03/07/2026
🏆 لیاری اسپورٹس ٹرانسفارمیشن پیکج: 10 ارب کا روڈ میپ اور جرائم کے خلاف کھیل کی جنگ
✍️ تحریر: اعجاز رضا
🎯 پیش لفظ: نعروں سے عملی اقدامات تک
گذشتہ تحریر میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر کراچی کی سڑکوں اور نالوں کے لیے 20 ارب روپے جاری ہو سکتے ہیں، تو لیاری کے نوجوانوں کے مستقبل اور کھیل کے لیے 10 ارب روپے کا 'اسپورٹس ٹرانسفارمیشن پیکج' کیوں نہیں دیا جا سکتا؟ پچھلی تحریر کے بعد عوامی سطح پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے، لیکن اب وقت ہے کہ ہم اس مطالبے کو محض ایک سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے حکومت اور اربابِ اختیار کے سامنے ایک ٹھوس، قابلِ عمل روڈ میپ کی شکل میں رکھیں تاکہ سندھ حکومت کے پاس 'وسائل یا ہوم ورک کی کمی' کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔
سندھ حکومت، بلاول بھٹو زرداری اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ لیاری پر سرمایہ کاری کا یہ مطالبہ صرف کھیل کی ترویج کے لیے نہیں، بلکہ یہ لیاری کو منشیات, جرائم اور اسٹریٹ کرائم سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کا واحد پائیدار حل ہے۔
🥊 کھیل بمقابلہ اسٹریٹ کرائم: بندوق سے فٹبال تک کا سفر
کسی بھی معاشرے میں جب نوجوانوں سے ان کے کھیل کے میدان چھن جاتے ہیں یا ان کے ٹیلنٹ کی سرپرستی بند ہو جاتی ہے، تو وہ توانائی منفی راستوں پر نکل جاتی ہے۔ لیاری نے ایک طویل اور سیاہ دور دیکھا ہے جہاں یہاں کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں فٹبال اور باکسنگ گلوز کے بجائے ہتھیار تھما دیے گئے تھے۔
آج اگر لیاری کا نوجوان دوبارہ امن کی طرف لوٹ آیا ہے اور اپنے جنون کا اظہار میدانوں میں کر رہا ہے، تو حکومت کو اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ 10 ارب روپے کا اسپورٹس پیکج دراصل امن کا وہ مستقل معاہدہ ہے جو لیاری کے نوجوانوں کو جرائم کی دلدل سے نکال کر بین الاقوامی ہیرو بنا سکتا ہے۔
🗺️ 10 ارب روپے کا اسپورٹس روڈ میپ: رقم کہاں اور کیسے خرچ ہو؟
سندھ حکومت کو اس بجٹ کو محض کنٹریکٹرز کی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے درج ذیل چار بنیادی ستونوں کے تحت خرچ کرنا ہوگا:
🏢 1۔ انفراسٹرکچر اور اراضی کی واگزاری (بجٹ: 3 ارب روپے)
پیپلز پلے گراؤنڈ کی بحالی: رینجرز ہیڈ کوارٹرز کی منتقلی کے بعد اس تاریخی میدان کو بین الاقوامی معیار کے ٹرف، فلڈ لائٹس اور پویلین سے آراستہ کیا جائے۔
لیاری انٹرنیشنل اسپورٹس کمپلیکس: ککری گراؤنڈ کی طرز پر اس کی چاردیواری کے اندر موجود تمام زمین کو واگزار کرا کے ایک چھت تلے فٹبال، فٹسال، باکسنگ اور انڈور گیمز کا جدید ترین کمپلیکس بنایا جائے، جس میں 200 کھلاڑیوں کی رہائش کے لیے ہاسٹل بھی شامل ہو۔
💰 2۔ لیاری اسپورٹس اینڈومنٹ فنڈ (بجٹ: 3 ارب روپے)
مقامی کلبوں کی سرپرستی: لیاری کے کم از کم 50 رجسٹرڈ فٹبال اور اسپورٹس کلبوں کو سالانہ بنیادوں پر براہِ راست فنڈنگ دی جائے تاکہ وہ اپنے کلب چلا سکیں۔
کوچز کے لیے روزگار: 200 مقامی کوچز اور ٹرینرز کو میرٹ پر منتخب کر کے حکومتِ سندھ کی طرف سے ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ اور باوقار تنخواہیں دی جائیں۔
🌍 3۔ ہائی پرفارمنس اکیڈمیز اور انٹرنیشنل کوچنگ (بجٹ: 2 ارب روپے)
عالمی کوچز کی خدمات: لیاری میں ارجنٹائن، برازیل یا یورپ سے تعلق رکھنے والے کم از کم 5 انٹرنیشنل فٹبال اور باکسنگ کوچز کو 3 سے 5 سال کے معاہدے پر لایا جائے جو یہاں کی 'فری اکیڈمیز' میں بچوں کو جدید تکنیک سکھائیں۔
اسپورٹس اسٹائپنڈ: نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ماہانہ 'اسپورٹس اسٹائپنڈ' (اعزازیہ) مقرر کیا جائے تاکہ وہ معاشی فکر سے آزاد ہو کر صرف کھیل پر توجہ دیں۔
🏆 4۔ ٹیلنٹ ہنٹ اور انٹرنیشنل ایکسپوژر (بجٹ: 2 ارب روپے)
لیاری پریمیئر لیگز کا انعقاد: باکسنگ، فٹبال اور دیگر کھیلوں کی لیگز کا سالانہ انعقاد کیا جائے، جنہیں قومی ٹی وی پر براہِ راست نشر کیا جائے تاکہ اسپانسرز متوجہ ہوں۔
بین الاقوامی دورے: ہر سال لیاری کی انڈر-16 اور انڈر-19 ٹیموں کو بین الاقوامی ٹورز (یورپ اور خلیجی ممالک) پر بھیجا جائے تاکہ انہیں عالمی سطح کا تجربہ حاصل ہو۔
⚡ سب سے اہم شرط: "لیاری اسپورٹس اتھارٹی" کا قیام
اس 10 ارب روپے کے پیکج کو بیوروکریسی کی کرپشن اور سرخ فیتے (Red Tape) سے بچانے کے لیے ایک خودمختار "لیاری اسپورٹس اتھارٹی" قائم کی جائے، جس کی سربراہی لیاری کے مایہ ناز سابق کھلاڑی اور اسپورٹس لیجنڈز کریں، نہ کہ کوئی سرکاری افسر۔ جب تک فیصلے کرنے کا اختیار کھلاڑیوں کے پاس نہیں ہوگا، فنڈز گراؤنڈ تک نہیں پہنچیں گے۔
🏟️ اب گیند بلاول بھٹو زرداری کے کورٹ میں ہے!
لیاری کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کو اپنا خون اور ووٹ دیا ہے۔ مرتضیٰ وہاب صاحب! بلدیہ عظمیٰ کراچی (KMC) کے بجٹ اور سندھ حکومت کے تعاون سے اس 5 سالہ اسپورٹس پیکج کا اعلان اب تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایم کیو ایم اپنے سیاسی ورکرز کو 'سٹی وارڈنز' کی شکل میں سرکاری تنخواہیں دے سکتی تھی، تو پیپلز پارٹی لیاری کے انٹرنیشنل لیول کے ایتھلیٹس اور کوچز کو تنخواہیں اور کیمپ کیوں نہیں دے سکتی؟
لیاری کی عوام اور نوجوانوں نے اپنے حصے کا جنون دکھا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اس جنون کی قدر کرتے ہوئے لیاری کو اس کا حقیقی انعام 'اسپورٹس ٹرانسفارمیشن پیکج' دیتے ہیں، یا لیاری کو ایک بار پھر صرف الیکشن کے دنوں میں یاد کیا جائے گا؟
فیصلہ اب سندھ حکومت نے کرنا ہے۔