خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھِرتے ہیں مارے مارے ، میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا۔۔
IBYTrainings
IBY "The School of thought” is focused on changing the lives of parents, teachers, Students and corporate people. Home (Parents Training Program )
2.
We provide training/ workshop and consultation in the field of education, corporate Management and related fields for all professionals. Talent is God-gifted ability, whereas Skill is an ability in which you put your time and efforts to develop, IBY "the School of thoughts" enhancing talents of today for tomorrow’s success. Our key work areas for training.
====================
1. School (Teachers
کئی دوستوں نے ان باکس میسج کیے کہ آپ نے ایچی سن تنازعہ پر کچھ نہیں لکھا تو عرض ہے کہ ہر چیز لکھنے کے قابل نہیں ہوتی۔
ایچی سن تنازعہ ہے کیا؟
ایلیٹ کلاس کی ایلیٹ کلاس سے لڑائی ہے جس کا عام آدمی سے کیا لینا دینا؟
میرے لکھنے قابل اگر کوئی بات ہو سکتی ہے تو یہ سوال کہ لاھور کے دل میں یہ کالج ہے کیوں جو بڑے دھڑلے سے یہ پہچان رکھتا ہے کہ یہاں ایلیٹ کلاس کے وہ بچے پڑھتے ہیں جنہوں نے آگے چل کر ان بھوکے ننگے عوام کا حکمران بننا ہے۔
آپ سب کے سامنے انہیں اسی کالج میں اس چیز کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور گھڑسواری بھی سکھائی جاتی ہے جس کا دور حاضر میں واحد مقصد کاٹھی ڈال کر ایڑ لگانا ہے اور ھلکا بھاگنے پر چابک رسید کرنا کالج سے نکلنے کے بعد انکے گھوڑے یہ عوام ہوتے ہیں۔
حلفیہ کہتا ہوں کہ یہاں جو آٹے میں نمک کی مقدار جتنے متوسط طبقے کے طلباء موجود ہیں انکے والدین کا بھی یہی کہنا ہوتا ہے کہ اسطرح ہمارے بچوں کے تعلقات بڑے لوگوں سے بن سکتے ہیں ورنہ آج تک اس کالج نے کونسے سائینسدان یا ایسے نابغے پیدا کیے ہیں جنہوں نے ملک کا نام روشن کر دیا ہو؟
ماتم کیجیے ان عقلمندوں کی عقل کا جو خود انسانیت سے نیچے کے درجے پر زندگی گذار رہے ہیں مگر انہیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ایچی سن کالج کی روایات کا کیا بنے گا۔
حد ہے اور بے حد ہے یار۔
27/03/2024
سفر میں تو دونوں ہیں ۔
24/03/2024
دعا کے علاوہ کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹال سکتی اس فلسفے کو سمجھنا بہت ضروری ہے ، اگر واقعی ہم کو تقدیر کو پہچانا ہے تو ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے پھر لگن بھی اللہ کے حکم سے پیدا ہو جاتی ہے لیکن ان سب چیزوں کے لئے سوچنا ہوگا غور کرنا ہوگا سمجھ کر پڑھنا ہوگا۔ علامہ اقبال کا یہ شعر تو سب نے سنا ہی ہوگا۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے ، خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ؟
اس شعر کو ایسے سمجھیں جیسے ہم کارپوریٹ ورلڈ (آفس) کی پالیسی کو سمجھتے ہیں۔ ہم سب آفس کی پالیسی کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہیں اور اس پالیسی کے عین مطابق اور اپنے باس کی سوچ اور مرضی کے عین مطابق کام بھی کرتے ہیں تب ہمارا باس خود ہم کو ہر طرح کی سہولیات سے مالا مال کر دیتا ہے ، اور ہماری غلطیوں پر پردہ بھی ڈالتا رہتا ہے، ساتھ ہمارے کام میں آسانیاں بھی پیدا کرتا ہے، ہم کو اچھے سے کام بھی سیکھاتا ہے، ہمیں پسند بھی کرتا ہے اور کبھی کبھی تو ہم کو کسی بھی اکسٹرا سپورٹ کے لئے باس کو بولنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی وہ خود ہی ہمارے کام کردیتا ہے۔ اس نظر کرم کی وجہ تو آپ سب کو معلوم ہی ہوگی کیونکہ ہم باس کی گڈ لسٹ میں آجاتے ہیں، ہمارے اس تمام عمل کے پیچھے وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم اپنی کمپنی کے نظام کو اور باس کی نفسیات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہوتے ہیں ، ہم اپنے باس کی رضا کے عین مطابق کام کرتے ہیں تاکہ ہم کو ریواڈ مل سکے پھر ہم کمپنی کی مہیا کی جانے والی بہت سی آسائشوں میں entitled بھی ہوجاتے ہیں، ہمارا سالانہ اپریزل بھی اچھا ہوتا ہے وغیرہ ۔
یہ تمام مثالیں دنیا میں خدا کو پہچانے کی ہی ہیں ، لیکن جب ایک اللہ کا معاملہ آتا ہے تو ہم اللہ کے مزاج کو سمجھے بغیر اللہ کی پالسی پر عملدرآمد کئے بغیر بس اللہ کے سامنے خواہشات کی لسٹ کھول کر رکھ دیتے ہیں ، عمل زیرو اور خواہشات کی لسٹ لمبی چوڑی ، ایسا آپ اگر اپنے باس کے ساتھ کریں جیسا آپ اللہ کے ساتھ کرتے ہیں تو لگ پتا جائے گا۔
اس لئے سوچیں سمجھیں غور کریں ، ویسے ہی جیسے آپ آفس میں اپنے باس کے لئے کام کرتے ہیں اللہ کے لئے بھی ویسے ہی دل لگا کر کام کریں پھر دیکھیں آپکی تقدیر بھی بدل جائے گی اور اللہ کی طرف سے مراعات اور سہولیات بھی بہت مل جائیں گی سب سے بڑا ریواڈ جو کہ جنت ہے آپکی منتظر ہوگی دنیا اور آخرت کی تمام دعائیں قبول ہو جائیں گی بلکہ انشاللہ بڑھ کر ہی ملے گا۔ لیکن اللہ کی رضا کے لئے ہم کو اللہ کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا خالی موں سے خواہشات کرنے سے تو آفس کا باس بھی نہیں سنتا وہ بھی عمل کا خواہشمند ہوتا ہے، آفس میں موجود ہر کسی کی چاہت ہوتی ہے کہ باس کے قریب ہوجائے لیکن باس صرف اسی کو اپنے قریب رکھتا ہے جسکا کام یا عمل اچھا ہوتا ہے۔
تو ویسا ہی عمل جیسا آپ آفس کے باس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں جب آپ اللّٰہ کی رضا کے لئے عمل کریں گے تو سب دعائیں قبول ہو جائیں گیں۔ اپنے عمل کو چینلائز کرنے پر غور کریں۔
تحریر: آئی بی وائی
شرجیل میمن کے گھر سے بھی شہد 🍯 کی بوتلیں ہی نکلیں تھیں ۔۔۔ سوشل میڈیا پاروفل ہوگا خبر ایک جگہ سے دوسری جگہ لاکھوں لوگوں تک پہنچانے کے لئے ، کیا لاکھوں لوگ سمجھ بوجھ میں بھی intellectually پاورفل ہیں ؟؟:یہی سوشل میڈیا کے لوگ ہیں جو اسکولوں اور مدرسوں میں اسکول ٹیچرز اور مولوی حضرات کے مارنے پیٹنے پر احتجاج کرتے ہیں استاد تو وہ بھی ہیں۔ میری نظر میں تو یہ ایک بیمار معاشرہ ہے اور بدقسمتی سے ہر شعبے میں اسکو استاد بھی بڑے *استاد قسم* کے ہی ملے ہیں .
اصل موسیقار کو یہ زیب نہیں دیتا ، جس دن موسیقی روح میں اتر جائے گئی کبھی ایسا نہیں کریگا ۔۔
ابھی یہ صرف موسیقار ہے موسیقی ابھی اندر گھسی بسی نہیں ہے۔ اللہ حدایت دے۔ 🤲🏻
01/01/2024
Happy New Year 2024.
Those who are not waiting for any masihas rather they are fulfilling their duties in this world just as Allah's prophets PBUH and his companions taught and as per the teachings of the Quran. And also they are prepared for shadat, just like Hussain's sacrifice.
26/12/2023
یزید کے عمل کو غلط یا برا سمجھنے سے کہیں سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کے آپ کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے ۔
#شعیہ #سسنی #فرقہ #یزید #حسین #یزیدیت #یزید #یزیدی #حسینیت #حسین #اللہ #تایخ #اسلامیات
26/12/2023
سوچ کر بتائیں!! کیا واقعی ہم صراط مستقیم پر چلنا چاہیے ہیں ؟؟ یا سب ڈرامے بازی ہے ؟؟؟
#دعا #عمل
#دونمبرآدمی
25/12/2023
ہر نبی ہر رسول اپنی اپنی امت کے لئے ایک مسیحا ہوتا ہے۔ مسیحا تب آتا ہے جب کفر ہر طرف پھیلا ہوا ہو، آج تعداد میں کم ہی صحیح چند لوگ ہی اللہ کا قانون زمین پر نافذ کرنے میں عملی طور تو لگے پڑے ہیں۔
آج بھی اللہ کا دین زمین پر پریکٹس ہو ہی رہا ہے ۔ جو شخص اصل معنوں میں دین کو پریکٹس کر رہا ہوتا ہے اس کو کسی مسیحا کی ضرورت نہیں ہوتی وہ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کی مدد کے لئے کوئی آسمان سے مسیحا اترے بلکہ وہ اپنی مدد آپ اللہ کے دین کو زمین پر نافذ کرتے کرتے تبلیغ دین میں شہادت کے درجے پر فائز ہو جاتاہے۔
آج جو دو نمبر نکھٹو قسم کے لوگ ہاتھ اٹھا اٹھا کر مسیحاؤں کو بلا رہے ہیں ان ناکارہ ، ڈرپوک اور ڈرامے بازوں کے لئے کوئی مسیحا آسمانوں سے زمین پر نہیں آنے والا ۔
بات کو سمجھیں ! اس دور میں جو بھی زندہ ہوں گے وہ سب لوگ کفر میں گھرے ہوئے ہی ہوں گے پھر ایک دم مسیحا کی امد ہوگی پھر وہ مسیحا اللہ کے حکم سے ان لوگوں پر اپنا کام شروع کریگا جیسا اللہ کی طرف سے حکم ہوگا وہ مسیحا ویسا ہی کرے گا۔ واللہ اعلم!
نفسیاتی طور پر کمزور ، ڈرپوک اور نااہل لوگ جو آج اپنی خواہشات سے مسیحاؤں کو بلا رہے ہیں وہ اپنے ہی بلائے ہوئے مسیحاؤں کے ہاتھوں قتل کردئیے جائیں گے ۔
ایسے لوگ بس نام کے مسلمان ہیں جن کا عمل دین کے معاملے میں صفر ہے۔
جینا ہے تو امام حسین علیہ السلام کی طرح جیو، سچا مومن وہ ہے جسے اللہ پر اور اسکی عطا کردہ طاقت پر اور خود پر سچا بھروسہ ہو، ایک سچا مومن اللہ کے علاوہ کسی مسیحا کو نہیں پکارا کرتا۔ یہ تو جھوٹے لوگ ہیں جو مسیحاؤں کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ دونمبر لوگوں کی مدد کو کبھی کوئی مسیحا نہیں آنے والا اور جو ایمان والے ایک نمبر لوگ ہیں ان کو کسی مسیحا کی ضرورت نہیں پڑھتی۔ مسیحا کی ضرورت صرف ڈرپوک نااہل اور ناکارہ لوگوں کو ہوتی ہے۔ جس کے ہاتھ میں دین اسلام کا جھنڈا ہو اس جراتمند کو کبھی کسی مسیحا کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تحریر: آئی بی وائی
#نفسیاتی #نفسیات #کمزور #ڈرپوک #نااہل #مسلمان #مسیحا #دونمبرآدمی #دونمبرمال #مسیحا #دجال
24/12/2023
24/12/2023
آپ کی اولاد ہی آپکی بہترین ٹرینر ہے !!
#اولاد #ٹرینرز #ٹریننگ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi
75300