The Prodigy Consultancy - TPC

The Prodigy Consultancy - TPC

Share

The Prodigy Consultancy - TPC is guided by the vision of excellence, sustained by the energy of success and characterized by the value of integrity .

16/05/2022
05/10/2020
24/07/2020

لاہور:سرونگ سکولز ایسوسی ایشن پاکستان نے پنجاب کریکلم اتھارٹی کے اقدام کی حمایت کردی
لاہور:نصابی کتابوں میں اغلاط کی نشاندہی پر ایم ڈی ٹیکسٹ بورڈ کو خراج تحسین
لاہور:نصابی کتابوں میں غلطیوں کی بھرمار قابل مذمت ہے:سرونگ سکولز
لاہور:حکومت ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی کرے:میاں رضا
لاہور: قاعد اوراقبال کی تاریخ پیدائش میں غلطی قابل افسوس ور؛ہے:سرونگ سکولز
لاہور:بھارتی ثقافتی یلغارکسی کا ایجنڈا ہے:سرونگ سکولز
لاہور:نصابی کتب میں صحابہ کرام کی شان میں گستاخی قبول نہیں:سرونگ سکولز
لاہور:نصابی کتب میں فضول کہانیاں بچوں کے کردارکوتباہ کر رہی ہیں:سرونگ سکولز
لاہور:کیمبرج اور آکسفورڈ کی کتابوں میں لغویات سمجھ سے بالاتر ہیں سرونگ سکولز
لاہور:سالانہ اربوں روپے کمانے والے ملٹی نیشنل پبلشرز ملک دشمنی کا کردارادا کر رہے ہیں:سرونگ سکولز
لاہور:حکومت لوکل پبلشرز کو سہارا دے:سرونگ سکولز
لاہور:اسلامی شعار کیساتھ کھلواڑ کس کا ایجنڈا ہے:میاں رضا الرحمان
لاہور:سال ہا سال سے حکومت کی مبینہ غفلت اور خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے:صدرسرونگ سکولز

11/07/2020

"یہ تحریر نقل ہے لکھاری کا پتہ نہیں مگر بات بڑے پتے کی ہے"

آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ " اخلاقیات " اور " آداب " ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا "جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں "۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔ جاپان میں معاشرتی علوم " پڑھائی" نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے " پبلشرز " بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو " کوڑھ مغز " اور " کند ذہن " کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔

آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔ ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو " سوشل اسٹڈیز " پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا " سوشل " ہونا سیکھا ہے؟ اسکول میں سارا وقت سائنس " رٹتے " گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی " سائنس دان " نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس " سیکھنے " کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی " رٹّا" لگواتے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں اس " گلے سڑے " اور " بوسیدہ " نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو " طوطا " بنانے کے بجائے " قابل " بنانے کے بارے میں سوچیں۔.
كاپی شده...

08/07/2020

Inter-Provincial Education Ministers Conference chaired by Education Minister Shafqat Mahmood 🙂❤
=================================
✅The decision to open educational institutions with SOPs in the first week of September,
✅All education ministers agree to open educational institutions in first week of September,
✅Educational institutions are also allowed to conduct Special examinations with SOPs,
✅All education ministers agree to convene 2 more meetings before September,
✅The situation of Coved 19 will be reviewed before the opening of educational institutions,

29/05/2020

موجودہ لاک ڈاءون اور تعلیمی سرگرمیاں:-

کرونا کی وباء نے جہاں ساری دنیا کو مختلف سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور معاشی مسائل سے دوچار کر دیا ہے وہیں تمام تر تعلیمی سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہو گئیں ہیں ہمارا ملک جو تعلیمی اور تحقیقی میدان میں پہلے ہی بدانتظامی اور پسماندگی کا شکار ہے اب موجودہ لاک ڈاءون کی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ بھی درس و تدریس کا ہی ہے اس کا صحیح ادراک حکمرانوں کو ہو یا نہ ہو مگر تعلیم کی اہمیت جاننے والے والدین اور علم دوست افراد کو بہت اچھی طرح ہے۔
سندھ میں اسکولوں کی بندش کو 3 ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے دیگر ممالک میں ای تعلیم، ورچوئیل کلاسسز اور ان لائن تعلیم کا تجربہ اور اہتمام جاری ہے ہمارے PTV پر بھی ایک غیر موثر اور وفاقی سلیبس پر مشتمل لکچرز کا انتظام کیا ہوا ہے جس سے کراچی میں شاید چند سو بچے ہی فائدہ اٹھا رہے ہوں پہلے ہی ملکی سطح پر کوئی مربوط اور یکساں تعلیمی نظام کی عدم موجودگی میں ایک بے ہنگم سا تعلیمی ڈھانچہ Evolve ہوچکا ہے جہاں پرائمری اسکول کی سطح پر ہر اسکولنگ گروپ کا اپنا مقرر شدہ پبلشر اپنا پسندیدہ بک سپلائر اور اپنا مرتب کردہ تعلیمی نظام ہے جس پر عملا" وفاق یا صوبائی انتظامیہ کا کوئی کنٹرول نہیں اسی طرح ہر صوبے کا الگ الگ تعلیمی نظام اور مختلف معیار مقرر ہے مرکزی سطح صرف HEC ایک ایسا ادارہ ہے تو بہتر کام کر رہا تھا مگر اٹھارویں ترمیم کی برکات سے وہ بھی صوبائیت کے بھینٹ چڑھنے لگا ہے اسکے برعکس مدرسے کی تعلیمی نظام میں کچھ خامیوں کے باوجود ایک مرکزی اور مربوط انتظامی ڈھانچہ نظر آتا ہے۔
ان تمام مسائل کا حل فی الفور تو ممکن نہیں مگر ارباب اقتدار سے التجا ہے کہ موجودہ لاک ڈاءون کی صورت میں بچوں خصوصا" پرائمری سطح کی تعلیمی سرگرمیاں مکمل SOP's کے تحت بحال کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں آن لائن یا ورچوئیل ای تعلیم بھی ممکن ہے مگر اسکے لئے Study near home کا آپشن زیادہ موثر ہوسکتا ہے۔
برائے مہربانی اس مسئلے پر توجہ دیں دیگر مسائل کی طرح اس اہم مسئلے کو بھی under the carpet نہ رکھیں ہمارے بچے جمود کا شکار ہو رہے ہیں اسکے بڑے دوررس نفسیاتی اور سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں پھر خداناخواستہ اسکے نتیجے میں ہونے والے قومی نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہو پائیگا۔
(نجم ملک)

28/04/2020

Home tuitiors available to privide tuitions in areas like Nazimabad, North Nazimabad, F.B.Area & Gulsan for all classes & subjects including O'Level & A'Level.
For registration & other details contact with Sir Najam @ 0345-2169225 (whatsapp).

28/04/2020

Home tuitors required for all sujects to teach at homes from elementry to advance level while specialist subject tuitors for O' Levels & A'Levels should also contact for registration @ 0345 - 2169225 (Sir Najam).

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

II/G, 3/5, Ground Floor, Ajacent Masjid E Aqsa Park, Nazimabad No. 2
Karachi
74600