16/06/2022
ٹکری ایجوکیشن سینٹر کا کاروان آج بھی نا مصائب وسائل کے باجود روان دواں ہے. . آج بھی علاقے کے نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت مفت تعلیم کے لئے انتھک محنت کررہی ہیں ۔۔
درمیان میں جگہ کی مسائل کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے اللہ بخش اپنی ٹیم کے ساتھ ہمہ وقت جدوجہد کررہی ہیں ۔
ایک ایسی کاروان ہے جو شاید اس صدی میں کسی کو نصیب ہوں ۔ اس جدید دور میں مفت تعلیم کی فراہمی کسی نعمت سے کم نہیں ۔۔
ٹکری ایجوکیشن سینٹر کی تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کی جاتی ہے کہ وہ مفت تعلیم جیسے عظیم سہولیات سے علاقے کے بچوں کو آراستہ کررہے ہے ۔۔
ایسے بچے جن کی پیروں میں چپل تک نہیں اور جن کی کپریں اکثر گندے ہوتے ہیں اور اپنی معاشی صورتحال کی وجہ سے ایک اچھے تعلیمی درسگاوں میں داخلہ حاصل نہیں کرپاتے ہے ۔
اسطرح کی بچوں کی رہنمائی کرنا ، انہیں اس طرح قابل کرنا کہ وہ آگے تعلیمی حاصل کرسکے۔۔
لیکن آج بدقسمتی سے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ ٹکری ایجوکیشن سینٹر میں زیادہ تر طلباء میٹرک یا انٹر تک تعلیم حاصل پاتے ہے اور بعد میں اپنی تعلیمی کیریئر کو خیرباد کرتے ہے ۔ کیونکہ اس کی وجہ معاشی پسماندگی ہے کیونکہ ماڑی پور کے اس علاقے میں زیادہ تر لوگ ماہی گیر سے وابستہ ہے جو کہ ایک خدائی شعبہ ہے ۔ جس میں اکثر اوقات صرف اس قدر کمائی ہوسکتی ہے کہ دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا جاسکے ۔
دو سال پہلے جب مالک مکان نے اس ادارے کو بیچنے کی بات کی تو اس کی قیمت لاکھوں میں بتائی جس کی وجہ سے ہم طلباء نے بہ مجبور اس مقام کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے اور ایک دوسرے جگہ پر شفٹ ہونے پر مجبور ہوگئے ۔ اس دوران کئی ماہ ٹکری ایجوکیشن سینٹر بند رہا ۔جس کی وجہ سے علاقے کے نوجوانوں کو ناتلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔۔
علاقے کے اکثر بچے بے آسراہ ہوگئے اور بیشتر بچوں نے اپنی تعلیمی کیریئر کو خیر آباد کیا ۔اور ایسے بہت سے طلباء جو کہ بھرپور صلاحیت کے مالک تھے انہوں نے دیگر راہ نہ پاکر اس فیکٹریوں میں روزگار شروع کیا اور بہت سی طالبات نے بھی انٹر یا میٹرک تک اپنی تعلیم ختم کی ۔۔
مگر علاقے کے نوجوانوں نے ایک مرتبہ پھر اس اپنی کوشش کے تحت دن اور رات دونوں شفٹ میں پڑھانا شروع کیا اور آج ایک بار پھر ٹکری ایجوکیشن سینٹر اپنی پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کررہا ہے ۔
07/06/2022
ٹکری ایجوکیشن سینٹر 🌹
ایک ایسی درسگاء جہاں آج تک اللہ بخش اور اسکے مخلص ساتھی اپنی سماجی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے گزرشتہ 8 سالوں سے مفت تعلیم میہاں کررہے ہیں ۔۔
02/09/2020
ٹیکری ایجوکیشن سینٹر کے طلباء ڈرائنگ کرتے ہوئے
جس معاشرے میں شعور کا فقدان ہو وہاں طلباء اپنی صلاحیتوں کو بروئے لاتے معاشرے کو روشن مستقبل کے جانب گامزن کرتے ہیں
ایک امید ان کے نام جو معاشرے کو پسماندہ سے دور کر سکتے ہے
20/08/2020
ایک چینی کہاوت یاد ہے کہ” جب آدمی 10 کتابیں پڑھتا ہے تووہ 10 ہزار میل کا سفر کرلیتا ہے۔
گورچ فوک کتاب کے بارے میں کہتے ہیں: ” اچھی کتابیں وہ نہیں جو ہماری بھوک کو ختم کردے، بلکہ اچھی کتابیں
وہ ہیں جو ہماری بھوک بڑھائیں۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کو جاننے کی بھوک ۔۔۔۔”
ائولس گیلیوس کہتے ہیں: ” کتابیں خاموش استاد ہیں ۔۔۔”
فرانس کافکا: ” ایک کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم بغیر روح کے ۔۔۔”
گوئٹے : ” بہت سے لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم ہے کہ مطالعہ سیکھنا کتنا مشکل اور وقت طلب کام ہے، میں نے
اپنے 80 سال لگا دیے لیکن پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ میں صحیح سمت کی جانب ہوں۔۔۔۔۔”
تھومس فون کیمپن: ” جب میں عبادت کرتا ہوں تو میں خدا سے باتیں کرتا ہوں، لیکن جب میں کوئی کتاب پڑھتا ہوں
تو خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔۔۔۔۔”
جین پاؤل: ” کتابیں ایک طویل ترین خط ہے جو ایک دوست کے نام لکھا گیا ہو۔۔۔”
گٹھولڈ لیسنگ: ” دنیا اکیلے کسی کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی، اگر مکمل انسان بننا ہے تو پھر اچھے مصنفین کی
تصانیف پڑھنا ہونگی ۔۔۔۔”
نووالیس : ” کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم ماضی اور حال کے دیوتاؤں سے
آزادی کے ساتھ گفتگو کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔”
اور آخر میں کتابوں کے بارے میں دو جرمن محاورے:
” کتابیں پیالے کی مانند ہیں جن سے پانی پینا تمہیں خود سیکھنا ہوگا۔۔۔۔”
” جرمن زبان میں گدھے کو ایزل کہتے ہیں جب اس لفظ کو الٹا پڑھا جائے تو یہ لیزے بنتا ہے اس لئے یہ کوئ
عجوبہ نہیں ہے اگر یہ کہا جائے کہ کچھ معلومات حاصل کرنے کے لئے تمھیں گدھے کی طرح محنت کرنا
ہوگی۔۔۔۔۔۔”
کتابوں کے حوالے سے کہ ایک تجزیہ کے مطابق پاکستان میں لوگ سالانہ صرف 6 پیسے ایک کتاب کے لئے خرچ کرتے ہیں... "
اور وہ بھی بعد میں ردی میں بیچ کر اس کا پتیسہ کھا لیتے ہیں......
01/08/2020
ٹیکری ولیج ماڑی پور کراچی میں ایک سماجی اور معاشی حوالے سے ایک پسماندہ علاقہ ہے ٹیکری کے لوگ اس جدید دور میں بنیادی سہولیات سے محروم ہے جہاں تعلیم سمیت مختلف شعبوں کی حالت بہت خستہ ہیں جدید دور میں تعلیمی اہمیت اور علاقائی پسماندگی کو پنپتے ہوئے ٹکری ولیج کے نوجوانوں کے جانب سے 2 اگست 2013 میں مفت تعلیمی ادارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا اس اعلان کے ساتھ ساتھ ٹیکری ولیج کے نوجوان بچوں کو مفت تعلیم سے مستفید کرنے کی تگ ود میں لگی ہوئی ہے اس دوران ادارے کی یہی کوشش رہی ہے کہ وہ بچوں کو جدید دور کی ضروریات کی تکمیل کے لئے مدد کریں اور تکنیکی حوالے سے بچوں میں شعور بیدار کرکے ان میں علم کے شمع جلانے کی دلچپسی پیدا کریں آج ادارے کے سات سال کے مکمل ہونے پر تمام اساتذہ یہ اعادہ کرتے ہے کہ وہ جس طرح سات سالوں سے بچوں کوجس محنت سے پڑھاتے آرہے ہیں بالکل اسی طرح آنے والے سالوں میں اسی جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریں گے اورآخر میں سینٹر کے کیبنٹ یہ اعلان کرتی ہے کہ ادارے کے سات سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جو عید کے تعطیلات کے بعد منعقد کی جائے گی
شکریہ
27/07/2020
بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں(بیدار کرنےکی تجاویز)
ناصر علی مرزا
بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں
تخلیقی قوت کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے
بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تخلیق کی قوت پیدائشی نہیں، یہ کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے، اس بارے میں امریکا کی مشہور یونیورسٹی میری لینڈ کی ماہر نفسیات ایلس ٹیسن کہتی ہیں۔ ” تخلیق کے بارے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک مستحکم اور کسی قدر پراسرار صفت ہے جو صرف بعض خوش نصیب لوگوں کو حاصل ہوتی ہے لیکن تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ تخلیقی قوت کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔“
اس تحقیق سے ماں باپ اور اسکولوں کی ذمے داری میں اضافہ ہوگیا ہے جب ان کے بچوں کے لئے تخلیقی قوت کے تمام راستے کھلے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے انداز میں کریں کہ ان کی تخلیقی قوت بیدار ہو جائے۔
تخلیق ہے کیا؟
مگر سوال یہ ہے کہ تخلیق ہے کیا؟تخلیق کے معنی ہیں نئی چیز بنانا۔ اس لحاظ سے تخلیق کار کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئی باتیں، نئے طریقے ، نئے راستے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں جستجو کا مادہ ہوتا ہے۔ اس کی خیالی تصویر بنانے کی قوت قوتِ متخیلہ بہت تیز ہوتی ہے۔ اس کی سوچ میں رکاوٹ نہیں آتی۔ وہ جمالیات کی حس کا مالک ہوتا ہے۔ وہ من موجی اور جذباتی ہوتا ہے اور فرسودہ طریقوں کو دوہرانے سے اجتناب کرتا ہے۔یہ تمام باتیں ہر بچے میں موجود ہوتی ہیں ۔ نہ صرف بڑے بچے بلکہ چھوٹے بچوں میں بھی یہ تمام باتیں ہوتی ہیں ۔ وہ ہر چیز ہر کام کو بغور دیکھتے ہیں ۔ ٹوہ لگاتے ہیں۔ کریدتے ہیں ۔ چھوتے ،سونگھتے ہیں۔ سوچتے ہیں، کھلونوں سے باتیں کرکے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں ۔ اسے اپنی اسکیمیں بتاتے ہیں ۔ ایک چیزمیں کئی چیزیں ڈال کر دیکھتے ہیں کہ اس سے اب کیا بنے گا۔ ایک رنگ میں کئی رنگ ملاتے ہیں ۔ وہ چیزوں کو کبھی علیحدہ رکھتے ہیں تو کبھی ڈھیر لگا لیتے ہیں ۔ کبھی تقسیم کرتے ہیں تو کبھی چھپا دیتے ہیں یعنی تمام امکانات پر غور کرتے ہیں ۔ گویا ہر بچہ اپنے آپ میں فلاسفر، تجزیہ نگار اور تخلیق کار ہوتا ہے
تخلیقی صلاحیت کو پابند کرنے کی غلطی
۔اس کی تخلیقی صلاحیت کو پابند کرنے کی غلطی اکثر والدین سے سرزد ہوتی ہے۔ مثلاً میرے ایک دوست ہیں شرافت علی، ان کے دو بچے ہیں ۔ میں انہیں بڑا ذہین سمجھتا تھا۔ کیوں کہ وہ باتیں بھی گہری کرتے تھے اور ڈرائینگ تو مت پوچھئے ، ایسی عمدہ تصویریں بناتے تھے کہ بس دیکھتے رہ جائیں ۔ عید کی آمد آمد تھی۔ شرافت علی نے بچوں سے کہا کہ اس بار ہم تمہارے ڈیزائن کردہ کارڈ اپنے دوستوں رشتے داروں کو بھیجیںگے۔ چار بائی چھ انچ کے گتے پر سرخ اور سبز رنگ سے پہاڑی اور ندی کی ایک تصویر بناﺅ۔ ندی میں کشتی بھی دکھانا۔بس یہیں پر انہوں نے غلطی کردی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں نے تصویر تو بنادی مگر اس میں وہ بات پیدا نہ ہو سکی جس کے وہ متلاشی تھے۔ دراصل انہوں نے بچوں کو پابندیوں میں جکڑ کر ان کے ذوق تخلیق کو قتل کردیا۔ یہی تجزیہ برینڈیز یونیورسٹی کی ماہر نفسیات پروفیسر ٹریسا امابیل کا بھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوںکو پابندیوں میں جکڑنے سے ان کا ذوق تخلیق متاثر ہوتا ہے۔ وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے
۔بچوں کی تخلیق کو بیدار کرنے کا فارمولا
۔کام میں وابستگی ، لگن ، جوش اور آزادی یہ چیزیں تخلیق کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں ، کامیابی دلاتی ہیں ۔ اگر نکتہ چینی کی ضرورت ہو تو حوصلہ افزائی اور مدد دینے کی نیت سے کریں۔ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے تجسس کو قائم رکھیں۔ جستجو ، تلاش اور نئی بات معلوم ہونے اور نیا کام کرنے کی بے حد خوشی ہوتی ہے۔بچوں کی تخلیق کو بیدار کرنے کا فارمولا ہے جستجو، تلاش، جوش وخروش ، لگن، آزادی اور خوش دلی ۔ بچوں میں کھلنڈرا پن اور مزاح بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ اگر آپ کارٹون دیکھتے وقت بچوں کو دیکھیں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ الٹی سیدھی باتوں اور حماقتوں کو دیکھ کرخوش ہوتے ہیں ۔ تبصرہ کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر میں ہوتا تو یوں کردیتا۔ بچوں کی اس روح کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔ بے جا پابندیاں بچوں کی نشوونما پر اثر انداز ہوتی ہیں
۔ماں باپ ہی بچوں کے لئے ماڈل ہوتے ہیں ۔ اگر والد صاحب جھنجھلاجھنجھلا کر کہیں کہ تم ہی نے بچے کو بگاڑا ہے۔ بچوں کوپالنا اور دیکھنا میرا کام نہیں، اگر ہر وقت ان کی پیشانی پر تیوری ہو اور بیگم صاحبہ سے بات بات پر الجھیں اور بیگم صاحبہ خود جوالا مکھی بنی رہیں ۔ بات بے بات پر غصہ نکالیں تو بچوں کا ذوق تخلیق کیا بیدار ہوگا۔ ان میں ذوق تخریب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔ماں باپ خوش مزاج ، زندہ دل، بچوں میں دلچسپی لینے والے ہوں تو ان کے بچے ترقی کے زینے طے کرتے چلے جاتے ہیں بچے تو پودے ہیں، کھاد ڈالی جائے، پانی دیا جائے اور پودے کا خاص خیال رکھا جائے تو وہ پودا پھلتا پھولتا ہے۔ہر بچے میں تخلیق کا مادہ ہوتا ہے۔ ان میں ذوق تجسس، جوش و خروش اور کام میں لگن پیدا کی جائے تو ان کے اندر کا تخلیق کار بیدار ہو تا چلا جاتا ہے اس لئے ہر ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کومشورہ دیں، رہنمائی کریں لیکنہمت افزاءکے لہجے میں ۔ پیار کے ساتھ احتیاط کے ساتھ۔
25/07/2020
” تھامس ایڈیسن مشہور عالم سائنسدان تھا..
اپنے بچپن میں بخار کے باعث وہ قوت گویائی سے محروم ہو گیا تھا.
جب وہ چھوٹا تھا.
تو ایک دن وہ سکول سے آیا اور ایک سر بمہر لفافہ اپنی والدہ کو دیا کہ استاد نے دیا ہے کہ " اپنی ماں کو دے دو ."
ماں نے کھول کر پڑھا.
اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.
پھر اس نے با آواز بلند پڑھا.
” تمھارا بیٹا ایک جینئس ہے، یہ سکول اس کے لئے بہت چھوٹا ہے، اور یہاں اتنے اچھے استاد نہیں کہ اسے پڑھا سکیں سو آپ اسے خود ہی پڑھائیں. “
اس کے بعد اس کو پڑھانے کی ذمہ داری اس کی والدہ نے لے لی.
سالوں بعد جب تھامس ایڈیسن ایک سائنسدان کے طور مشہور عالم ہو گیا تھا.
اور اس کی والدہ وفات پا چکی تو وہ اپنے خاندان کے
پرانے کاغذات میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا کہ اسے وہی خط ملا.
اُس نے خط کو کھولا تو پر اس پر لکھا تھا.
” آپ کا بیٹا انتہائی غبی ( کند ذہن ) اور ذہنی طور پہ ناکارہ ہے... ہم اسے اب مزید اسکول میں نہیں رکھ سکتے.“
اسی دن ایڈیسن نے اپنی ڈائری میں لکھا.
” تھامس ایلوا ایڈیسن ایک ذہنی ناکارہ بچہ تھا
پر ایک عظیم ماں نے اسے صدی کا سب سے بڑا سائنسدان بنا دیا. “
(ماں نسلوں کو سنوار دیتی ہے )
تحریر: Historical Events - تاریخی واقعات
13/07/2020
قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ
حال حوال جنوری 6, 2019
شبیر بلوچ
اردو ادب میں بےشمار نایاب کتابیں دستیاب ہیں جن کے مطالعہ سے علم دوست افراد اپنی علمی جستجو اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھار سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب "علم و آگہی کا سفر“ اردوادب میں نمایاں اور انمول خزانے کا درجہ رکھتی ہے۔
ڈاکٹر شیر شاہ سید نے 18 کتابیں تحریر کی ہیں۔ گزشتہ عرصوں میں ان کی تین کتابیں "علم کی آگہی کا سفر“، "آگہی کاچراغ“ اور "آگہی کے نشان” شائع ہوئیں۔ ان میں پہلی کتاب علم و آگہی کا سفر دنیا کی قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ پر مشتمل ہے۔ علم و آگہی کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب میں دنیا کی 54 قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ اور ان یونیورسٹیوں کی بے شمار عظیم ہستیوں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنی علمی بصیرت سے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
مصنف کا کہنا ہے حضرت عیسٰی کی پیدائش سے پہلے کی دنیا میں مختلف جگہوں پر تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ انسان نے اپنے مشاہدے، تجربے اور سمجھ بوجھ کے مطابق علم حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا ہے کہ نالندہ یونیورسٹی حضرت عیسٰی کی پیدائش سے پانچ سوسال قبل بھارت کے صوبہ بہار میں قائم کی گئی تھی۔ نالندہ یونیورسٹی میں اس زمانے میں تمام علوم کی تعلیم دی جاتی تھی اور کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ نے بھی اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور انہوں نے یہاں تدریس کے فرائص انجام دیے تھے۔
مصنف نانجنگ یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے یہ ادارہ 258 قبل ازم مسیح میں بادشاہ سنگ کے حکم سے عمل میں آیا۔ نانجنگ یونیورسٹی ایک بڑی علمی درس گاہ تھی۔ چین کی پانچ ہزارسال سے زیادہ تہذیبی اور سماجی تاریخ میں اس ادارے کا اہم کردار تھا۔ نانجنگ یونیورسٹی کا نعرہ ہے؛ ایمانداری اور ذہانت کے ساتھ محنت کرو اور اپنے عمل میں سچائی تلاش کرو۔ اس عظیم کارواں کی بدولت 1929 تک چین کے 50 فیصد سائنس دانوں کا تعلق نانجنگ یونیورسٹی سے تھا۔ مسلمانوں کی عظیم ریاست مراکش میں دو مسلمان بہنوں نے جامعہ القروئین کی بنیاد 859 عیسوع میں فاطمہ الفجری اور مریم الفجری نے مراکش میں رکھی لیکن آج بدقسمتی سے اسلامی ریاستوں میں عورتوں کی ا کثریت زیور تعلیم سے محروم ہے۔
جامعہ القروئین جہاں ابنِ رشد نے ارسطو کے فلسفے کو یورپ اور اسلامی دنیا میں مقبولیت عطا کی۔ ارسطو کے فلسفے کو عوامی مقبولیت دینے والوں میں ابن رشد کا نام اولین ناموں میں ہے۔
مصنف اسلامی دنیا پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ الزیتون یونیورسٹی کو اسلامی تاریخ کی پہلی باضابطہ یونیورسٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس ادارے میں فلسفہ، قانون، ریاضی جیسے مضامین پڑھانے کا رواج عام تھا جہاں سے دنیا کی معروف شخصیات ابنِ خلدون، احمد بن یوسف، احمد بن بکر تضاشی، طاہر حداداد نے تعلیم حاصل کی۔
اٹلی بولوگنا یونیورسٹی دنیا کی پہلی درس گاہ ہےجسے شروع ہی سے یونیورسٹی کا نام دیا گیا۔ بولوگنا یونیورسٹی کو یورپ کی یونیورسٹیوں کی ماں کہا گیا ہے۔ اس زمانے میں بولوگنا یونیورسٹی میں 85 ہزار طلبا زیر تعلیم تھے۔ 33 شعبے اور 11مختلف کالج اس یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔ مارکونی نے بولوگنا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مارکونی نے پہلا ریڈیو ایجاد کیا جو کسی تار کے بغیر کام کرتا تھا۔ ان کی ایجاد نے اُس وقت کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یورپی سماج کو ترقی اور منظم کرنے میں انقلابِ فرانس نے اہم کردار ادا کیا، اس لیے پیرس یونیورسٹی کو یورپ کا روشن خیال اور ترقی پسندانہ ادارہ کہا جاتا ہے۔ میری کیوری جس نے پیرس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، انہیں دو مرتبہ نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کا آغاز 1096 عیسوی سے جاری تھا اور بادشاہ ہنری دوم نے 1167 میں انگلستان کے طلبا کی پیرس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس پابندی کی وجہ سے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیمی نظام کو فروغ ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والی عظیم ہستیوں کا مختصر کردار بیان کرنا چاہتا ہوں؛ جان و کلیف 1384 میں پیدا ہوئے، ان کا ایک بڑا سنگین جرم یہ تھا کہ انہوں نے بائبل کے مختلف ترجموں پر زور دیا تھا اور انہوں نے 1382 میں بائبل کا انگریزی میں ترجمہ کیا تو وہ بائبل جون و کلیف کے نام سے مشہور ہوا۔ رچرڈ ڈاکنسنیر وبی کینیا میں 1941 میں پیدا ہوئے۔ وہ حیاتیاتی ارتقا کے ماہروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی مشہور کتاب the selfish gene جنیاتی طور پر ارتقا کے بارے میں ہے اور دنیا کے 30 بڑے ممالک کے بڑے وزیراعظم بھی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ آکسفورڈ یونیودسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے انسانوں کا کردار نمایاں ہے۔
پیڈووا یونیورسٹی کا شمار یورپ کی قدیم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے اور یہ ادارہ اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی فکری آزادی کا علمبردار بن گیا۔ پیڈووا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے ولیمھاروے ایک عظیم ڈاکٹر تھے جنہوں نے انسانی جسم میں دورانِ خون کا طریقہ کار دریافت کیا۔ دنیا کے عظیم سائنس دان گلیلیو نے بھی پیڈووا یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہ طبیعیات، ریاضیات، انجینئرنگ اور فلکیات کے ماہر تھے۔ انہیں بابائے سائنس، ؑ بابائے علمِ فلکیات اور بابائے طبیعیات کہا جاتا ہے۔ انہوں نے جیوپیٹر کے چاند دریافت کیے جنہیں گیلیلیوں کے چاند کہا جاتا ہے۔
آخر میں کیمبرج یونیورسٹی پر اپنے خلاصے کا اختتام کرتا ہوں کہ کیمبرج یونیورسٹی دنیا کی ان عظیم تعلیمی درس گاہوں میں سے ایک ہے جہاں دنیا کی عظیم ہستیوں نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کیا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے 90 سے زیادہ لوگوں کو نوبل انعام مل چکا ہے۔
حرفِ آخر یہ کہ کسی قوم ترقی میں تعلیمی اداروں کا نمایاں کردار ہوتا ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے اپنی تاریخ، کلچر اور شناخت کو برقرار رکھا ان میں تعلیمی اداروں کا اہم کردار ہے۔ آج کے زمانے میں کسی بھی قوم کی قومی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تعلیم کے دروازے عوام کے لیے نہ کھولے جائیں۔
11/07/2020
مَیں لکھاری کیسے بنا؟ ✒📚💃😍
آپ بیتی از ’Paulo Coelho‘ | مترجم #مُسافرِشَب
اقتباس کتاب : Like a Flowing River💜
جب مَیں 15 برس کا ہو گیا، ایک دن مَیں نے امی سے کہا "مجھے پتا چل گیا ہے کہ مَیں نے بڑا ہو کر کیا بننا ہے۔ مَیں ایک لکھاری بنوں گا۔"
"اوہ تیرا بیڑا غرق..." امی شدید مایوسی سے کہنے لگِیں "اپنے ابو کو دیکھو، وہ انجینیئر ہیں۔ وہ بہت سمجھ دار اور کامیاب انسان ہیں، وہ دنیا کے چال چلن کو خوب جانتے ہیں۔ تمہیں پتا بھی ہے یا نہیں کہ لکھاری بننا کیا ہوتا ہے؟"
"ہاں جی۔ لکھاری بننے کا مطلب ہوتا ہے کہ کتابیں لکھی جائیں۔" مَیں نے آسانی سے جواب دے دیا۔
"تمہارے ماموں ہارولڈو ایک ڈاکٹر ہیں۔ اُنہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ اُن میں سے کچھ شائع بھی ہو چکی ہیں۔ اگر تُم اپنے ابو کی طرح انجینیئرنگ پر دھیان دو اور اچھی جگہ ملازم ہو جاؤ تب اپنے فارغ وقت میں جو دل چاہے کرو، چاہے کتابیں لکھو۔"
"نہیں امی جی.. مَیں لکھاری بن کر کتابیں لکھنا چاہتا ہوں، انجینیئر بن کر نہیں۔" مَیں نے کہا۔
"ہمممم... مگر کیا تُم کبھی کسی لکھاری سے ملے ہو؟ کیا کبھی کوئی لکھاری دیکھا بھی ہے یا نہیں؟" امی نے مزید فکرمندی سے پوچھا۔
"نہیں تو۔ صرف تصویروں میں دیکھا ہے۔"
"تو میرے بچے، جب لکھاری نامی مخلوق کا تمہیں پتا ہی نہیں تو پھر کیوں لکھاری بننا چاہتے ہو؟ ہیں؟"
مَیں بنیادی طور پر لاجواب ہو چکا تھا۔ لہذا امی کو درست جواب دینے کی خاطر مَیں نے سوچا کہ اِس سوال پر تحقیق کرنی چاہیے۔ واقعی، لکھاری ہوتا کیا ہے؟ آخرکار بڑی تحقیق کے بعد مجھے کچھ جوابات ملے۔ مجھے معلوم پڑا کہ 1960 کی دہائی کے آغاز میں لکھاری ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ آئیے آپ کو بھی بتاتا ہوں۔
√ لکھاری وہ ہوتا ہے جو موٹی موٹی عینکیں پہنتا ہے۔
√ لکھاری وہ ہوتا ہے جس کے بال بہت لمبے ہوتے ہیں اور اُس کو کنگھی کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔
√ اپنا آدھا وقت ہر معاملہ میں سخت غصے میں رہتا ہے اور باقی کا آدھا وقت سخت اُداس ہوتا ہے۔
√ اُسے بہت سا وقت شراب خانوں (متبادل: پاک ٹی ہاؤس وغیرہ) میں اپنے جیسے لکھاریوں سے لڑنے بِھڑنے اور اُن سے مباحث کرنے کی عادت ہوتی ہے۔
√ وہ بہت گہری گہری باتیں کرتا ہے۔
√ اُس کے پاس اپنے اگلے ناول کے لیے کہانی کا زبردست خاکہ ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے پچھلے ناول کو سخت ناپسند کرتا ہے۔
√ لکھاری کا فرض ہے کہ موجودہ نسل کے قارئین کو سمجھ نہ آ سکے۔ اُسے یقین ہوتا ہے کہ وہ غلط زمانے میں پیدا ہوا ہے۔
√ اوپر والے نکتہ کا نتیجا ہے کہ اگر کسی کو لکھاری کی کوئی بات سمجھ آ جائے تو بنیادی طور پر لکھاری کو افسوس ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اُس نے آسانی سے سمجھ آنے والی بات بول/لکھ کر اپنے مقام کو کمتر کر دیا ہے۔ اب وہ حکمت کے موتی نہیں بکھیر سکتا۔ لہذا وہ مشکل ترین باتیں لکھنے لگتا ہے۔
√ لکھاری اپنی لکھی ہوئی بات کو مٹا کر بار بار لکھتا ہے، یہاں تک کہ، سوائے اُس کے، باقی سب کی سمجھ سے باہر ہو جاتی ہے۔
√ عام آدمی لغت کے تقریباً 3 ہزار الفاظ جانتا ہے۔ اصل لکھاری اِن میں سے کوئی لفظ نہیں لکھتا بولتا کیونکہ اُس نے باقی کے 1 لاکھ 89 ہزار الفاظ کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔ یقیناً لکھاری عام آدمی نہیں ہوتا۔
√ صرف ایک لکھاری جانتا ہے کہ دوسرے لکھاری نے کیا لکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام لکھاری ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔ اس نفرت کی ایک اور وجہ بھی ہے، لکھاریوں کی ملازمتیں چند ایک ہی ہوتی ہیں۔ لہذا ایک دوسرے کو ہر قیمت پر کمتر کرتے ہیں۔
√ اور دوسرے لکھاری یوں کمتر ہو جاتے ہیں کیونکہ اُن میں سے کامیاب لکھاری ایسی کتاب لکھ ڈالتا ہے جو خود اُسے بھی سمجھ نہیں آئی ہوتی۔
√ لکھاری سادہ باتوں کے دوران خوفناک یا انجان الفاظ استعمال کرتا ہے مثلاً چپڑقنات، انفجار، فجائیہ، ندائیہ، اوقاف، لقہ لچہ، چیت مکوڑا، رموز، سیاست، جمہوریت، انصاف، تہذیب، اشتراکیت وغیرہ۔
√ لکھاری کے پاس اپنی جانب توجہ مبذول کروانے کا ایک فوری نسخہ ہوتا ہے۔ وہ یوں بات شروع کرتا ہے "آئن سٹائن ایک بیوقوف انسان ہے۔" "ٹالسٹائے ایک مسخرا ہے۔ وہ اہلِ اقتدار کے تلوے چاٹتا ہے۔" یعنی وہ ہر ایک کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ بلکہ مروجہ نظریات کا بھی انکار کر دیتا ہے.. نظریہء اضافیت اول تو غلط ہے، مزید یہ کہ مزید غلط ہے۔ جب ایسی باتیں کر کے لوگوں کا مجمع لگا لیتا ہے تب بے موقع گفتگو شروع کرتا ہے۔ یاد رہے کہ لوگوں کو دلائل مانگنے کی عادت نہیں ہوتی، وہ محض لکھاری کی زبان یا قلم کے سحر میں آ کر بات مان لیتے ہیں۔
√ لکھاری جب کسی خاتون کو متاثر کرنا چاہتا ہے، اور اکثر اُسے ضرورت پڑتی رہتی ہے، وہ صرف اتنا کہتا ہے "مَیں ایک لکھاری ہوں"، اور پھر رومال یا ٹشو پیپر پر کچھ ایسا لکھتا ہے جو خاتون کو محسوس سا ہوتا ہے کہ بس میرے لیے ہی لکھا گیا ہے.. بلکہ یہ لکھاری پیدا ہی اِسی لیے ہوا تھا کہ ایک دن میرے لیے یہ جملہ لکھے۔ بے چاری شکار ہو جاتی ہے۔ یہ نسخہ کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
√ ایک بار لکھاری مذکورہ مندرجات کو بروئے کار لا کر معاشرے میں کچھ ہلچل سی مچا دے تب وہ کسی بھی وقت "نقاد" بن سکتا ہے۔ یعنی اس سلسلے میں ہلچل مچائی ہونا ضروری ہے، کوئی ادبی خدمت سرانجام دی ہونا کچھ زیادہ ضروری نہیں۔ لکھاری بطور نقاد اپنے من پسندیدہ دوست لکھاریوں (جنہیں وہ دوست تو مانتا ہے مگر لکھاری نہیں) اُن کی نئی کتب پر رحمدلانہ یعنی مثبت علمی تجزیے لکھتا ہے۔ آدھے تجزیوں میں وہ دوسرے ممالک کے محاورے اور جناتی زبان استعمال کرتا ہے۔ صرف لفظوں کی بناوٹ سے محسوس ہوتا ہے کہ کچھ اچھا ہی لکھا ہو گا۔ وہ اکثر جگہ "ذاتی دلائل" جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یوں بڑی چالاکی سے قارئین کو شک میں ڈال دیتا ہے۔ یوں قاری اسی لیے وہ کتاب نہیں خریدتے کیونکہ ذاتی رائے جاننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ذاتی اور مدلل ایک دوسرے سے مخالف الفاظ ہوتے ہیں۔
√ اگر لکھاری سے پوچھا جائے کہ وہ آجکل کیا پڑھ رہا ہے تو اُس پر فرض ہے کہ کسی ایسی کتاب کا نام لے جو کسی نے نہ پڑھی ہو، بلکہ کسی کو اُس کا نام بھی معلوم نہ ہو۔
√ البتہ کوئی نہ کوئی ایسی کتاب ضرور ہوتی ہے جس کا نام لینے سے سب بہت خوش ہوتے ہیں مگر لکھاری سمیت پڑھی کسی نے بھی نہیں ہوتی مثلاً جیمز جوئس کی یولیسس (یا فرھنگ آصفیہ سمجھ لیں)۔ لیکن اگر کوئی کسی لکھاری سے کتاب کے متعلق کچھ پوچھ بیٹھے تو آگے سے ایسا جواب دیں گے جو کسی بھی کتاب کے سلسلے میں دیا جا سکتا ہے۔
اِس تمام تحقیق سے مسلح ہو کر مَیں امی کے پاس چلا گیا اور اُنہیں تفصیل سے بتایا کہ لکھاری یہ ہوتا ہے۔ امی نے سخت حیران ہو کر کہا "اس نِری مصیبت سے تو بہتر ہے کہ انجینیئر ہی بن جاؤ۔ ویسے بھی تُم عینک نہیں پہنتے۔"
مگر میرے بال الجھے ہوئے ضرور تھے۔ مزید یہ کہ میری جیب میں گالوسز کے سگریٹ بھی تھے، میری بغل میں ایک مشکل سی کتاب کے چند پھاڑے ہوئے صفحات بھی تھے۔ نہ سمجھ میں آنے والے ناول پڑھنے کا ارادہ بھی تھا۔ یعنی مجھ میں لکھاری بننے کی پوری علامات تھیں۔
تب ایک موسیقار نے مجھ سے رابطہ کیا۔ مَیں ابدی زندگی جیسے موضوعات پر تحقیق کرنے کی بجائے سادہ سے عمومی موضوعات پر شاعری کرنے لگا مثلاً عورت کی محبت، مرد کی طاقت، جنگیں، بغاوت وغیرہ۔ اِسی سلسلے میں مَیں نے دنیا کے اتنے ممالک کی سیاحت کی کہ شاید اتنی بار اپنی جرابیں بھی تبدیل نہیں کیں۔
آج جبکہ دنیا بھر میں اور ہر زبان میں میری کتابوں کے کروڑوں نسخے بک چکے ہیں اور ہر کتاب بیسیوں بار شائع ہو چکی ہے، مجھے اعتراف ہے کہ مَیں 15 برس کی عمر میں اپنی تحقیق کے مطابق درست لکھاری نہیں بن سکا۔ مجھ سے وہ رولے نہیں نبھائے جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی حلقوں کی جانب سے اکثر تنقید میں رہتا ہوں مگر مَیں اپنے آپ کو بدل نہیں سکتا۔ اندر اندر سے قارئین جب، لکھاری کے اصولوں کے برخلاف، میری بات سمجھ لیتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ شاید کائنات نے اُس خوشی کو قبول کر لیا ہے۔ اور مجھے کائنات زیادہ عزیز ہے۔
بصد شکریہ، پالو کولہو (برازیلی ماسٹر لکھاری)
شب بخیر، مُسافرِشَب (گمنام ذرہء #کائنات*)
10/07/2020
15th September se Educational Institutions ko kholny k hawaly se 2 meetings hongi jismai hatmi faislah kiya jaye ga. Agr Situation Mazeed kharab hoti hai tuh 15th September k bd bhi Educational Institutions bnd rahingy.
Minister Of Education Sindh - Saeed Ghani.
09/07/2020
حکومت کا ملک بھر میں تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا اعلان