے کا فرمان ہوگا، جونہ مانے وہ بے چارہ نادان ہوگا، جو مان لے ان شاءاللہ پکا مسلمان ہوگا، ۔
علی الاعلان سنو! برسر میدان سنو! او دنیا کے مسلمان سنو! سنوتو قرآن سنو، مصطفیٰ کا فرمان سنو، صحابہ کرام و اہلبیت کا شان سنو، امی عائشہ کا مقام سنو۔
کون عائشہ؟ حبیب خدا کی حبیبہ ، باغ نبوت کی عندلیبہ ، شان میں عجیبہ ، نہایت ہی فصیحہ ، و بلیغہ، قرآن کی حافظہ، دین کی مبلغہ، فقاہت میں فقہیہ ، ازواج میں لئیقہ، کائنات میں باسلیقہ ،علوم نبوت کی امینہ و ناشرہ، صدیق کی بیٹی صدیقہ، عابدہ، زاہدہ، ساجدہ، متقیہ، عفیفہ، پاکدامنہ، طیبہ، طاہرہ، مفسرہ، محدثہ، مومنین و مومنات کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فضائل، خصائل، قرآن کے بیان، آقا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے فرمان عالیشان، دین پوری کی زبان سے بیان کیے جائیں گے۔ اس ایمان افروز بیان کے بعد مجمع میں موجود ایک وزیر کا ضمیر جاگ اٹھا ۔ آنکھوں سے آنسوں رواں تھے، ہچکی بندھی ہوئی تھی، روتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔مولانا! آپ نے میرے دل میں حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت بٹھادی آج سے میں توبہ کرتا ہوں ۔
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ہر تقریر میں سینکڑوں افراد تائب ہوتے، ہزاروں کے آنسو بہتے، بیسیوں لوگ سنت رسول کے عامل ہوتے اور اپنا ایمان کامل کرتے تھے ۔۔
بر جستہ جواب ، برموقع گفتگو، برمحل کلام ، فی البدیہ علمی ، تحقیقی جواب دینا اور بات سمجھانے کا ملکہ بھی خوب تھا ۔ ایک جلسہ کے موقع پر کسی نے مرزا قادیانی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فورا بہترین جواب دیتے ہوئے کہا”نبی حسین، مہ جبین، دلنشین، بہترین، بالیقین، نازنین، صادق و امین، میرے نبی رحمۃ للعالمین، سید الاولین والا خرین، راحت العاشقین، مراد المشتاقین، ہیں ۔ دوسری طرف مرزا لعین ، بے دین، بدترین، جہنم کا شوقین، جس کی موت کی جگہ لیٹرین، مرزا نبی نہیں غبی ہے، ظلی نہیں شیخ چلی ہے، بروزی نہیں موذی ہے، یک چشم گل ہے، بدشکل ہے، بے عقل ہے، نہ اصل ہے نہ نسل ہے۔ ۔
سندھ کے کسی علاقے میں دوران سفر ایک جگہ گاڑی کی خرابی کی وجہ سے ایک جگہ رکے تو چند لوگ آگے بڑھتے ہوے نظر آے ان میں سے ایک نے کہا دم مست قلندر علی دا پہلا نمبر تو آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے بر جستہ جواب دیتے ہوئے کہا: پہلا نمبر تو اس کا ہے جس نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کندھے پر اٹھایا، غار میں پہنچایا، مشکل میں ساتھ نبھایا، غار میں اپنی گود میں سلایا، نبی نے جسے اپنے مصلے پر کھڑایا، علی نے امام بنایا، آج بھی محبوب نے روضہ میں اپنے پہلو میں سلایا،تو نے گندا عقیدہ کہاں سے بنایا، جو نہ قرآن نے بتایا نہ حدیث میں آیا، خدانے، مصطفی نے، مرتضیٰ نے، حسن مجتبیٰ نے ، حسین شہید کربلانے، جس کو پہلا نمبر دیا تم کون ہو جو انکار کررہے ہو۔ سب نے متاثر ہوکر معافی مانگی اور کہنے لگے ہم تمہارے غلام اور تمہارے بڑوں کے بھی غلام ہیں۔
ایک مرتبہ ٹرین میں سفر کررہے تھے اس میں چند نوجوان اسلام اور اہل اسلام کا استہزاء کرنے لگے داڑھی پر تنقید کرنے لگے ۔پھر حضرت سے مخاطب ہوکر کہا۔ مولوی صاحب!آپ کا علاقہ؟فرمایا رحیم یارخان۔ کہاں جارہے ہیں؟ فرمایا ملتان ۔ کون سی برادری؟فرمایا بلوچ خاندان۔ آپ کون ہیں؟ فرمایا مسلمان ۔ کیاکرتے ہیں ؟فرمایا تبلیغ قرآن۔ حیران و پریشاں ہو کر کہنے لگا آپ وہابی تو نہیں ؟فرمایا تیرے دماغ کی خرابی تو نہیں ۔بس اس جواب سے ایسا لاجواب ہوا کہ آخر منزل تک خاموش بیٹھا رہا۔ ۔۔
ایک موقع پر فرمایا: ہم محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پسینے کو کستوری سے بھی افضل مانتے ہیں۔ میں نبی کے اشارہ کو معجزہ مانتا ہوں ، محمد کے چہرے کو جنت کی ضمانت مانتاہوں، ان کی گفتگو کو حدیث ما نتا ہوں ، پیغمبر کی دعا کو مقبول مانتا ہوں ، نبی کے قدم کو سنت مانتا ہوں ، نبی کے عمل کو شریعت مانتا ہوں ، نبی کی مسکراہٹ کو جنت مانتا ہوں، محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے شہر کو مدینہ منورہ مانتا ہوں، نبی کی جاے ولادت کو مکہ مکرمہ مانتا ہوں، جبرائیل سے زیادہ مطہر مانتا ہوں، جس جگہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں اس خاک کو عرش، لوح و قلم کرسی ، جنت سے افضل مانتا ہوں “۔
میرا اور میرے علماء کا عقیدہ ہے کہ خدا ایک ترازو بنائے’ ایک پلڑے میں میرے دلبر کو بٹھائے ‘ دوسرے پلڑے میں ‘ سجاد ‘عباد’ زھاد ‘اقطاب’ اخیار’ ابدال’ علماء ‘ صلحاء’ اتقیاء ‘ اصفیاء’ ازکیاء ‘اولیاء ‘جن وملک’ حور وفلک ‘چودہ طبق’ عرش و کرسی’ لوح وقلم ‘کعبہ’ فرشتے’ جنت’ حوریں’ سب رکھ دے’ ایک طرف میرے محمد کوبٹھائے’ ترازو کو اٹھائے’ دنیا کو دکھائے’ ساری کائنات کی شان کم ہے میرے محمد کی شان زیادہ ہے ‘
میرا نبی گنبد خضرا میں ہے ‘ میں نے آقا سے پوچھا آپ یہاں لاہور آ جائیں گے؟
فرمایا” المدينه مهاجري وفيها مضجعي ومنها مبعثى”
میں نے مدینہ میں ہجرت کی اور قیامت تک مدینہ میں رہوں گا
میں نے عرض کیا حضرت میں آؤں یا آپ آئیں گے؟
فرمایا” من حج البيت ولم يزرني فقد جفاني”
جو حج پر آئے اور میرے در پر نہ آئے بڑا ظالم ہے
میں نے پوچھا حضرت آپ آئیں گے یا میں آؤں گا؟
فرمایا ،”من زار قبري وجبت له شفاعتي”
جس نے میری قبر کی زیارت کی اس پر میری شفاعت واجب ہوئی
میں نے عرض کیا حضرت آپ ہماری مسجد میں نماز پڑھانے آئیں گے ؟ یا ہم آئیں ؟
فرمایا” صلواة في مسجدي هذا خير من خمسين الف الصلواة و فيما سواه”
میری مسجد میں ایک نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں سے بہتر ہے
میں نے پوچھا حضرت آپ آئیں گے یا میں آؤں گا؟
فرمایا” من دفن في مدينتى فهو من جواري”
جو شخص میرے مدینہ میں آ کر دفن ہوجائے وہ قیامت تک میرا پڑوسی ہے
نبی اشارہ کرے تو چاند دو ٹکڑے ہو جاتا ہے
نبی اشارہ کرے بارش شروع ہو جاتی ہے
نبی اشارہ کرے جلیبیب چمکنے لگتا ہے
نبی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو عمر فاروق کو اسلام مل جاتا ہے ‘پیغمبر سجدہ کرے تو امت بخشی جاتی ہے ‘
نبی سیر کرے تو معرا ج بن جاتی ہے ‘
نبی گفتگو کرے تو حدیث بن جاتی ہے
جو نبی کے نکاح میں آئے وہ مومنوں کی ماں بن جاتی ہے
نبی پیدا ہو تو مکہ مکرمہ بن جاتا ہے
نبی ہجرت کرے تو مدینہ منورہ بن جاتا ہے
جو نبی کے جھنڈے کے نیچے آئے ‘ غازی بن جاتا ہے
مسجد میں آئے نمازی بن جاتا ہے’ غلام قرآن پڑھے تو قاری بن جاتا ہے ‘میدان میں نکلے تو مجاہد بن جاتا ہے ‘ کعبےکا طواف کرے تو حاجی بن جاتا ہے ‘کوئی کلمہ پڑھ کر محمد کا چہرہ دیکھے تو قیامت تک محمد کا صحابی بن جاتا ہے’ ۔
ہمارے نبی حسین’ مہ جبین ‘دلنشین’ بہترین’ بالیقین’ نازنین’ صادق و امین’ رحمت اللعالمین ‘سید الاولین والاخرین ‘ راحت العاشقین ‘ مرادالمشتاقین ہیں’
دوسری طرف مرزا لعین ‘ بےدین’بدترین’ جہنم کا شوقین ‘جس کی جائے مرگ لیٹرین’ مرزا نبی نہیں غبی ہے’ ظلی نھیں شیخ چلی ہے’ بروزی نھیں موذی ہے’ یک چشم گل ہے ‘بد شکل ہے بے عقل ہے’ نہ اصل ہے نہ نسل ہے’۔ دعا کرو اللہ تعالی ہم سب کو عشق رسول عطا فرمائے’ ہماری رفتار میں ‘گفتار میں ‘ کردار میں’ افکار میں ‘ لیل و نہار میں ‘ عادات میں ‘ تاثرات میں’ تصورات میں ‘ جذبات میں’ خیالات میں ‘واقعات میں’ دن رات میں’ حالات میں’ ہر بات میں’ افعال میں’ اقوال میں’ چال اور ڈھال میں’ خیال میں’ ہر حال میں ,اللہ ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری فرمانبرداری عطا فرمائے ‘
میرا عقیدہ ہے کہ جو فرماں بردار ہے وہ گر چہ دعوی نہ کرے حبدار ہے’اور جو حبدار ہے اس کا بیڑا پار ہے’
اور جو پیغمبر کا فرماں بردار نہیں’ لاکھ دعویٰ کرے مگر حبدار نہیں اور جو حبدار نہیں اس کا بیڑا پار نہیں اور اس جیسا کوئی خوار نہیں ‘
سنو جس کو میرے آقا نے صدیق کہا وہ صدیق رہے گا ‘ جی ہاں وہ صدیق ہے ‘پیغمبر کا رفیق ہے’ نبوت اس پہ شفیق ہے ‘ صحابہ میں لئیق ہے’ میری تحقیق اور تصدیق ہے ‘جو کچھ کہہ رہا ہوں بالکل ٹھیک ہے !
شجاع آباد میں حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمہ اللہ کی وفات ہوئی تو ان کی تعزیت کے رجسٹر میں مولانا دین پوری نے درج ذیل تاثرات لکھے “احسان پر اللہ کا احسان تھا ‘کیا عجیب انسان تھا ‘بہادر تھا مرد میدان تھا ‘خادم قرآن تھا’ ذی فہم و ذیشان تھا ‘
علماء کا قدر دان تھا تھا’ عاشق نبی آخر الزمان تھا ‘قاضی پر فضل یزدان تھا’ اس پہ رب مہربان تھا ‘آہ! قاضی مہمان تھا!
مرحوم کئی صفات کا حامل ‘علماء کے زمرہ میں شامل تھا’ دشمنوں کا حبیب تھا خوش بخت و خوش نصیب تھا’ فصیح تھا ادیب تھا’ پاکستان کا خطیب تھا’قاضی غازی تھا نمازی تھا اللہ اس سے راضی تھا’ قاضی کے دست میں سخا تھی’ چشم میں حیاتھی’ طبیعت باوفاتھی ‘ پیاری ادا تھی ‘ قاضی مہمان نواز تھا’ کامیاب تھا سرفراز تھا ‘ طمع سے بے نیاز تھا’ اسلام کا شہباز تھا’ جلسے ہو رہے ہیں واعظ نہیں ‘ منبر ہے زینت منبر نہیں’ مسجد ہے خطیب نہیں’ بچیاں ہیں ابا نھیں رہا’ بیوی ہے سہاگ اجڑ گیا ‘ چمن ہے مالی نہیں’ خزانہ ہے محافظ نہیں’
مکان ہے مکیں نہیں’اب بھی موت پر یقین نہیں’
یا اللہ قاضی مرحوم کو محروم نہ کرنا ” الا تخافوا ولا تحزنوا”کا مژدہ سنانا ‘ ایک مسافر غریب کفن بردوش’ خاموش پر رحم کی نگاہ ہو’
آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی وفات 14 اگست 1987 بروز جمعہ کو ہوئ نماز جنازہ کی امامت حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے کی ۔تدفین دین پور شریف کے قبرستان (احاطہ خاص)میں ہوئ
اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

14/08/2026

With CSS English vocabulary words – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

🌍 ممالک اور ان کی ایجاداتکیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی مشہور چیزیں کن ممالک سے منسوب کی جاتی ہیں؟ 🤔آئیے 12 دلچسپ معلومات ج...
11/08/2026

🌍 ممالک اور ان کی ایجادات
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی مشہور چیزیں کن ممالک سے منسوب کی جاتی ہیں؟ 🤔
آئیے 12 دلچسپ معلومات جانتے ہیں:
کرکٹ کی ایجاد — انگلینڈ سے ہوئی
بس کی ایجاد — فرانس سے ہوئی
اے سی کی ایجاد — امریکہ سے ہوئی
پنکھے کی ایجاد — امریکہ سے ہوئی
گھڑی کی ایجاد — جرمنی سے ہوئی
بلب کی ایجاد — امریکہ سے ہوئی
پین کی ایجاد — چین سے ہوئی
ٹریکٹر کی ایجاد — جرمنی سے ہوئی
ٹیلی ویژن کی ایجاد — جرمنی سے ہوئی
موبائل کی ایجاد — امریکہ سے ہوئی
گاڑی کی ایجاد — جرمنی سے ہوئی
ریڈیو کی ایجاد — اٹلی سے ہوئی
📌 نوٹ: یہ معلومات عام جنرل نالج میں رائج نسبتوں کے مطابق ہیں؛ بعض ایجادات کی تاریخ اور ابتدائی موجد کے بارے میں مختلف حوالہ جات بھی ملتے ہیں۔
آپ کو ان میں سے کون سی معلومات پہلے سے معلوم تھی؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ 👇

Countries and Inventions
Famous Inventions
World General Knowledge
Interesting Facts
Inventions and Inventors
GK Questions
General Knowledge Urdu
Educational Facts
World Facts
Knowledge Pills




Address

Caman
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IQRA Usmania Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category